(۴) قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر، اور چہرے میں کس جگہ ، ماتھے پر، جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین (یہ کفار میں سے ہے۔ت)
خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:
واللفظ لہذا فی الخلاصۃ من تزنر بزنار الیہود والنصاری وان لم یدخل کنیستھم کفر، ومن شد علی وسطہ حبلا وقال ھذازنار کفر، وفی الظہیریۃ وحرم الزوج، وفی المحیط لان ھذاتصریح بما ھو کفر، وفی الظھیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی راسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویاکفر۲؎۔(ملخصاً)
خلاصہ کی عبارت یہ ہے جس نے یہود ونصارٰی کا زنار پہنا اگرچہ وہ ان کے کنیسہ میں نہیں گیا وہ کافر ہے، جس نے اپنی کمر میں رسی باندھی او رکہا یہ زنا رہے اس نے کفرکیا۔ ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوگئی۔ محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃً کفر ہے۔ ظہیریہ میں ہے جس نے مجوس کی ٹوپی سر پر رکھی اسے بتایا گیا تو کہنے لگا بس دل صحیح ہونا چاہئے، وہ کافر ہے۔(ت)
(۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۸۵)
(۵) مسلم وہند و میں امتیاز اسلام وکفر کا امتیاز ہے اور وہ موقوف نہیں ہوسکتا جب تک مسلم مسلم اور کافر کافر ہیں اور یہ اس کلام کی مراد نہیں ہوسکتی کہ سب ہندوؤں کو مسلمان کرلیں گے کہ اس کے لئے کسی نئے مذہب کی کیا حاجت، تو ضرور یہ مراد ہے کہ ایک ایسا مذہب ایجاد کریں گے جو نہ ہندو کو ہندو رکھے نہ مسلمان کو مسلمان ، اور وہ نہ ہوگا مگر کفر کہ اسلام کے سو اجوکچھ ہے سب کفر ہے،یونہی پریاگ وسنگم کی تقدیس یوں مراد نہیں ہوسکتی جیسے سلاطین اسلام شکر اﷲ تعالٰی عنہم نے معابد کفار پر قبضہ فرماکر ان کو مساجد بنایا کہ اس کے لئے بھی نیا مذہب بنانا نہ ہوا، لاجرم یہ مراد ہے کہ وہ رہیں معابد کفار اور پھر مقدس مانے جائیں، اور یہ بھی کفر ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(نوٹ:۶سے۱۶تک کے جواب دستیاب نہ ہوئے)
مسئلہ۱۵۴تا۱۶۲: ازلاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ صوفی احمد دین صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
الحمد ﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی۔ اما بعد یا علماء الملۃ وامناء الامۃ افیضوا علینا من علومکم دام فیوضکم۔
تمام تعریف اﷲکے لئے اور وہی کافی ہے،سلام اس کے منتخب بندوں پر ہو، اے علماءِ ملت اور امین امت!ہمیں اپنے علوم کافیض عطا کیجئے اﷲ تعالٰی تمہارے فیض کو جاری وساری رکھے(ت)
(۱) اس ظالم گروہ کا کیا حکم ہے جن کے امام اول نے سلطان وقت سے باغی ہوکر مکہ معظمہ زاد اﷲ تعالٰی شرفاً پر تغلب کیا، وہاں کے علماء کوتہ تیغ بے دریغ کیا، مزارات اولیاء پر پاخانہ بنائے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارک کو صنم اکبر سے تعبیرکیا، ائمہ مجتہدین اور فقہاء ومقلدین کو
انھم ضلواواضلوا
(وہ گمراہ ہیں اور انہیں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ت) کا مصداق بنایا، اپنی خواہشات کو حق وباطل کا معیار قرار دیا، مختلف عبارات وپیرایہ سے حضور پر نور عفوغفور شفیع یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تنقیصِ شان کرتا تھا اور اسی بدعقیدہ پر اپنی ذریات واذناب کو لگا تھا، اپنے متبعین کے سوا سب کو مشرک جانتا تھا، درود شریف پڑھنے سے بہت ایذاپاتا تھا، حتی کہ ایک نابینا کو منارہ پر بعد اذان صلوٰۃوسلام پر شہید کردیا اور بولا:
ان الربابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوۃ علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۱؎الخ۔
