(۴؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الاجارات الفصل العاشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۵۹)
ہدایہ میں ہے:
من ارسل اجیرالہ مجوسیا او خادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یھودی اونصرانی اومسلم وسعہ اکلہ ۱؎۔
جس نے اپنا نوکر یا غلام مجوسی بازار کو بھیجا اس نے گوشت خریدا اور کہا میں نے یہودی یا نصرانی یامسلمان سے خریدا ہے اسے اس کے کھانے کی گنجائش ہے (کہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الکراہیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۱)
درمختار میں ہے:
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ذکرہ الزیلعی فی التحکیم ۲؎۔
بادشاہ اسلام اگر کسی کافر کو قاضی بنائے کہ ذمی کافروں کے مقدمے فیصل کرے تو جائز ہے اسے زیلعی نے باب تحکیم میں ذکر کیا۔
(۲؎ الدرالمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۱)
محیط میں ہے:
قال محمد مایبعثہ ملک العدومن الھدیۃ الی امیر جیش المسلمین اوالی الامام الاکبر وھومع الجیش فانہ لاباس بقبولہا ویصیر فیئا للمسلمین وکذلک اذا اھدی ملکھم الی قائدمن قواد المسلمین لہ منعۃ ولوکان اھدی الی واحد من کبار المسلمین لیس لہ منعۃ یختص ھوبھا ۳؎۔
امام محمد نے فرمایا دشمنوں کا بادشاہ جو ہدیہ مسلمانوں کے سپہ سالار یاخلیفہ حاضر لشکر کوبھیجے اس کے قبول میں حرج نہیں تو وہ سب مسلمانوں کے لئے مشترک ہوجائے گا یونہی جب ان کا بادشاہ مسلمان کے کسی فوجی سردراکو ہدیہ بھیجے جس کے پاس فوج ہو اگر کسی اسلامی سردارکو کوبھیجا جس کے پاس اس وقت فوج نہیں تو ہدیہ خاص اسی سردار کی ملک ہوگا۔
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ المحیط الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۶)
اسی میں ہے:
لوان عسکرامن المسلمین دخلوا دار الحرب فاھدی امیرھم الی ملک العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذٰلک لو ان امیر الثغور اھدی الی ملک العدوھدیۃ و اھدی ملک العدوالیہ ھدیۃ ۴؎۔
اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سردار لشکر کچھ ہدیہ دشمنوں کے بادشاہ کو بھیجے اس میں حرج نہیں اور یونہی اگر سرحدوں کا سردار دشمنوں کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ بھیجے اور دشمنوں کا بادشاہ اسے ہدیہ بھیجے۔
(۴؎فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ المحیط الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۶)
وقال اﷲ تعالٰی والمحصنٰت من المؤمنٰت من الذین اوتوالکتب من قبلکم اذا اتیتموھن اجورھن ۱؎
(وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا) وقال اﷲ تعالٰی
وان جنحوا للسلم فاجنح لھا ۲؎۔ وقال اﷲ تعالٰی الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظھروا علیکم احدا فاتمواالیہم عھدھم الی مدتہم ان اﷲ یحب المتقین ۳؎ o وقال تعالٰی واوفوا بالعہد ان العہد کان مسئولا o
وعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) الصلح جائز بین المسلم الاصلحا احل حراما او حرم حلالا ۵؎، وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتغدروا ۶؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورحلال ہیں تمھارے لئے پارسا عورتیں ایمان والیوں میں سے اور ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم ان کے مہر دو (اور اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے) اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف میل کرو۔ سب کافروں کو قتل کرو مگر وہ مشرک جن سے تمھارا معاہدہ ہولیا، پھر انھوں نے تمھارے حق میں کوئی تقصیر نہ کی اور تم پر کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتاہے عہد پورا کرو بیشک عہد پوچھا جائے گا، اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے مسلمانوں میں صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام نہ کرے، اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:ـ بدعہدی نہ کرو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵/۵)(۲؎القرآن الکریم ۸/ ۶۱)(۳؎القرآن الکریم ۹/ ۴)(۴؎القرآن الکریم ۱۷/ ۳۴)
