مسند احمد وصحیح ترمذی میں بافادہ تصحیح ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنھا واکملھا واجملھا وترک فیھا موضع لبنۃ لم یضعھا فجعل الناس یطوفون بالبنیان ویعجبون منہ ویقولون لو تم موضع ھذہ اللبنۃ فانافی النبیین موضع تلک اللبنۃ۳؎۔
پیغمبروں میں میری مثال ایسی ہے کہ کسی نے ایک مکان خوبصورت و کامل وخوشنما بنایا اور ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی وہ نہ رکھی لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی و خوشنمائی سے تعجب کرتے اور تمنا کرتے کسی طرح اس اینٹ کی جگہ پوری ہوجاتی تو انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔
(۳؎ جامع ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۱)
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن النسائی وتفسیر ابن مردویہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہی مثل بیان کرکے ارشاد فرمایا:
فانااللبنۃ وانا خاتم النبیین۱؎۔
تومیں وہ اینٹ ہوں اور خاتم النبیین ہوں ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین وبارک وسلم۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کون النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۴۸)
چہارم کا بیان اوپر گزرا ، پنجم سے طائفہ کی گمراہی بھی واضح ہوچکی کہ تفسیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رد کرنے والا اجماعی قطعی امت مرحومہ کا خلاف کرنے والا سواگمراہ بددین ہونے کے کون ہوگا۔
قولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا۲؎۔
ہم اسے اس کے حال پر چھوردیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۵)
رہی بدعقلی وہ اس کے ان شبہات واہیات، خرافات، مزخرفات کی ایک ایک ادا سے ٹپک رہی ہے جو اس نے اثبات ادعائے باطل''عہد خارجی'' کے لئے پیش کئے اہلِ علم کے سامنے ایسے مہملات کیا قابل التفات، مگر حفظ عوام وازالہ اوہام کے لئے چند حروف مجمل کا ذکر مناسب
واﷲ الھادی وولی الایادی
(اور اﷲ تعالٰی ہی ہدایت دینے والا اور طاقتوں کا مالک ہے۔ت)
شبہہ اولٰی میں اس طائفہ نے عبارت توضیح کی طرف محض غلط نسبت کی حالانکہ توضیح میں اس عبارت کا نشان نہیں بلکہ وہ اسکے حاشیہ تلویح کی ہے،
اقول اولاً اگریہ مدعیان عقل اسی اپنی ہی نقل کی ہوئی عبارت کو سمجھتے اور قرآن عظیم میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وجوہ ذکر کو دیکھتے تو یقین کرتے کہ آیہ کریمہ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۳؎(اور لیکن آپ اﷲکے رسول اور انبیاء میں سے آخری ہیں۔ت) میں لام عہد خارجی کے لئے ہونا محال ہے کہ بوجہ تنوع وجوہ ذکر وعدم اولیت وترجیح جس کا بیان مشرحاً گزرا ، کمال تمیز جداسرے سے کسی وجہ معین کا امتیاز ہی نہ رہا تو یہی عبارت شاہد ہے کہ یہاں''عہدخارجی'' ناممکن، کاش مکر کے لئے بھی کچھ عقل ہوتی اصلی تو اس کی جگہ توضیح ہی کی گول عبارت
العھد ھوالاصل ثم الاستغراق ثم تعریف الطبیعۃ۴؎
(عہد اصلی ہے پھر استغراق اور پھر جنس۔ت) کی نقل ہوتی کہ خود نفس عبارت تو ان کی جہالت و سفاہت پر شہادت نہ دیتی اگرچہ اس سے دو ہی سطر پہلے اسی توضیح میں متن تنقیح کی عبارت
ولابعض الافراد لعدم الاولیۃ۱؎
(اور نہ بعض افراد کیونکہ اولٰی نہیں۔ت) اس کی صفراشکنی کو بس ہوتی مگر یہ کیونکر کھلتا کہ طائفہ حائفہ کو دوست و دشمن میں تمیز نہیں صریح مضر کو نافع سمجھتاہے لہذا نام تو لیا توضیح کا اور برائے بد قسمتی عبارت نقل کر دی تلویح کی ،جس میں صاف صریح ان عقلاء کی تسفیہ اور ان کے وہم کا سد کی تقبیح تھی، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
( ۳؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
(۴؎ توضیع علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۵)
(۱؎ توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۷)
ثانیاً توضیح کا مطلب سمجھنا تو بڑی بات،خودا پنی ہی لکھا نہ سمجھا کہ جب عہد خارجی سے معنی درست ہو تو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔ ہم اوپر واضح کرآئے کہ عہد خارجی مزعوم طائفہ خارجیہ سے معنی درست نہیں ہوسکتے، آیہ کریمہ قطعاً آئندہ نبوتوں کا دروازہ بند فرماتی ہے، رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہی معنی اس کے بیان فرمائے، تمام امت نے سلفاً وخلفاً اس کے یہی معنی سمجھے اور اس عہد خارجی پر آیت کو اس سے کچھ مس نہیں رہتا تو واجب ہے کہ استغراق مراد ہو،
اسی تلویح میں اسی عبارت منقولہ طائفہ کے متصل ہے،
ثم الاستغراق الی ان قال فالاستغراق ھو المفھوم من الاطلاق حیث لاعھد فی الخارج خصوصا فی الجمع الٰی قولہ ھذا ماعلیہ المحققون۲؎۔
پھر استغراق (تا)اطلاق سے استغراق مفہوم ہوتا ہے جہاں عہد خارجی نہ ہو خصوصا جمع میں (تا) محققین کی یہی رائے ہے(ت)
(۲؎ توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۵۰)
ثالثاً بہت اچھا اگرفرض کریں کہ لام عہد خارجی کے لئے ہے تو اس سے بھی قطعاً یقینا استغراق ہی ثابت ہوگا کہ وجوہ خمسہ سے اول وسوم وپنجم کا بطلان تو دلائل قاہرہ سے اوپر ثابت ہولیا اور واضح ہوچکا کہ خود جن سے کلام الٰہی کا اولاً واصالۃً خطاب تھا یعنی حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، انہو ں نے ہرگز اس آیت سے صرف بعض افراد معینہ یا کسی جماعت خاصہ کو نہ سمجھا اب نہ رہیں، مگر وجہ دوم و چہارم یعنی وہ جو قرآن عظیم میں بروجہ اکثر واوفر ذکر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بروجہ عموم واستغراق تام ہے اسی وجہ معہود کی طرف لام النبیین مشیر ہے تو اس عہد کاحاصل بحمد اﷲ تعالٰی وہی استغراق کامل جو مسلمانوں کا عقیدہ ایمانیہ ہے یاذکر جنسی کی طرف اشارہ ہے اور ختم کا حاصل نفی معیت وبعدیت ہے، جیسے اولویت بمعنی نفی معیت وقبلیت تعریفات علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف میں ہے:
الاول فرد لایکون غیرہ من جنسہ سابق علیہ ولامقارنالہ۱؎۔
اول فرد ہے کیونکہ اس کا کوئی ہم جنس اس سے پہلے نہیں اور نہ اس کے ساتھ متصل ہے (ت)
(۱؎ التعریفات باب الالف انتشارات ناصر خسر وایران ص۱۷)
حدیث شریف میں ہے:
انت الاول فلیس قبلک شیئ وانت الاٰخر فلیس بعدک شیئ۲؎، رواہ مسلم فی صحیحہ والترمذی واحمد وابن ابی شیبۃ وغیرہم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وللبیھقی فی الاسماء والصفات عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یدعو بھٰؤلاء الکلمات اللھم انت الاول فلاشیئ قبلک وانت الاٰخر فلاشیئ بعدک۳؎۔
تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیں، اور تو آخر میں ہے تیرے بعد کوئی شیئ نہیں، اسے مسلم نے اپنی صحیح میں ،ترمذی، امام احمد اور ابن ابی شیبہ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ امام بیہقی نے ا لاسماء و الصفات میں حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ آپ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے ، اے اﷲ!تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیں اور تو آخر ہے تیرے بعدکوئی شیئ نہیں(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الدعاء عندالنوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۸)
(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء حدیث ۹۳۶۲ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۵۱)
(۳؎ الاسماء والصفات للبیہقی مع فرقان القرآن باب ذکر اسماء التی تتبع اثبات الباری الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ص۱۰)
تو خاتم النبیین کا حاصل ہمارے حضور پر نورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اور بعد جنس نبی کی نفی ہوئی اور جنس کی نفی عرفاًولغۃً وشرعاً افراد ہی سے ہوتی ہے ولہذا لائے نفی جنس صیغ عموم سے ہے جیسے
لارجل فی الدار ولہذا لاالٰہ الااﷲ
ہر غیر خدا سے نفی الوہیت کرتا ہے، یوں بھی استغراق ہی ثابت ہوا، وﷲ الحمد۔(نامکمل دستیاب ہوا)