زانیہ کے گھر رباب بجانا اس سے کم گناہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام پڑھاجائے الخ(ت)
(۱؎ الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۴۱)
اس کے متبعین طرح طرح سے حضور علیہ السلام کی تحقیر وتوہین کرتے اور وہ سن کر خوش ہوتا یہاں تک
"ان بعض اتباعہ کان یقول عصای ھذہ خیرمن محمد (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) لانھا ینتفع بھا فی قتل الحیۃ ونحوھا ومحمد(صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) قد مات ولم یبق فیہ نفع اصلاً وانما ھو طارش وقد مضی۱؎الخ کتاب الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ ص۴۱،۴۲۔
اس کے بعض ماننے والے کہتے ہیں یہ میری لاٹھی محمد (صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) سے بہتر ہے کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کا کام دیتی ہے، اور محمد (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) فوت ہوگئے اب ان سے بالکل کوئی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا وہ بہرے تھے جو گزرگئے الخ(ت)
(۱؎ الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۴۲)
بظاہر حنبلی بنتا تھا مگر دراصل حضرت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ سے بالکل بے تعلق تھا، دعوی نبوت کا متمنی تھا مگرقبل از صریح اظہار طعمہ اجل ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچا اورآیۃ:
ان الذین یؤ ذون اﷲورسولہ لعنھم اﷲفی الدنیا والاٰخرۃ۲؎الآیۃ
بیشک جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں ۔الآیۃ(ت)کاپورا پورا مصداق بنا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
(۲) ان کے امام ثانی نے پہلے امام کی ہندی شرح المسمی بہ تقویۃ الایمان لکھی، اپنے فرقہ کا نام موحد رکھا، اور اپنے امام کے قدم بقدم ہوکر سب امت کو کافر ومشرک بنایا، حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام ودیگر انبیاء علیہم السلام بلکہ خود خدائے تعالٰی جل وعلا شانہ کی توہین کی، دشنام دہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو چوہڑے چمار اور عاجز وناکارہ لوگوں سے تمثیل دی۳؎(تفویۃ الایمان ص۱۰،۱۹،۲۹) اﷲ تعالٰی کی ذات والا صفات میں عیب وآلائش کا آجانا جائز رکھا، وقوِع کذب سے صرف بغرض ترفع وبخوفِ اطلاع بچنا مانا(یکروزی ص۱۴۴و۱۴۵) ،نماز میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خیال آنا اپنے بیل اور گدھے کے خیال میں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر بتایا۴؎(صراط مستقیم ص۹۵)دعوی نبوت کے لئے بنیاد یں کھودیں پڑیاں جمائیں اور یوں تمہیدیں باندھیں بعض لوگوں کو احکام شرعیہ جزئیہ وکلیہ بلاواسطہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنے نور قلب سے بھی پہنچتے ہیں وہ انبیاء اور ہم استاد بھی ۱؎ملخصاً(صراط مستقیم ص۳۹) بالآخر جاہ طلبی وملک گیری کے نشہ میں سکھوں سے مڈھ بھیڑ اور عار فرار من الرجف کے بعد افغانوں کی موذی کش تلوار سے راہ فنادیکھی علیہ ماعلیہ۔
(۳) جب ہندی وہابیہ کے امام و اس کے پیر کی موت ان کی سب یا وہ گوئیوں او پیشینگوئیوں کی مبطل ہوئی تو اس کے اذناب وذریات سے ایک شخص قومی ترقی قومی اصلاح کا بہروپ بدل کرنکلا،جملہ کتب تفسیر وفقہ وحدیث سے انکار کیا، تمام ضروریات دین سے منہ موڑا اور بکاکہ، نہ حشر ہے نہ نشر، نہ دوزخ نہ بہشت، نہ فرشتہ ہے نہ جبریل نہ صراط، فرشتہ قوت کا نام ہے، دوزخ وبہشت وحشر، نشر روحانی ہیں، نہ جسمانی کرامات ومعجزات سب ہیچ ہیں، ہر کوئی کوشش کرنے سے نبی ہوسکتا ہے، خدا بھی نیچر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اس کے نزدیک غایت درجہ کی غمی کا نام دوزخ تھا۔ سووہ اپنی اسی مسلمہ دوزخ کے راستہ سے اسفل السافلین میں پہنچا اور وہ اس طرح ہوا کہ اس کے خازن وامین نے بہت سا روپیہ اندوختہ اس کا غبن کیا، معلوم ہونے پر نہایت غمگین ہوا، کھانا پینا ترک کیا، آخر اسی صدمہ سے ہلاک ہوا۔
