Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
75 - 150
 (۹)بھوپالی کے متبعین سے ایک شخص ملا قصوری اور ایک حافظ شاعر پنجابی پید اہوئے، اول الذکر نے ابن تیمیہ مجسمیہ کے رسالہ''علی العرش استوی'' کی اشاعت کی،صوفیائےکرام کے رد میں بڑے اہتمام سے کتاب ''حقیقۃ البیعۃ والالہام''لکھی اور یوں کفری بولی بولے:بیعت مروجہ یعنی پیرومریدی سے دین اسلام میں اس قدر فتور اور فسادات پڑے ہیں کہ جن کاشمارا مکان سے باہر ہے، شرک فی الالوہیت وشرک فی الربوبیۃ وشرک فی الدعاء جس قدراقسام شرک کے ہیں سب اس سے پیدا ہوئے(ص ۲۸) سب افعال آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے محمود نہیں اور آپ کے لیے عصمت مطلقہ ثابت نہیں ۔(ص۴۴و۴۵) آخر الذکر نے تقویۃ الایمان کو پنجابی میں نظم کیا اور اس کا نام ''حصن الایمان وزینت الاسلام'' رکھا اور بھوپالی کے رسالہ''طریقہ محمدیہ'' کو پنجابی نظم کا جامہ پہنایا اور اس کا نام''انواع محمدی'' رکھا، پنجاب میں ہرکس وناکس جولاہا موچی دھنا وغیرہ جسے دو حرف پنجابی کے آتے تھے یہ کتابیں پڑھ کر اہل سنت وجماعت کو مخالف قرآن وحدیث بدعتی ومشرک کہنے لگے اور تلبیس کی کہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماگئے ہیں:
اذاصح الحدیث فھو مذھبی واترکواقولی بخبر المصفطی(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)
حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور میرے قول کو مصطفی ( صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کی حدیث کے مقابل چھوڑدو۔(ت)

پس دراصل ہم اہلحدیث ہی سچے اور پکے حنفی ہیں نہ کہ فقہاء ومقلدین، اس خلف ناہنجار بدترا زمارنے اپنے پدر بزرگوار کی کتاب فقہ کا رد کیا اور کہا کہ اس وقت علم کم تھا اب دریا علم کا اچھلا اور ہر طرف سے کتب احادیث کی اشاعت ہوئی الغرض بخوف طوالت وملالت اس قدر پر کفالت نہ ان قبائح کا استیعاب ممکن اور نہ ہی ان کے فرقوں کا حصر معلوم، آخر وہ بھی تو انہیں میں سے ہونگے جو دجال کے ساتھ جاملیں گے ، اب آپ کے جناب سے استفتاء یہ ہے کہ آیایہ فرق وہابیہ مثل دیگر فرق ضال روافض وخوارج وغیرہ کے ہیں یا نہیں اور نصوص سے:
اولٰئک ھم شرالبریۃ۱؎، اولٰئک کالانعام بل ھم اضل۱؎ومثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث۲؎۔
وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں، وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑدے تو زبان نکالے (ت)
(۱؎ القرآن الکریم۹۸/ ۶)

(۱؎ القرآن الکریم    ۷/۱۷۹)   ( ۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۷۶)
اور احادیث مثل:
اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ واھل البدع کلاب اھل النار۳؎۔
(۳؎ الکنز العمال     حدیث۹۵۔۱۰۹۴    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱/ ۲۱۸)
اہل بدعت تمام مخلوق سے بدتر ہوتے ہیں واہل بدعت اہل دوزخ کے کتے ہیں(ت) کے مصداق ہیں یانہیں؟ان کے پیچھے اقتداء ان کی کتب کا مطالعہ اور ان سے میل جول کا کیا حکم ہے جوا ن سے محبت رکھے اوران کو عالم اور پیروان سنت سے سمجھے اس کے واسطے کیا ارشاد ہے تکذیب نصوص ، ایذائے جمیع امت، تکفیر وتفسیق اہل سنت وجماعت، دعوی ہمہ دانی وانانیت،مادہ خروج وبغاوت، تحقیر وتوہین شان نبوت ان سب فرق میں کم وبیش موجود ۔ بینواتوجروا۔
الجواب
رب اعوذبک من ھمزٰت الشیطین ، واعوذبک رب ان یحضرون۴؎۔
 (۴؎ القرآن الکریم  ۳۳/ ۹۷)
اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے، اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں(ت)

