مسئلہ۱۰۲: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ حشمت علی صاحب ۱۶ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فرقہ دیوبندیہ کا مرتکب کفر ہونا تسلیم کرتا ہے، لیکن کہتا ہے کہ اپنی زبان سے ان کو کافر نہ کہوں گا، دریافت کرنے پر کہا کہ فی الواقع دیوبندیوں نے کفر بکا ہے، لیکن دیکھاجائے تو خود ہم پر کفر عائد ہوتا ہے کیونکہ کفر کی دو قسمیں ہیں:
(۱)کفر قولی
(۲)کفر فعلی
کفر قولی یہ کہ کسی نے ایسی بات کہی جس میں ضروریات دین کا انکار ہو، جیسے دیوبندیوں نے توہین خدا ورسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کی بکی۔
اور کفر فعلی یہ کہ جو انکار ضروریات دین پر امارت ہو جیسے زنا رباندھنا، بت کو سجدہ کرنا وغیرہ ،
اب دیکھئے اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
فلاوربک لایؤ منون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدوافی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلمواتسلیما۱؎۔
تواے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہونگے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔(ت)
(۱؎القرآن الکریم ۴/ ۶۵)
قسم کھاکر فرمایا جاتا ہے کہ ہر گز مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافات کو موافق احادیث وآیات نہ طے کریں پھرکوئی رنجش یا کراہت بھی دل میں نہ رہے۔ اب بتائیے ہم لوگ اپنے مقدمات کا بجائے آیات واحادیث کے انگریزی قوانین سے طے کراتے ہیں تو ہم تو دیوبندیوں سے بدتر ہیں گویا نص قرآنی ہماری تکفیر فرمارہی ہے جب ہمارا خود یہ حال ہے تو دوسروں کو کیونکر کافر کہیں، ہم تو خود ہی کفر میں مبتلاہیں انتہی کلامہ، اب استفتاء یہ ہے کہ زید کا کیا حکم ہے؟اورآیہ کریمہ کی صحیح تفسیر کیا ہے؟
الجواب: جو مدعی حق پر ہیں وہ تحکیم نہیں کرتے بلکہ اپنا حق کہ بے زور حکومت نہیں مل سکتا نکلوانا چاہتے ہیں اور مدعا علیہ کہ حق پر ہے وہ مجبور ہی ہے جو ابدہی نہ کرے تو یک طرفہ ڈگری ہوجائے ان دونوں فریق پر اگر آیہ کریمہ وارد ہوتو ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام دنیا میں آج سے نہیں صدہا سال سے مدعی مدعا علیہ وکیل گواہ سب کافرہوں کہ عام سلطنتوں نے شرع مطہر سے جدا اپنے بہت سے قانون نکال لئے ہیں اور جو مدعی جھوٹا ہے وہ ناحق دوسروں کا مال مثلاً چھیننا چاہتا ہے جس پر اپنی چرب زبانی یا مقدمہ سازی یا جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حکومت سے مددلیتا ہے یونہی جھوٹا مدعا علیہ مثلاً دوسرے کا دیا ہوا مال دینا نہیں چاہتا اور وہی مدد ان ذرائع کاذبہ سے لیتا ہے یہ باتیں گناہ ہیں مگر گناہ کو کفر کہنا خارجیوں کا مذہب ہے، آیت اس کے بارے میں ہے جو حکم شریعت کو باطل جانے اور غیر شرعی حکم کو حق یا شرعی حکم جب اس کے خلاف ہوتو نہ نفس امارہ کی ناگواری بلکہ واقعی دل سے اس حکم کو براجانے، یہ لوگ کافر ہیں،یہ نہ فقط مقدمات بلکہ عبادات میں بھی جاری ہے،رمضان خصوصاً گرمیوں کے روزے نماز خصوصاً جاڑوں میں صبح و عشا کی نفس امارہ پر شاق ہوتی ہے اس سے کافر نہیں ہوتا جبکہ دل سے احکام کو حق ونافع جانتا ہے، ہاں اگر دل سے نماز کو بیگار اور روزے کو مفت کافاقہ جانے تو ضرور کافر ہے اگلی آیہ کریمہ اس معنی کو خوب واضح فرماتی ہے:
قال اﷲ تعالٰی ولواناکتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم اواخرجوامن دیارکم مافعلوہ الاقلیلا منھم۱؎۔
