ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق واتخذوا ایتی وماانذر واھزوا ۵؎ o
(۵؎القرآن الکریم ۱۸/ ۵۶)
کافر باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں کہ اس سے حق کو زائل کردیں اور انھوں نے میری آیتوں اور ڈراؤوں کوہنسی بنالیا ہے۔
مسلمان پر فرض ہے کہ ان سب طُرق سے پر ہیز کرے اور اس پر عامل ہو جو راستہ پہلی آیت بشارت میں اس کے رب نے بتایا ہر تعصب وطرفداری سے خالی الذہن ہو کر کان لگاکر بات سنے اگر انصافا حق پائے اتباع کرے بارگاہ عزت سے ہدایت ودانشمندی کا خطاب ملے ورنہ پھینک دینا توہر وقت اختیار میں ہے واللہ الھادی وولی الایادی
مدارس کے اقسام اور ان میں امداد لینے کے احکام: (۱) ۱۰ محرم ۱۳۳۹ھ کی بنارس کچی باغ سے یہ سوال آیا: ''مدرسہ اسلامیہ عربیہ جس میں پچیس سال سے گورنمنٹ سے امداد ماہوار ایک سوروپیہ مقرر ہے جس میں کتب فقہ واحادیث وقرآن کی تعلیم ہوتی ہے، ممبران خلافت کمیٹی نے تجویز کیا کہ امداد نہ لینا چاہئے، پس استفسار ہے کہ یہ امداد لینا جائزہے یا نہیں؟ مدرسہ ہذا میں سوا تعلیم دینیات کے ایک حرف کسی غیر ملت وغیر زبان کی تعلیم نہیں ہوتی فقط''
اس کا جواب مطلق جواز ہوتا مگر پھر بھی احتیاطاً شکل شرط میں دیا گیا کہ''جبکہ وہ مدرسہ صرف دینیات کاہے اور امداد کی بناء پر انگریزی وغیرہ اس میں داخل نہ کی گئی تو اس کے لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں تعلیم دینیات کو جو مدد پہنچتی تھی اس کا بند کرنامحض بے وجہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔''
۲۲صفر ۱۳۳۹ ھ کو کراچی سبزبازار سے یہ سوال آیا: ''ایک ایسے صوبے میں جس کی قریبا پچاس فیصدی آبادی اسلامی کاشتکاروں پر مشتمل ہے جس کے سالانہ محاصل کا ایک حصہ تعلیمی امداد کے ذیل وحصول کرکے حصہ رسدی مدارس مروجہ امدادیہ کو تقسیم کیا جاتاہے اس سے استفادہ جائزہے یا ناجائز؟ خصوصا ایسے مدارس کےلئے جو کامل اسلامی اہتمام کے ماتحت جاری ہیں جن کی دینی تعلیم پر ارباب حکومت کسی نہج معترض نہیں ہوتے اور جن کی نصاب تعلیم کا سرکاری حصہ مروجہ تعلیم بھی خفیف سے خفیف شائبہ موانع شرعیہ سے جزاًوکلاً پاک ہے فقط۔''
اس کا جواب دیا گیا : ''جو مدارس ہر طرح سے خالص اسلامی ہوں اور ان میں وہابیت،نیچریت وغیرہما کا دخل نہ ہو ان کا جاری رکھنا موجب اجر عظیم ہے، ایسے مدارس کے لئے گورنمنٹ اگر اپنے پاس سے امداد کرتی لینا جائز تھا نہ کہ جب وہ امداد بھی رعایا ہی کے مال سے ہے، واللہ تعالی اعلم''
