| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
مسئلہ۱۰۷:ازدیوگڈھ میواڑہ مرسلہ قاضی عبدالعزیز صاحب۱۹ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گروہ نہ ہندو نہ مسلم دائم شارب الخمر، مشرک، سارق علانیہ، ملکوں میں سیاحی کرکے نہ معلوم کس طرح سے فریب کرکے یا سرقہ کرکے ہزاروں روپوں کا سونا چاندی وزیورات وغیرہ لے آتے ہیں اور گیتاوبھاگوت پر عمل کرنے والے اور ہولی و دیوالی وگنگووغیرہ کی پرستش کرنے والے، جب نام لینا رام چندربھگوت ہی کو پکارنا اور قسم بھی ان کی کھانا اسماء ولباس بھی اہل ہنود کا سا کلمہ جن کو یاد نہیں اسلام سے بالکل ناآشنا محض نکاح ونمازجنازہ کے پابند ہیں بعض اوقات سیاحی میں مردوں کو بھی آگ میں جلاتے ہیں اگر ان سے کہا جاتا ہے کہ طریقہ اسلام پر ہوجاؤ اور شرک وشراب سے اجتناب کرو، تو کہتے ہیں کہ یہ ہم سے چھوٹ نہیں سکتے ہیں، ہمارے آباء واجداد سے یہ طریقہ جاری ہے اور کلمہ پڑھنے سے پورا نکار ہے نہ کما حقہ اقرار برسوں سے ان کی راہ ہدایت کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ قوم اپنی حرکاتِ ناشائستہ سے باز نہیں آتی، ایسی حالت میں ان مشرکوں، شراب خوروں، دزدوں کی نماز جنازہ و نکاح وغیرہ جائز ہے یاکیونکر؟ اسی طرح جو تھوڑے عرصہ میں کہیں سے سونا لے آتے ہیں اس کے روپے کو مسجد کی تعمیر ومیلاد ومصرف کا رخیر میں لگانا جائز ہے یانہیں؟اور مسلمانوں کو یہ مال کیساہے؟تو نکاح پڑھانے والا اور اس مال کالینے والاگنہگار ہوگا یانہیں؟ بالتفصیل ارقام فرمائیں، رب العزت آقائے نامدار کو فی الدارین جزائے خیر عطا فرمائے۔ الجواب: یہ لوگ اگر باوصف ان حرکات کے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو مرتد ہیں ورنہ کافر مشرک، بہر حال سے شادی بیاہ حرام وزنا اور ان کے جنازہ کی نماز حرام قطعی، اور ان سے کوئی برتاؤ مسلمانوں کا سارکھنا حرام، رہا نکاح پڑھانا اگر پہلی صورت کے ہیں جب تو ان کا نکاح کسی سے ممکن ہی نہیں، نہ مسلمان سے نہ کافر سے، نہ اس کے ہم مذہب مرتد سے، نہ اس کے مرد کا نہ عورت کا۔ اور اگر دوسری صورت کے ہیں تو مسلمان عورت کا ان سے یا مسلمان مرد کا ایسی عورت سے نکاح باطل وحرام ہے ان صورتوں میں نکاح پڑھانے والا زنا کا دلال ہے اور اگر وہ مرتد نہیں اصلی کافرہیں تو ان کے عورت و مرد کا نکاح اگرچہ کسی کافر یا کافرہ سے ہوسکے مگر مسلمان کو اس کاپڑھانا نہ چاہئے وہ سونا کو جلد لے آتے ہیں اگر معلوم یا گمان غالب ہوکہ چراکر یا ٹھک کرلاتے ہیں تو اس کالینا بھی حرام اور اسے مسجد یا میلاد مبارک یا کسی کارخیر میں صرف کرنا بھی حرام، اگر اس کا گمان غالب نہیں شک ہے تو بچنا بہتر اور لیں اور لگائیں تو گناہ نہیں،
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما لعینہ۱؎، ذخیرہ، ہندیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
امام محمد فرماتے ہیں ہم اس پر عمل پیرا ہیں، جب تک کسی شیئ کو ہم حرام لعینہ نہ جان لیں، ذخیرہ، ہندیہ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۴۲)
