مسئلہ۱۲۷تا۱۲۹: مسئولہ آدم ابراہیم صاحب از کچھ انجار ضلع کچھ بھوج بھوم پیر
(۱) ایک شخص کہتا ہے کہ لاالٰہ الااﷲ فرض ہے محمد رسول اﷲ واجب ہے کیونکہ قرآنی آیت سے تو پورا کلمہ ایک جگہ ثابت نہیں، ہاں احادیث سے ضرور ثابت ہے، غلط ہے یاصحیح؟
(۲) ایک شخص کہتا ہے کہ ہم کو قرآن وحدیث سے ضرور نہیں، تم آپ ہی اس کے ورق لوٹا کرو، نماز تم ہی پڑھو، سربیشے اور چوتڑ اوپر کون کرے، ایسے لوگوں کا کیاکہنا چاہئے اوربیعت ان سے کرنا کس طرح ہے؟زعم یہ ہے کہ قرآن مولویوں نے بنایا ہے مولویوں کے قرآن کو نہ ماننا چاہئے۔
(۳) ایک شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیں، اﷲ کو ایک جانتا ہوں رسول اﷲ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں، حنفی مذہب کا پابند ہوں، جو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اور اﷲ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) وہ شخض جھوٹ کہتا ہے، شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے لاالہ الا اﷲ، محمد رسول اﷲدونوں کا ماننا فرض سے اعظم فرض اور یکساں فرض ہے،دونوں قرآن مجید میں ہیں، یکجا نہ ہونے سے ایک کی فرضیت کیوں جاتی رہی، بلکہ ان کی فرضیت تو قرآن مجید ماننے سے بھی مقدم ہے، قرآن مجید کا ماننا ان کے ماننے پر موقوف ہے بلکہ ان میں بھی پہلا جملہ بغیر دوسرے جملہ کے بیکار ہے اور دوسرے جملہ کے ماننے میں پہلے کا ماننا خودآگیا صرف لاالٰہ الااﷲ سے مسلمان نہیں ہوسکتا اور صرف محمد رسول اﷲ سچے دل سے ماننا اسلام کے لئے کافی ہے، جو اسے مانے محال ہے کہ لاالہ الااﷲ نہ مانے۔
درمختار میں ہے:
یلقن بذکر الشہادتین لان الاول لاتقبل بدون الثانیۃ۱؎۔
(میت کو)دونوں شہادتوں کی تلقین کی جائے کیونکہ پہلی شہادت(توحید) دوسری شہادت (رسالت) کے بغیر مقبول ہی نہیں۔(ت)
(۱؎ درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۹)
یہ کہنے والا اگر فرق فرض وواجب سے غافل ہے یونہی سنی سنائی اتنا جانتا ہے کہ فرض کا مرتبہ زیادہ ہے جب تو اسی قدر حکم ہے کہ کذاب ہے بیباک ہے شریعت پر مفتری ہے، مستحق عذاب نار ہے اس پر توبہ فرض ہے، اور اگر فرق جان کر کہتا ہے کہ محمد رسول اﷲ (حضرت محمد صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔ت)کاماننا یقینی لازم نہیں صرف ظنی ہے، تو قطعاً کافر مرتد ہے۔
(۲) اس میں تین الفاظ ملعونہ اور تینوں کفر خالص ہے کافر مرتد کے ہاتھ پر بیعت کیا معنی!جوان اقوال پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے یا اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہامیں ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔
جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
(۳) اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی، نہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاشبہہ شبہہ نہ کیا جائے بدگمانی حرام ہے ، اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گی، وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں،
قال اﷲ تعالٰی یحلفون باﷲ ماقالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہو ں نے نہ کہا۔ اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر بعد میں کافر ہوگئے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۷۳)
نہ ان کی قسموں کا اعتبار ۔
قال اﷲ تعالٰی
انھم لاایمان لھم۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں۔
(۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۲)
اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے، اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیں، تو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں ورنہ ضرور وہابی ہے، جھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اﷲ پر اعتبار نہ کرنا نہیں ،