(۴) اسی کے دُم چھلّوں میں سے مسیح قادیانی دجال پیدا ہوا، دعوی نبوت کیا، سورہ صف میں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت اسم احمد (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) سے ہے اس کو اپنے اوپر چسپاں کیا، اسی طرح درکاتِ جہنم طے کرتا ہوا درکِ اسفل میں پہنچ کریوں کفری بول بولا: ؎
آنچہ دادست ہر نبی راجام دادآں جام را مراوبتمام
پرشد از نور من زمان وزمیں سرہنوزت بہ آسماں از کیں
باخدا جنگہا کنی ہیہات ایں چہ جوروجفاکنی ہیہات
(ہر نبی کوجو جام عطا کیا گیا وہ تمام مجھے عطا کئے گئے، میرے نور سے زمین وزماں پر ہوگئے اور ابھی میراآسمان پر ہے، توخدا کے ساتھ جنگ کررہا ہے افسوس! یہ تو کیاظلم وزیادتی کررہا ہے۔ت)(نزول مسیح)
لڑکا پیدا ہونے پر کہنے لگا
کان اﷲ نزل من السماء
(گویا اﷲ آسمان سے اتر آیا۔ت)پھر کہا مجھے الہام ہوا ہے خدا کی طرف سے
انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی وانا منک
(تومیری اولاد کی مانند ہے ، تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ت) (واقع البلد ص۶و۷) الغرض افتراء وتکذیب کلام الٰہی وتوہین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام خصوصاً حضرت عیسی علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو گندی سڑی گالی دینے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی(ضمیمہ انجام آتھم)
انجام کار اپنے مسلمہ عذاب اعنی مرض ہیضہ سے وعدہ الٰہی:
فلایستطیعون توصیۃ ولاالٰی اھلہم یرجعون۱؎۔
تو نہ وصیت کرسکیں گے ا ور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں۔(ت)کاموردبنا اور اپنے منکر ومخالف علماء کے روبرو وہ فرعون بے عون جہنم رسید ہوا، مسلمان کے سامنے
واغرقنا اٰل فرعون وانتم تنظرون۲؎
(اور فرعون والوں کو ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا۔ت) کا سماں بندھ گیاچاروں طرف سے مسلمانوں بلکہ ہندوؤں نے اس کی نعش خبیث پر نفرین کے نعرے بلند کئے ہر طرف سے بول وبرازکی بوچھا ڑ ہوئی اور
اولٰئک علیہم لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین ۳؎
(ان پر لعنت ہے اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی) کا نقشہ آنکھوں میں جم گیا،
فاعتبروایااولی الابصار۴؎
(تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۵۰) (۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۵۰) (۳؎القرآن الکریم ۲/ ۱۶۱) (۴؎القرآن الکریم ۵۹/ ۲)
(۵) امام ثانی کے اذناب سے ایک بھوپالی پیدا ہوا، ترویج وہابیت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا طرح طرح کے لالچ دے کر مفت کتابیں بانٹ کر خدائے تعالٰی کے لئے جہت ومکان و جسم وغیرہ مانا(رسالہ الاحتواء) فقہاء ومقلدین کو دشنام دینے میں اپنے بڑوں سے سبقت لے گیا اس کا قول بدتر ازبول''یہ ہے سرچشمہ سارے جھوٹوں خبیثوں اور مکروں کا اورکان تمام فریبیوں اور دغابازیوں کی علم فقہ ورائے ہے اور مہاجال ان سب خرابیوں کا فقہاء اورمقلدین کی بول چال ہے''(ترجمان وہابیہ ص۳۵،۳۶) وانجام کار معزول ومسلوب الخطاء ہو کر عدم کی راہ لی اور
خسر الدنیا والاٰخرۃ۵؎
(دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا ۔ت) کا مصداق بنا، صحابہ کرام کو عموماً اور سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو خصوصاً مخترع بدعت سیئہ ٹھہرایا(انتفاد الرجیم)
(۵؎القرآن الکریم ۲۲/ ۱۱)
