| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ المُمتحنۃ (۱۳۳۹ھ) (سورہ ممتحنہ کی آیت کریمہ کے بارے میں درمیانی راستہ)
مسئلہ ۱۸۲: از مرسلہ مولوی حاکم علی صاحب بی اے حنفی نقشبندی مجددی پروفیسر سائنس اسلامیہ کالج لاہور ۱۴ صفر ۱۳۳۹ھ اللہ تعالٰی نے ہمیں کافروں اوریہودونصارٰی کے تولی سے منع فرمایا ہے مگر ابوالکلام زبردستی تولٰی کے معنی ''معاملت'' اور ترک موالات کو ''ترک معاملت'' (نان کوآپریشن) قرار دیتے ہیں اوریہ صریح زبردستی ہے جو اللہ تعالٰی کے کلام پاک کے ساتھ کی جارہی ہے، مذکور نے ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۰ء کی جنر ل کونسل کی کمیٹی میں تشریف لاکر اطلاق یہ کردیاکہ جب تک اسلامیہ کالج لاہورکی امداد بندنہ کی جائے اور یونیورسٹی سے اس کا قطع الحاق نہ کیا جائے تب تک انگرویزوں سے ترک موالات نہیں ہوسکتی اور اسلامیہ کالج کے لڑکوں کو فتوٰی دے دیا کہ اگر ایسا نہ ہو تو کالج چھوڑدو، لہذا اس طرح سے کالج میں بے چینی پھیلادی کہ پھر پڑھائی کا سخت نقصان ہونا شروع ہوگیا۔ علامہ مذکور کا یہ فتوٰی غلط ہے یونیورسٹی کے ساتھ الحاق قائم رہنے سے اور امداد لینے سے معاملت قائم رہتی ہے نہ کہ موالات جس کے معنی محبت کے ہیں نہ کہ کام کے۔ جو کہ معاملت کے معنی ہیں، مذکور کی اس زبردستی سے اسلامیہ کالج تباہ ہورہا ہے مولوی محمود حسن صاحب مولوی عبدالحی صاحب تودیوبندی خیالات کے ہیں زبردستی فتوے اپنے مدعا کے مطابق دیتے ہیں لہذا میں فتوے دیتاہوں کہ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق اور امداد لینا جائز ہے میرے فتوے کی تصحیح، ان اصحاب سے کرائیں جو دیوبندی نہیں مثلا ملت طاہرہ حضرت مولانا مولوی شاہ احمد رضاخاں قاری صاحب بریلوی علاقہ روہیل کھنڈ اور مولوی اشرف علی تھانوی ممالک مغربی وشمالی نقل خط مولوی صاحب: آقائے نامدار مؤید ملت طاہرہ مولٰینا وبالفضل اولٰینا جناب شاہ احمد رضاخاں صاحب دام ظلہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پشت ہذا پر کا فتوٰی مطالعہ گرامی کے لئے ارسال کرکے التجا کرتاہوں کہ دوسری نقل کی پشت پر اس کی تصحیح فرماکر احقر نیاز مند کے نام بواپسی ڈاک اگر ممکن ہوسکے یا کم از کم دوسرے روز بھیج دیں، انجمن حمایت اسلام کی جنرل کونسل کا اجلاس بروز اتوار بتاریخ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو منعقد ہوتاہے اس میں پیش کرنا ہے کہ دیوبندیوں اور نیچریوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ہندوؤں اور گاندھی کے ساتھ موالات قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کے کاموں میں روڑہ اٹکانے کی ٹھان لی ہے للہ عالم حنفیہ کو ان کے ہاتھوں سے بچائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ نیاز مند ودعاگوے حاکم علی بی اے موتی بازار لاہور ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء جواب خط مولوی صاحب: مکرم کرم فرما جناب مولوی حاکم علی صاحب بی اے سلمہم بعد اہدائے ہدیہ مسنونہ ملتمس کل گیارہ بچے آپ کا فتوٰی آیا اس وقت سے شب کے بارہ بجے تک اہم ضروریات کے سبب ایک حرف لکھنے کی فرصت نہ ہوئی، آج صبح بعد وظائف یہ جواب املا فرمایا امید کہ مجموعہ فتاوٰی کی نقل کے بعد آج ہی کی ڈاک سے مرسل ہو، اور مولٰی تعالٰی قادر ہے کہ کل ہی آپ کو پہنچ جائے، مامول کہ وقت پر موصول ہونے سے مطلع فرمائیں والسلام فقیرمصطفی رضاقادری نوری عفی عنہ الجواب: موالات ومجرد معاملت میں زمین وآسمان کا فرق ہے دنیوی معاملت میں جس سے دین پر ضرر نہ ہو سو امرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں۔ ذمی تو معاملت میں مثل مسلم ہے:
لھم مالنا وعلیہم ماعلینا۔
