Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
7 - 150
جواب سوال سوم 

فی الواقع جو بدعتی ضروریاتِ دین میں سے کسی شیئ کا منکر ہوباجماعِ مسلمین یقینا قطعاً کافر ہے اگرچہ کروڑبار کلمہ پڑھے، پیشانی اس کی سجدے میں ایک ورق ہوجائے، بدن اس کا روزوں میں ایک خاکہ رہ جائے، عمر میں ہزار حج کرے،لاکھ پہاڑ سونے کے راہِ خدا پر دے، واﷲ ہرگزہرگز کچھ مقبول نہیں تک حضور پر نورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ان تمام ضروری باتوں میں جو وہ اپنے رب کے پاس سے لائے تصدیق نہ کرے، ضروریات اسلام اگر مثلاً ہزار ہیں تو ان میں سے ایک کا بھی انکار ایسا ہے جیسا نوسو ننانوے ۹۹۹ کا، آج کل جس طرح بعض بددینوں نے یہ روش نکالی ہے کہ بات بات پر کفر وشرک کا اطلاق کرتے ہیں اور مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کہتے ہوئے مطلق نہیں ڈرتے حالانکہ مصطفی علیہ افضل الصلوٰۃ والثناء ارشاد فرماتے ہیں:
 فقد باء بہ احدھما۱؎
(ان دونوں میں سے ایک نے یہ حکم اپنے اوپر لاگو کیا۔ت)
(۱؎ صحیح بخاری     کتاب الادب     باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۹۰۱

صحیح مسلم     کتاب الایمان                    قدیمی کتب خانہ کراچی           ۱/ ۵۷)
یونہی بعض مداہنوں پر یہ بلاٹوٹی ہے کہ ایک دشمن خدا سے صریح کلمات توہین آقائے عالمیان حضور پر نور سیدالمرسلین الکرام صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا اور ضروریاتِ دین کا انکا ر سنتے جائیں اور اسے سچا پکا مسلمان بلکہ ان میں کسی کوافضل العلماء کسی کو امام الاولیاء مانتے جائیں یہ نہیں جانتے یا جانتے ہیں اور نہیں مانتے کہ اگر انکارِ ضروریات بھی کفر نہیں، تو عزیزو! بت پرستی میں کیا زہر گھل گیا ہے، وہ بھی آخر اسی لئے کفر ٹھہری کہ اول ضروریاتِ دین یعنی توحیدِ الٰہی جل وعلا کے خلاف ہے، کہتے ہیں وہ کلمہ گو ہے نماز پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے ایسے ایسے مجاہد ے کرتا ہے ہم کیونکر اسے کافر کہیں ان لوگوں کے سامنے اگر کوئی کلمہ پڑھے افعالِ اسلام ادا کرے بااینہمہ دو خدا مانے شاید جب بھی کافر نہ کہیں گے مگر اس قدر نہیں جانتے کہ اعلمال تو تابع ایمان ہیں پہلے ایمان تو ثابت کرلو تو اعمال سے احتجاج کرو۔ ابلیس کے برابر تو یہ مجاہدے کا ہے کو ہوئے پھر اس کے کیا کام آئے جوان کے کام آئیں گے، آخر حضور اقدس اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک قوم کی کثرت اعمال اس درجہ بیان فرمائی کہ:
تحقرون صلوٰتکم مع صلٰوتھم وصیامکم مع صیامھم۲؎اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ان کی نماز وں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے،جیسا کہ یہ حضور علیہ والسلام نے فرمایا ہے(ت)
 (۲؎ صحیح بخاری     کتاب فضائل القرآن     باب من رایابقرأۃ القرآن الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/۷۵۶)
پھر ان کے دین کا بیان فرمایا کہ:
یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ۱؎۔
دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری     کتاب فضائل القرآن     باب من رایاالقرآن الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۵۶)
رہی کلمہ گوئی تو مجرد زبان سے کہنا ایمان کے لئے کافی نہیں، منافقین تو خوب زور و شور سے کلمہ پڑھتے ہیں حالانکہ ان کےلئے
فی الدرک الاسفل من النار۲؎
 (جہنم کی نچلی تہہ میں۔ت)کافرمان ہے والعیاذباﷲ ۔
 (۲؎ القرآن الکریم                         ۴/ ۱۴۵)
الحاصل ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اور وہ بعد انکار ضروریات کہاں، مثلاً:

(۱) جورافضی اس قرآن مجید کو جو بفضلِ الٰہی ہمارے ہاتھوں میں موجود ہمارے دلوں میں محفوظ ہے، عیاذًا باﷲ بیاضِ عثمانی بتائے اس کے ایک حرف یا ایک نقطہ کی نسبت صحابہ اہلسنت یا کسی شخص کے گھٹانے یا بڑھانے کا دعوٰی کرے۔

(۲)یااحتمالاً کہے شاید ایسا ہواہو۔

(۳) یا کہے مولٰی علی یا باقی ائمہ یا کوئی غیرنبی انبیاء سابقین علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل ہیں۔

