Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
63 - 150
وقال تعالٰی انا لننصررسلنا والذین اٰمنوا۱؎، وقال تعالٰی الذین اٰمنوا باﷲ ورسولہ اولٰئک ھم الصدیقون۲؎، وقال تعالٰی اعدت للذین اٰمنوا باﷲ ورسلہ۳؎، وقال تعالٰی لقد ارسلنا رسلنا بالبینٰت، وقال تعالٰی کتب اﷲ لاغلبن اناورسلی۴؎، وقال تعالٰی واذاالرسل اقتت لای یوم اجلت۶؎۔ الی غیر ذلک من آیات کثیرۃ۔
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گےا ور ایمان والوں کی۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تیار ہوئی ہے ان کے لئے جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ لکھ چکا کہ ضرور غالب آؤں گا اور میرے رسول۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جب رسولوں کا وقت آئے کس دن کے لئے ٹھہرائے گئے تھے۔ اسی طرح دیگر کثیر آیات ہیں۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۴۰/ ۵۱ )   (۲؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۹) (۳؎ القرآن الکریم     ۵۷/ ۲۱)   ( ۴؎ القرآن الکریم    ۵۷/ ۲۵)

(۵؎ القرآن الکریم         ۵۸/ ۲۱)   ( ۶؎ القرآن الکریم     ۷۷/ ۱۲۔۱۱)
 (۳) یاملحوظ بوصف قبلیت یعنی انبیائے سابقین علی نبینا علیہم الصلوٰۃ والسلام مثل قولہ تعالٰی:
وماارسلنامن قبلک الارجالا نوحی الیھم من اھل القرٰی۷؎، وقال تعالٰی وماارسلنا من قبلک من المرسلین الاانھم لیاکلون الطعام۸؎، وقال تعالٰی سنۃ اﷲ فی الذین خلوامن قبل وکان امراﷲ قدرامقدوراہ الذین یبلغون رسٰلت اﷲ۹؎، وقال تعالٰی و لقد اوحی الیک والی الذین من قبلک۱؎، وقال تعالٰی مایقال لک الاماقد قیل للرسل من قبلک۲؎، وقال تعالٰی کذٰلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اﷲ العزیز الحکیم۳؎، وقال تعالٰی واسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا۴؎۔ وغیرذٰلک۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزرچکے اور اﷲ کا کام مقرر تقریر ہے وہ جو اﷲ کے پیام پہنچاتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم سے نہ فرمایا جائیگا مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا گیا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اﷲ عزت وحکمت والا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے۔ وغیر ذلک۔
 (۷؎ القرآن الکریم      ۱۲/ ۱۰۹ )  (۸؎ القرآن الکریم     ۲۵/ ۲۰) (۹؎ القرآن الکریم    ۳۳/ ۳۹۔۳۸)

(۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۵ )  (۲؎ القرآن الکریم    ۴۱/ ۴۲) (۳؎ القرآن الکریم    ۴۲/ ۳ )  (۴؎ القرآن الکریم  ۴۳/ ۴۵)
 (۴) یا برسبیل معنی جنسی شامل فردو جمع بے لحاط خاص خصوص وشمول مثل قولہ تعالٰی:
من کان عدواﷲ وملٰئکتہ ورسلہ۵؎ وقولہ تعالٰی ان الذین یکفرون باٰیت اﷲ ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم بعذاب الیم۶؎، وقولہ تعالٰی ولایأمرکم ان تتخذواالملٰئکۃ والنبیین اربابا۷؎،وقولہ تعالٰی ومن یکفر باﷲ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاٰخر فقد ضل ضلٰلا بعیدا۸؎، وقولہ تعالٰی ان الذین یکفرون باﷲ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا۹؎بین اﷲ ورسلہ(الٰی قولہ تعالٰی)اولٰئک ھم الکفرون حقا وغیرہا۱؎۔
جو کوئی شخص دشمن ہو اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا: وہ جو اﷲ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درد ناک عذاب کی۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹہہرالو ۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو نہ مانے اﷲ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: وہ جو اﷲ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اﷲ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں(الی قولہ تعالٰی) یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر وغیرہا۔
 (۵؎ القرآن الکریم     ۲/ ۹۸)   ( ۶؎ القرآن الکریم      ۳/ ۲۱) (۷؎ القرآن الکریم  ۳/ ۸۰)  ( ۸؎ القرآن الکریم  ۴/ ۱۳۶)

