مسئلہ۱۳۴:ازشہر عقب کو توالی مسئولہ ولایت حسین وعبدالرحمٰن ۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے دین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ میں ایمان سے کہتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو پہلے قادیانی تھا اور نہ اب ہوں، قادیانی پر لعنت کرتا ہوں، میں اہل سنت و جماعت ہوں اگر کوئی شخص مجھ پر بعد توبہ کرنے کے الزام دے تو وہ مواخذہ دار ہوگا یانہیں؟یااگر میرا میل کسی وقت ان لوگوں سے کوئی ثابت کرے تو میں سب لوگوں کامواخذہ دار ہوں گا، قادیانی کو کافر جانتا ہوں۔ العبد ولایت حسین
گواہان:عبدالرحمٰن بقلم خود، مسیح اﷲ بقلم خود، قادر حسین بقلم خود، امانت حسین بقلم خود، مولوی محمد رضاخاں بقلم خود، صادق حسین بقلم خود، محمد محسن بقلم خود، لیاقت حسین بقلم خود، فقیر محمد حشمت علی خان رضوی،فقیر ایوب علی رضوی بقلم خود، قناعت علی قادری رضوی بقلم خود۔
الجواب
اﷲ تعالٰی توبہ قبول فرماتا ہے اور بعد توبہ کے گناہ باقی نہیں رہتا،
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۱؎۔
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳)
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے انہو ں نے پہلے بھی ایک مجمع میں توبہ کی تھی اور آج پھر ایک مجمع میں توبہ کی تھی پھر ایک مجمع کے ساتھ آئے جن کے دستخط اوپر ہیں اور دوبارہ توبہ کی، توبہ کے بعد ان پر بلاوجہ جو کوئی الزام رکھے گا وہ سخت گنہگار ہوگا اور توبہ کے بعد اگر پھر یہ میل جول کریں گے تو ان پرگناہ عظیم کا بار ہوگا مگر بلاوجہ توبہ کے بعدالزام رکھناسخت جرم ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۵:از نو شہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ۱۴محرم الحرام۱۳۳۹ھ
ایک مرزائی قادیانی کاسوال ہے کہ ابن ماجہ کی حدیث ہے، رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر صدی کے بعد مجدد ضرور آئے گا۔
مرزا صاحب مجدد وقت ہے۔ عالی جاہ!اس قوم نے لوگوں کو بہت خراب کیا ہے، ثبوت کے لئے کوئی رسالہ وغیرہ ارسال فرمائیں تاکہ گمراہی سے بچیں۔
الجواب: مجدد کا کم از کم مسلمان ہونا تو ضرور ہے اور قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا کہ:
من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر۱۔
جو اس کے کافراور عذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر۔
لیڈر بننے والوں کی ایک ناپاک پارٹی قائم ہوئی ہے جو گاندھی مشرک کو رہبر، دین کا امام و پیشوامانتے ہیں، نہ گاندھی امام ہوسکتا ہے نہ قادیانی مجدد، السوء والعقاب وقہر الدیان وحسام الحرمین مطبع اہلسنت بریلی سے منگائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۶: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ شیخ الطاف احمد صاحب رضوی۱۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے مولانا صاحب مسجد جانی سے کہا کہ اگر رافضی تکبیر تمہاری جماعت میں آکر کہے تو تکبیر شمار کی جائے گی یانہیں؟کہا:رافضی کی تکبیر شمار نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں: میں نے کہا: اگر وہابی تکبیر کہے تو وہ تکبیر شمار ہوگی یانہیں؟کہا:تو کیا یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے ہیں کیا حرج ہے، میں نے کہا: یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔ جواب ملا:کیا خوب۔ علاوہ اس کے امام مسجد مذکورہ کی نشست بھی رہتی ہے، لہذاایسی صورت میں اگر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی تو اچھا کیا یا برا؟نماز نہ پڑھنے والا توبہ کرے اور معافی چاہے یاامام ؟بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مذکورہ میں ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز نہیں ، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے والے نے بہت اچھا کیا؟