پہلے واقعات سے سند لانا اگر جاہل سے ہوتو جہل شدید ہے اور ذی علم سے تو مکر خبیث وضلال بعید ۔
(۲) یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افترائے محض ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی کافر سے موالات نہیں فرمائی اور کیونکر فرماسکتے حالانکہ ان کا رب عزوجل فرماتا ہے:
ومن یتولھم منکم فانہ منھم۳؎۔
تم میں جو ان سے موالات کرے وہ بیشک انہیں میں سے ہے۔
(۳؎القرآن الکریم ۵/ ۵۱)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کے رب کا ابتدائی حکم یہ تھا:
فاصدع بما تؤ مرواعرض عن المشرکین۱؎o
(۱؎ القرآن الکریم ۱۵/ ۹۴)
اعلان کے ساتھ فرمادو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔
اور انتہائی حکم یہ ہوا۔
یایھاالنبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم۲؎۔
(۲؎القرآن الکریم ۶۶/ ۹)
اے نبی !تمام کافروں اور منافقوں سے جہاد فرما اور ان پر سختی ودرشتی کر۔
معاذاﷲ موالات کا وقت کون ساتھا، سورہ نۤ شریف مکیہ ہے ا س میں فرماتا ہے:
ودوالوتد ھن فیدھنون۳؎
کافر اس تمنا میں ہیں کہ کہیں تم کچھ نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑیں۔ اس وقت میں مداہنت تو روارکھی نہ گئی نہ کہ معاذا ﷲ موالات۔ ائمہ دین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت مداہنت کرنے والے کی تکفیر فرمائی ہے چہ جائے مفتری موالات،
شفاء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
الوجہ الثانی ان یکون القائل غیر قاصد للسب ولکنہ تکلم بکلمۃ الکفر من اضافۃ مالایجوز علیہ مثل ان ینسب الیہ اتیان کبیرۃ اومداھنۃ فی تبلیغ الرسالۃ اوفی حکم بین الناس فحکم ھذاالوجہ حکم الاول۴؎۔(ملخصاً)
دوسری وجہ یہ ہے کہ کہنے والے کا مقصد سب نہ ہو لیکن اس نے ایسا کلمہ کفر بولا اور ایسی شیئ کی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جو آپ کی شان کے مناسب نہ تھی مثلاً کبیرہ کے ارتکاب یا احکام رسالت کے پہنچانے میں یا لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمانے میں مداہنت کی نسبت کی تو اس کا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی ہے۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۶۸/ ۹)
(۴؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلد العثمانیہ ترکی۲/ ۲۳۔۲۲۲)
سخت محرومی و بیباکی ہے، یہ کہ آدمی کے کسی عیب پر نکتہ چینی ہو اور وہ اپنے اوپر سے دفع الزام کے لئے کسی نبی سے استشہاد کرے کہ ان سے بھی ایسا واقع ہو ااگرچہ ظاہر اً وہ فعل وقوع میں آیا ہو اور اس نے اپنی نابینائی سے فرق نہ دیکھا اور ملائکہ کو چمار پر قیاس کیا۔
شفا ء شریف امام قاضی عیاض میں ہے:
ھذہ کلہا وان لم تتضمن سباولاقصد قائلھا ازراء فما وقرالنبوۃ ولاعظم الرسالۃ ولاعزرحرمۃ الاصطفاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی شبہ من شبہ فی معرۃ قصد الانتفاء منھا بمن عظم اﷲ خطرہ ونھی عن جھر القول لہ ورفع الصوت عندہ فحق ھذا ان دری عنہ القتل السجن وقوۃ تعزیرہ۱؎۔(ملخصاً)
یہ تمام کلام اگرچہ سب و شتم کو متضمن نہیں اور نہ ہی قائل نے اس سے کسی عیب کا قصد کیا ہے بہر حال اس نے نہ تو منصب نبوت ورسالت کا خیال رکھا ہے نہ ہی حرمت کا اقرار کیا ہے حتی کہ روانی کلام میں شاعر نے اپنے ممدوح کو عیب سے پاک ہونے کا قصد کرتے ہوئے اس ذات سے تشبیہ دی جس کی قدر ومنزلت کو اﷲ تعالٰی نے عظیم فرمایا، اور اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ رب العالمین نے ان کی بارگاہ میں بلند آواز سے بولنے کی ممانعت فرمائی، اس سوءِ ادبی کی سزا اگرچہ قتل نہیں ہے تاہم قید بامشقت کی سزا دینا ضرور ی ہے(ملخصاً)(ت)
