Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
79 - 150
مسئلہ۱۷۷تا۱۸۱: ازرائے پور گول بازارممالک متوسط مسئولہ مرزا محمد اسمعیل صاحب بیگ ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،سرآمد علمائے متکلمین سرخیل کملائے دین جنید عصر شبلی دہر، حامی شریعت ماحی بدعت، مجدد مائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ حضرت مولانا صاحب قبلہ مدظلکم اﷲ تعالٰی علی الفارقین المعتقدین، پس از سلام سنت اسلام آنکہ عرصہ دراز سے کوئی عریضہ ارسال خدمت اقدس نہیں کیا مگر اکثر اوقات حضور کی صحتوری اور مزاج کی کیفیت کاجبل پور ودیگر مقامات کے کاٹھیاواری احباب سے جویاں رہا، موجودہ شورش نان کوآپریشن وہندو ومسلم اتحاد پر مقررین کی تقریریں سنیں اور حضور کے سکوت پر ہمیشہ یہی خیال کرتا رہاکہ دیوبندی اوردیگر فرق ضالہ کی شرکت کی وجہ سے حضور اس روش سے کنارہ کش ہیں اور بحمداﷲ کہ میرا یہ خیال صحیح ہوا۔ چند رسالے جبل پور سے آئے اور تحقیقات قادریہ آیہ
انما ینھٰکم اﷲ ۱؎
جو تحقیق حضور نےفرمائی وہ حاکم علی صاحب بی اے دلائل پوروالے ماسٹر صاحب کو ترک موالات کے متعلق جو مفصل ومدلل فتوٰی ارسال فرمایا من وعن میری نظر سے گزرا میں ایک جاہل شخص ہوں لیکن اب تک الحمد ﷲ عقیدہ اہل سنت وجماعت پر قائم ہوں اور رہوں گا ان شاء اﷲ تعالٰی ،
 (۱؎ القرآن الکریم    ۶۰/ ۹)
ان تمام رسائل اور اشتہارات کے دیکھنے کے بعدمیں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حضور کی تحقیق اور حضور کی وسعت نظر کامخالفین کو بھی ضرور اعتراف ہوگا، گو بظاہر وہ حضور کا خلاف کرتے ہیں، لیکن اب تک ایک خلش میرے دل میں اور باقی رہی جس کی وجہ سے یہ عریضہ بصورت استفتا بغرض طلب ہدایت ارسال خدمتر ہے:

(۱) ان تمام رسائل اور اشتہارات سے یہ تو ثابت ہوچکا کہ موالات ہر کافر و مشرک سے قطعاً حرام ہے خواہ وہ ہند، چین، جاپان، غرض کہ دنیا کہ کسی حصہ کا کیوں نہ ہو لیکن اعزاز واقتدار خلافت قائم رکھنے کےلئے مسلمانانِ ہند کو خصوصاً اور مسلمانانِ دنیا کو عموماً کون ساطرز عمل اختیار کرنا چاہئے جو حدود شرعیہ کے اندر ہو اور اس سے تجاوزنہ کرتا ہو۔

(۲) خلافت یا سلطنت اسلام کی بقا اور تحفظ کا کیا ذریعہ ہے؟
 (۳) الائمۃ من القریش۲؎
 (امام ، قریش میں سے ہوں گے۔ت) کی حدیث پر حضور اپنی تحقیق سے مطلع فرمائیں۔
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل     حدیث حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ         دارالفکر بیروت    ۳/ ۱۲۹)
 (۴) اخبار واشتہار وچشم دید واقعات سے یہ ظاہر ہے کہ شریف مکہ نے حرمین شریفین زاد ہما اﷲشرفاً وتعظیماً کی بے حرمتی کی یا کرائی، جزیرۃ العرب میں کفار و مشرکین کا داخلہ قبول کرلیا اس صورت میں شریف مکہ کے ساتھ کیاسلوک مسلمانوں کو کرنا چاہئے اور شریعت مطہرہ کا ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے؟

(۵) مقامات مقدسہ کفار کے قبضہ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ہیں ان کفار کے اخراج کے لئے کیا طریقہ عمل ہونا چاہئے؟

