Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
66 - 150
مسئلہ۹۵:از ریاست نانپارہ بازار چوک بساط خانہ دکان حاجی الٰہی بخش بہرائچی مرسلہ حافظ عبدالرزاق امام مسجد     ۳ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضلع بارہ بنکی میں چندروز سے ایک گروہ پیدا ہوا ہے جس کا نام کبیر پنتھی ہے، یہ لوگ اﷲ تعالٰی کوصاحب اور دعوت کو ہندوؤں کی طرح بھنڈا رہ کہتے ہیں، نماز روزہ سے بالکل منکر ہیں اور روزہ داروں اور نمازیوں کو برا کہتے اور ان پر طعن تشنیع کرتے ہیں، گوشت کھانا بالکل حرام جانتے اور قربانی ہر جانور کی بہت سخت ظلم کہتے ہیں، موضع صورت گنج تحصیل فتح پور ضلع بارہ بنکی نواب گنج میں فقیرے تیلی کبیر پنتھی نے برادری کی دعوت کی اور اپنی حیثیت کے موافق کھانا پکوایا ، گوشت کی جگہ کٹہل پکوایا گیا، برادری والوں نے کہا ہم گوشت کھائیں گے، تو اس نے کہا ہمارے گروجی گوشت نہیں کھاتے تھے، چاہے جان جاتی رہے گردن کٹ جائے، مگر ہم گوشت نہ دیں گے، لوگوں نے کہاکہ چاہے سیر آدھ سیر ہی گوشت ہو مگر ہم بلا گوشت کھانا نہ کھائیں گے۔ فقیر ے نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے خدا کے واسطے ایک چیز مانگتے ہیں ہم کو ﷲ معاف کردو، برادری والوں نے کہا کہ اگر تم ہم سے گوشت ﷲ معاف کراتے ہوتو تمام کھانا ہم ﷲ معاف کئے دیتے ہیں اورآدھے آدمی اٹھ کر پانچو تیلی کے مکان پر چلے آئے اور آدھے اسی کے مکان پر رہ گئے، لیکن کھانا کسی نے نہیں کھایا پانچوتیلی گوشت کھاتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے، اب دونوں قسم کے تیلیوں نے پانچو کا حقہ پانی بند کردیا ہے کہ اسی کی وجہ سے ہماری برادری میں پھوٹ پڑی، اس حالت میں عام مسلمانوں کو کبیر پنتھیوں سے میل جول، شادی بیاہ برادری سے رکھنا جائز ہے یانہیں؟اور شرعاً یہ لوگ کیسے ہیں جن لوگوں نے پانچو کا حقہ پانی اسی وجہ سے بندکیا ہے؟ان سے دوسروں کو کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
الجواب: نماز سے منکر کافرہے، روزہ سے منکر کافر ہے، جو نماز پڑھنے کو براکہے، نماز ی پر نماز پڑھنے کی وجہ سے طعن وتشنیع کرے کافر ہے، روزہ رکھنے جو برا کہے روزہ دار پر روزہ کی وجہ سے طعن کرے وہ کافر ہے گوشت کھانے کو مطلقاً حرام کہنا کفر ہے قربانی کو ظلم کہنے والا کافر ہے، ان اعتقادوں والے مطلقاً کفار ہیں۔ پھر اگر اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان کہتے یا کلمہ پڑھتے ہوں تو مرتد ہیں کہ دنیا میں سب سے بدتر کافر ہیں، ان سے میل جول حرام، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے جانا حرام، مرجائیں تو ان کے جنازے کی نماز حرام، پانچوتیلی پر کوئی الزام نہیں، جنہوں نے اس بنا پر اس کا حقہ پانی بندکیاظالم ہیں ، ان پر لازم ہے کہ اپنے ظلم سے توبہ کریں، پانچو سے اپنا قصور معاف کرائیں، اگر یہ لوگ باز نہ آئیں تو مسلمان ان کو چھوڑدیں کہ ظالموں کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے، یہ سب مضامین قرآن عظیم کی آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہیں جو بار ہاہمارے فتاوٰی میں مذکور ہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۹۶: ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمر الدین صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ رسول خداخدا کے بندے نہیں ہیں اور آپ بشر بھی نہیں ہیں، اس پر ان سے پوچھا گیا کہ پھر کیا ہیں؟تو جوابدیا کہ میں اس معاملہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اور یہ بھی ان سے پوچھا گیا کہ رات دن نماز میں قعدہ میں تم عبدہ ورسولہ پڑھتے ہو،یہ کیا ہے کیا اس کا ترجمہ ہوا ؟ تو کہا اس کا ترجمہ بندہ اور رسول کا ہو الیکن میں کچھ نہیں کہتا، حضور پر نور ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ شخص اسلام سے خارج ہوگیاان کلمات کے باعث یانہیں ؟کیا کفر عائد اس پر ہوا یا نہیں؟ بینواتوجروا(بیان کرو اجرپائیے۔ت)
الجواب: جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی اللہ کے بندے نہیں وہ قطعاً کافر ہے،

اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، قال اﷲ تعالٰی وانہ لما قام عبداﷲ یدعوہ۱؎، وقال تعالٰی تبارک الذی نزل الفرقان علٰی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا۲؎، وقال تعالٰی سبحٰن الذی اسرٰی بعبدہ۳؎، وقال تعالٰی وان کنتم فی ریب ممانزلنا علٰی عبدنا۴؎، وقال تعالٰی الحمد ﷲالذی انزل علی عبدہ الکتٰب۵؎، وقال تعالٰی فاوحٰی الٰی عبدہ مااوحٰیo۶؎
میں گواہی دیتا ہوں بلاشبہہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ تعالٰی کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور یہ کہ جب اﷲ کا بندہ ا س کی بندگی کرنے کھڑاہوا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتاراقرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کوڈر سنانے والاہو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (ان خاص) بندے پر اتارا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۷۲/ ۱۹ )   (۲؎ القرآن الکریم    ۲۵ / ۱) (۳؎ القرآن الکریم      ۱۷/ ۱ )   (۴؎القرآن الکریم         ۲ / ۲۳)

(۵؎ القرآن الکریم     ۱۸/ ۱ )  ( ۶؎ القرآن الکریم         ۵۳/ ۱۰)
اور جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت ظاہری بشری ہے حقیقت باطنی بشریت سے ارفع واعلٰی ہے یا یہ کہ حضور اوروں کی مثل بشر نہیں وہ سچ کہتا ہے اور جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کر ے وہ کافرہے،
قال تعالٰی قل سبحٰن ربی ھل کنت الا بشرارسولا۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۹۳)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اﷲ کا بھیجا ہوا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۹۷:ازخان پور سیدواڑہ احمد آباد مرسلہ منشی ایچ ڈی۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ''ذوالنورالحق المبین''چھاپی ہے شیخ البواہر نے وہ سنیوں کے لئے کیسی ہے؟مہربانی کرکے اس کا جلدی جواب دیجئے۔
الجواب: وہ کتاب مذہب اہلسنت کے خلاف ہے بلکہ اس میں خود اسلام کی بھی مخالفت ہے، اس کا دیکھنا، پڑھنا، سننا حرام ہے،
الالعالم یرید ان یرد علیہ اویکشف مافیہ من کفر وضلال۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہاں جو عالم اس کا مطالعہ کرے اس کی تردید کے لئے یا اس میں جو کفر بیان ہو اس کے انکشاف کے لئے تو اس کے لئے پڑھنا دیکھنا حرام نہیں ، وا ﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۸:ازشہر بریلی محلہ بہاری پور    مسئولہ عنایت حسین صاحب۳جمادی الاولٰی۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی برادری کے آدمیوں کے سامنے اشرف علی تھانوی کو کافر کہا اور یہ بھی کہا کہ جو شخص اس کو کافر نہ مانے وہ بھی کافر ہے، لہذا اس باعث سے اشرف علی کو کافر کہا کہ اس پر کفر کا فتوٰی دیا گیا ہے، اس شخص کو بوجہ کافر کہنے کے برادری سے علیحدہ کردیا جس آدمی نے اشرف علی کو کافر کہا اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
الجواب: تمام علمائے حرمین شریفین نے اشرف علی تھانوی پر بھی فتوٰی دیاہے ''حسام الحرمین شریف'' بارہ برس سے چھپ کر شائع ہے، اس شخص نے سچ کہا اور اس پر اسے برادری سے خارج کرنا ظلم شدید ہوا ان لوگوں  پر  توبہ فرض ہے اور جو شخص تھانوی کے اقوال کفر سے آگاہ ہوکر ایسا کرے وہ خود ایمان سے خارج اور اس کی عورت اس کے نکاح باہر ہوگئی۔
درمختار، مجمع الانہر، بزازیہ وشفاء شریف میں ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎،واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے اس کے کفر وعذاب میں شک کیا اس نے کفر کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    فصل احکام الجزیہ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷)
Flag Counter