اﷲ تعالی نے فرمایا: اگر ہم انہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۶۶ )
ظاہرہے کہ یہ نہ کرنا ان احکام کے نفس پر شاق ہونے ہی کے سبب ہے توثابت ہوا کہ حکم کا نفس پر شاق ہونا یہاں تک کہ اس کے سبب بجا آوری حکم سے باز رہنا کفر نہیں معاذاﷲ یہ ٹھہرے گا کہ صحابہ کرام بھی گنتی ہی کے مسلمان تھے کہ فرماتا ہے:
مافعلوہ الاقلیلاً منھم۲؎
(اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے ۔ت)حالانکہ رب عزوجل جا بجا ان کے سچے پکے مومن ہونے کی شہادت دیتا ہے یہاں تک کہ فرماتا ہے:
اے محبوب کے صحابیو! اﷲ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دی اور کفر وبے حکمی ونافرمانی تمہیں ناگواراکردی، یہی لوگ راہ پر ہیں اﷲ کافضل اور اس کی نعمت اور اﷲ جانتا ہے حکمت والا ہے۔
یہ دل کی محبت ہے کہ مدار ایمان وکمال ایما ن ہے اور وہ نفس کی ناگواری جس پر زیادت ثواب کی بناء ہے۔حدیث میں فرمایا:
افضل العبادات احمزھا۴؎۔
سب میں زیادہ ثواب اس عبادت کا ہے جو نفس پر زیادہ شاق ہو۔
بہر حال یہ شخص جو اپنے کفر کا مقر ہے قطعاً کافر ہے،
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
مسلم قال اناملحد یکفر ولوقال ماعلمت انہ کفر لایعذرمنہ۵؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر کسی مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا، اور کہا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کہنا کفر تھا اس کا عذر قابل قبول نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۵؎ فتاوی ہندیہ باب موجبات الکفر انواع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۹)
مسئلہ۱۰۳:ازڈاکخانہ انگس جوٹ مل گورہٹی ضلع ہگلی اسکول انگس مسئولہ محمد سلیم خاں ماسٹر اسکول ۱۸ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنے پیر کے لڑکے کو نبی زادہ لکھا کرتا ہے، اس کا اورجو لوگ اسے اچھا سمجھ کر خوش ہوتے ہیں ان کا شرع شریف میں کیاحکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب: اگر اس کا مرشد سید ہے بایں معنی اسے نبی زادہ لکھتا ہے تو بجا ہے، اور اگر وہ سید نہیں بلکہ مرشد کو نبی ٹھہرا کر اس کے لڑکے کو نبی زادہ لکھتا ہے تو وہ بھی کافر اور جتنے اس پر خوش ہوتے ہیں وہ بھی، وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۰۴:ازپورولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱۶ اپریل، ۱۳ اپریل ۱۹۲۱ء میں جن مسلمانوں نے ہڑتال کی ہے اور جلسے میں شریک ہوئے ہیں ان کی بیبیاں حرام ہوئیں یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب: جس نے لوگوں کے مجبور کئے سے ہڑتال کی اس پر وہ الزام نہیں اگرچہ بلامجبوری شرعی مجبور بن جانے کا الزام ہو، اور جس نے ایک طوفان بے تمیزی کی موافقت چاہی اس سے زائد کچھ نیت نہ تھی اس پر گناہ ہوا مگر وہ الزام اس پر نہیں اور جس نے کافروں کا سوگ منانے اور حکم مشرک کی تعظیم بجالانے کے لئے ہڑتال کی اس پر تجدید اسلام پھر تجدید نکاح کا حکم ہے،
لان تبجیل الکافر کفر۱؎، کمافی الظہیریۃ والاشباہ والدر وغیرہ من الاسفار الغر، وھو تعالٰی اعلم۔
کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہے، جیسا کہ ظہیریہ، اشباہ، در وغیرہ معروف کتب میں ہے۔ وھوتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱)
مسئلہ۱۰۵:ازمتوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڈھ محلہ اﷲ داد پورہ مسئولہ حکیم صابر حسین صاحب۱۷رمضان المبارک۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جو شخص ہنود کے خوش کرنے کے واسطے اپنے مذہب اسلام کی پروانہ کرے اور ان کے مذہب کے تائیدکرے تو یہ شخص کس چیز کا مرتکب ہوگا؟بینواتوجروا
الجواب: جوشخص خوشنودی ہنود کے لئے دین اسلام کی پروانہ کرے اور مذہب ہنود کی تائیدکرے اگریہ بات واقعی یونہی ہے تو اس پر حکم کفر لازم ہونے میں کوئی شبہہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۰۶:ازچک۲۲۴متصل لائل خانقاہ چشت دربار صابری مسئولہ مولوی نظام الدین صاحب ۱۷ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے جواب میں کہ ایک نئی مسجد کے محراب کے دائیں طرف کاتب نے لکھا یااﷲ اور دوسری طرف یامحمد نقش کردیا تو ایک غیر مقلد نے آکر کہا کہ یہ بت کیوں لکھا ہے اس کو مٹادو، معمار سے وہ مٹوادیا، اس کی اس حرکت سے مسلمان بہت رنجیدہ ہوئے اور پھر حضور کا نام مبارک لکھوادیا، اس پر وہ غیر مقلد کہنے لگا اگر گوروگوبند سنگھ کا نام لکھ دو یا کوئی بت کھڑا کردو تو بہتر ہے، کیا اس شخص نے حضور کی بے ادبی کی ہے یانہ؟ اور اس دریدہ دہنی سے یہ مسلمان رہ سکتاہے یانہ؟بینواتوجروا۔
الجواب: لاالٰہ الا اﷲلا الٰہ الااﷲلاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، الالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین۔
اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں، حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں، حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں، حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں، اﷲ تعالٰی کی طرف سے ان پر صلوۃوسلام، اﷲ تعالٰی کی طرف سے ان پر صلوٰۃ وسلام، اﷲ تعالٰی کی طرف سے ان پر صلوٰۃ وسلام ، سنو ظالموں پر اﷲ کی لعنت، سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت، سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت۔(ت)
شخص مذکور کافرکافر کافر مرتدمرتد مرتدہے
من شک فی کفرہ فقد کفر۱؎
جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے خود کافر ہے،
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۷۷)
مسلمانوں کو اس سے میل جول حرام ہے، اس سے سلام وکلام حرام اس کے پاس بیٹھنا حرا، اسے اپنے پاس بیٹھنے دینا حرام، بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام ،مرجائے تو اسے مسلمانوں کی طرح غسل و کفن دینا حرام ، اس کے جنازہ پر نماز حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام۔
قال اﷲ تعالی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظٰلمین۱؎، وقال تعالٰی ولاترکنو الی الذین ظلموا فتمسکم النار۲؎، وقال تعالٰی ولاتصل علی احدمنھم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم۶/ ۶۸) (۲؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳) (۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۸۴)
مسلمان دیکھیں وہابیہ کو یہ دشمنی ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ، اور پھر سادہ لوح ان کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم،ایک یہ بات یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک لے کر ندانہ چاہئے بلکہ اس کی جگہ یارسول اﷲ ہو اور دیوار پر کندہ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آئینہ مں لکھ کر نصب کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