اس پر کچھ الزام نہیں، اس امام پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور سنی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷: ازشہر محلہ کانکرٹولہ مسئولہ سید فرحت علی صاحب۱۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ زید مسلمانوں کے ایک گروہ کا سردار بننا چاہتا ہے، لیکن علمائے وہابیہ کو اچھا کہتا اور کہتا ہے کہ وہ علمائے دین ہیں، ان کے وعظ سنتا ہے، ان سے فتوے لیتا ہے، ان پر عمل کرتا ہے، نماز فجر کی اندھیرے سے پڑھتا ہے، اکثر نماز میں سنتیں ترک کرتا ہے، میلاد شریف میں قیام کے بعد آتا ہے یا پہلے سے کھڑا ہوجاتا ہے، اور کبھی آتا بھی نہیں ، اور کہتا ہے کہ میلاد شریف اتنی دیر نہ پڑھنی چاہئے کہ نماز صبح کی قضا ہوجائے کیونکہ میلاد سے نماز مقدم ہے۔ زید سے مسلمانوں کو بدگمانی ہوئی تو زید نے کہا کہ میں اﷲ کو جانوں، اس کے رسول کو پہچانوں صحابہ کو سمجھوں، آل پر فدا ہوں۔ تو مسلمانوں نے کہا کہ اچھا تم گیارھویں شریف کرو یا میلاد شریف کرو۔ کہا میرے پاس پیسہ نہیں تم کرو میں بھی سر پر رکھ کر کھالوں گا۔ ایسی صورت میں مسلمان زید کو اپنا سردارمانیں اور اس کی باتوں پر عمل کریں اور اس سے میل جول رکھیں یانہیں؟اور جو مسلمان سردار مانیں یا اس سے ملیں اس کی باتوں پر عمل کریں ان پر کیا حکم ہے؟اورزید ہمارے اہلسنت کے گروہ میں کس حکم سے داخل ہوسکتا ہے پھر ا س حکم پربھی اسکو سردار مانا جائے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
جو شخص دیوبندیوں کو مسلمان ہی جانے یا ان کے کفر میں شک کرے بفتوائے علمائے حرمین شریفین ایساشخص خود کافر ہے کہ:
پھر وہ سردار مسلمانان کیسے ہوسکتا ہے ،گیارہویں شریف کی نیاز کھالینا دلیل اسلام نہیں بڑے بڑے کٹر وہابی جو اسے حرام وشرک کہتے ہیں کھانے کو آپ سب سے پہلے دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں، ایسا شخص جب تک وہابیہ اور خصوصاً ان دیوبندیوں کو جنہیں علمائے حرمین شریفین نے کافر لکھا نام بنام بالاعلان کافر نہ کہے اس کی توبہ صحیح نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۴۸تا۱۵۳:ازشہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۹محرم ۱۳۳۹ھ
جس طرح کہ ایران میں باب اور بہاؤ کو پیشروبناکر بابی وبہائی جدید فرقے بنائے گئے اور ہندوستان میں گرو نانک ،کبیر، سید احمد جونپور، سید احمد رائے بریلوی، سید احمد کولی، آغا خاں اور مرزائی قادیانی کو پیشوا، مہدی ، لیڈر، نبی اور خدابناکرجدید فرقے بنائے گئے۔ اسی طرح اس وقت محض برائے نام مسلمان لیڈروں اور مولویوں نے ایک ہندو لیڈر مسٹر گاندھی کو اپنا پیشوا بناکر ایک جدید فرقہ بنایا ہے اور ان کی نسبت اب تک بذریعہ اخبارات، رسالہ جات، اشتہارات،مشاہدات اور مسموعات امور ذیل معلوم ہوتے ہیں:
(۱) ایک مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک سفر میں ایک کافر کو اپنا رہنما بنایا تھا اسی طرح ہم نے مسٹر گاندھی کو اپنا ہادی بنایا ہے، اور صاف لکھ دیا کہ ہمارا حال اس شعر کا مصداق ہے ؎
عمرے کے بآیات واحادیث گزشت
رفتے ونثار بت پرستی کردے
(وہ عمر جو آیات واحادیث میں گزری ہے وہ ختم ہوگئی اور وہ بت پرستی کی نذر کردی)
(۲) کہتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرب کے کافر قبائل سے موالات کی تھی ہم کفارِ ہند سے موالات کرتے ہیں۔
(۳) مسجد میں ہندوؤں سے منبر پر لکچر دلوائے گئے اور کہا گیا کہ مسجد نبوی میں وفودِ کفار قیام کرتے تھے اور اپنے طریقے پر عبادت بھی کرتے تھے، اور کفار کا داخلہ مخصوص بمسجد الحرام ایک خاص وقت کے واسطے منع تھا۔
(۴) بعض لیڈروں نے جن کو مولانا کا بھی خطاب دے دیا گیا ہے مندروں میں جاکر اپنے ماتھوں پر ہندوؤں سے ٹیکے لگوائے ۔ کہتے ہیں کہ قشقہ شعار کفر اور منافی اسلام نہیں ہے۔
(۵) پارٹی مذکور کے اس مولانا نے ہمدم میں چھاپ دیا ہے کہ ہماری جماعت ایک ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو ہندو مسلم امتیاز اٹھادے گا اور سنگم و پریاگ کو مقدس مقام بنائے گا پارٹی مذکور نے اسے مقبول رکھا اور کسی نے چون وچرا نہ کیا۔