(۱؎ الشفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلاد العثمانیہ ترکی ۲ / ۲۳۰)
سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر معاذاﷲ انہونی جوڑنا اور اس نے اپنی ناپاکی کا جواز چاہیں ،کتنی سخت خباثت اور کس قدر شدید موجب لعنت ہے، کیا کسی عالم دین کا وہ ناسعید بیٹا سخت ناخلف نہ قرار پائے گا جس کے بھنگ پینے پر اس کے باپ کے شاگرد اعتراض کریں اور وہ اپنے اوپر سے دفع اعتراض کے لئے محض جھوٹ بہتان اپنے باپ پر رکھ دے کہ کیا تمہارے استاد چرس نہ پیتے تھے، پھر کہاں باپ اور کہاں سیدا لمرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم !
(۳) یہ کہنا کہ مسجد الحرام شریف سے کفار کا منع ایک خاص وقت کے واسطے تھا اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اﷲ عزوجل پر صریح افتراء ہے،
قال اﷲ تعالٰی انما المشرکون نجس فلایقربواالمسجد الحرام بعدعامھم ھذا۲؎۔
(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۲۸)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔(ت)
یونہی یہ کہنا کہ وفود کفار مسجد نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہے، اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسے جائز رکھنے کا اشعار حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افترائے فجار ، حاشا کہ اﷲ کا رسول گوبار بار فرمائے کہ کسی مسجد ، نہ کہ خاص مسجد مدینہ کریمہ میں نہ کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے بتوں یا مسیح کی عبادت کی جائے، جانتے ہوکہ اس سے ان کا مقصود کیا ہے، یہ کہ مسلمان تواسی قدر پر ناراض ہوئے ہیں کہ مشرک کو مسجد میں مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے ان کو واعظ بنایا وہ تو اس تہیّہ میں ہیں کہ ہندوؤں کو حق دیں کہ مسجد میں بت نصب کرکے ان کی ڈنڈوت کریں، گھنٹے بجائیں، سنکھ پھونکیں کیونکہ ان مفتریوں کے نزدیک خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مسجد میں خود حضور کے سامنے کفار اپنے طریقہ کی عبادت کرتے تھے۔
ویلکم لاتفتروا علی اﷲ کذبا فیسحتکم بعذاب۱؎۔
تمہیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم۲۰/ ۶۱)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے مسجد کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری معاذاﷲ بطوراستیلا واستعلاء نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغ اسلام سننے کے واسطے ، کہاں یہ اور کہاں وہ جو بدخواہان اسلام نے کیا کہ مشرک کو بروجہ تعظیم مسجد میں لے گئے اسے مسلمانوں سے او نچا کھڑاکیا اسے مسلمانوں کو واعظ وہادی بنایا اس میں مسجد کی توہین ہوئی اور توہین مسجد حرام، مسلمانوں کی تذلیل ہوئی اور تذلیل مسلمین حرام، مشرک کی تعظیم ہوئی اور تعظیم مشرک حرام ، بدخواہی مسلمین ہوئی بلکہ بدخواہی اسلام، پھر اسے اس پر قیاس کرنا کیسی سخت ضلالت و گمراہی ہے طرفہ یہ کہ زبانی کہتے جاتے ہیں کہ مشرک کا بطور استعلاء مسجد میں آنا ضرور حرام ہے، اور نہیں دیکھتے کہ یہ آنا بطور استعلا ہی تھا،
تو یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں(ت)
(۲؎القرآن الکریم۲۲/ ۴۶)
