صحابہ کرام کو جھوٹا سمجھنے والا گمراہ بددین ہے۔ اور اگر سب صحابہ کو عموماً ایسا سمجھے تو کافر بالیقین ہے۔
(۲) لب بالا کے بال حد سے متجاوز رکھنا سنت کی مخالفت اور کافروں سے تشبّہ ہے۔
(۳) پانی اگر ضرر نہ کرتا ہو تو صرف خوف سردی سے تیمم کرنا حرام ہے اور نماز باطل اور اس کے پیچھے سب کی نماز باطل ایسا کرنے والا اشد فاسق۔
(۴) اسپرٹ حرام ہی نہیں بلکہ نجس بھی ہے، اپنے ہی منہ میں پینا، توحرام ونجس چیز کھانے پینے کا آج کل ہر شخص کو اختیار ہے، مگر مسجد کے برتن نجس کئے کہ مسلمانوں کے جامہ و بدن ناپاک اور وضو و نماز باطل ہوں، یہ صاف دلیل ہے کہ یہ شخص شریعت پر سخت جری وبیباک ہے۔
(۵) سود لینے کو حلال جاننا کفر صریح ہے اور حرام جان کر ایک درم سود کھانا اپنی ماں سے ۳۶ بار زنا کے برابر ہے،
جس نے عمداً ایک درہم سود کھایا اس نے اپنی ماں سے چھتیس ۳۶دفعہ زنا کیا۔(ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵)
(۶) بے عذر مرض و سفر روزے رمضان کے نہ رکھنا اور فدیہ کافی جاننا قرآن عظیم کی تحریف اور نئی شریعت کا ایجاد اور جہنم کبرٰی کا استحقاق ہے۔
نولہ ماتولی ونصلہ جھنم وساءت مصیرا۲؎۔
ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۵)
(۷) سائل نے تصرف میں لانا مطلق لکھا اگر بلا نکاح یا عدت کے اندر نکاح کے ساتھ ہے توزنا ہے، ورنہ دھوکا دینے پر سرکارِ دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من غشنا فلیس منا۳؎۔
جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔(ت)
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من غشنا فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰)
(۸) اپنی منکوحہ پرغیرت نہ کرنے والا دیوث ہے اور ماں باپ کو فحش گالیاں جورو سے سن کر خاموش رہنے والا عاق ہےاور دیوث وعاق دونوں کو فرمایا کہ وہ جنت میں نہ جائیں گے۔
(۹) مغرب میں قصر کرنا نئی شریعت کا نکالنا اور اﷲ تعالٰی پر افتراء ہے،
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎۔
بیشک جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا بھلا نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۶۹)
(۱۰) آیۃ الکرسی میں چند الفاظ کا بیچ میں سے چھوڑجانا اگرچہ ایک مذہب پر مطلقا مفسد نماز ہے جبکہ صرف آیۃ الکرسی ہی پڑھی ہو اور جب کوئی لفظ چھوٹ گیا آیت پوری نہ ہوئی، مذہب راجح میں بے فساد معنی فسادِ نماز نہیں، اور واجب بھی ادا ہوجائے گا جبکہ باقی تین آیت کی قدر ہو، مگر یہ مسئلہ کہ تین آیت کی قدر پڑھنے کے بعد کوئی غلطی مفسدِ نماز نہیں ہوتی محض باطل ۔
(۱۱) یہ صراحۃ آیہ کریمہ
یاایھاالنبی قل لازواجک وبناتک۲؎
(اے نبی!اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں سے فرمادو۔ت) کی تکذیب ہے اورآیت کی تکذیب کفر۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۹)
(۱۲) اس قول میں کمال تکبر ہے اور وہ آیہ کریمہ
لقد استکبر وافی انفسھم وعتواعتواکبیرا۳؎
(بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پرآئے۔ت) میں داخل ہوتا ہے اور یہ کہ جو بیعت لیتا ہے میری ہی لئے لیتا ہے درپردہ رسالت ونبوت یا کم از کم غوثیت عظمٰی کا ادعا ہے،
(۳؎القرآن الکریم ۲۵/ ۲۱)
بالجملہ افعال واقوال مذکورہ فسق وضلال وکفر میں دائر ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے ، جو مسلمان اس کی اقتداء سے بچتا ہے وہ بہت اچھا کرتا ہے اس پر ملامت حق پر ملامت ہے، جو اس کے پیچھے نماز پڑھے وہی مستحق ملامت، بلکہ سزا وارعذاب شدید ہے، والعیاذ باﷲ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۱: از شہر پونہ گھوڑ پوڑی بازار متصل مسجد مکان نمبر۲۷بھولی بخش بالور
