مسئلہ۹۹: ازکانپور محل فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی محمد آصف صاحب ۲۷جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
بفضلہ تعالٰی کمترین بخیریت ہے، صحتوری ملازمان سامی کی مدام بارگاہ احدیت سے مطلوب، دو عریضے ملفوف فدوی نے روانہ خدمت فیضد رجت کئے، ہنوز جواب سے محروم ہے۔ الٰہی مانعش بخیرباد۔
حضور کے فتاوی جلد اول ص۱۹۱ میں خواتمی وہابی کے متعلق حاشیہ میں یہ عبارت ہے:''یہ شقی گروہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے یہ معنی لینا تحریف کرنا اور بمعنی آخر النبیین لینے کوخیال جہال بتانا کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چھ یا سات مثل وجود مانتا ہے''۔ اور کتاب حسام الحرمین میں بھی فرقہ امثالیہ کو مرتدین میں شمار کیا گیا ہے لیکن فتاوٰی بے نظیر درمعنی مثل آنحضرت بشیر ونذیر جو کہ عرصہ ہو امطبع اسدی میں حسب ایمائے محمد یعقوب صاحب منصرم مطبع نظامی طبع ہوا تھا اور بہت سے علمائے کرام کے فتوے اس میں درج کئے ہیں، حسب ذیل عبارت ہے:''ھوالعزیزقطع نظر اس کے کہ علمائے حدیث نے "ان اﷲ خلق سبع ارضین" میں ہر طرح کلام کیا بعد ثبوت رفع وتسلیم صحت متن واسناد مفید اعتقاد نہیں، بلکہ جس حالت میں مضمون اس کا دلالت آیات واحادیث صحیحہ وعقیدہ اہل حق کے خلاف ہے تو قطعاً متروک الظاہر واجب التاویل ہے، پس جو شخص اس حدیث سے وجود تحقق ومثال سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر استدلال کرے سخت جاہل اور معتقد فضیلت مثل آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بمعنی مشارکت فی الماہیت والصفات الکمالیہ مبتدع اور مخالف عقیدہ اہل سنت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم، اس عبارت کے حضور جناب والد ماجد صاحب قبلہ قدس سرہ کی نقل مہر طبع ہوئی ہے اور پھر حضور کی حسب ذیل عبارت بنقل مہر طبع کی گئی،
جو شخص سوال میں مذکور معنی کے مطابق مثل یاامثال کے تحقق کا قائل ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہے، اور اﷲ ہی حقیقت حال سے آگاہ ہے(ت)
کون فرقہ امثالیہ مرتد ہے اور کون مبتدع؟آیا ان فرقوں کے عقائد میں اختلاف ہے یا کیا؟بینواتوجروا۔
الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، مبتدع ضال ایک لفظ عام ہے، کافرکو بھی شامل، کہ بدعت دوقسم ہے:
(۱) مکفرہ(۲) غیر مکفرہ
وقال تعالٰی واماان کان من المکذبین الضالین۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور اگر جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵۶/ ۹۲)
امام ابن حجر مکی نے بظاہر اس سے بھی ہلکے لفظ حرام کو کفر کہنے کے منافی نہ مانا۔
اعلام بقواطع الاسلام میں فرمایا:
عبارۃ الرافعی فی العزیز نقلا عن التتمۃ انہ اذا قال لمسلم یا کافر بلاتاویل اھ۲؎ وتبعہ النووی فی الروضۃ فان قلت قد خالف ذٰلک النووی نفسہ فی الاذکار فقال یحرم تحریما غلیظا قلت لامخالفۃ فان اطلاق التحریم فی لفظ لایقتضی انہ لایکون کفرافی بعض حالاتہ علی ان الکفر محرم تحریما غلیظا فتکون عبارۃ الاذکار شاملۃ للکفر ایضا۳؎۔
عزیز میں تتمہ سے منقول رافعی کی عبارت یہ ہے اگر کسی نے مسلمان کو بغیر کسی تاویل کے کافرکہا وہ کافر ہوجائے گا اھ اور نووی نے روضہ میں اسی کی اتباع کی ہے، اگر کوئی اعتراض کرے خود نووی نے اذکار میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سخت حرام ہے میں کہتاہوں یہ مخالفت نہیں کیونکہ لفظ تحریم کا اطلاق اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ بعض حالات میں وہ کفر نہ ہو، علاوہ ازیں کفر سخت حرام ہے لہذا اذکار کی عبارت بھی کفر کو شامل ہوجائے گی۔(ت)
(۲؎ اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۰)
(۳؎ اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۴۱۔۳۴۰)
اسی میں چند ورق کے بعد ہے:
الحرمۃ لاتنافی الکفر۴؎، کمامر۔
حرام ہونا کفر کے منافی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ گزر چکا ہے(ت)
(۴؎ اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۵۰)
ماہیت وصفات کمالیہ میں مشارکت اس میں نص نہیں کہ جمیع صفات کمال میں شرکت ہونہ یہ ان سب گمراہوں کا مذہب تھا ان میں بعض صرف تشبیہہ یعنی کنبیکم ختم نبوت لیتے اور تصریح کرتے کہ وہ انبیاء اپنے اپنے طبقے کے خاتم اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم الخواتم،صرف اتنے پر حکم کفر مشکل تھا، لہذا ایک ایسا لفظ لکھا گیا کہ دوسری صورت کو بھی شامل ہے، اعلام میں بعد عبارت سابقہ فرمایا
غلیظ تحریم کے لفظ سے اس حالت کو شامل کرنا مقصود ہے جس میں کفر وغیرہ ہو۔(ت)
(۱؎ اعلام بقواطع الاعلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۱)
حسام الحرمین میں خاص فرقہ مرتدین کا ذکر ہے، ولہذا خاتم الخواتم ماننے والوں میں صرف اس کا قول لیا جس نے اس میں کفر خالص بڑھادیا کہ:
لوفرض فی زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذٰلک بخاتمیتہ وانما یتخیل العوام انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی اٰخر النبیین مع انہ لافضل فیہ اصلا عند اھل الفھم۲؎۔
اگر بالفرض آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نیا نبی آجائے تو آپ کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہ محض عوام کا خیال ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی آخر نبی ہیں حالانکہ اہل فہم کے ہاں اس میں ہرگز کوئی فضیلت نہیں۔(ت)
اس طرح کا خاتم الخواتم ماننے والا مطلقاً کافر مرتد ہے، اس سے ۵۸ورق پہلے جہاں المعتمد المستند میں خاص مرتدین کا ذکر تھا، عبارت یہ ہے:
خرج دجالون یدعون وجودستۃ نظراء للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شارکین لہ فی اشھر خصائصہ الکمالیۃ اعنی ختم النبوۃ فی طبقات الارض الست السفلی، فمنھم من یقول کل منھم خاتم ارضہ ونبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم ھذہ الارض ، ومنھم من یقول انھم خواتم اراضیہم ونبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم الخواتم والاکفر الاوقح منھم یصرح بانھم مماثلون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وشرکاء لہ فی جمیع صفاتہ الکمالیۃ ویردہ اخرون ابقاء علی انفسھم من المسلمین۱؎۔
ان دجالوں کو خارج کیا ہے جو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے چھ نظیروں کا دعوٰی کرتے ہیں اور تشبیہہ میں آپ کے مشہور خصائص کمالیہ میں بھی ان کو شریک کرتے ہیں یعنی نچلی چھ زمینوں میں بھی ختم نبوت کا قول کرتے ____ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ ہر زمین کاکوئی خاتم ہے اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس زمین کے خاتم ہیں بعض کا قول یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی زمینوں کے خواتم ہیں اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم الخواتم ہیں ان میں سے بدتر کفر والے وہ ہیں جنہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ وہ تمام خاتم۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تمام صفات کمالیہ میں شریک اور ہم مثل ہیں اور جبکہ دوسروں نے اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل رکھنے کے لئے ان کارد کیا ہے۔(ت)
ان سب اقوال کے لحاظ سے وہاں عام مبتدع ضال سے تعبیر کیا کہ بدعت مکفرہ کو بھی شامل ہے، والسلام مع الکرام۔
مسئلہ۱۰۰:ازمنڈی رام نگر ضلع نینی تال مرسلہ جناب بشیر احمد صاحب رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
ایک شخص نے ایک مرتبہ اپنی حالت بیماری میں اپنے اچھا ہونے کی غرض سے ایک روز کچھ ہنود کو اپنے مکان پر بلاکر ڈبر وبجوایا اور موافق رسم ہنود کے ہندوؤں کے دیوتا کی پوجا یعنی بکری اور مرغا ہندوؤں سے مروایا یعنی مردار کرایا اور ڈبر وپر ناچا، اس ناجائز حرام کام کرنے پر یہاں کے مسلمان لوگوں نے اس شخص کو برادری سے نکال باہر کردیا اور حقہ بند کردیا، کچھ دنوں بعد اس بت پرست شخص نے مسلمانوں سے کہا میری جان جارہی تھی اس وجہ سے میں نے یہ کام کرائے آئندہ مجھ سے ایسا قصور نہ ہوگا تب یہاں کے مسلمانوں نے اس کی معافی مانگنے اور آئندہ کو توبہ کرنے سے اس کا ایک سوروپیہ جرمانہ لے کر اور توبہ کرواکر حقہ کھول دیا بعد