مسئلہ۷۴تا۸۱:از مقام رانچی محلہ اوپر بازار مرسلہ عبدالرب صاحب۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
جو کہے:(۱) معجزاتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام غلط ہیں، معجزہ حضرت سیدنا عیسی (علیہ السلام) مردہ کو زندہ کرنا غلط ہے، مطلب اس کا احوالِ قوم کو زندہ کرنا ہے ایسے شخص کے واسطے کیاحکم ہے شرعاً؟
(۲)کتاب فتاوٰی عالمگیری وقاضی خاں بے اعتبار ہیں، توہین علماء دین قول بکر سے متصور ہے یانہیں؟شرعاًکیاحکم ہے؟
(۳) قربانی کرنے کی ضرورت نہیں اﷲ تعالٰی گوشت و خون کا محتاج نہیں، نہ اس تک پہنچتا ہے، بلکہ تمہارا تقوٰی پہنچتا ہے، قربانی کے جانور کی قیمت مدرسہ میں دینا افضل ہے، غور فرمایاجائے کہ بکر نے ترک وجوب پر حملہ کیا یانہیں شرعاً کیا حکم ہے؟
(۴) حضرت منصور کا دار پر کھنچا جانا امور سلطنت ومتہم ہونے کیوجہ سے نہ تھا نہ اور کسی وجہ سے، شرعاً کیاحکم ہے؟
(۵) بکر عبادت گاہ کفار میں نہ بہ نیت تفریح طبع و دیکھنے کے جاتا ہے بلکہ شرکت عبادت گاہ کفار کو فرض و سنت ومستحب ٹھہراتا ہے، شرعاً کیا حکم ہے؟
(۶) بکر پردہ حنفیت میں کار بندوہابیت ہے، وہابیوں کی حمایت اور اہلسنت وتمامی مفسرین وفقہاء کی توہین کرتا ہے، میلاد وقیام کے متعلق الفاظ ناشائستہ و بدعت سیئہ کہتا ہے، بکر کی اقتداء جائز ہے یانہیں؟اور بکر در حقیقت مقلد ہے یاغیر مقلد؟
(۷) بکر محض بپاس کلام واثبات مدعا اپنے بزور زبان عبارات فقہیہ کو تحریف کیا ہے، بکر دست انداز اقوال ائمہ مجتہدین پر ہے یانہیں؟شرعاً کیا حکم ہے؟
(۸) بکرجناب کنز الفقراء تاج الاولیاء سیدنا عبدالقادر جیلانی (رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ) پر طعن وتکذیب کراماتِ اولیاء کرتا ہے و نیز دیگر اشخاص بھی بمقابلہ بکر کے حضرت کی شان میں طعن کرتے ہیں اور بکر خاموش رہتا ہے شرعاً کیا حکم ہے؟
الجواب
(۱) جوشخص معجزاتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کوغلط بتائے کافر مرتد ہے، مستحقِ لعنت ابد ہے۔ حضور سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزہ احیائے موتی کا غلط کہنے والا بھی یقینا کافر مرتد ہے اور وہ تاویل کہ احوال قوم زندہ کرنا مراد ہے، اسے کفر وارتداد سے نہ بچائے گی کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں۔
عقائد امام مفتی الثقلین مفتی الجن والانس عمر نسفی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھرھا والعد ول عنہا الی معان یدعیہا اھل الباطن الحاد۱؎۔
نصوص کو اپنے ظاہر ہی پر محمول کیا جائے گا اور اس سے ایسے معانی کی طرف عدول جن کا دعوٰی اہل باطن نے کیا سراسر الحاد ہے(ت)
الحاد ای میل وعدول عن الاسلام واتصال والتصاق بالکفر لکونہ تکذیبا للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ۲؎۔
الحاد یعنی اسلام سے عدول اعراض ہے اور یہ کفر کے ساتھ اتصال ہے کیونکہ یہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ان معاملات میں تکذیب ہے جن کا لانا آپ سے بالضرورۃ ثابت ہے(ت)
(۲؎ شرح عقائد نسفی مطبوعہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۹)
شفاء قاضی عیاض میں ہے:
التاویل فی الضروری لایسمع۳؎۔
ضروریاتِ دین میں تاویل مسموع نہیں۔(ت)
(۳؎ کتاب الشفاء للقاضی عیاض القسم الرابع فی تصرف وجوہ الاحکام الخ مکتبہ شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۱۰)
(۲) سبحان اﷲ!جب وہ معجزات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو غلط کہتا ہے تو اس سے اس کی کیا شکایت کہ فتاوٰی قاضی خاں وعالمگیری کو نہیں مانتا جو اﷲ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرچکا اس سے توہین علم وعلماء کا گلہ فضول ہے،
ماعلی مثلہ بعد الخطاء
(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)
(۳) قربانی کا انکار ضلالت ہے ، یہ ہندوتو سارے کے سارے گائے کی قربانی سے کتنا چڑتے ہیں، غایت یہ کہ یہ ایک بات میں ہندوؤں سے بڑھ گیا کہ مطلقاً قربانی کے وجوب کا منکر ہوا اور ایک بات میں ہندو اس سے بڑھ کر ہیں کہ وہ چڑتے ہیں یہ فقط منکر۔
(۴) ایک بے معنی بات ہے صرف اتنے لفظ محتاجِ توجیہ نہیں۔
(۵) شرکت عبادت گاہ کفار صریح کفر ہے کیونکہ ہدایت یارد کو جانا شرکت نہیں ہوسکتا ، کتب دینیہ میں تصریح ہے کہ معابدکفار میں جانا مکروہ ہے کہ وہ ماوائے شیاطین ہیں کمافی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) نہ کہ شرکت کہ صریح کفر ہے اور کفر کو ہلکا جاننا بھی کفر ہے نہ کہ معاذاﷲ مستحب بلکہ سنت بلکہ فرض ٹھہرانا،
اباﷲواٰیتہ ورسلہ کنتم تستھزؤن، لاتعتذروا قد کفرتم بعدایمانکم۱؎۔
کیااﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۶۵و۶۶)
(۶) عجب ہے کہ سائل اس سے وہ کلمات نقل کرکے پھر اس کا مقلد ہونا پوچھتا ہے وہ مقلد ضرور ہے مگر ابلیس کا،
قال اﷲ تعالٰی استحوذ علیہم الشیطٰن فانسٰھم ذکراﷲ اولٰئک حزب الشیطٰن اَلااِنّ حزب الشیطٰن ھم الخسرون۲؎o
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اﷲ کی یاد بھلادی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم ۵۸/ ۱۹)
(۷) معلوم نہیں سائل نے اس کا پہلا عقیدہ معجزہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو غلط بتانا غلط لکھ دیا یا صحیح، اگر غلط لکھا تو کیوں، اور صحیح لکھا تو اس کے بعد ان باتوں کی کیا گنجائش رہی، ائمہ مجتہدین پر دست اندازی کرنیوالا گمراہ سہی کافر تو نہیں، تکذیب معجزات کرنے والا تو کافر ہے۔ گنہگا پر شاد یا مسیح چرن سے اس کی کیا شکایت کہ توہمارے ائمہ پر کیوں اعتراض کرتا ہے۔
(۸)کراماتِ اولیاء کا انکار گمراہی ہے،
قال اﷲ تعالٰی کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقا قال ٰیمریم انی لک ھذا قالت ھو من عنداﷲ ان اﷲ یرزق من یشاء بغیر حسابo۱؎
(۱؎ القرآن الکریم۳/ ۳۷ )
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے،کہا اے مریم!یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اﷲ کے پاس سے ہے بیشک اﷲ جسے چاہے بے گنتی دے(ت)
وقال اﷲ تعالٰی قال الذی عندہ علم من الکتٰب انااٰتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم۲۷/ ۴۰)
اور حضور ولی الاولیاء،غوث الاقطاب ملاذ الابدال والا فراد رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم کی شانِ اقدس میں زبان درازی نہ کرے گا مگر رافضی تبرائی۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۳؎۔
(۳؎القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
واﷲ تعالٰی اعلم۔
اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۸۲تا۸۴: از مراد آباد محلہ قائم کی بیریاں مرسلہ محمد مختار ۱۰جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ.
