بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۸۳: از لاہور بری بساط لکڑہارا اکبری منڈی مسئولہ چودھری عزیزالرحمن صاحب بی اے سابق ہیڈ ماسٹر اسلامیہ ہائی اسکول لائلپور ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
جناب حضرت قبلہ وکعبہ مجدد دوراں حضرت احمدرضاخاں صاحب سلمہ اللہ تعالٰی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، بعد حمد وصلوٰۃ واضح رائے عالی ہو کہ حضور کا فتوی جو مسٹر حاکم علی بی اے پروفیسر ریاضی اسلامیہ کالج لاہور کے خط کے جواب میں حضورنے ارسال فرمایا پڑھ کر خاکسار کو بڑی حیرت ہوئی کیونکہ خاکسار آں حضور کو جیسا کہ لاکھوں کروڑوں پنجاب وہندوستان کے سنت وجماعت مجدد وقت مانتے ہیں اس زمانے کا مجدد مانتاہے اور جب سے ہوش سنبھالا اسی عقیدے پر بفضل خدا رہا جس پر آپ اور دیگر بزرگان قوم وعلمائے کرام ہیں یا ہوتے آئے ہیں لیکن اس فتوے کو دیکھ کر میرے دل میں بڑا اضطراب پیدا ہواہے اور میں نے یہ جرأت کی ہے کہ جناب سے مفصل طورپر دیافت کرلوں کہ ایسے زمانے میں جبکہ مسلمانوں پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں اندرونی وبیرونی دشمن اسلام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کفار کی مدد سے باغیوں (شریف مکہ) نے چھین لئے ہیں اور کفار جزیرۃ العرب (جدہ وعدن وغیرہ) میں اپنا قدم جمائے بیٹھے ہیں اور خلافت ریزہ ریزہ کی گئی ہے اور ایک بڑی سلطنت کا وزیر اعظم اپنی تقریر میں صاف کھلے لفظوں میں برملا کہتاہے کہ یہ لڑائی جو عراق عرب میں مسلمانوں سے ہوئی مذہبی لڑائی تھی اور اب ہم نے بیت المقدس ان کی گندگی سے پاک
کردیاہے وغیرہ وغیرہ، غرض کہ ایسے وقت جبکہ اعداء اللہ اسلام کی عزت اور شوکت کی بیخ کنی میں کوشش کاکوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا، عراق، فلسطین اور شام جن کو صحابہ اور تابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم نے خون کی ندیاں بہا کر فتح کیا تھا، پھر کفار کی حریفانہ حوصلہ مندیوں کی جولانگاہ بن گئے ہیں خلیفۃ المسلمین دشمنوں کے نرغے میں پھنس کر بے دست وپا ہوچکے ہیں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہنے والے اپنے گھروں (تھریس سمرنا وغیرہ) اور زرخیز علاقوں سے زبردستی نکالے جارہے ہیں، اورمسجدوں پر زبردستی قبضہ کرلیا جاتاہے اور مسلمانوں کے علماء قرآنی احکام ڈڑتے ڈرتے بتاتے ہیں، جہاد کا تو نام ہی منہ پر آنا بس قیامت ہے، کیا ایسے وقت میں اسلامی حمیت وغیرت یہ چاہتی ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ نکل آئے جس سے انگریز افسر خوش ہوجائیں اورمسلمان تباہ ہوجائیں، مسٹر حاکم علی نے ایک پالیسی سے انگریز پرنسپل اور دوسرے انگریز افسروں اور غدار مسلمانوں کو خوش کرنے کے واسطے حضور سے ایک عجیب طرز میں فتوٰی پوچھا اور حضور نے اس کے مضمون کے مطابق صحیح صحیح فیصلہ جواب میں بھیج دیا، یہ بالکل درست ہے کہ موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے لیکن دین کا نقصان کرکے دنیوی معاملت کہاں جائز ہے حضور نے بہت سی شرائط سے مشروط کرکے گول مول جواب عنایت فرمایاہے لیکن اس وقت ضرورت ہے ایسے فتوے کی جو صا ف صاف لفظوں میں حالات حاضر ہ پر نظر کرکے بغیر کسی شرط کے لکھا جائے تاکہ ہر عالم وجاہل جو آپ کا پیرو ہے فورا پڑھ کر جان لے کہ اس کے واسطے اب ایسا کرنا ضروری ہے، حالات حاضرہ حضورپر بخوبی روشن ہیں اور کچھ تھوڑے سے میں نے اوپر بیان کئے ہیں، کیا مسلمانوں کابھرتی ہوکر فوج میں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے اور غلام بنانے کے لئے جانااور دوسرے کلرکوں کا ان کی امداد کے لئے عراق وشام وغیرہ میں ملازمت ہوکر جانا جائزہے، اگر جاناجائز نہیں تو پھر آپ جیسے بزرگ کیوں چپ چاپ بیٹھے ہیں۔ کیوں نہیں ایسے فتوے شائع کرتے اور اظہار حق میں دنیوی طاقت سے کیوں ڈرتے ہیں، موجود ہ وقت کھینچ تان کر کفارسے تعلق رکھنے اور ان کی اعانت کرنے کا جواز ثابت کرنے کا نہیں ہے بلکہ سینہ سپر ہوکر بے خوف وخطر لوگوں کو صراط مستقیم بتانے کاہے، حضور نے جو لکھا ہے کہ الحاق اور اخذ امداد جائزہے، اگر کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ ہو، عالیجا ہ! گورنمنٹ جوا مداد سکولوں اورکالجوں کو دیتی ہے وہ خاص اغراض کو مدنظر رکھ کر دی جاتی ہے اور میرا خیال ہے کہ حضور کو سب حال روشن ہوگا لیکن اگر اس بارے میں ناواقفیت ہو تو میں عرض کرتاہوں کہ اول تو امداد میں اس قسم کی شرط ضرور ہوتی ہے کہ کالج کا پرنسپل اور ایک دو پروفیسر انگریز ہوں، دوسرے مقررہ کورس پڑھائے جائیں جن میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خلاف اسلام باتیں ہوتی ہیں بلکہ بعض میں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں تیسرے دینی تعلیم لازمی نہیں کوئی پڑھے یا نہ پڑھے لیکن جہاں دینی تعلیم پڑھائی جائے خاص وقت سے زیادہ نہ دیا جائے کیونکہ یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے چارگھنٹے وقت ضرورخرچ ہوا گر چار گھنٹے سے کم ہوگاتو امداد نہیں ملے گی، پھر جو استاد دینیات پڑھائے گا اس کو امداد نہیں دی جائے گی پھر فلاں فلاں مضمون ضرور طالب علم کولینے چاہئیں ورنہ امتحان میں شامل نہیں ہوسکتا، پھر ڈرل وغیرہ اور کھیلوں کی طرف جن میں ہر ایک طالب علم کو حصہ لینا ضروری ہوتاہے آج کل جو ڈرل سکھائی جارہی ہے اس میں عجیب مخرب اخلاق باتیں کی جارہی ہیں امداد لینے اور الحاق یونیورسٹی سے رکھنے کے لئے ضروری ہے وہی ڈرل تمام اسکولوں میں کرائی جائے، کھیلوں میں آپ دیکھتے ہیں کہ عجب بے پردہ لباس پہنا جاتاہے۔ فٹ بال اور ہاکی میں جو نیکر پہنے جاتے ہیں وہ ٹخنوں سے اوپر تک ننگارکھتے ہیں، غرضیکہ کیا عرض کروں اسی الحاق وامداد کی خاطر معلمین ومتعلمین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ قرآن شریف ودینیات کا جو گھنٹہ رکھا ہوا ہے اس میں بھی انگریزی ہی کا سبق یاد کرادوں کیونکہ انسپکٹر نے انگریزی تو سننی ہے قرآن مجید تو نہیں سننا، جماعتوں میں جو ترقی دی جاتی ہے اس میں بھی اسی بات کا خیال رکھا جاتاہے کہ انگریزی لڑکا جانتا ہے یانہیں قرآن شریف خواہ ناظرہ بھی نہ پڑھ سکتاہو نماز کا ایک حرف نہ جانتاہو لیکن دسویں اور ایف اے اور بی اے پا س کرتا چلا جائے گا۔ یہ میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا ذکر کررہاہوں دوسرے سکولوں اور کالجوں سے ہمیں کوئی تعلق نہیں یہ سب کس واسطے ہورہاہے، اسی واسطے کہ ہم یونیورسٹی سے الحاق رکھنا چاہتے ہیں اور سرکاری امداد لینا چاہتے ہیں، اگر یہ خیال نہ ہو توبالکل حالت بدل جائے کہ طالب علم پکے مسلمان بن جائیں ان میں حمیت وغیرت مذہبی پیدا ہوجائے ان کے اخلاق درست ہوجائیں نیچریت اور دہریت کا اثر ان کے دلوں سے دور ہوجائے، انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور لباس اور فیشن وغیرہ ہربات میں تقلید نصارٰی کررہے ہیں اس سے چھوٹ جائیں غرض کہ ہزاروں طرح کی برکات حاصل کریں، میرا کچھ لکھنا چھوٹا منہ بڑی بات ہے،حضور پر سب حال روشن ہے میں حضور سے یہ فتوٰی مانگتاہوں، برائے مہربانی جواب باصواب سے خاکسار کو مشکور وممنون فرماکرعنداللہ ماجور ہوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حالات حاضرہ پر نظر کرتے ہوئے گورنمنٹ سے ترک موالات (عدم تعاون)کرنا اسلامی حکم ہے یا نہیں اورگورنمنٹ سے اسلامیہ اسکولوں اورکالجوں کو امداد لینی اور یونیورسٹی سے الحاق کرنا اندریں حالات چاہئے یانہیں؟ جواب باصواب سے عنداللہ ماجور اورعندالناس مشکور ہوں۔ فقط والسلام