کچھ دنوں کے پھر اس شخص نے پوشیدہ طور رات کو ایک ہندو کے یہاں اپنی بیوی اور لڑکی کو بھیج کر ڈبروبجوایا اور ان کی لڑکی ناچی یعنی لڑکی کے بدن پر ڈبرو بجانے سے دیوتا مسان آیا اور اسی نے یعنی دیوتا نے بکری اور مرغا مانگا تو ڈبرو بجانے والے نے مرغا اور بکرا کو مردار کرکے پوجا کری دوبارہ اس حرکت کی کسی کو خبر نہ ہوئی اب سہ بارہ اس شخص نے ایک ہندو کو اپنے مکان پر بلاکے ایک مرغا اس کو یعنی اس ہندو کو دیا اس نے موافق اپنے رسوم کے مرغے کو اپنے قبرستان میں لے جاکر رات کو مردار کرکے قبر میں دبادیا اور ایک قبرستان میں جاکر پتھروں کو پوجا اس کام کے کرنے پر یہاں مسلمانوں نے پھر اس کا حقہ بند کردیا اور کہا کہ تونے مکرر سہ کرراسی کام کوکرااورکرتا ہے تو کافر ہے، اس کے جواب میں بت پرست مسلمان کہتا ہے ضرورت شدید میں یہ کام جائز ہے یعنی مولوی لوگوں سے معلوم کرلیا ہے لہذا عرض کہ اس مسئلہ کو خلاصہ تحریر کیجئے کہ ہمارے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے یہاں یہ کام جائز ہے یا انہوں نے یہ کام کرے اگر یہ کام جائز ہے، نہیں تو اس کام کے کرنے والے کو مسئلہ سے کیا سزا ہونا چاہئے؟
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ کافر ہے، اور وہ مولویوں پر افترا کرتا ہے، کوئی مولوی ایسا نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی نام کے مولوی نے مرض سے شفا کے واسطے غیر خد اکی پوجا جائز کردی ہو تو وہ بھی کافر ہے اور یہ شخص جب کہ تین بار ایسا کرچکا اب مسلمان اسے ہرگز نہ ملائیں اگرچہ توبہ ظاہر کرے کہ وہ جھوٹا ہے اور فریب دیتا ہے ،
اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتاہے:
ان الذین اٰمنواثم کفرواثم اٰمنواثم کفروا ثم ازدادواکفرا۱؎oلن تقبل توبتھم واولٰئک ھم الضالون۲؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھرایمان لائےپھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے۔ ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۳۷) (۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۹۰)
مسئلہ۱۰۱:ازکٹک محلہ بخشی بازار مرسلہ ولی محمد صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین اس مسئلہ میں، مولوی اجابت اﷲ بنگالی چاٹگامی نے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں اﷲ کے سوا اپنے پیر کو سجدہ کرنے کو جائز سمجھتا ہے اور دلائل میں کئی اوراق سیاہ فرمائے اور علمائے اہلحدیث کو نسبت دی ہے فرقہ اسمٰعیلیہ سے، اور ان کو گمراہ کہا ہے، اور علمائے دیوبند کو اسی فرقہ سے شمارکیا ہے اور اپنے گمان میں اس سجدہ کو قرآن شریف سے مدلل کیاہے اور جس حدیث سے سجدہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اس کو بے اصل سمجھتا اور کہتا ہے کہ احادیث احاد قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتیں اور حدیث ابوداؤد کو جس میں سجدہ کی ممانعت ہے اس کو بھی اسی قسم سے سمجھتا ہے ، اور سجدہ کی دو قسمیں ٹھہراتا ہے: تحیت اور تعبدی۔ تحیت کو جائز سمجھتا ہے اور تعبدی کو منع کرتا ہے، مولانا اسحاق صاحب کلکتہ مدرسہ عالیہ میں مدرس ہیں جو شروع میں مدرسہ کانپور میں بھی تعلیم دیتے تھے، انہو ں نے سجدہ کی ممانعت کے بارے میں کچھ لکھا تھا، ان کو یہ شخص گمراہ اور گمراہ کنندہ کہتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کے فتوے سے سجدہ کو جائز ثابت کرتاہے اور درمختار کو بے اصل ثابت کرتا ہے کیونکہ چھٹے طبقہ کی کتاب ہے۔ امام فخر الدین رازی کے حوالہ سے اس رسالہ کو لکھا ہے اور کہتا ہے کہ تفسیر کبیر کی پہلی جلد میں ہے سجدہ کرنا اﷲ کے سوا دوسرے کو جائز ہے، اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان؟
الجواب: غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں،
علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شک ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔ دربارہ سجدہ حق وتحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام ، کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں واﷲ الہادی، واﷲ تعالٰی اعلم۔