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت ہے، وہ پیشتر قوم چمار تھی، بعد میں مسلمان ہو کر ایک مرد مسلمان سے اس نے نکاح کرلیا، اس سے پہلے اسی قوم میں شادی ہوچکی تھی، کیونکہ اس کے ایک لڑکا ہے، اب وہ عورت اپنی قوم میں جانا چاہتی ہے اور اس کے خاندان کے لوگ اور اس کا بیٹا اس کو ورغلارہے ہیں کہ تو اپنی قوم میں آجا تجھ کو اچھی طرح رکھیں گے، اور وہ عورت میرے یہاں کھانا پکانے پر ملازم ہے اور وہ عورت بھی جانا چاہتی ہے، تو اب ہم کو شرع شریف کیا حکم دیتی ہے کہ ہم کس طریقہ سے اس کو رکھیں اور اس کے اسلام میں تو کوئی ضعف نہیں ہے اور ہم کو اسے کیسی امداد دینی چاہئے اور وہ میرے قبضہ میں بھی ہے اور اس کو ہم نے سمجھا سمجھا کر رکھا ہے ورنہ وہ اب تک اپنی قوم میں شریک ہوجاتی، فقط۔
الجواب: جب وہ کافروں میں جاملنا اور کافر ہونا چاہتی ہے تو وہ کافر ہوگئی جبراً روک رکھنے سے مسلمان نہیں ہوسکتی، ہاں اگریہ سمجھا جائے کہ اس روکنے سے وہ خواہش کفر اس کے دل سے نکل جائے گی اور پھر صدق دل سے مسلمان ہوجائے گی تو روکا جائے ورنہ دور کیا جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۲: از درؤ ڈاک خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲ۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ آدمی حضور کے عقائد کو بہت اچھا اور بہتر جانتے ہیں اور دیوبندی مولویوں کے عقاید کو بہت براجانتے ہیں اور بڑے پکے سنت جماعت ہیں لیکن بہ سبب بے علمی اور نادانی کے ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں، حضور کی تحریروں سے اتنا شوق نہیں جو حق اور ناحق معلوم کریں، آیا ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی جائے یانہیں؟اور اس مرض میں بہت مخلوق مبتلا ہے۔
الجواب: جسے یہ معلوم ہوکہ دیوبندیوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی لئے علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافرمرتد لکھا اور صاف فرمایاکہ:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔
جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷)
(حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱)
جوان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شک ہی کرے وہ بھی کافر اور جن کو اس کی خبر نہیں اجمالاً اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بدعقیدہ بد مذہب ہیں وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل وبیکار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳:از بخشی بازار کٹک مرسلہ محمدعبدالرزاق ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا عقیدہ ہے اﷲ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
علیہ وسلم کا علم برابر ہے اور دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مغیبات عطیہ تھے، خدا کے علم کے مقابلے میں حضرت کا علم کروڑہا سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ سے بھی کم ہے، اور شخص اول شخص دوم کو کافر و مشرک ووہابی جانتا ہے ، خواہ عالم ہو یا جاہل ہم لوگوں نے یہ سنا ہے کہ مولوی احمد رضاخاں صاحب کے برابر کوئی عالم نہیں ہے، اور مجدد مائۃ حاضرہ آپ ہی ہیں، اور شخص اول ایصال ثواب کو جو عوام الناس دن مقرر کرتے ہیں واجبات میں سے جانتا ہے، اور جوایصال ثواب کو بلا تعین کرتا ہے اس کو خاطی کہتا ہے اور اہلسنت سے خارج ، اور ایصال ثواب کے واسطے دن مقرر کرنے کو سنت سمجھتا ہے اور کہتا ہے مجدد مائۃ حاضرہ کا بھی یہی عقیدہ ہے، اس میں حق کیا ہے؟ اور ان دونوں میں کون کافر ہے کون مسلمان؟