(۴) یا مسئلہ خبیثہ ملعونہ بدل کا قائل ہویعنی کہے باری تعالٰی کبھی ایک حکم سے پشیمان ہوکر اسے بدل دیتا ہے۔ 

(۵) یا کہے ایک وقت تک مصلحت پر اطلاع نہ تھی جب اسے اطلاع ہوئی حکم بدل دیا
"تعالی اﷲ عما یقول الظّٰلمون علواکبیرا"۔
 (۶) یادامن عفت مأمن طیب اعطر اطہر کنیز ان بارگاہ طہارت پناہ حضرت ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی اﷲ علٰی زوجہا الکریم وابیہا وعلیہا وبارک وسلم کے بارے میں اس افک مبغوض مغضوب ملعون کے ساتھ اپنی ناپاک زبان آلودہ کرے۔

(۷) یاکہے احکامِ شریعت حضرات ائمہ طاہرین کوسپرد تھے جو چاہتے راہ نکالتے جو چاہتے بدل ڈالتے۔

(۸) یاکہے مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی وسلم کے بعد ائمہ طاہرین پر وحیِ شریعت آتی رہی۔

(۹) یاکہے ائمہ سے کوئی شخص حضور پر نور مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہم پلہ تھا۔

(۱۰) یا کہے حضرات کریمین امامین شہیدین رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضور پر نور علیہ الصلاۃ والسلام سے افضل ہیں کہ ان کی سی ماں حضور کی والدہ کب تھیں اور ان کے سے باپ حضور کے والد کہاں تھے اور ان کے سے 

نانا حضور کے نانا کب تھے۔

(۱۱) یاکہے حضرت جناب شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم نے نوح کی کشتی بچائی، ابراہیم پر آگ بجھائی،یوسف کو بادشاہی دی، سلیمان کو عالم پناہی دی علیہم الصلوٰۃ والسلام اجمعین۔ 

(۱۲) یا کہے مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی وقت کسی جگہ حکمِ الٰہی کی تبلیغ میں معاذاﷲ تقیہ فرمایا
الٰی غیر ذٰلک من الاقوال الخبیثۃ۔
 (۱) یا جو نجدی وہابی حضور پر نور سیدالاولین والآخرین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے کوئی مثل آسمان میں یا زمین، طبقات بالا میں یا زیریں میں موجود مانے یاکہے کبھی ہوگا یا شاید ہویا ہے تو نہیں مگر ہوجائے تو کچھ حرج بھی نہیں۔

(۲) یا حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا انکار کرے۔

(۳) یا کہے آج تک جو صحابہ تابعین خاتم النبیین کے معنے آخر النبیین سمجھتے رہے خطا پر تھے نہ پچھلا نبی ہونا حضور کے لئے کوئی کمال بلکہ اس کے معنے یہ ہیں جو میں سمجھا۔

(۴) یا کہے میں ذمہ کرتا ہوں اگر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبوت پائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔

(۵) یا دو ایک برے نام ذکر کرکے کہے نما ز میں جناب رسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف خیال لے جانا فلاں فلاں کے تصور میں ڈوب جانے سے بدتر ہے لعنۃ اﷲ علی مقالتہ الخبیثۃ۔

(۶) یابوجہ تبلیغ رسالت حضور پر نور محبوب رب العٰلمین ملک الاولین والآخرین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اس چپراسی سے تشبیہ دے جوفرمان  شاہی رعایا کے پاس لایا۔

(۷) یا حضور اقدس مالک و معطی جنت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ اور حضرت ومولانا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ وحضرت سیدنا غوثِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اسمائے کریمہ طیبہ لکھ کرکہے(خاک بدہانِ گستاخاں) یہ سب جہنم کی راہیں ہیں۔

(۸) یا حضور فریاد رس بیکساں حاجت روائے دو جہاں صلوات اﷲ وسلامہ علیہ سے استعانت کو برا کہہ کریوں ملعون مثال دے کہ جو غلام ایک بادشاہ کا ہو رہا اسے دوسرے بادشاہ سے بھی کام نہیں  رہتا پھر کیسے ۔۔۔۔۔۔کا کیا ذکر ہے اور یہاں دوناپاک قوموں کے نام لکھے۔

(۹) یا ان کے مزار پر انوار کو فائدہ زیارت میں کسی پادری کافر کی گور سے برابر ٹھہرائے،
اشد مقت اﷲ علی قومہ۔
 (۱۰) یا اس کی خباثت قلبی توہین شان رفیع المکان واجب الاعظام حضور سیدالانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام پر 

باعث ہو کہ حضور کو اپنا بڑابھائی بتائے،

(۱۱) یا کہے (انکے بدگو) مرکر مٹی میں مل گئے۔

(۱۲) یا ان کی تعریف ایسی ہی کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس سے بھی کم
الٰی غیر ذٰلک من الخرافات الملعونۃ۔
Flag Counter