(۶) پارٹی مذکور کے اس مولانا نے شائع کیا ہے کہ اگرآج تم نے ہندو بھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کروگے۔
(۷) ایک ہندو کی ٹکٹی اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اس کی جے پکارتے ہوئے سروپابر ہنہ مرگھٹ تک لے گئے ایک بت اٹھایا گیا اس کے ساتھ سرپابر ہنہ جے پکارتے سڑکوں پر گشت کیاگیا۔
(۸) اس کے ماتم کے لئے سروپابرہنہ مساجد میں جمع ہوئے اور اسکے لئے دعائے مغفرت اور نماز کے اشتہار دئے اور اس پر کاربند ہوئے، اسکے ماتم میں مسجدیں بے چراغ رکھی گئیں۔
(۹) ہولی کے سوانگ میں ہندوؤں نے بزرگان اسلام کی تحقیر وتوہین کی، مسلمانوں نے ہندو مسلم اتحاد کو مدنظر رکھ کر کچھ تعرض نہ کیا اور چشم پوشی کی۔
(۱۰) مسٹرگاندھی کے فرمان کے بموجب روزے رکھے گئے اس کے حکم پر نفل نمازیں پڑھی گئیں اور کاروبار بند کرکے معطل رہے۔
(۱۱) ایک ہندو لیڈر کے حکم سے ایک ڈولا سجایا گیا اور اس میں قرآن مجید، بائیبل اور رامائن رکھ کر ان کی پوجا کراتے مندر میں لے گئے۔
(۱۲) مسٹر گاندھی اور اس کے قوم کو خوش اور راضی کرنے کی غرض سے ایک جائز مشروع فعل قربانی گاؤ کو ممنوع اور ترک کرکے در پردہ ایک شعار اسلام سے مسلمانوں کو باز رکھا گیا اور ایک امر حلال کو حرام قرار دیا گیا، ایک بکری کی قربانی ایک خاندان(اگرچہ ساٹھ ستر آدمیوں کا ہو) کی طرف سے جائز سمجھی گئی اور حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا غیر ضروری بتایا گیا۔
(۱۳) خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے ہزارہا مسلمانوں کو ہجرت افغانستان اور جہاد کی ترغیب دے کر خانماں برباد ویران وپریشان بنایا گیا۔
(۱۴) کٹار پور کے ہندوؤں نے قربانی گاؤ کے پیچھے مسلمانوں پر شدید ظلم توڑے، انہیں بے دریغ ذبح کیا، انہیں آگ سے جلایا، اس پر ان میں سے بعض گرفتار ہوئے جن پرثبوت کامل ہوگیا اس خیر خواہ اسلام پارٹی نے ان کی معافی کے ریزولیوشن پاس اور گورنمنٹ کو ان کی رہائی کے لئے تار دئے اور مظالم ہولاگڈھ سے چشم پوشی و بے اعتنائی کی گئی۔
(۱۵) خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے مسلمانوں کا لاکھوں روپیہ اقطاع ہندوستان اور یورپ کی سیروسیاحت اور تفریح وتفنن میں صرف کیا جاتا ہے۔
(۱۶) خلافت کے مصنوعی حمایت کے حیلہ سے عیسائیوں سے ترک موالات اور عدم تعاون، عمل کے غیر ممکن العمل منصوبوں اور تجاویز پر عملدرآمد کرایا جاتاہے اور مشرکین ہند کے ساتھ مواخات وموالات قائم کرکے بعض شعار کفر اختیار اور بعض شعار اسلام ترک کرائے جارہے ہیں ، باوجود ان سب امور کے وہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور جو ان کی پیروی نہ کرے اس کو کافرکہتے ہیں، لہذا علمائے اہلسنت وجماعت اس فرقہ گاندھویہ اور اس کے پیشروان وپیروان کی نسبت جو عبداﷲ کے بجائے عبدالگاندھی بن گئے ہیں اور دوسروں کو عبدالگاندھی بنارہے ہیں صاف صاف احکام شرعی دربارہ معاشرت و مناکحت مصاہرت و نماز ظاہر واضح فرماکر عنداﷲ ماجور اور عندالناس مشکور ہوں۔
الجواب
(۱) قرآن وحدیث کی عمر کو معاذاﷲبت پرستی پر نثار کرنا قرآن وحدیث کی شدید توہین اور بت پرستی ملعونہ کی عظیم تعظیم ہے، یہ اگر کفر نہ ہوتو دنیا میں کوئی چیز کفر نہیں،کہاں زمین غیر معروف کا راستہ بتانے کے لئے کسی مشرک کو ساتھ لینا اور کہاں معاذاﷲ اپنے دین کا اسے ہادی ورہبر بنانا، اس کی نظیر بھی ہوسکتی ہے کہ کسی کا شیخ وامام وہادی دین، یکّہ میں سوار ہویکہ بان کافر ہو، اس امام کے بعض مرید بننے والے مشرک کو نماز میں اپنا امام کریں اور اسی شیخ مقتدا کے فعل سے سند لائیں کہ دیکھو یکہ بان کافر ان کے آگے بیٹھا تھا ہم نے اس کافر کو نما زمیں اپنے آگے کرلیا توکیاحرج ہوا، پھر یہ بھی اس وقت کا واقعہ ہے کہ ہنوز حکم جہاد نازل نہ ہوا،
لکم دینکم ولی دین۱؎
(تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرادین ۔ت) پر عمل تھا ۔
(۱؎ القرآن الکریم۱۰۹/ ۶)
پھر بتدریج کفار پرتغلیظ بڑھتی گئی اور اخیر حکم ابدی ناطق وہ نازل ہوا کہ: