اور اس طائفہ خارجیہ کے طور پر وجہ دوم کو بھی نامحتمل مان لیجئے پھر بھی اول وچہارم و پنجم سب محتمل رہیں گی اور پنجم میں خود وجوہ کثیر ہیں، کہیں "من بعد موسٰی"،کہیں "من بعد نوح"،کہیں انبیائے اسرائیل، کہیں"من بعد ھود وموسٰی"،کہیں صرف انبیائے عاد ثمود، کہیں انبیائے قوم نوح وعاد وثمود، کہیں "من بعد ابراہیم قوم لوط و مدین" وغیرذلک، بہر حال ذکر وجوہ کثیرہ مختلفہ پر آیا ہے اور یہاں کوئی قرینہ وبینہ نہیں کہ ان میں ایک وجہ کی تعیین کرے تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون سے مذکور کی طرف اشارہ ہوا، پھر عہد کہاں رہا، سرے سے عہد کا مبنٰی ہی کہ تعین ہے منہدم ہوگیا کہ اختلاف وتنوع مطلقاً منافی تعین، نہ کہ اتنا کثیر، پھر عہدیت کیونکر ممکن۔
ثانیاً جب کہ اتنی وجوہ کثیرہ محتمل اور قرآن عظیم نے کوئی وجہ بیان نہ فرمائی، حدیث کا بیان صحیح تو وہی عموم واستغراق ہے کہ لانبی بعدی۲؎(میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ت) کما سیأتی۔
(۲؎ صحیح البخاری باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱)
اس تقدیر پر جب اشارہ ذکر استغراق کی طرف ٹھہرا عہدواستغراق کا حاصل ایک ہوگیا اور وہی احاطہ تامہ کہ معتقد اور وہی منقطع ہوکر متشابہات سے ہوگئی، اب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنا محض اقرار لفظ بے فہم معنی رہ گیا جس کی مراد کچھ معلوم نہیں، کوئی کافر خود زمانہ اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں کتنے ہی انبیاء مانے، حضور کے بعد ہر قرن وطبقہ و شہر وقریہ میں ہزار ہزار اشخاص کو نبی جانے خود اپنے آپ کو رسول اﷲ کہے، اپنے استاذوں کو مرسلین اولوالعزم بتائے، آیہ کریمہ اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی کہ آیت کے معنی ہی معلوم نہیں جس سے حجت قائم ہوسکے، کیا کوئی مسلمان ایسا خیال کرے گا،حاشا وکلا۔
ثالثاً میں تکثر وتزاحم معانی پر کیوں بنا کروں، سوائے استغراق کو ئی معنی لے لیجئے سب پر یہی آش درکاسہ رہے گی کہ پچھلی جھوٹی کاذبہ ملعونہ نبوتوں کا درآیت بند نہ کرسکے گی، معنی اول یعنی افراد مخصوصہ معینہ مراد لئے تو نبی صلی اﷲ اتعالٰی علیہ وسلم انہیں معدود انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خاتم ٹھہرے جن کا نام یا ذکر معین علی وجہ الابہام قرآن مجید میں آگیا ہے جن کا شمار تیس چالیس نبی تک بھی نہ پہنچے گا، یونہی برتقدیر معنی پنجم یعنی جماعات خاصہ خاص اپنی جماعت کے خاتم ٹھہریں گے، باقی جماعات صادقہ سابقہ کے لئے بھی خاتمیت ثابت نہ ہوگی، چہ جائے جماعات کاذبہ آئندہ اور معنی سوم میں صاف تخصیص انبیائے سابقین کے بھی ہو جائے گی کہ جو نبی پہلے گزر چکے ان کے خاتم ہیں تو پچھلوں کی کیا بندش ہوئی بلکہ پیچھے اور آئے تو وہ ان کے بھی خاتم ہوں گے، رہے معنی چہارم جنسی اس میں جمیع مراد لینا اس طائفہ کو منظور نہیں ورنہ وہی ختم الشیئ لنفسہ لازم آئے ، لاجرم مطلقاً کسی ایک فرد کے اختتام سے بھی خاتمیت صادق مانے گا کہ صدق علی الجنس کے لئے ایک فرد پر صدق کا ہے تو یہ سب معانی سے اخس وارذل ہوا اور حاصل وہی ٹھہرا کہ آیت بہر نہج فقط ایک دو یا چند یا کل گزشتہ پیغمبروں کی نسبت صرف اتنا تاریخی واقعہ بتاتی ہے کہ ان کا زمانہ ان کے زمانے سے پہلے تھا، اس سے زیادہ آئندہ نبوتوں کا وہ کچھ نہیں بگاڑسکتی، نہ ان سے اصلاً بحث کرتی ہے، طوائف ملعونہ مہدویہ وقادیانیہ وامیریہ ونذیریہ ونانوتویہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالٰی کا یہی تو مقصود تھا، وہ اس طائفہ خارجیہ نے جی کھو ل کر اٰمنا بہ کرلیا
