Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
59 - 150
مسئلہ۶۹:از شہر مالیگاؤں محلہ قلعہ قریب مسجد کلاں مرسلہ محمد صادق صاحب ۳ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

اگر کوئی شخص آیاتِ قرآنی کو نہ مانے تو وہ شخص گناہگارہوگا یا نہیں؟اگر ہوتا ہے تو کس درجہ کا؟اور نماز اس کے پیچھے کیسی ہوتی ہے؟
الجواب: آیت کو نہ ماننا یعنی انکار کرنا کفرہے اس کے پیچھے نماز کیسی، مگر عوام نہ ماننا اسے بھی کہتے ہیں کہ گناہ خلاف آیت قرآنی واقع ہوا ور اسے آیت سنائی گئی اور وہ اپنے گناہ سے باز نہ آیا یہ بازنہ آنا اگرمحض شامتِ نفس سے ہو، آیت پر ایمان رکھتا ہے، نہ اس سے انکار کرتا ہے نہ اس کا مقابلہ کرتا ہے تو گناہ ہے کفر نہیں، پھر اگر وہ گناہ خود کبیرہ ہو یا بوجہ عادت کبیرہ ہوجائے اور یہ شخص اعلان کے ساتھ اس کا مرتکب ہو تو فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی یعنی پڑھنی گناہ اور پڑھی ہوتو پھیرنی واجب ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۷۰:از چندوسی حسینی بازار مرسلہ غلام حسین صاحب ۳ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، الحمدﷲ العلی العظیم والصلوۃ علی النبی الکریم واٰلہ وصحبہ المکرمین اٰمین!(کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چندوسی میں مسلمانوں نے ہنود ، مشرکین سے اتفاق کرنے میں یہ آثار ظاہر کئے کہ سوائے نوبت نقارے نوازی اور ناچ رنگ نا مشروع کے ایسا مبالغہ اور عروج ان کی رسوم جلادینے میں کہ بعض فریق تلک، قشقہ، سندے برہمنوں کے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر کھنچوا کر خوش اور مسرور ہوا اور بعض فریق برہمنوں کے ساتھ جے رامچند رجی اور جے سیتاجی کی بول اٹھا اور بعض فریق نے ہمراہ ہنود تخت رواں نستہ عورتوں کے گشت کی اور وہ تخت رواں خلاف سالہائے گزشتہ پیوستہ کے بیخوف و خطر گلی کوچہ پھر اکر مسلمانوں کے جائے جلوس پر ہنود لائے، مسلمانوں نے سوائے تواضع پان، پھول اور ہار، الائچی وغیرہ ان کے آنے کا شکریہ بفخریہ ادا کرکے شیرینی کی تھالی پیش کی اس عمل سے کس فریق کی عورت نکاح سے باہر ہوئی اور کون مبتلائے کفر ہوا اور کون مرتکب گناہ کبیرہ ہوا اور ہر فریق کی توبہ کی صورت کیا ہے؟
الجواب: وہ جنہوں نے برہمن سے قشقہ کھنچوایا وہ جنہوں نے ہنود کے ساتھ وہ جے بولی کافر ہوگئی، ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور وہ کہ گشت میں شریک ہوئے اگر کافر نہ ہوئے تو قریب بکفر ہیں،

حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سود مع قوم فھو منھم ۱؎وفی لفظ من کثر سوادقوم۲؎۔
جو کسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
 (۱؎ تاریخ بغداد    ترجمہ ۵۱۶۷عبداﷲ بن عتاب الخ     دارالکتاب العربی بیروت    ۱۰/ ۴۱)

(۲؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ     بحوالہ مسند ابی یعلی     المکتبۃ الاسلامیہ بیروت     ۴/ ۳۴۶)