مسئلہ۱۰۸:ازمیرٹھ دفتر رسالہ خیال بازار بزازہ مرسلہ حافظ سید ناظر حسین چشتی صابری عابدی و سید عزیز احمد چشتی صابری عابدی وشرف الدین احمد صوفی وارثی قادری رزاقی ۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشرف علی صاحب تھانوی کے ایک معتقد نے اپنے خواب و بیداری کاحال جو ذیل میں درج ہے لکھ کر تھانوی کے پاس بھیجا جس کا جواب انہوں نے رسالہ الامداد ماہ صفر ۱۳۳۶ھ میں حسب ذیل الفاظ میں دیا، دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ جواب ان کا بموجب شرع شریف کہاں تک درست اور صحیح ہے؟ نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسلک کے مطابق تھانوی صاحب کی نسبت حکم شرع شریف کا کیا صادر ہوا ہے؟ خلاصہ خواب : بجائے کلمہ طیبہ کے دوسرے جز کے یوں پڑھتا ہوں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام نامی کی جگہ تھانوی کا نام لیتا ہوں ہر چند قصد کرتا ہوں لیکن یہی زبان سے نکلتا ہے بعد بیداری اس غلطی کی تلافی میں درود شریف پڑھنا چاہا تو اس میں بھی بے اختیار تھانوی کا نام زبان پر آجاتا ہے۔۱؎ جواب خواب: اس واقعہ میں تسلی ہے کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے۲؎۔
(۱؎ رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵) (۲؎رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵ )
الجواب: سیدی امام بوصیری قدس سرہ صاحب بردہ شریف امام القری میں فرماتے ہیں:
ما علیّ مثلہ بعد الخطاء۳؎
(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)
(۳؎ القصیدۃ الہمزیۃ فی المدح النبویۃ مع حاشیۃ الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹)
دیوبندیوں کے کفر کا پانی ان کے سر سے گزر گیا ہے جس کا حال کتاب مستطاب ''حسام الحرمین شریف'' سے ظاہرہے یہ لوگ اﷲورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو شدید گالیاں دے چکے اور ان پر اب تک قائم ہیں، ان علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان سب کی تکفیر کی اور صاف فرمایا:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۴؎۔
جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)
(۴؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷) (حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱)
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کافر ہونے میں شک بھی کرے وہ خود کافر، پھر ایسوں کی کسی بات کی شکایت کیا،ان کے بڑے قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں صاف لکھ دیا کہ''اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا''۵۔
(۵؎ تحذیر الناس کتب خانہ امدادیہ دیوبند ص۲۴)
یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خاتمیت سے صاف انکار ہے اور آیہ کریمہ
ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۱؎
(اور لیکن آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲکے رسول اور آخری نبی ہیں۔ت) کی صریح تکذیب ہے پھر یہ لوگ اگر صاف صاف ادعائے نبوت ورسالت کریں تو ان سے کیا بعید ہے، مسلمان ہوتا تو ایسی بات سن کر لرزجاتااور اس کفر بکنے والے سے کہتا کہ خبیث منہ بندکر کفر نہ بک، نہ کہ اسے اور تسلی دی اور اس کی رجسٹری کردی،
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۲؎۔
اب جانا چاہتے ہیں کہ ظالم کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰) (۲؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