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۱؎
(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
(۱؎القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
اصل بات یہ ہے کہ معانی قطعیہ جو تمام مسلمین میں ضروریات دین سے ہوں جب ان پر نصوص قطعیہ پیش نہ کئے جائیں تو مسلمانوں کو احمق بنالینا اور معتقدات اسلام کو مخیلات(عہ۱) عوام ٹھہرادینا ایسے خبثا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور نصوص میں احادیث پر نہ عام لوگوں کی نظر نہ ان کے جمع طرق وادراک تواتر پر دسترس، وہاں ایک ہش میں کام نکل جاتا ہے کہ یہ باب عقائد ہے، اس میں بخاری ومسلم(عہ۱)کی بھی صحیح احادیثیں مردود ہیں، ہاں ایسی جگہ ان ہیے کے اندھوں کی کچھ کو رد بتی ہے تو قرآن عظیم سے بغرض تلبیس عوام، برائے(عہ۲) نام اسلام کا ادعاہوکر ، قرآن پر صراحۃً انکار کا ٹٹوخردرگل ہے، لہذا وہاں تحریف معنوی کے چال چلتے اور کلام اﷲ کو الٹتے بدلتے ہیں کہ جب آیت سے مسلمانوں کو ہاتھ خالی کرلیں پھر گونہ وحی شیطانی کا رستہ کھل جائے گا
واﷲ متم نورہ ولوکرہ الکافرون۱؎
(اور اﷲ کو اپنا نور پوراکرنا ہے اگرچہ برامانیں کافر۔ت)
سوم یعنی اس طائفہ کا مکذب تفسیر حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہونا وہ ہرادنی خادم حدیث پر روشن یہاں اجمالی دو حرف ذکر کریں، صحیح مسلم شریف ومسند امام احمد وسنن ابوداؤد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وغیرہا میں ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صحیح بخاری وصحیح مسلم و سنن ترمذی وتفسیر ابن ابی حاتم وتفسیر ابن مردود یہ میں جابر رضی اﷲ عنہ سے ہے ،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل ابتنی دارا فاکملھا واحسنھا الاموضع لبنۃ فکان من دخلہا فنظر الیہا قال مااحسنھا الاموضع اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ فختم بی الانبیاء۱؎۔
میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان پور ا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی تو جو اس گھر میں جاکر دیکھتا کہتا یہ مکان کس قدر خوب ہے مگر ایک اینٹ کی جگہ کہ وہ خالی ہے تو اس اینٹ کی جگہ میں ہوا مجھ سے انبیاء ختم کردئے گئے۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کون النبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۴۸)
(صحیح البخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰۱)
صحیح مسلم ومسنداحمد ابو سعید خدری رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی دارافاتمھا الالبنۃ واحدۃ فجئت انا فاتممت تلک اللبنۃ۲؎۔
میری اور سابقہ انبیاء کی مثل اس شخص کی مانند ہے جس نے سارا مکان پورا بنایا سوا ایک اینٹ کے، تو میں تشریف فرماہوا اور وہ اینٹ میں نے پوری کی۔
(۲؎ مسند امام احمد حدیث ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۹)