(۱) ایک شخص کے دل میں زبان میں برے خیال نکلتے ہیں وہ نماز پڑھنے سے عاجز آگیا ہے چنانچہ لاحول، سورہ ناس، درود شریف، قرآن شریف پڑھتا ہے تو بھی اس کے دل میں برے خیالات آتے ہیں اور ایک بات زبان سے برابر دل سے برابر نکلا کرتی ہے مثلاسراج الحق بیٹا کس کا، اپنے ماں باپ کا ،اور فحش خیالات بیٹے بیٹیوں، ماں باپ کے بارے میں ہر وقت برے خیالات بہت۔
(۲) برے خیالات یہ بہت دھوکے انجانی بیوقوفی زبان سے، دل جان سے ہیں، نعوذ باﷲ خدا کا شریک نکلا، پھر یہ نکلا خدا وحدہ لاشریک ہے، رسول برحق ہیں یہ خیال بہت جلد دھوکے سے نکلا، ایک ماہ میں تین بار، ایک دفعہ ایک یوم میں دوسرا آٹھ یوم میں تیسرا سولہ یوم میں نکلا پھر یہ خیالات نہیں نکلتے، پھر دل زبان سے یہ نکلا کہ خداوحدہ لاشریک ہے جبکہ ہزار ہاباتوں کے بعد جب کہ زبان نہیں رکتی تھی، وہ روکتا تھا مگر وہ نہیں رکتی تھی، دل میں دنیا کے خیالات بہت برے تھے وہ یہ ہیں خدانے کسی کو بیٹا بیٹی مال اسباب دیا ہے سب یہیں رہے گا بس خدا کی بات اچھی ہے دل میں یہی بیٹوں بیٹیوں کے خیالات، وہ بخشاجائے گا یانہیں؟مسلمان رہایانہیں ؟گنہگار ہوایانہیں۔
(۳) وہ ہمیشہ لوگوں کو نیک تعظیم دیتا ہے، خدانے جو بتایا ہے نماز روزہ اور بہت باتوں کی، وہ قرآن اور خدا رسول کی محبت کرتا ہے جو خداورسول کو برا اور قرآن کو براکہتا ہے اس کو جان سے مارنے کو تیار ہے،وہ خداورسول کو جان سے زیادہ زیادہ سجھتا ہے، خدا سے کئی مرتبہ دعامانگی مگر خدا کا حکم نہیں ہوا ان سے پہلے وہ عاجز آگیا ان باتوں سے ، اورنماز میں بھی برے خیالات آتے ہیں، وہ اپنے اسلام کا پکا ہے ،وہ خدا ورسول سے بہت خوش ہے، کئی آدمی نے خداورسول کو برا کہا اس نے ان کو مارا مگر جنہوں نے بر اکہاوہ کافر تھا، یہ سب بیٹے بیٹیاں کس کی ہیں، کیا آدم علیہ السلام کی یا اپنے ماں باپوں کی؟
الجواب: برے خیالات اگر آئیں اور انہیں جمایا نہ جائے، نہ بالقصد انہیں زبان سے ادا کیا جائے ، تو اس سے اسلام میں کچھ فرق نہیں آتا اور جہاں تک مجبوری ہے گناہ بھی نہیں، اور وہ سراج الحق والا فقرہ بار بار کہنا گناہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، خلل دماغ کا ایک شعبہ ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی برے وسوسے جب دل میں آئیں فوراً اﷲ عزوجل کی طرف رجوع کرے اور کہے:
میں اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لایا''وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے''(ت)
اور لاحول شریف پڑھے اور خشکی دماغ کا طبی معالجہ بھی چاہئے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۵تا۸۶: ازدادھن پور گجرات قریب احمد آباد قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب۱۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
(۱) ایک مولوی صاحب بعد ختم ہونے وعظ کے فرمانے لگے کہ ہم نے جو وعظ آپ صاحبوں کو سنایا ہے وہ کلام اﷲاور حدیث سے سنایا ہے، نہیں معلوم کہ یہ جھوٹ ہے یا سچ ، اس بات کا علم خداکو ہے، یہ الفاظ مولوی صاحب نے کیوں فرمائے، ایسا کہنے سے آدمی گنہگار ہوتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
(۲) مذکور مولوی صاحب ہر وعظ میں بہشتی زیور کے لئے خاص حکم دیتے ہیں، وہ کتاب مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کی تصانیف سے ہے، بہت سے ذی علم لوگوں کو شک ہے اور بہشتی زیور پڑھنے کو منع کرتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے، اس کتاب میں کون سے مسائل غلط ہیں اور ان کون سے صحیح؟ان کا خلاصہ اور آپ اس کتاب کےلئے کیا ارشاد فرماتے ہیں؟
الجواب
(۱) یہ کہہ کر کہ میں نے تمہیں یہ وعظ قرآن وحدیث سے سنایا ہے یہ کہنا کہ معلوم نہیں جھوٹ ہے یاسچ قرآن عظیم کے صدق میں شک کرنا ہے اور تاویل بعید کی یہاں کچھ حاجت نہیں، اول تو الفاظ اس کے مساعد نہیں پھر سوال دوم میں بیان مسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واعظ ہر وعظ میں مسلمانوں کو بہشتی زیور منگانے کی ترغیب دیتا ہے ایسا ہے تو عقیدہ کا دیوبندی معلوم ہوتا ہے اور دیوبندیوں کے نزدیک قرآن مجید کے صدق میں ضرورشک ہے وہ اﷲ عزوجل کو وجوباًسچا نہیں جانتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں کہ معاذاﷲ وہ امکاناًجھوٹاہے پھر وعظ کو قرآن وحدیث سے بتا کر اس کے صدق وکذب میں شک کرنا ضرور کلمہ کفر ہے، مسلمانوں کو ایسے شخص کاوعظ سننا اور اسے وعظ کی مسند پر بٹھانا حرام ہے۔