مسئلہ۱۰۹تا۱۲۰:مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب صدیقی بریلوی از کان پور امین گنج نمبر۴۸ کیافرماتے ہیں علمائے دین متین و مفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایک مقلد شخص ایک آزاد شخص کی کہ جس کی تعریفات ذیل میں لکھی جاتی ہیں نماز میں اقتدا نہیں کرتا کیابوجہ ترک اقتدا ایسے آزاد شخص کی یہ شخص مقلد قابل ملامت ہے۔ (۱) شخص آزاد اپنے آپ کو صدرالعلماء اور شیخ الشیوخ مشہور کرتا ہے، فلسفہ قدیم و جدید سائنس وکمسٹری، سنسکرت وانگریزی کا ماہر واستاذ وپیر روشن ضمیر اور مناظر وداعی اسلام ہونے کا دعوٰی کرتا ہے اور شیخ الاسلام ہند ہونے کا متمنی وامیدوار ہے، لیکن فقہ حنفیہ کی تحقیر عملاً کرتا ہے، اور آیاتِ قرآنی واحادیث نبوی کے معانی وتفسیر اپنی رائے سے بیان کرتاہے، امام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں احمق وسفیہ کہتا ہے اور شبلی نیچری کی طرح صحابہ و محدثین و مفسرین رضی اﷲتعالٰی عنہم کو جھوٹا سمجھتا ہے۔ (۲) اپنے لب بالا کے بال سکھوں کی طرح بڑھائے رکھتا ہے۔ (۳) موسم سرما میں بعد جماع کے غسل جنابت اور وضو کے بجائے تیمم کرکے بارہا امامت کی۔ (۴) مسجد میں بیٹھ کر مسجد کے ظروف گلی میں اسپرٹ آمیز دواپی، اسپرٹ کو حرام وناپاک نہیں سمجھتا ہے۔ (۵) سود پر روپیہ دیتا ہے اور سود لینا جائز سمجھتا ہے۔ (۶) رمضان میں بلاعذر علالت ومسافرت روزوں کے بجائے فدیہ دے دینا کافی سمجھتا ہے، یطیقونہ میں سلب ماخذ یا حذفِ لاکو نہیں مانتا۔ (۷) ایک محصنہ عورت سے ربط وضبط پیداکرکے اس کے شوہر کو دھوکا دے کر طلاق دلواکر اپنے تصرف میں لایا۔ (۸) اس کے دور کے رشتہ دار اس کی جوروؤں کے ساتھ اس کے پیچھے اور اس کے سامنے بے تکلف مخالطت رکھتے ہیں اور وہ منع نہیں کرتا ، اس کی جورو اس کے ماں باپ کو مغلظات فحش گالیاں دیتی ہے اور وہ خاموش سنتا رہتا ہے۔ (۹) ایک مرتبہ نماز مغرب میں دورکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، آگاہ کرنے پر کہا کہ بحالتِ مسافرت قصدا قصر کیا تھا۔ (۱۰) ایک مرتبہ نماز عشاء میں ایک رکعت میں آیہ الکرسی پڑھی لیکن چند الفاظ چھوڑ گیا متنبہ کرنے پر کہا تین آیت کی مقدار پڑھنے کے بعد غلطی ہوجانے سے نماز کااعادہ ضروری نہیں ۔ (۱۱) ہزارہا مسلمانوں کے ایک جلسہ میں ایک آیت کی تفسیرمیں رجال کے معنی میں عورتوں کو بھی شامل کرکے بیان کیا کہ حضرت نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہ کسی مرد کے باپ تھے اور نہ کسی عورت کے باپ تھے۔ (۱۲) اپنے پیر کو کہتا ہے کہ وہ بمنزلہ حضرت یحیی علیہ السلام کے ہے اور اپنے آپ کوبمنزلہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا پیر جب کسی کو مرید کرتا ہے، اس سے مراد ہے کہ میری بیعت لیتا ہے اور جو دوسرے مشائخ مرید کرتے ہیں وہ بھی میری بیعت میں داخل ہوتے ہیں اس طرح کنایۃ دعوی نبوت و رسالت بھی کرتاہے۔
الجواب (۱) فقہ حنفی کی تحقیر ضلالت ہے۔ تفسیر بالرائے حرام امام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں ایسے الفاظ سخیفہ سے یاد کرنا سخت تکبر ہے اور متکبروں کا ٹھکانا جہنم ہے،
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۱؎۔
کیا مغرور کا ٹھکانا جہنم میں نہیں(ت)