ان کے لئے ہے جو ہمارے لئے اور جوان پر ہے ہم پر۔ (یعنی دنیاوی منافع میں ہماری طرح ان کو بھی حصہ دیا جائے گا اور دنیوی مواخذہ ان پر بھی وہی ہوگا جو ایک مسلمان پر کیا جائے گا) اور غٖیر ذمی سے بھی خرید وفروخت، اجارہ واستیجار، ہبہ واستیہاب بشروطہاجائز اورخریدنا مطلقا ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچنا ہر جائز چیز کا جس میں اعانت حرب یا اہانت اسلام نہ ہو اسے نوکر رکھنا جس میں کوئی کا م خلاف شرع نہ ہو ،اس کی جائز نوکری کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلاء نہ ہو ،ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینا یا اس کا کام کرنا بمصلحت شرعی اسے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو، اس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو حتی کہ کتابیہ سے نکاح کرنا بھی فی نفسہٖ حلال ہے، وہ صلح کی طرف جھکیں تو مصالحت کرنا مگروہ صلح کہ حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال، یونہی ایک حد تک معاہدہ و مواعدت کرنابھی، او رجو جائز عہد کرلیا اس کی وفا فرض ہے، اور غدر حرام الی غیر ذلک من الاحکام۔
درمختار میں ہے:
والمرتدۃ تحبس ابد ا ولا تجالس ولاتؤاکل حتی تسلم ولاتقتل اھ ۱؎ قلت وھوالعلۃ فانہا تبقی ولاتفنی وقد شملت المرتد فی اعصارنا وامصارنا لامتناع القتل۔
مرتد عورت دائم الحبس کی جائے گی اور نہ اس کے پاس کوئی بیٹھے نہ اس کے ساتھ کوئی کھائے یہاں تک کہ وہ اسلام لائے اور قتل نہ کی جائے گی، میں کہتاہوں یہی ان احکام کا سبب ہے کہ وہ باقی چھوڑ دی جاتی ہے اور فنا نہیں کی جاتی اور اب اس ملک میں یہ سب مرتد کو بھی شامل ہوگیا کہ قتل نہیں کیا جا سکتا۔
(۱؎ الدرالمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۰)
محیط میں ہے:
اذا خرج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فان کان امرالایخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعہد یعرفون بذلک ولہ فی ذلک منفعۃ فلاباس ۲؎۔
جب دشمن کے شہر کو امان لے کر تجارت کے لئے جائے اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس پر اس سے اندیشہ نہیں اور وہ کافر عہد پورا کرنے میں مشہور ہوں اور اسے وہاں جانے میں نفع ہو توحرج نہیں۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط کتاب الکراہیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۵)
ہندیہ میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذٰلک منہ و کذٰلک اذا ارادحمل الامتعۃ الیہم فی البحر فی السفینۃ ۱؎۔
جب مسلمان دارالحرب میں امان لے کر جانا چاہےتو اس سے منع نہ کیا جائے گا اوریونہی جب کچھ اسباب دریائی سفر میں ان کی طرف کشتی میں لے جائے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳)
اسی میں ہے:
قال محمد لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ماشاء الاالکراع والسلاح فان کان خمرا من ابریسم اوثیابا رقاقا من القز فلاباس بادخالھا الیہم ولابأس بادخال الصفر والشبہ الیہم لان ھذ الایستعمل للسلاح ۲؎ (ملخصا)
امام محمد نے فرمایا مسلمان جو مال تجارت چاہے حربیوں کی طرف لے جاسکتاہے مگر گھوڑے اور ہتھیار، تو اگر ریشمی دوپٹے یا دیبا کے باریک کپڑے ہوں تو انھیں ان کی طرف لے جانے میں حرج نہیں اور پیتل اور جست ان کی طرف لے جانے میں مضائقہ نہیں کہ ان سے ہتھیار نہیں بنتے۔ (ملخصا)
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳)
اسی میں ہے:
لایمنع من ادخال البغال والحمیر و الثور والبعیر ۳؎۔
خچر اور گدھے اور بیل اور اونٹ دارالحرب میں لے جانا مضائقہ نہیں رکھتا۔
(۳؎فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس فی المستامن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۳۳)