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقینا اﷲ کے رسول ہیں، اور اﷲ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرورجھوٹے ہیں، اور انہو ں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا تو اﷲ کی راہ سے روکا ، بیشک وہ ہی برے کام کرتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم۶۳/ ۲۔۱)
مسئلہ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین ان لوگوں کے بارے میں جو نہ توعلمائے کرام کے فتاوٰی پر عمل کریں اور نہ مانیں بلکہ علمائے کرام ورثۃ الانبیاء کومحض اس بغض پر کہ ان کے کاموں کو کیوں ناجائز بتلاتے ہیں، برا کہیں۔
الجواب: یہ جو طلب کیا جاتا ہے وہ بھی تو فتوٰی ہی ہوگا جو فتوٰی نہیں مانتے ان پر اس کا کیااثر ہوگا، عالم دین سے بلاوجہ ظاہر بغض رکھنے پرخوف کفر ہے نہ کہ جب کہ وہ بغض ان کا فتوٰی شرعی ہو۔
منح الروض وغیرہ میں ہے:
من ابغض عالما بغیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر۲؎۔
جس نے سبب ظاہری کے بغیر کسی عالم سے بغض رکھا اس پر کفر کا خوف ہے(ت)
(۲ ؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۳)
عالم دین کی توہین کھلے منافق کا کام ہے اورفقہ میں ان پر حکم کفر ۔ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدابہ الاستخفاف کفر۱؎۔
سادات اور علمائے کی توہین کفر ہے، جس نے بے ادبی وگستاخی کی نیت سے کسی عالم کو عویلم (ادنی عالم) یا کسی علوی کوعلیوی کہا اس نے کفر کیا(ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)
مگر وہاں کیاجائے شکایت جہاں قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر نثار کی جاتی ہو۔
سبحٰن مقلب القلوب والابصار، ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
پاک ہے وہ ذات جو دل و نگاہ کو بدل دیتی ہے اے ہمارے پر وردگار !ہمیں اپنی ہدایت عطا کرنے کے بعدہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بلا شبہہ تو ہی عطا کرنے والا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۸)
مسئلہ۱۳۱تا۱۳۳:مسئولہ میرفدا علی صاحب ازشہر کہنہ انسپکٹر چونگی ۲۷ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) زید عالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے روزانہ نماز پڑھتا ہے اور عالم مذکور کے کہنے کو مانتا ہے خواہ وہ کہنا اس کا کسی طور پر بظاہر نیک کام کے واسطے ہو اور خود بھی مشورہ کے لئے اس کے پاس جاتا ہے نیز عالم اہل سنت کی خدمت حاضر ہوتا ہے خواہ یہ حاضری کسی نیک کام کےلئے ہو اور اپنے آپ کو سنی بھی کہتا ہے، ایسی حالت میں بموجب شریعت اسے اہل سنت وجماعت کہا جاسکتا ہے یانہیں؟
(۲) عمروعالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اعتراض ہونے پر یہ جواب دیتاہے کہ یہ علماء کے جھگڑے ہیں یہ ان کو براکہیں وہ ان کو برا کہیں ہماری نماز سب کے پیچھے ہوجائے گی، علماء کی باتیں علماء جانیں، ایسی صورت میں عمرو سنی کہا جاسکتا ہے (۳)یانہیں، اور ایسا جواب دینا اس کا ٹھیک ہے یانہیں؟
بکر اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور فرقہ وہابیہ اور غیر مقلدوں کے معاملہ میں کہتا ہے کہ یہ سب قرآن وحدیث کے ماننے والے ہیں، جھگڑے کی باتیں نہیں نکالنا چاہئے، سب حق پر ہیں، ایسی کیفیت میں بکر کو سنی کہا جاسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) اگر وہابی کاشاگرد وہابی ہے اور یہ اسے وہابی جانتا ہے پھر اسے قابل امامت مانتا ہے خلاصہ یہ کہ کسی وہابی کو وہابی جان کر کافر نہیں جانتا وہ سنی کیا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔
(۲) ایسی صورت میں عمرو سنی کیا مسلمان بھی نہیں کہ اس کے نزدیک اسلام و کفر یکساں ہیں اور کفر کا ردجھگڑا ہے۔
(۳) ایسی صورت میں بکر کافر و مرتد محض ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