یہ سوال کیا محتاج جواب ہے خود ہی اپنا جواب باصواب ہے، سائل فاضل سلمہ نے جواقوال ملعونہ ان خبثا سے نقل کئے ہیں ان سب کاضلال مبین اور اکثر کا کفر اورارتداد مہین ہونا خود ضروری فی الدین وبدیہی عندالمسلمین،
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۵؎oالالعنۃ اﷲ علی الظٰلمین۶؎oولئن سألتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل اباﷲ واٰیتہ ورسولہ کنتم تستھزؤنoلاتعتذرواقد کفرتم بعدایمانکم۱؎، یحلفون باﷲ ماقالوا ولقد قالواکلمہ الکفر وکفروابعداسلامھم۲؎، لعنم اﷲ بکفرھم فقلیلاً مایؤمنون۳؎، والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب الیم۴؎oان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدلھم عذابا مھینا۵؎o
اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائینگے (ت)ارے ظالموں پر خداکی لعنت۔ اوراے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے، تم فرماؤ کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستےہو، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد، اﷲکی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اوربیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام کے بعد کافر ہوگئے۔ اﷲ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ اورجو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ بیشک جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲکی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں، اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔(ت)
 (۵؎ القرآن الکریم    ۲۶/ ۲۲۷)(۶؎القرآن الکریم۱۱ / ۱۸)(۱؎ القرآن الکریم    ۹/ ۶۶۔۶۵)   ( ۲؎ القرآن الکریم    ۹/ ۷۴)

(۳؎القرآن الکریم    ۲/ ۸۸ )  ( ۴؎القرآن الکریم    ۹/ ۶۱)(۵؎   القرآن الکریم   ۳۳/ ۵۷)
ان آیاتِ کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ جو عام مسلمانوں پر ظلم کریں ان کے لئے بری باز گشت ہے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، ان پر اﷲ کی لعنت ہے، نہ کہ وہ جواولیاء پر ظلم کریں نہ کہ انبیاء پر نہ کہ خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل وعلوشان اقدس پر، ان پر کیسی اشدلعنت الٰہی ہوگی اور ان کا ٹھکانا دوزخ کا اخبث طبقہ، اوراگر تم ان سے پوچھو کہ یہ کیسے کفریات ملعونہ تم نے بکے تو حیلے گھڑیں گے بے سروپا جھوٹی تاویلیں کریں گے اور کچھ نہ بنے تو یوں کہیں گے کہ ہماری مراد توہین نہ تھی ہم نے تو یوں ہی ہنسی کھیل میں کہہ دیا تھا، واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے: اے محبوب !ان سے فرمادو کیا اﷲاور اس کی آیتوں اور اس کے رسو ل سے ٹھٹھا کرتے تھے، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد۔ جب کوئی حیلہ نہ چلے گا تو کذاب خبیثوں کا پچھلا داؤ چلیں گے کہ خدا کی قسم ہم نے تویہ باتیں نہ کہیں نہ ہماری کتابوں میں ہیں، ہم پر افترا ہے ناواقف کے سامنے یہی جل کھیلتے ہیں،اﷲ واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے: بیشک ضروروہ کفر کا بول بولے اور اسلام کے بعد کافر ہوگئےیعنی ان کی قسموں کا اعتبار نہ کروانھم لاایمان لھم۶؎ان پیشوایان کفر کی قسمیں کچھ نہیں اتخذو ایمانھم جنۃ فصدواعن سبیل اﷲفلھم عذاب مھین۷؎وہ اپنی قسموں کو ڈھال بناکر اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں لاجرم ان کے لئے ذلیل وخوار کرنے والاعذاب ہے ۔ ان کے کفر کے سبب اﷲ تعالٰی نے ان پر لعنت کی تو بہت کم ایمان لاتے ہیں وہ جو رسول اﷲ کو ایذادیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، بیشک جواﷲ ورسول کوایذا دیتے ہیں اﷲ نے دنیا وآخرت میں ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے تیار کر رکھا ذلت دینے والا عذاب۔
   ( ۶؎  القرآن الکریم   ۹/ ۱۲)(۷؎القرآن الکریم    ۵۸/ ۱۶)
طوائف مذکورین وہابیہ ونیچریہ وقادیانیہ وغیرہ مقلدین ودیوبندیہ وچکڑا لویہ خذلہم اﷲ تعالٰی اجمعین ان آیات کریمہ کے مصداق بالیقین اور قطعاً یقینا کفار مرتدین ہیں، ان میں ایک آدھ اگرچہ کافرفقہی تھااور صدہا کفر اس پرلازم تھے جیسے نمبر ۲والا دہلوی مگر اب اتباع واذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقینا اجماعا کافر کلامی نہ ہو ایساکہ من شک فی کفرہ فقد کفر۱؎جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
 (۱؎ درمختار    باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
اور احادیث کہ سوال میں ذکر کیں بلاشبہہ ان کے اگلے پچھلے تابع متبوع سب ان کے مصداق ہیں، یقینا وہ سب بدعتی او راستحقاق نار جہنمی اورجہنم کے کتے ہیں مگر انہیں خوارج وروافض کے مثل کہنا روافض وخوارج پر ظلم اور ان وہابیہ کی کسر شان خباثت ہے۔ رافضیوں خارجیوں کی قصدی گستاخیاں صحابہ کرام واہلبیت عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر مقصور ہیں ان کی گستاخیوں کی اصل مطمع نظر حضرات انبیائے کرام اور خود حضور پر نور شافع یوم النشور ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا
 (راستے کا تفاوت دیکھ کہاں سے کہاں تک ہے۔ت)

ان تمام مقاصداور ان سے بہت زائد کی تفصیل فقیر کے رسائل "سل السیوف وکوکبۃ شھابیۃ وسبحان السبوح و فتاوی الحرمین وحسام الحرمین وتمہید ایمان وانباء المصطفٰی وخالص الاعتقاد وقصیدۃ الاستمداد اور اس کی شرح کشف ضلال دیوبندیہ" وغیرہا کثیرہ تبیرہ ، حافلہ کافلہ، شافعہ وافیہ، قالعہ قامعہ،میں ہے وﷲ الحمد، ان کے پیچھے اقتداء باطل محض ہے کما حققناہ فی النھی الاکید( جیسا کہ ہم نے''النہی الاکید'' میں اس پر تفصیلا گفتگو کی ہے۔ت) ان سب کی کتب کامطالعہ حرام ہے مگر عالم کو بغرض رد۔ ان سے میل جول قطعی حرام، ان سے سلام وکلام حرام، انہیں پاس بٹھانا حرام، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت حرام، مرجائیں تو مسلمانوں کاسا انہیں غسل وکفن دینا حرام، ان کا جنازہ اٹھانا حرام، ان پر نماز پڑھنا حرام، انہیں مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام، ان کی قبر پر جانا حرام، انہیں ایصال ثواب کرنا حرام، مثل نماز جنازہ کفر۔
قال اﷲ تعالٰی : واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظلمین۱؎۔
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
 (۱؎ القرآن الکریم۶/ ۶۸)
اور فرماتا ہے:
ولاترکنو االی الذین ظلموافتمسکم النار۲؎۔
اور نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔
 (۲؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳)
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فایاکم وایاھم لایضلو نکم ولایفتنونکم۳؎۔
ان سے دور بھاگو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
 (۳؎ صحیح مسلم        باب نہی عن الروایہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۰)
دوسری حدیث میں ہے:
لاتجالسوھم ولاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم واذامرضوالاتعودوھم واذاماتوافلاتشھدوھم ولاتصلواعلیہم ولاتصلوا معھم۴؎۔
نہ ان کے پاس بیٹھو، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، نہ ان کے ساتھ پیو، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ، نہ ان پر نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو۔
 (۴؎ کنزالعمال     باب فضائل صحابہ     حدیث ۳۲۴۶۸، ۳۲۵۲۹،۳۲۴۵۴۲موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۲، ۴۰ ،۵۲۹)
رب عزوجل فرماتا ہے:
ولاتصل علی احدمنھم مات ابدا ولاتقم علٰی قبرہ۵؎۔
ان میں کبھی کسی کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر کھڑاہونا۔
(۵؎ القرآن الکریم    ۹/ ۸۴ )
Flag Counter