ان چند امور پر حضور کی اجمالی یا تفصیلی تحقیق مجھے مطلوب ہے اور دیگر علماء سے مجھے کوئی اتنا زیادہ سروکار نہیں جتنا حضور سے، میں نے جب سے ہوش سنبھالا حضور ہی کو اپنا راہبرراہ حق سمجھتا رہا، نہ صرف یہی بلکہ میرے والد بزرگوار جناب مرزا فطرت بیگ صاحب مرحوم انسپکٹر پولیس حضور ہی کی ہدایت پر ندوہ کی ممبری سے علیحدہ ہوئے جو اس خط سے واضح ہے جو مکتوبات علماء وکلام اہل صفا میں بنام حافظ یقین الدین صاحب مرحوم شائع کردیا گیا ہے، اس لئے مجھے فخر ہے کہ میں اس سے ہدایت یافتہ ہوں جو میرے والد مرحوم کے راہبر ہیں، انجمن رضائے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قیام سے بیحد خوشی حاصل ہوئی اس شہر میں اس کی اشاعت کروں گا ان شاء اﷲ تعالٰی، لیکن ایک دیوبندی محمد یسین کی وجہ سے اس میں کچھ رکاوٹ ہوگی ، یہ وہی شخص ہے جس کے مدرسہ کے مقابل یہاں کے اہل سنت نے ایک مدرسہ قائم کرکے حضور کے توسط سے مولوی سید مصباح القیوم صاحب زیدی الواسطی کو بلایا ہے، مولوی صاحب نہایت نیک آدمی ہیں اور ان کی تحقیق مندرجہ بالاامور میں محدود ہے، اس لئے عرض ہے کہ ان پانچ سوالات کے جوابات حضور کے پاس سے آنے پر ان شاء اﷲ میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ انجمن مذکور کی ترویج یہاں بھی ہو، پس عرض ہے کہ جواب باصواب سے جلد تر سرفراز فرمائیں:بینواتوجروافقط حدادب!
الجواب

مکرمی کرم فرمااکرمکم اﷲ تعالٰی، وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
الائمۃ من القریش۱؎
 (امام ،قریش میں سے ہوں گے۔ت) حدیث صحیح متواتر ہے اور اس کے مضمون پر صحابہ کرام و تابعین عظام و ائمہ اعلام تمام اہلسنت کا اجماع ہے کہ کتب عقائد وحدیث و فقہ ا س مسئلہ کی روشن تصریحات سے مالامال ہیں،
 (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل     حدیث حضر ت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ     دارالفکر بیروت    ۳/ ۱۲۹)
ہر سلطنت اسلام نہ سلطنت ہر جماعت اسلام نہ جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے، رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدین النصح لکل مسلم۲؎
 (دین ہر مسلمان کے لئے سراپاخیر خواہی ہے۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری         باب الدین النصیحۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۳)
ہر فرض بقدر قدرت ہے اور ہر حکم مشروط بہ استطاعت،
قال اﷲ تعالٰی لایکلف اﷲ نفسا الا وسعھا۱؎۔
 (۱؎ القرآن الکریم۲/ ۲۸۶)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ تعالٰی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا(ت) 

جو شخص حفاظت اسلام و سلطنت اسلام و اماکن مقدسہ کی استطاعت رکھتا ہے اور کاہلی سے نہ کرے مرتکب کبیرہ ہے یا کفار کی خوشامد وخوشنودی کے لئے تو مستوجب لعنت ہے یادل سے ضرر اسلام پسند کرنے کے سبب تو کافر ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا معذور ہے، شریعت اس کام کا حکم فرماتی ہے جو شرعاً جائز اور عادۃً ممکن اور عقلاً مفید ہو، حرام یا ناممکن یا عبث، افعال حکم شرع نہیں ہوسکتے لہذا:

(۱) مسلمانانِ ہند کو جہاد کا ہرگز حکم نہیں، المحجۃ المؤتمنہ میں اسے واضح کردیا ہے حتی کہ خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۲۷میں ہے:

''میں کشت وخون کو خصوصاً مجتمع حملہ کی صورت جیسا کہ لشکر کرتا ہے غیر مفید سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے اسباب مجتمع نہیں غیر قادرین پر فرض نہیں بدسگالی کی غرض سے کرسکتے ہیں اس کا ضرر ہوگا۔''

(۲) ہندوستان دارالاسلام ہے، ا س میں فقیر کا رسالہ اعلام الاعلام مدتوں سے شائع ہے اور خودمولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۱۷میں ہے:

''ہم لوگوں کا مسلک یہ ہے کہ ہندوستان دارالاسلام ہے''۔

اور شک نہیں کہ دارالاسلام سے ہجرت عامہ کا حکم ہرگز شرع مطہر نہیں فرماتی ، نہ عادۃً وہ ممکن نہ کچھ مفید کہ سب مسلمان اپنی جائدادیں یونہی نصارٰی کے لئے چھوڑ جائیں یا کوڑیوں کے مول ہندوؤں کو دی جائیں اورخود کروڑوں ننگے بھوکے اور ملک کے مسلمانوں پر ڈھٹی دیں ان کی عافیت بھی تنگ کریں یا بھوکے مرجائیں اور اپنی مساجد و مزارات اولیاء پامالیِ کفار ومشرکین کے لئے چھوڑجائیں اور یہ سب کچھ اوڑ بھی لیاجائے تو اس سے سلطنت اسلام کو کیا فائدہ، اور اماکن مقدسہ کا کیا نفع اور ہجرت بعض کا بے سود ہونا بھی عقلاً تومعلوم تھا ہی، اب تجربۃً مشہور بھی ہولیا سوا ان غریب مسلمانوں کی بے سرو سامانی وآوارگی وپریشانی وحسرت وپشیمانی کے اور بھی کوئی فائدہ مترتب ہوا۔

(۳) مالی امداد البتہ ایک چیز ہے اگرچہ مولوی عبدالباری اس کے بھی منکر ہیں۔ رسالہ ہجرت ص۵پر ہے:

''ہم اس وقت اعانت بمال کو مسلمانان ہند پر فرض نہیں سمجھتے بوجہ عدم استطاعت''۔

یہ عذر کیسا بھی ہو مگر ذرائع وصول مہیا ہونا اور وصول پروثوق کے ساتھ اطمینان ملنا بہت ضرور ہے نہ ایسا کہ لاکھوں کے چندے ہوئے اور باوصف کثرت تقاضا____اب تک حساب بھی نہیں دیتے۔

(۴) معاملت حرام کا ترک ہمیشہ سے واجب تھا اور نہ کیا اب جائز کا ترک بھی فرض کررہے ہیں، یہ شرع پر زیادت ہے پھر بھی جائز کا ترک ہر وقت جائز ہے جب کہ کسی مخطور کی طرف منجر نہ ہو اس کاناممکن یا نامفید ہونا المحجۃ المؤتمنہ ص۸۷ سے ۹۲ تک ملاحظہ ہو، باتیں وہ بتائی جاتی ہیں جن پر تمام ملک ہر گز کاربند نہ ہوگا، نہ صرف تمام مسلمان اور بفرض غلط سب مسلمان مان بھی لیں تو بجائے نفع مضر، پھر باطل و نامتوقع پر عام عمل اگر متخیل بھی ہو تو مدید وطویل مدتیں درکار،اور حاجت اس وقت فوری تاتر یاق از عراق کی مثل ہے۔

(۵) فتنہ وفساد پھیلانے کی نامفیدی ظاہر، اب تک سواء بعرض ذلتوں کے کیا حاصل ہوااور یہ کھلا پہلو اس کے شرعاً بھی ناجائز ہونے کا ہے، حدیث میں ہے:

''مسلمان کو روانہیں کہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے''۔

خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۷ میں ہے:

''اس میں شک نہیں کہ اہلاک نفس بلاضرورت جائز نہیں، قانون جن امور کو روکتا ہے ان کو نہ کرنے میں ہم کو عذر ہے''۔