ندوہ کو بھی گورنمنٹ سے امداد ملتی تھی اور جہاں تک میرا خیال ہے اس پر ایسے قیود نہ تھے جو آپ نے ذکر کئے اور ضرور کچھ مدارس وہ بھی ہیں جن پر امداد امورخلاف شرع سے مقید یاان کی طرف منجر ہو وہ بلاشبہہ ناجائز اگرچہ صرف اسی قدر کھیل میں بے ستری یاخلاف حیاء ومخرب اخلاق باتوں کی شرط ہو خصوصا وہ صورت جو آپ نے بیان کی کہ نصاب میں وہ کتابیں مقرر ہوں جن میں خلاف اسلام باتیں ہیں حتی کہ معاذاللہ توہین رسالت اس میں حرمت درکنار کفر نقدوقت ہے والعیاذباللہ تعالٰی مولوی حاکم علی صاحب کی تحریر میں کوئی تفصیل نہ تھی لہذا یہ جواب دینا ضرور ہوا: ''وہ الحاق واخذا مداد اگر نہ کسی امرخلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجر،تو اس کے جواز میں کلام نہیں ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا'' یہ جواب دونوں صورتوں کو حاوی اور ناقابل تبدیل ہے حالات حاضرہ سے اس کی کسی شق میں تغیر نہ ہوا نہ یہاں کوئی جواب مطلق بلاشرط ہوسکتاہے۔
لیڈرامداد چھڑاتے ہیں اورمخرب دین تعلیموں پر اب تک قائم ہیں: (۲) انگریزوں کی تقلید و فیشن وغیرہ سے آزادی اور دہریت ونیچریت سے نجات بہت دل خوش کن کلمات ہیں خدا ایسا ہی کرے مگر یہ صرف ترک امداد والحاق سے حاصل نہیں ہوسکتے اس آگ کے بجھانے سے ملیں گے جو سید احمد خان نے لگائی اور اب تک بہت سے لیڈروں میں اس کی لپٹیں مشتعل ہیں انگریزی اور وہ بے سودو تضییع اوقات تعلیمیں جن سے کچھ کام دین تو دین دنیا میں بھی نہیں پڑتا جو صرف اس لئے رکھی گئی ہیں کہ لڑکے این وآں ومہملات پر مشغول رہ کر دین سے غافل رہیں کہ ان میں حمیت دینی کا مادہ ہی پیدا نہ ہو، وہ یہ جانیں ہی نہیں کہ ہم کیا ہیں اور ہماراد ین کیا۔جیسا کہ عام طورپر مشہورومعہود ہے، جب تک یہ نہ چھوڑی جائیں اور تعلیم وتکمیل عقائد حقہ وعلوم صادقہ کی طرف باگیں نہ موڑی جائیں دہریت ونیچریت کی بیخ کنی ناممکن ہے، کیا لیڈر اس میں ساعی ہیں؟ ہر گز نہیں صرف امداد والحاق ترک کراتے ہیں جو ظاہری تعلق ہیں اور تعلیمات کے گہرے تعلقات نہ چھڑاتے ہیں نہ چھوٹیں گے کیا انھیں میں وہ لوگ جن سے پوچھا جاتا کہ صاحبزادوں کو قرآن نہ پڑھایا تو جواب دیتے کیا ان سے سوم کے چنے پڑھوانے ہیں، کیا اب ان کے خیالات بدل گئے، کیا اب انھوں نے انگریزی کے سوا اور رزاق سمجھ لیا، کیا اب یہ جواب نہ دیں گے کہ پرانے علوم سیکھ کر کیا کھائیں گے، کیا اب انھیں شبلی کے شعر بھول گئے ع
سیارے ہیں اب نئی چمک کے وہ ٹھاٹھ بدل گئے فلک کے
اب صورت ملک ودین نئی ہے افلاک نئے زمیں نئی ہے
سب بھول گئے ہیں ماسبق کو گردوں نے الٹ دیا ورق کو
قائم جو وہ انجمن نہیں ہے اس نقد کا اب چلن نہیں ہے
القصہ یہ بات کی تھی تسلیم یعنی کہ علوم نو کی تعلیم
تدبیر شفا جو ہے تو یہ ہے اس دکھ کی دواجو ہے تویہ ہے
تقویم کہن سے ہاتھ اٹھائیں تہذیب کے دائرے میں آئیں
سیکھیں وہ مطالب نوآئیں یورپ میں جو ہورہے ہیں تلقیں
وہ گنج گراں دانش فن وہ فلسفہ جدید بیکن
کپلر کی وہ نکتہ آفرینی نیوٹن کے مسائل یقینی
اور بفرض غلط ایسا ہو بھی تو اکثر لیڈر کہ انھیں تعلیمات فارغہ کے بل پر لیڈر بنے ہیں کس مصر ف کے رہیں گے جب وہ مردودیہ خود مطرود، کیا اس وقت یہ شعر حالی ان کا ترجمان حال نہ ہوگا ع
قلی یا نفر ہو توکچھ کام آئے