الجواب: علم الٰہی سے مساوات کا دعوٰی بیشک باطل ومردود ہے مگر تکفیر اس پر بھی نہیں ہوسکتی جب کہ بعطائے الٰہی مانے، اور بلاشبہہ حق یہی ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین واولین آخرین کے مجموعہ علوم مل کر علم باری سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو ایک بوند کے کروڑویں حصہ کو کروڑوں سمندروں سے ہے، اور ایصال ثواب کے لئے تعین تاریخ بلاشبہہ جائز ہے اور سنت مسلمین ، یعنی ان کا طریقہ مسلوکہ ہے مگر اسے واجب جاننا باطل محض ہے یونہی سرکار رسالت کی سنت سمجھنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۴:از گڑھنگ لج ڈاکخانہ ضلع کولھاپور جامع مسجد مرسلہ آدم شاہ پیش امام ۴رمضان ۱۳۳۸ھ
ایک خاندانی شخص آئین دین وقوانین شریعت کو قصداً وعمداً نہیں مانتا اور اپنے ہی قول وفعل پرہٹ دھرمی کرتا ہو یعنی قطعی جان بوجھ کر اپنی لڑکی کے حرام کی کمائی کھاتا ہو اور وضع حمل حرام ہونے تک اپنے گھر میں رکھ کر ہر قسم کا برتاؤ کرتا اور کسی کی نصیحت بھی نہ مانتا ہو ایسے موذی شخص کے بارے میں علمائے دین کس قسم کے برتاؤ کا حکم دیتے ہیں؟
الجواب: ایسا شخص خبیث ومردود دیوث ہے بحکم حدیث اس پر جنت حرام ہے اور بحکم قرآن عظیم اس کے پاس بیٹھنا جائز نہیں،
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعدالذکری مع القوم الظٰلمین۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
مسلمان اسے یک لخت چھوڑدیں اور اس سے سلام کلام، میل جول، سب ترک کردیں جب تک صدق دل سے توبہ نہ کرلے، اس سے زیادہ یہاں کیا سزا ہوسکتی ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۲۵: از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲ صاحب امام مسجد جامع ۱۹رمضان ۱۳۳۸ھ
زید کہتا ہے کہ سود کے معنی اور ہیں اور بیاج کے معنی اور ہم بہت نہیں لیتے ہیں اور کھلم کھلا سود کھاتا ہے اور اوروں کو کہتا ہے کہ تم سود کے معنے نہیں جانتے، اور جائز کہتا ہے، اس کے اصرار پر شرع کا کیا حکم ہے؟
الجواب: سود مطلقاً حرام ہے بہت ہو یا تھوڑا،
قال اﷲ تعالٰی
وحرم الربوٰ۱؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور حرام کیا سود۔ت) زید کا اسے حلال کہنا اس کی حلت پر اصرار کرنا موجب کفر ہے، اس پر توبہ فرض ہے، ازسرِ نو مسلمان ہو پھر اگر عورت راضی ہوتو اس سے نکاح جدید کرے، اور اگر نہ مانے تو مسلمان اسے قطعاً چھوڑدیں اس کے پاس بیٹھنا اٹھنا حرام ہے،
قال تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۵) (۲؎ القرآن الکریم۶/ ۶۸)
مسئلہ۱۲۶:از موضع پرتاب پور پر گنہ وضلع بریلی مرسلہ محبوب عالم صاحب ۱۸/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرید خاندان عالیہ مداریہ میں ہے اور نماز و روزہ کا پابند ہے اور بصدق دل کلمہ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھتا ہے ، خد اکو حق اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو برحق اور عقیدہ اہل سنت وجماعت کا پابند ہے لہذا خدمت بابرکت میں مستدعی ہے کہ عند الشرع ایسا شخص مسلمان اور صاحب ایمان ہے یانہیں؟
الجواب: جب وہ اﷲ ورسول کو برحق جانتا ہے اور تمام عقائد ایمانیہ کا سچے دل سے معتقد ہے اور کوئی قول یا فعل تکذیب یا توہین کا اس سے صادر نہیں ہوتا، جاہل مداریوں وغیرہم کی طرح شریعت کو لغو نہیں سمجھتا تو بیشک وہ مسلمان ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