(۶) رہی خالی چیخ پکار، آفتاب سے زیادہ آشکار کہ محض بے سود وبیکار، ملک چیخنے پکارنے سے واپس نہیں ہوتا وہ بھی اتنا وسیع ، و ہ بھی ہلال کا، وہ بھی صلیب سے،  ورنہ اگلے علماء و مشائخ نے ہندوستان ہی چلاچلا کرپھیر لیاہوتا، یا مولوی عبدالباری کے بزرگوں نے چیخ پکار کر یہی ذراسی لکھنؤکی پڑیا، کیا ان کو درد اسلام نہ تھا، تھا مگر عقل بھی تھی کہ مہمل شوروغل سے کیا حاصل ہوگا، خود آزاد کے الہلال جلد۱۲ص۱۶میں ہے:

''زبان سے نالہ وفریاد کرنے کی صورتیں اسی وقت تک کے لئے ہیں جب تک ان سے کشود کار ممکن ہو''۔

(۷) خیر یہاں تک تو تھا جو کچھ تھا، قیامت کا بند تو ہے کہ خلافت کی حمایت واماکن مقدسہ کا نام لے کر

مسلمان کہلانے والے مشرکوں میں فنا ہوگئے، مشرک کو پیشوا بنالیا آپ پس روبنے، جووہ کہے وہی مانیں،قرآن وحدیث کی تمام عمر اس پر نثار کردی، ترک موالات کانام بدنام اور اﷲکے دشمن مشرکوں سے وداد محبت واتحادبلکہ غلامی وانقیاد، ان کی خوشی کے لئے شعار اسلام کا انسداد، ان شناعات کے حلال کرنے کو آیات میں تحریف شریعت میں الحاد، نئی نئی شریعت کا دل سے ایجاد، جس کا بیان آپ کو المحجہ الموتمنہ میں ملے گا، یہ توصراحۃً اسلام کو کند چھری سے ذبح کرنا ہے اس کا نام حمایت اسلام رکھنا کس درجہ صریح مغالطہ و اغوا ہے، ندوہ میں بدمذہبوں ہی کی شرکت کا رونا تھا بظاہر کلمہ گوتو تھے انہوں نے سرے سے کلمہ ہی کو اٹھاکر بالائے طاق رکھ دیا ، نہیں نہیں، بلکہ پس پشت پھینک دیا، مشرکوں کو روح اعظم بنایا، موسٰی بنایا نبی بالقوہ بنایا، مذکر مبعوث من اﷲ بنایا، اس کی مدح خطبہ جمعہ میں داخل کی، اس کی تعریف میں کلام الٰہی کا مصرعہ:
خاموشی از ثنائے تو حدِثنائے تست
 (تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ت)

گایا اور کیا کیا کفر وکفریات وضلالات اختیار کئے جن کا نمونہ آپ کو المحجۃ المؤ تمنۃ کے ص۴۴و۴۵پرملے گا جزیرۃ العرب میں کفار کی سکونت پچھلے سلاطین کے زمانے سے ہے، عدن میں انگریزی فوج وغیرہ میں نصرانی سفارتوں کے قیام مدتوں سے ہیں، حرمین محترمین کی بے ادبی شریف سے ہونے کا مجھے علم نہیں، اخباروں اشتہاروں کو میں خود اپنے معاملہ میں روزانہ دیکھ رہا ہوں کہ میری نسبت محض جھوٹ محض بہتان شائع کرتے اور قصداً لعنتِ الٰہی اپنے اوپر لے رہے ہیں اور ان کی تائید میں کذابین کی عینی شہادتیں ہوتی ہیں حالانکہ اﷲ ورسول جانتے ہیں اور وہ خود دل میں جان رہے ہیں کہ محض جھوٹ بکتے اور افترا بکتے ہیں واﷲ یشھد انھم لکذبون۱؎(اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ت) اگر بے ادبی حقیقۃ ثابت ہوتو جس حیثیت کی جس کی نسبت ثبوت پائے وہ اس قدر کے حکم شرعی کا مستحق ہوگا کسے باشد۔ فقط ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ
 (۱؎القرآن الکریم ۵۹/ ۱۱)
Flag Counter