مگر ان کو کس مد میں کوئی کھپائے ۱؎
(۱؎ مسدس حالی مطبوعہ نولکشور لاہور ص۶۴)
لیڈر نصارٰی کی ادھوری غلامی چھوڑتے اور مشرکین کی پور ی غلامی مناتے ہیں: (۳) نصارٰی کی یہ غلامی کہ یہ پیر نیچرنے تھامی لیڈر جس کے اب زبانی شاکی ہیں اور دل سے پرانے حامی،اس کے نتائج تشبہ وضع و تحقیر شرع وشیوع دہریت وفروغ نیچریت مطابقی نہ تھے بلکہ التزامی اب اگر بعد خرابی بصر وآنکھیں کھلیں اور اسے چھوڑناچاہتے ہیں مبارک ہو اور خدا سچ کرے اور راست لائے مگر للہ انصاف، وہ غلامی ادھوری تھی سید احمد خاں نے کسی پادری یانصرانی کو امور دین میں صراحۃً اپنا امام وپیشوا نہ لکھا تھا آیات احادیث کی تمام عمر کو چرچ یا صلیب پر نثار کرنا نہ کہا تھا کسی پادری کو مساجدمیں مسلمانوں کا واعظ وہادی نہ بنایا تھا نصرانیت کی رضا کو خدا کی رضا یا کسی پادری کو نبی بالقوہ نہ بنایا تھا او ر اب مشرکین کی پوری غلامی ہورہی ہے ان کے ساتھ یہ سب کچھ اور ان سے بہت زائد کیا جارہاہے یہ کون سا دین ہے نصارٰی کی ادھوری سے اجتناب اور مشرکین کی پوری میں غرقاب،
فرمن المطر ووقف تحت المیزاب ع
چلتے پرنالے کے نیچے ٹھہرے مینہ سے بھاگ کر
موالات ہر کافر سے حرام ہے: (۴) موالات مطلقا ہر کافر ہر مشرک سے حرام ہے اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو اگرچہ اپنا باپ یا بیٹایا بھائی یا قریبی ہو،
قال تعالٰی:
لاتجد قوما یؤمنون باﷲ والیوم الاٰخر یوادون من حاد اﷲ ورسولہ ولو کانوا اٰباء ھم اوابناء ھم اواخوانہم اوعشیرتہم ۲؎۔
تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور قیامت پرکہ دوستی کریں اللہ ورسول کے مخالفوں سے اگرچہ وہ ان کے باب بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔
(۲؎ لقرآن الکریم ۵۸/ ۲۲)
موالات صوریہ کے احکام ـ: حتی کہ صوریہ کو بھی شرع مطہر نے حقیقیہ کے حکم میں رکھا۔
قال تعالٰی:
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق ۱؎۔
اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو ان کی طرف محبت کی نگاہ ڈالتے ہو اور وہ اس حق سے کفر کررہے ہیں جو تمھارے پاس آیا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶۰/ ۱)
یہ موالات قطعاً حقیقیہ نہ تھی کہ نزول کریمہ دربارہ سید نا خاطب بن ابی بلتعہ احد اصحاب البدر رضی اللہ تعالٰی عنہ و عنہم ہے
کما فی الصحیح ۲؎ البخاری ومسلم
(جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں ہے۔ ت)
(۲؎ صحیح بخاری کتاب التفسیر باب لاتتخذواعدوی وعدوکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۲۶)
تفسیر علامہ ابوالسعود میں ہے:
فیہ زجر شدید للمؤمنین عن اظہار صورۃ الموالاۃ لھم وان لم تکن موالاۃ فی الحقیقۃ ۳؎۔
اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو سخت جھڑک ہے اس بات سے کہ کافروں سے وہ بات کریں جو بظاہر محبت ہواگرچہ حقیقت میں دوستی نہ ہو۔