(۵؎ سنن ابی داوؤد کتاب القضاء باب فی الصلح آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۰)
(۶؎ صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۲)
وہ الحاق واخذ امداد اگر نہ کسی امر خلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجر، تو اس کے جواز میں کلام نہیں، ورنہ ضرور ناجائز وحرام ہوگا مگر یہ عدم جواز اس شرط یا لازم کے سبب سے ہوگا نہ بربنائے تحریم مطلق معاملت جس کے لیے شرع میں اصلا اصل نہیں اور خود ان مانعین کا طرز عمل ان کے کذب دعوی پر شاہد، ریل تار ڈاک سے تمتع کیا معاملت نہیں ہے، فرق یہ ہے کہ اخذ امداد میں مال لینا ہے اور ان کے استعمال میں دینا عجب کہ مقاطعت میں مال دینا حلال ہو اور لینا حرام اس کا یہ جواب دیا جاتاہے کہ ریل تار ڈاک ہمارے ہی ملک میں ہمارے ہی روپے سے بنے ہیں۔ سبحان اللہ امداد تعلیم کا روپیہ کیا انگلستان سے آتاہے وہ بھی یہیں کاہے۔ تو حاصل وہی ٹھہرا کہ مقاطعت میں اپنے مال سے نفع پہنچانا مشروع اور خود نفع لینا ممنوع۔ اس الٹی عقل کا کیا علاج، مگر اس قوم سے کیا شکایت جس نے نہ صرف شریعت بلکہ نفس اسلام کو پلٹ دیا مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد فرض کیا، خوشنودی ہنود کے لئے شعار اسلام بند اور شعار کفر کاماتھوں پر علم بلند، مشرکین کی جے پکارنا ان کی حمد کے نعرے مارنا، انھیں اپنی اس حاجت دینی میں میں جسے نہ صرف فرض بلکہ مدار ایمان ٹھہراتے ہیں یہاں تک کہ اس میں شریک نہ ہونے والوں پر حکم کفر لگاتے ہیں، اپنا امام وہادی بنانا مساجد میں مشرک کو لے جاکر مسلمانوں سے اونچا کرکے واعظ مسلمین ٹھہرانا، مشرک کی ٹکٹکی کندھوں پر اٹھاکر مرگھٹ میں لے جانا، مساجد کو ا س کے ماتم گاہ بنانا، اس کے لئے دعا مغفرت ونماز جنازہ کے اشتہار لگانا وغیرہ وغیرہ ناگفتہ بہ افعال موجب کفر ومورث ضلال، یہاں تک کہ صاف لکھ دیا کہ اگر اپنے ہندو بھائیوں کور اضی کرلو تو اپنے خدا کو راضی کرلو گے، صاف لکھ دیا کہ ہم ایسامذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو ہندو مسلم کا امتیاز اٹھاد ے گا اور سنگم وپریاگ کو مقدس علامت ٹھہرائے گا صاف لکھ دیا کہ ہم نے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی، یہ ہے موالات، یہ ہے حرام، یہ ہیں کفریات، یہ ہیں ضلال تام،
فسبحٰن مقلب القلوب والابصار ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ الواحد القہار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
14_6.jpg
جواب(عہ) امام اہلسنت عین حق ہے کلام الامام امام الکلام دیوبندیوں سے منع استصواب حق وصواب، تھانوی صاحب کا استثناء عجب العجائب یہ سروسر غنہ دیوبند ہیں،
افعی راکشتن وبچہ اش رانگاہ داشتن
(سانپ کو مارنا اور اس کے بچے کی حفاظت کرنا۔ ت) کاحال معلوم نہ کہ
عہ: بحمداللہ تعالٰی مولوی صاحب کی دین پرستی کہ انھوں نے اس نصیحت کو قبول کیا اور فتوائے اصلی جمیعت علمائے ہند ص ۴ و ۵ پر یہ مضمون چھاپ دیا، الحمدوالمنۃ کہ یکم نومبر ۱۹۲۰ء عالیجناب موید ملت طاہرہ اعلٰیحضرت مولانا شاہ احمد رضاخاں صاحب قادری بریلوی کا فتوٰی موصول ہوا اس سے مجھے ٹھیک پتا لگا کہ مولوی اشرفعلی صاحب توسروسرغنہ دیوبند ہیں یا اللہ! میری توبہ، مجھ سے یہ غلطی میرے ایک دوست نے کرادی استغفراﷲ تعالٰی ربی من کل ذنب ۱۲۔