؎جوکافروں سے محبت رکھے گا وہ انہیں کے ساتھ ہوگا اور جوان کو عالم دین یا پیر وسنت سمجھے قطعاً کافرومرتد ہے۔
(۲؎ مجمع الزوائد باب تحشر کل نفس علی ھواہا دارالکتاب بیروت ۱/ ۱۱۳)
شفائے امام قاضی عیاض وذخیرۃ العقبٰی بحرالرائق ومجمع الانہر وفتاوٰی بزازیہ ودرمختار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے:
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۳؎
(جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔ جب ان کو مسلمان سمجھنا درکنار ان کے کفر میں شک کر نا موجب کفر ہے تو معاذاﷲ انہیں عالم دین یا پیر وسنت سمجھنا کس قدر اخبث کفر ہوگا
وذٰلک جزاء الظالمین۴؎
(اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت)
(۳؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶) (۴؎ القرآن الکریم ۵/ ۲۹)
اﷲ عزوجل سب خبثا کے شر سے پناہ دے اور مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھولے اور دوست دشمن پہچاننے کی تمیز دے، ارے کس کے دوست دشمن ،محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دوست ودشمن ، افسوس افسوس ہزار افسوس کہ آدمی اپنے دوست دشمن کو پہچانے ، اپنے دشمن کے سایہ سے بھاگے، اس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اترے اور محمدرسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دشمنوں ،ان کے بدگویوں ، انہیں گالیاں لکھ کر شائع کرنے والوں اور ان خبیثوں کے ہم مذہبوں ہم پیالوں سے میل جول رکھے، کیا قیامت نہ آئے گی، کیا حشر نہ ہوگا، کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو منہ دکھانا نہیں، کیا ان کے آگے شفاعت کے لئے ہاتھ پھیلانا نہیں!مسلمانو !اﷲ سے ڈرو رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے حیاکرو۔ اﷲ عزوجل توفیق دے۔آمین!واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۶۳تا۱۶۹:ازشہرمحلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ حاجی محمد خلیل الدین احمد صاحب یکم صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) مشرکین سے اتحاد ووداد حلال ہے یانہیں؟
(۲) مشرک کو اپنی حاجت دینیہ میں اپنا لیڈر یعنی ہادی وامام ورہبر بنانا کیسا ہے؟
(۳) مشرک کی نسبت یہ کہنا کہ وہ ہمارے شہر کی خاک کو پاک کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں، کیا حکم رکھتا ہے؟
(۴) مشرک کے لے بڑا مرتبہ اور عزت ماننا مطابق اسلام ہے یانہیں؟
(۵) اور اس کے استقبال کو شاندار بنانے کے لئے مسلمانوں کا جانا اور مشرک کی تعظیم ،
(۶) اور اس کی جے بولنا،
(۷) اور اس کو مہاتما کہنا کیسا ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) مشرکین سے اتحاد درکنار وداد حرام قطعی ہے۔قال اﷲ تعالٰی:
لاتجدقو مایؤمنون باﷲ والیوم الاٰخر یوادون من حاداﷲ ورسولہ ولو کانوا ابائھم او ابنائھم او اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ۱؎۔
تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جنہیں اﷲ اور قیامت پر ایمان ہے کہ اﷲ ورسول کے مخالف سے دوستی کریں اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان اﷲ نے لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۲۲)
اور فرماتا ہے جل وعلا:
ومن یتولھم منکم فانہ منھم۲؎۔
تم میں جوان سے دوستی کرے گا وہ بیشک انہیں میں سے ہے۔
(۲؎القرآن الکریم ۵/ ۵۱)
یہ ہیں قرآن عظیم کی شہادتیں کہ ان سے وداد واتحاد کفر ہے اور یہ کہ اس کے مرتکب نہ ہوں گے مگر کافر۔ مسلمانو!قرآن کریم سے بڑھ کر کس کا فتوٰی ہے،ومن اصدق من اﷲ حدیثاo۳؎اﷲ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہے۔
(۳؎القرآن الکریم ۴/ ۸۷)
(۲) مشرک کوحاجت دینیہ میں ہادی بنانا امام ٹھہرانا قرآن عظیم کی صریح تکذیب ہے، قرآن عظیم میں ہرزارہاآیتیں گونج رہی ہیں کہ وہ گمراہ ہیں، ہدایت سے بالکل بیگانہ ہیں، یہاں تک کہ فرمایا:
ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلا۱؎۔
وہ چوپایوں کی طرح نرے بے عقل ہی ہیں بلکہ ان سے بھی سخت ترگمراہ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۴۴)
تو جو انہیں ہادی وامام بنائے گا قطعاً قرآن عظیم کو جھٹلائے گا اورقطعاً راہ ہلاک پائے گا ؎
اذاکان الغراب دلیل قوم
سیھدیہم طریق الھا لکینا
(جب کسی قوم کا رہنما کوا ہوتو وہ ان کو ہلاکت کی راہ چلائے گا۔ت)
اور روز قیامت ایسا گروہ اس مشرک ہی کے نام سے پکارا جائے گا
قال اﷲ تعالٰی:
یوم ندعوا کل اناس بامامھم۲؎
جس دن ہرگروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے۔
(۲؎القرآن الکریم ۱۷/ ۷۱)
(۳) لاالٰہ الا اﷲ عجب ان سے کہ مدعی اسلام ہوں اور اسلام کے پورے مدعی بن بیٹھیں، کیا قرآن عظیم کے رد ہی پر کمر باندھی ہے، واحد قہار فرماتا ہے:انما المشرکون۳؎ نجس مشرک تو نہیں مگر نرے گندے، بلکہ عین نجاست عجب کہ نجاست اور مطہر، ہاں جب ہندو دھرم ہی اختیار کیا تو عجب نہیں کہ گوبر اور پوتر، لاواﷲ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر گوبر کی نجاست میں ائمہ کو اختلاف ہے اور مشرک کی نجاست پر قرآن کریم کا نص صاف ہے اور آمد سے زمین ناپاک کرنے میں نجاست باطن نجاست ظاہر سے کروڑ درجہ بدتر ہے، نجاست ظاہر ایک دھار پانی سے پاک ہوجاتی ہے اور نجاست باطن کروڑ سمندروں سے نہیں دھل سکتی جب تک صدق دل سے ایمان نہ لائے،ع