(۲) بہشتی زیور ایک ایسے شخص کی تصنیف ہے جس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو صریح گالی دی اور جس کی نسبت تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق حسام الحرمین میں فرمایا ہے کہ :
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔
جو اس کو باتوں پر مطلع ہوکر اسے مسلمان جاننا درکنار اس کے کافر ہونے میں شک بھی کرے وہ بھی کافر۔
(۱؎ حسام الحرمین باب المعتمد والمستند مکتبہ نبویہ ،لاہور ص۱۳)
بہشتی زیور کا دیکھنا عوام مسلمان بھائیوں کو حرام ہے اس میں بہت سے مسائل گمراہی کے اور بہت سے مسائل غلط وباطل ہیں اور یہی کیا تھوڑ ا ہے کہ وہ ایسے کی تصنیف ہے جس کو مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے علمائے کرام باتفاق فرمارہے ہیں کہ اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ زیادہ اطمینان درکار ہوتو کتاب حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مطبع اہل سنت وجماعت بریلی سے طلب کیجئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۷:ازشہر بریلی مرسلہ شوکت علی صاحب فاروقی۲۷شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کفار کَے قسم کے ہوتے ہیں اور ہر ایک کی تعریف کیا ہے اور صحبت کون سے کفار کی سب سے زیادہ مضر ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب: اﷲ عزوجل ہر قسم کفر و کفار سے بچائے، کافر دو قسم ہے: اصلی ومرتد۔ اصلی وہ کہ شروع سے کافر اور کلمہ اسلام کا منکر ہے ، یہ دو قسم ہے:مجاہر ومنافق، مجاہروہ کہ علی الاعلان کلمہ کا منکر ہو اور منافق وہ کہ بظاہر کلمہ پڑھتا اور دل میں منکر ہو، یہ قسم حکم آخرت میں سب اقسام سے بدتر ہے۔
ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار۱؎۔
بیشک منافقین سب سے نیچے طبقہ دوزخ میں ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۴۵)
کافر مجاہر چار قسم ہے:
اول دہریہ کہ خدا ہی کا منکر ہے۔
دوم مشرک کہ اﷲ عزوجل کے سوا اور کو بھی معبود یا واجب الوجود جانتا ہے، جیسے ہندو بت پرست کہ بتوں کو واجب الوجود تو نہیں مگر معبود مانتے ہیں اور آریہ کہ روح و مادہ کو معبود تو نہیں، مگر قدیم وغیر مخلوق جانتے ہیں دونوں مشرک ہیں اور آریوں کو موحد سمجھنا سخت باطل ہے۔
سوم مجوسی آتش پرست۔
چہارم کتابی یہود ونصارٰی کہ دہریہ نہ ہوں،
ان میں اول تین قسم کا ذبیحہ مردار اور ان کی عورتوں سے نکاح باطل ہے اور قسم چہارم کی عورت سے نکاح ہوجائے گا اگرچہ ممنوع و گناہ ہے۔
کافر مرتدوہ کہ کلمہ گو ہو کر کفر کرے اس کی بھی دو قسم ہیں :مجاہر ومنافق۔
مرتد مجاہر وہ کہ پہلے مسلمان تھا پھر علانیہ اسلام سے پھر گیا کلمہ اسلام کا منکر ہوگیا چاہے دہریہ ہوجائے یا مشرک یا مجوسی یا کتابی کچھ بھی ہو۔
مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا ہے پھر اﷲ عزوجل یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرتا یا ضروریات دین میں سے کسی شئے کا منکر ہے، جیسے آجکل کے وہابی ، رافضی، قادیانی، نیچری، چکڑالوی، جھوٹے صوفی کہ شریعت پر ہنستے ہیں، حکم دنیا میں سب سے بدتر مرتد ہیں اس سے جزیہ نہیں لیا جاسکتا، اس کا نکاح کسی مسلم کافر مرتد اس کے ہم مذہب یا مخالف مذہب، غرض انسان حیوان کسی سے نہیں ہوسکتا ، جس سے ہوگا محض زنا ہوگا، مرتد مرد ہو خواہ عورت، مرتدوں میں سے سب سے بدترمرتد منافق ہے، یہی وہ ہے کہ اس کی صحبت ہزار کافر کی صحبت سے زیادہ مضر ہے کہ یہ مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہے، خصوصاً وہابیہ خصوصاً دیوبندیہ کہ اپنے آپ کو خاص اہلسنت کہتے، حنفی بنتے، چشتی نقشبندی بنتے، نماز روزہ ہمارا سا کرتے ، ہماری کتابیں پڑھتے پڑھاتے اور اﷲ ورسول کو گالیاں دیتے ہیں، یہ سب سے بدتر زہر قاتل ہیں، ہوشیار خبردار !مسلمانوں!اپنا دین بچائے ہوئے رہو
فاﷲ خیرحفظا وھوارحم الراحمین۱؎
(تو اﷲ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