Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
62 - 150
پھر خود فرمایا:
کفرزاعم انہ لانص فی القراٰن علی تحریم الخمر ظاھر، لانہ مستلزم لتکذیب القراٰن الناص فی غیرما اٰیۃ علی تحریم الخمر فان قلت غایۃ مافیہ انہ کذب وھو لایقتضی الکفر قلت ممنوع لانہ کذب یستلزم انکار النص المجمع علیہ المعلوم من الدین بالضرورۃ ۱؎۔
جس نے کہا تحریم شراب پر قرآن میں کوئی نص نہیں ا س کاکافر ہونا نہایت ہی واضح ہے کیونکہ اس کا یہ قول قرآن کی تکذیب کررہاہے قرآن نے متعدد جگہ پر شراب کے حرام ہونے پر تصریح کی ہے، اگریہ کہا جائے کہ یہ صرف اتنا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جھوٹ ہوکفر کاتقاضا نہیں کرتا میں کہوں گا یہ بات درست نہیں کیونکہ اس کا یہ قول اس نص قرآنی کے انکار کو مستلزم ہے جس سے ایسا حکم ثابت ہورہا ہے جو متفق طور پر ضروریات دین میں سے ہے۔(ت)
 (۱؎ الاعلام بقواطع الاسلام     مع سبل النجاۃ    مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲)
تو اگر چہ یہ طائفہ آیہ کریمہ میں استغراق کے انکار سے ختم تام نبوت پر دلائل قطعیہ سے مسلمانوں کا ہاتھ خالی نہیں کرسکتا، مگر اپنا ہاتھ ایمان سے خالی کرگیا، ہاں اگرارباب طائفہ صراحۃً ایمان لائیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعد، کبھی کسی جگہ کسی طرح کی کوئی نبوت کسی کو نہیں مل سکتی، حضور کے خاتم النبیین وآخر الانبیاء والمرسلین ہونے میں اصلاً کوئی تخصیص تاویل تقیید تحویل نہیں اور ان تمام مطالب کو نصوص قطعیہ و اجماع یقینی وضروریات دین سے ثابت یقینا مانیں ان تمام طوائف ملعونہ مذکورہ ان کے اکابر کو صاف صاف کافر مرتد کہیں، صرف بزعم خود اپنی نحوی ومنطقی جہالتوں، بطالتوں ، کج فہمیوں کے باعث آیہ کریمہ میں لام عہد لیں اور استغراق نا مستقیم سمجھیں تو اگرچہ بوجہ انکار تفسیر متواتر اجماعی قطعی اسلوب فقہی اس پر اب بھی لزوم کفر مانے مگر از انجا کہ اس نے اعتقاد صحیح کی تصریح اور کبرائے منکرین کی تکفیر صریح کردی اس کی تکفیر سے زبان روکنا ہی مسلک تحقیق و احتیاط ہوگا،
امام مکی بعد عبارت مذکورہ فرماتے ہیں:
ومن ثم یتجہ انہ لوقال الخمر حرام ولیس فی القراٰن نص علی تحریمہ لم یکفر لانہ الاٰن محض کذب وھو لاکفر بہ اھ۲؎۔
اسی وجہ سے یہ توجیہ کی جاتی ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے شراب تو حرام ہے لیکن قرآن میں اس کی تحریم پر نص نہیں تو وہ کافرنہ ہوگااس لیے کہ اب وہ محض جھوٹ بول رہا ہے اور اس سے وہ کافر نہ ہو گا ۔اھ(ت)
 (۲؎الاعلام بقواطع الاسلام     مع سبل النجاۃ    مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲)
اقول وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ت) اس تقدیر اخیر پر بھی اس قدر میں شک نہیں کہ یہ طائفہ خائفہ یارومعین، مرتدین وکافرین وبازیچہ کنندہ کلام رب العالمین ، ومکذب تفسیر حضور سید المرسلین ومخالف اجماع جمیع مسلمین وسخت بدعقل وگمراہ وبددین ہے۔

اول تو ظاہر ہی ہے کہ نفی استغراق وتجویز عہد میں یہ ان کفار کا ہم زبان ہوا بلکہ ان خبیثوں نے تو بطور احتمال ہی کہا تھا''جائز ہے کہ عہد کے لئے ہو''اور اس نے بزعم خود عہد کے لئے ہونا واجب مانا اور استغراق کو باطل ومردود جانا۔

دوم اس لئے کہ قرآن عظیم میں حضرات انبیائے کرام علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کاذکر پاک بہت وجوہ مختلفہ سے وارد:

(۱) فرداًفرداً خواہ بتصریح اسماء یہ صرف چھبیس کے لئے ہے:آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، اسحق، اسمٰعیل، لوط ، یوسف، ایوب، شعیب، موسٰی ، ہارون، الیاس، الیسع، ذوالکفل، داؤد، سلیمان، عزیر، یونس، زکریا، یحٰیی، عیسیٰ، محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم وبارک وسلم یابرسبیل ابہام مثل
قال لھم نبیھم۱؎
 (اشمویل) (ان کو ان کے نبی (شمویل) نے کہا
واذقال لفَتٰہُ۲؎
 (یوشع)
فوجد اعبد امن عبادنا
خضرعلیہم الصلٰوۃ والسلام اور جس وقت انہوں نے نوجوان (یوشع) سے کہا''توپایا حضرت موسٰی اور یوشع نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ حضرت خضر علیہم الصلوٰۃ والسلام۔ت)
(۱؎القرآن الکریم     ۲/ ۲۴۸ )   (۲؎القرآن الکریم    ۱۸/ ۶۰تا۶۵)
 (۲) یابرسبیل عموم واستغراق اور یہی اوفرواکثر ہے، مثل قولہ تعالٰی:
قولوااٰمنا باﷲ وماانزل الینا(الٰی قولہ تعالٰی) ومااوتی النبیون من ربھم لانفرق بین احدمنھم۳؎، وقال تعالٰی ولکن البر من اٰمن باﷲ والیوم الاٰخر والملٰئکۃ والکتٰب والنبیین ۴؎، وقال تعالٰی تلک الرسل فضلنا بعضھم علٰی بعض۵؎، وقال تعالٰی کل اٰمن باﷲ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ۶؎،
یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اﷲپر اور اس پر جو ہماری طرف اترا(الی قولہ تعالٰی) اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ہان اصل نیکی یہ ایمان لائے اﷲ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرافضل کیا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: سب نے مانا اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو۔
 (۳؎القرآن الکریم    ۲/ ۱۳۶ )  ( ۴؎ القرآن الکریم    ۲/ ۱۷۷) (۵؎القرآن الکریم    ۲/ ۲۵۳)  (۶؎القرآن الکریم  ۲/ ۲۸۵)
وقال تعالٰی لانفرق بین احد من رسلہ۱؎، وقال تعالٰی ومااوتی موسٰی وعیسٰی والنبییون من ربھم لانفرق بین احدمنھم۲؎، وقال تعالٰی اولٰئک مع الذین انعم اﷲ علیہم من النبیین والصدیقین۳؎، وقال تعالٰی والذین اٰمنوا باﷲ ورسلہ ولم یفرقوابین احدمنھم اولٰئک سوف یؤتیھم اجورھم ۴؎، وقال تعالٰی فامنوا باللہ ورسولہ ۵؂وقال تعالی لئن اقمتم الصلٰوۃ واٰتیتم الزکٰوۃ واٰمنتم برسلی وعزرتموھم۶؎ وقال تعالٰی یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذااجبتم۷؎وقال تعالٰی وما نرسل المرسلین الامبشرین ومنذرین۸؎وقال تعالٰی فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین۹؎،
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جو کچھ ملاموسی اور عیسٰی اور انبیاء کو ان کے رب سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اسے ان کا ساتھ ملے گاجن پر اﷲ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اﷲ ان کے ثواب دے گا۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ایمان لاؤ اﷲ اور اس کےرسول پر ۔ اور  اﷲتعالٰی نے فرمایا: تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جس دن اﷲ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈرسناتے ۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۸۵ )  ( ۲؎ القرآن الکریم    ۳/ ۸۴)(۳؎القرآن الکریم   ۴/ ۶۹ ) ( ۴؎ القرآن الکریم   ۴/ ۱۵۲)

(۵؎ القرآن الکریم    ۶۴/ ۸)   ( ۶؎ القرآن الکریم       ۵/۱۲) (۷؎ القرآن الکریم   ۵/ ۱۰۹)   ( ۸؎ القرآن الکریم  ۶/ ۴۸)

(۹؎ القرآن الکریم        ۷/۷)
وقال تعالٰی عن المؤمنین،لقد جاءت رسل ربنا بالحق۱؎، وقال تعالٰی عن الکافرین قد جاءت رسل ربنا بالحق فھل لنا من شفعاء۲؎، وقال تعالٰی ثم ننجی رسلنا والذین اٰمنوا۳؎، وقال تعالٰی واتخذوا اٰیتی ورسلی ھزوا۴؎، وقال تعالٰی اولٰئک الذین انعم اﷲ علیہم من النبیین۵؎، وقال تعالٰی انی لایخاف لدی المرسلون۶؎، وقال تعالٰی واذا اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح ۷؎وقال تعالٰی ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون ۸؂وقال تعالی ولقدسبقت کلمتنا لعبادناالمرسلین ۹؂،وقال  تعالٰی وسلٰم علی المرسلین۱۰ ؂، وقال تعالٰی وجیء  بالنبیین والشھداء۱۱؎،
اور اﷲ تعالٰی نے مومنین سے فرمایا: بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے ۔ اور اﷲ نے کفار سے فرمایا: بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے توہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ ہیں جن پر اﷲ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدلیا اور تم سے اور نوح سے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور بیشک ہمارا کلام گزرچکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور سلام ہے پیغمبروں پر۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کے امت کے ان پر گواہ ہونگے۔
 (۱؎القرآن الکریم۷/ ۴۳ )   (۲؎ القرآن الکریم۷/ ۵۳)(۳؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۰۳ا)   ( ۴؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۰۶)

(۵؎ القرآن الکریم ۱۹/ ۵۸  )  ( ۶؎ القرآن الکریم ۲۷/ ۱۰)(۷؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۸ )  ( ۸؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۵۲)

(۹؎ القرآن الکریم ۳۷/ ۱۷۱)   ( ۱۰؎ القرآن الکریم ۳۷/ ۱۸۱)(۱۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۹)
Flag Counter