(۴) کیا قسم کھائی کہ قرآن عظیم کا کوئی جملہ سلامت نہ رکھیں، مشرک کے لئے ہرگز کوئی عزت نہیں اور بڑاد رکنار ادنٰی سے ادنٰی ، چھوٹے سے چھوٹا کوئی رتبہ نہیں،
واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے:
عزت تو صرف اﷲ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶۳/ ۸)
عزیز مقتدر جل وعلا فرماتا ہے:
ان الذین یحادون اﷲ ورسولہ اولٰئک فی الاذلین۲؎۔
بیشک اﷲ ورسول کے جتنے مخالف ہیں سب ہر ذلیل سے بدتر ذلیلوں میں ہیں۔
( ۲؎القرآن الکریم ۵۸/ ۲۰)
عزیز منتقم ،عزجلالہ فرماتاہے:ھم شرالبریۃ۳؎وہ تمام مخلوق الٰہی سے بدتر ہیں۔ مخلوق میں کتا بھی ہے سور بھی ہے۔ قرآن عظیم شہادت دیتا ہے کہ مشرکین ان سے بھی بدتر ہیں، پھر رتبہ و عزت کے کیا معنی!
(۳؎القرآن الکریم ۹۸/ ۶)
(۵) اس کی تعطیم سخت سے سخت کبیرہ اور قرآن عظیم کی مخالفت شدیدہ ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علٰی ھدم الاسلام۴؎۔
جو کسی بدعتی بدمذہب کی تعظیم کرے اس نے اسلام کے ڈھادینے پر مدد دی۔
مبتدع کی تعظیم پر حکم یہ ہے مشرک کی تعظیم کس درجہ بیخ کنی اسلام ہوگی
ولکن المنٰفقین لایعلمون۵؎
(مگر منافقوں کوخبرنہیں۔ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۶۳/ ۲۰)
استقبال کو شاندار بنانے کے لئے جانا تو عین تعظیم ہے جو صریح مخالفت قرآن عظیم ہے، اس جلوس ناما نوس میں ویسے بھی شرکت حرام ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سود مع قوم فھو منھم۶؎
جوکسی قوم کے جتھے میں شامل ہوا وہ انہیں میں سے ہے۔دوسری حدیث میں ہے:
جومشرک کے ساتھ آئے اور اس کے ساتھ رہے وہ بیشک اسی کے مثل ہے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد آخر کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹)
(۶) مشرک کی جے نہ بولے گا مگر مشرک۔حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلک العرش۲؎۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی کانپ جاتا ہے۔
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰)
(اتحاف السادۃ باب الآفۃ الثامنہ عشر المدح دارالفکر بیروت ۷/ ۵۷۱)
(۷) مہاتما کے معنی ہیں''روح اعظم''جو خاص لقب سیدنا جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے، مشرک کو اس سے تعبیر کرنا صریح مخالفتِ خدا ورسول ہے۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتقولو اللمنافق یا سید فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم عزوجل۳؎۔
منافق کو''اے سردار'' نہ کہو بیشک اگر وہ تمہارا سردار ہے، تو تم نے اپنے رب عزوجل کا غضب لیا۔
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب یقول المملوک الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۴)
(مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت بریدۃ الاسلمی دارالفکر بیروت ۵/ ۴۷۔۳۴۶)
اب ادھر تو منافق و مشرک کا فرق دیکھو اور ادھر سردار و روح اعظم کا مواز نہ کرو، انہیں نسبتوں سے اس پر اﷲ عزوجل کا غضب اشد ہے، والعیاذ باﷲ رب العالمین، اﷲ تعالٰی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے مسلمان کرے، مسلمان رکھے، مسلمان مارے، مسلمان اٹھائےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۷۰:از موضع خورد مئوڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سید صفدر علی صاحب۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افواہا سنا جاتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہوئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں کہ ریاضت کرتے ایسے واصل بخداہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ ترک کردیتے ہیں (جبکہ اظہر من الشمس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ کوئی مقرب تر نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نماز روزہ بدرجہ اتم ادا فرماتے تھے) او ر لوگ ان کی ولایت کے قائل ہوتے ہیں، چنانچہ تاریخ فرشتہ (اردو)جلد دوم میں لکھا ہے کہ ''شیخ احمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ حالت جذب میں نماز نہیں پڑھتے تھے''۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے تارک نماز روزہ کے نسبت قرآن مجید و حدیث شریف میں کیا حکم ہے؟آیا تارک نماز و روزہ ولی اﷲ کہے جانے کے لائق ہوسکتا ہے اور ہے یا نہیں اور کوئی درجہ شریعت، طریقت، معرفت میں ایسا ہے کہ جہاں پہنچ کر روزہ نماز کا تارک گنہگار نہ ہو؟
الجواب: کوئی شخص ایسے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس سے نماز و روزہ وغیرہ احکام شرعیہ ساقط ہوجائیں جب تک عقل باقی ہے،
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
واعبد ربک حتی یاتیک الیقین۱؎۔
مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کر۔
(۱؎ القرآن لاکریم۵/ ۹۹)
سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی: کچھ لوگ پیدا ہوئے کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑدی ہے اور کہتے ہیں کہ شریعت تو راستہ ہے ہم پہنچ گئے ہمیں راہ کی حاجت نہیں فرمایا:
"صدقو القد وصلواولکن الٰی این الی النار"
وہ سچ کہتے ہیں ضرور پہنچ گئے مگر کہاں تک، جہنم تک۔ پھر فرمایا:اگر مجھے صدہا برس کی عمر دی جائے توفرض تو فرض جو نفل مقرر کرلئے ہیں ہرگز نہ چھوڑوں۔ اس مسئلہ کاکامل بیان ہمارے رسالہ''مقال عرفاء''میں ہے، حالت جذب میں مثل جنون عقل سلامت نہیں رہتی، اس وقت وہ مکلف نہیں ، جو باوصف بقائے عقل واستطاعت قصداً نماز یا روزہ ترک کرے ہرگزولی اﷲ نہیں ولی الشیطان ہے قرآن وحدیث میں اسے مشرک و کافر تک فرمایا۔
قال اﷲ تعالٰی اقیمو الصلٰوۃ ولاتکونوا من المشرکین۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہوجاؤ۔
(۲؎القرآن الکریم۳۰/ ۳۱)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ترک الصلٰوۃ متعمدافقد کفر جہارا۱؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً نماز چھوڑی وہ علانیہ کافر ہوگیا(ت)
(۱؎ مجمع الزوائد باب فی تارک الصلوٰۃ دارالکتاب بیروت ۱/ ۲۹۵)