(۶) وہابیہ وغیر مقلدین کی ضلالت وبدعت جب پورے طور ظاہر ہوچکی اور ہر دیار وامصار سے ان کے رد میں کتابیں لکھی گئیں تو ذریاتِ امام ثانی نے ایک اور مکر کھیلا، اپناحنفی و مقلد ہونا ظاہر کیا عقیدہ تقویۃ الایمان پرقائم رکھا اور ہر طرح سے ان کفریات کی حمایت کرتے رہے، اور عملیات میں حنفی ہونا ظاہر کیا، ٹھیک اسی طرح جس طرح ان کا امام اول حنبلی المذہب بنتا تھا ، بظاہر غیر مقلدین کے ردمیں کتابیں بھی لکھیں ، مگر ساتھ ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ ان مسائل میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے وقت سے اختلاف چلا آتا ہے، لہذا غیرمقلدوں ووہابیوں پر طعن وتشنیع ناجائز(سبیل الرشاد وغیرہ)،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم سے شیطان کا علم زیادہ مانا(براہین قاطعہ) علم غیب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر صبی ومجنون سے تمثیل دی (رسالہ حفظ الایمان وعلم غیب وغیرہ)اور بکے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیوار کے پیچھے کا حال معلوم نہیں، معاذاﷲ اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔ ان کے ردمیں بھی بکثرت کتابیں شائع ہوئیں خصوصاً قامع بدعت حامی سنت صاحب حجت قاہرہ مجدد مائہ حاضرہ، حضرت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی مداﷲ تعالٰی ظلہم العالی نے ان کی وہ سر کو بی کی کہ باید شاید۔
(۷) بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایک ہندو بچہ پیدا ہواآپ اگرچہ ناخواندہ تھا مگر بعض خواندہ وہابیہ سے چند ایک کتابیں مثل ظفر المبین طعن امام ہمام(رضی اﷲ تعالٰی عنہ) اور قیاسات امام پر لکھیں چاروں اماموں کے مقلدین اور چاروں طریقوں کے متبعین کو معاذاﷲ مشرک و کافر بنایا(ظفر المبین ص۱۸۹و۲۳۰و۳۳۲وغیرہ)انجام کا ر مرض ابلاؤس میں ایسا گرفتار ہوا کہ متواتر پانچ سات دن اس کے منہ سے پاخانہ نکلتا رہا، مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے مشرکوں( حنفیوں) کے قبرستان میں نہ دفن کیاجائے ، بالآخر کتے کی موت مرا اور لاہور یکی دروازہ بدرو کے کنارہ دفن ہوا، بدروکا گندہ پانی اس کی قبر میں سرایت کرتا رہا، حتی کہ اس کی قبربھی نیست ونابود ہوکر بدرو میں مل گئی،
فاعتبروایااولی الابصار۱؎
(تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵۹/ ۲)
(۸) اس بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایک اور شخص نکلا، چلنے پھرنے سے معذور ، اور لکھنے پڑھنے سے عاری، اس نے اہل قرآن ہونے کا دعوٰی کیا، کل کتب فقہ ، تفسیر وحدیث سے انکار کیا اور کہا یہ سب مخالفِ قرآن ہیں اور (معاذاﷲ) منافقوں کی بنائی ہوئی ہیں،
اطیعو الرسول۲؎
(اور حکم مانو رسول کا۔ت) میں رسول سے مراد قرآن مجید ہے،اور
مااٰتٰکم الرسول۳؎
(اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں۔ت)میں بھی رسول سے مراد قرآن مجید ہے، اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مراد لئے جائیں تو یہ حکم مالِ غنیمت میں تھا نہ کہ عام حکم،
(۲؎القرآن الکریم۴/ ۵۹) (۳؎القرآن الکریم ۵۹/ ۷)
نمازمیں بھی نئی اختراع کی، المسمی بہ صلوٰۃ القرآن بآیات الفرقان، اور ایک تفسیرچند ایک سیپارہ کی کسی سے لکھوائی جس کا نام''تفسیر القرآن بآیات الرحمٰن''رکھا اور کہتا تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام محض ایلچی تھے ایلچی کو نام و پیام کیا تشریح ومطلب آرائی میں کوئی حق نہیں(معاذاﷲ منہا) آخرذلیل ورسواہوکر لاہور سے نکالا گیا ، چند ایک ملاحدہ نیا چرہ اور اجہل ترین وہابیہ سے اس کے پیرو گئے، ملتان میں جاکر اپنی بدمذہبی کی اشاعت میں مصروف ہوا، انجام کار بدکاری کرتا ہوا پکڑاگیا خوب زد وکوب ہوئی اور اسی صدمہ سے ہلاک ہوا اور سجین میں پہنچا۔