(۹؎ القرآن الکریم     ۴/ ۱۵۰)(۱؎ القرآن الکریم۴/ ۱۵۱)
 (۵) یا خاص خاص جماعت خواہ اس کا خصوص کسی وصف یا اضافت یا اور وجوہ بیان سے نفس کلام میں مذکور اور اس سے مستفاد ہو،
مثل قولہ تعالٰی: ولقد اٰتینا موسی الکتٰب وقفینا من بعدہ الرسل۲؎، وقال تعالٰی فی بنی اسرائیل: ولقد جاءتھم رسلنا بالبینٰت۳؎، وقال تعالٰی فی التوراۃ: یحکم بھا النبیون الذین اسلمواللذین ھادوا۴؎، وقال تعالٰی ماذکرنوحا ثم رسولا اٰخر: ثم ارسلنا رسلنا تترا۵؎، ثم قال: ثم ارسلنا موسی ،وقال تعالی :انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ۶؎، فالمراد من بین ھودوموسٰی علیہم الصلٰوۃ والسلام، وقال تعالٰی: فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود، اذجاءتھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم۷؎،وقال تعالٰی بعد ذکر نوح وابراھیم:ثم قفینا علٰی اٰثارھم برسلنا۱؎۔
اور بیشک ہم نے موسی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اوراﷲ تعالٰی نے بنی  اسرائیل کے بارے میں فرمایا: اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے۔ اور اﷲ تعالٰی نے توراۃ میں فرمایا: اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی۔ اور اﷲ تعالٰی نے نوح علیہ السلام پھر ایک اوررسول کے ذکر کے بعد فرمایا پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچھے دوسرا۔ پھر فرمایا: ہم نے موسی کو بھیجا ۔اور اللہ تعالی نے فرمایا : بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ا ن سے ہود اور موسٰی کے درمیان والے نبی علیہم الصلوۃ والسلام مراد ہیں اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑک سے جیسی کڑک عاد وثمود پر آئی تھی۔ جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ اور اﷲ تعالٰی نے نوح اور ابراہیم کے ذکر کے بعد فرمایا: پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے۔(ت)
 ( ۲؎القرآن الکریم ۵/ ۳۳) (۳؎ القرآن الکریم   ۵/ ۴۴ )  ( ۴؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۴۴)(۵؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۴۵) ( ۶؎القرآن الکریم     ۴/ ۱۶۳)(۷؎القرآن الکریم     ۴۱/ ۱۳و۱۴) (۱؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۲۷ )
یابوجہ عہد حضوری مثل قولہ تعالٰی:
قال یقوم اتبعواالمرسلین۲؎۔
بولااے میری قوم بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو(ت)
 (۲؎القرآن الکریم ۳۶/ ۲۰)
یا ذکری
مثل قولہ تعالٰی: فی قوم نوح وھو دو صالح ولوط وشعیب بعد ماذکرھم علیھم الصلٰوۃ والسلام،
تلک القری نقص علیک من انبائھا ولقد جاء تھم رسلھم بالبینٰت۳؎۔
نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب علیہم الصلوٰۃ والسلام کی قوم کاذکر کرنے کے بعد: یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے(ت)
(۳؎ القرآن الکریم     ۷/ ۱۰۱)
یا علمی مثل قولہ تعالٰی:
واضرب لھم مثلا اصحٰب القریۃ اذجاء ھا المرسلون۴؎، وقال تعالٰی سنکتب ماقالوا وقتلھم الانبیاء بغیر حق۵؎، وغیرذٰلک۔
اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی جب ان کے پاس فرستادے آئے۔ اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا، وغیرذلک(ت)
( ۴؎ القرآن الکریم     ۳۶/ ۱۳) (۵؎ القرآن الکریم     ۳ /ا۸ا)
اب اولا اگرآیہ کریمہ
ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۶؎
 (اور ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پیچھے۔ت)
( ۶؎ القرآن الکریم     ۳۳/ ۴۰)
میں لام عہد خارجی کے لئے ہو جیسا کہ یہ طائفہ خارجیہ گمان کرتا ہے اور وہ یہاں نہیں مگر ذکر ی، اور ذکر کو دیکھ کر کہ اتنے وجوہ مختلفہ پر ہے اور ان میں صرف ایک وجہ وہ ہے ہے جو بداہۃًکلام کریمہ میں مراد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یعنی وجہ سوم کہ جب انبیاء موصوف بوصف قبلیت ومفید بقید سبقت لے گئے یعنی وہ انبیاء جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پہلے ہیں تو اب حضور کو ان کا خاتم ان کا آخر ان سے زمانے میں متأخر کہنا محض لغو وفضول کلام مہمل ومعطل ومغسول ہوگا جس حاصل حمل اولیٰ بدیہی مثل زید زید سے زائد نہ ہوگا کہ جب ان کو حضور سے اگلا کہہ دیا حضور کا ان سے پچھلا ہونا آپ ہی معلوم ہوا۔

اسے بالخصوص مقصود بالا فادہ رکھنا قرآن عظیم تو قرآن عظیم اصلاً کسی عاقل انسان کے کلام کے لائق نہیں، نہ کہ وہ بھی مقام مدح میں کہ ؎
چشمانِ تو زیرابروانند

دندانِ تو جملہ در دہانند
 (تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)

سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی، (تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)

سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی،
احسن تقویم۱؎
 (اچھی صورت۔ت)سے بعض اوضاع کا بیان ہے اسے مقام مدح میں یوں مہمل جانا گیا ہے کہ ایک عام مشترک بات کا ذکر کیا ہے بخلاف اس معنی کے کہ اس میں صراحۃًعبث موجود اور معنی مدح بھی مفقود، اور پھر عموم واشتراک بھی نقد وقت کہ ہر شے اپنے اگلے سے پچھلی ہوتی ہے غرض یہ وجہ تو یوں مندفع ہوجائے گی کہ اصلا محلِ افادہ وصالح ارادہ نہیں،
 (۱؎ القرآن الکریم۹۵/ ۴)
Flag Counter