اسی نابینائی کی بناء پر یہ مسلمان کو دھوکا دینے والے یہاں، حنفیہ وشافعیہ کا اختلافی مسئلہ کہ مسجد میں دخول کافر حرام ہے یانہیں محض دھوکا دینے کو پیش کرتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ اس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔
اولاًخود کتب معتمدہ حنفیہ سے ممانعت پیدا ہے،
ثانیاًخود محرر مذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ارشاد سے ہویدا ہے۔
ثالثاًعلماء وصلحاء کا ادب کیا رہا ہے اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم ہمیشہ مائل تعظیم وتوہین میں
دخل رکھتا ہے۔
رابعاً غیر اسلامی سلطنت اور نامسلموں کی کثرت میں ا جازت کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے۔
خامساً وہ نجس قوم کہ بنص قرآن اس پر حکم نجاست ہے اور وہ مسلمانوں کو ملیچھ کہے،بھنگی کے مثل سمجھے سودا بیچے تو دور سے ہاتھ میں رکھ دے، اس کے نجس بدن، ناپاک پانوؤں کے لئے تم اپنی مساجد کو وقف کرو یہ کس قدر مصلحتِ اسلام کے گہرے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے، ان سب سے قطع نظر ان حرکاتِ شنیعہ کا اس سے کیا علاج ہوسکتا ہے ؎
او گماں بردہ کہ من کردم چو او
فرق را کہ بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس کی مثل کیا حالانکہ وہ لڑائی کی جستجو کرنے والا اس فرق کو کیسے محسوس کرسکتا ہے)
صحیح بخاری شریف میں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے:
فرمایا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الوضوء باب اذا شرب الکلب فی الاناء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹)
زمانہ رسالت میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے اب تم خود کتے اپنی مسجدوں اور مسجد الحرام شریف یا مسجد نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں لے جاؤ اور جمعہ کے دن امام کے دہنے بائیں منبر پر دو کتے بٹھاؤ تمہارے استدلال کی نظیر تو یہیں تک ہوگئی، کہہ دینا کیا زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں نہ آتے جاتے تھے،ہم لے گئے اور منبر پر انہیں بٹھایا تو کیا ہوا، اور وہ جو آنے جانے اور یوں لے جانے اور منبر پر بٹھانے کا فرق ہے اس سے آنکھ بند کرلینا جیسے یہاں بند کرلی، کون سی آنکھ، دل کی کہ
ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۲؎
(دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۶)
بلکہ خدا تمہیں عقل وانصاف دے تو یہ بھی تمہارے فعل کی نظیر نہیں، تم خطیب کے آس پاس منبر پر کتے بٹھاؤ اس سے وہ کتے خطیب نہ ہوجائیں گے، اور تم نے مشرکین کوخطیب مسلمین بنایا لہذا اگر قدرے اپنے فعل سے تقریب چاہو تو ان کتوں کو سدھاؤ کہ جب امام پہلا خطبہ پڑھ کر بیٹھے وہ نہایت بلند آواز سے بھونکنا اور رونا شروع کردیں کہ باہر تک کے سب لوگوں کو خبر ہوجائے کہ جلسہ ودعا کا وقت ہے، یونہی نماز کے وقت آٹھ آٹھ دس دس صفوں کے فاصلے سے چار چار کتے صف میں کھڑے کرو کہ تکبیرانتقال کے وقت چیخیں اور مکبروں سے زیادہ تبلیغ کاکام دیں اور یہی حدیث بخاری حجت میں پیش کردینا کہ دیکھو زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے بلکہ ان کے آنے سے کوئی فائدہ نہ تھا اور ہم کتے اس نفع دینی کے لئے لے گئے، توبدرجہ اولٰی یہ جائز ہوا، وہاں تک تو قیاس تھا یہ دلالۃ النص ہوئی اور اس میں جو تمہارے استدلال کی خباثت ہے نہ دیکھنا، کیونکہ ٹھہر گئی ہے کہ