(کنز العمال         حدیث۲۴۷۳۵        موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱/ ۲۲)
اور وہ جنہوں نے بت کے لانے پر شکریہ ادا کیا اور خوش ہوئے ان پر بھی بحکم فقہاء کفر لازم ہے غمز العیون میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر۳؎۔
جس نے کافر کے عمل کو اچھا جانا وہ باتفاق مشائخ کافر ہوجاتا ہے(ت)
 (۳؎ غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر     کتاب السیر باب الردۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۲۹۵)
ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح  جدید کریں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۷۱:از موضع بیری پور ڈاکخانہ قصبہ علی گڑھ ضلع بریلی مرسلہ خان محمد خاں ۱۳ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آداب واحکام وارکان شریعت کا محض منکر ہے یعنی اہل ہنود کی پرستش گاہوں پر پوجا کرتا ہے، سراسر جو کام شرک و کفر کے ہنود کرتے ہیں ان کو زید بھی کرتا ہے اور بجائے محفل میلاد شریف کے مثل ہنود کے کتھا کی یعنی برہمن کو بلاکر پوریاں وغیرہ پکواکر اورہنود کو کھلا کر جن مسلمانوں سے رسم تھا ان کو کھلادیں اور ہنود کے ہوم رول میں چندہ دیا اور مسجد کے دینے سے انکار، صوم وصلوٰۃ کا منحرف بایں امور کہ زید میں موجود ہیں، عمر اپنی بیٹی زید کے بیٹے کو دینا چاہتا ہے ہر چند اس سے منع کیا گیا مگر قصداً رسم گیا حتی کہ تاریخ شادی کی ٹھہرگئی، عمر کی زوجہ نے جواب دیا اور سخت کلامی کی کہ زید اگر بھنگی ہے توہم بھی بھنگی ہیں، عمر سے کہا گیا کہ تم کو اگر زید سے ملنا ہے تو اس کو توبہ استغفار کرادیا جائے، مگر عمر نہ مانا اور شرک و کفر کی حالت میں دیدہ دانستہ قرابت کی ، آیا ہم جمیع مسلمان زید وعمر کے ساتھ کیسا معاملہ رکھیں، جو حکم شرع شریف کا ہو، نافذ ہو ایسا شخص بموجب شرع شریف کے مستوجب سزا ہے یانہیں، بینواتوجروا۔
الجواب: صورت مذکورہ میں زید کافر مرتد ہے،اس سے سلام، کلام مسلمانوں کو حرام اس کی شادی غمی میں شرکت حرام۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتصل علٰی احدمنھم مات ابداً ولاتقم علٰی قبرہ۲؎۔
 ( ۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۸۴)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: او ران میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)

عمر اس کے سب افعال پر آگاہ ہے اس نے توبہ بھی لینا نہ چاہی اور ایسی قرابت اس کے ساتھ کی مبتلائے گناہ عظیم و مستحقِ عذاب الیم ہوا۔
قال اﷲ تعالٰی انکم اذا مثلھم ۳؎،وقال اﷲ تعالٰی ومن یتولھم منکم فانہ منھم۴؎، وقال اﷲ تعالٰی ولاترکنو الٰی الذین ظلموافتمسکم النار۵؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۴/ ۱۴۰ )   (۴؎القرآن الکریم ۵/ ۵۱) (۵؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳)
زید و عمر اگر توبہ نہ کریں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ انہیں یک لخت چھوڑدیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۷۲تا۷۳:از بدایوں مرسلہ نتھو ونثار احمد سوداگران چرم۱۸ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ

(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے باجود اس علم کے کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے کافر ملحد ہونے کا فتوی تمام علمائے اسلام دے چکے ہیں، پھر بھی اپنی لڑکی کا نکاح ایک مرزائی کے لڑکے کے ساتھ کردیا اب زید کو گمراہ اور بدعقیدہ سمجھاجائے یا نہیں اور زید کے ساتھ کھانا پینا اور اسکی شادی غمی میں شریک ہونا اپنے یہاں اس کو شریک کرنا جائز ہے یانہیں اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لئے کیا حکم ہے؟

(۲) مرزائیوں کے لڑکوں کو جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے اور اپنے ماں باپوں کے رنگ میں رنگے ہیں اور ہر امر میں انہیں کے ماتحت ہیں کیا سمجھنا چاہئے مرزائی یا غیر مرزائی ؟
الجواب

(۱) اگر وہ لڑکا اپنے باپ کے مذہب پر تھا اور اسے یہ معلوم تھا کہ اس کا یہ مذہب ہے اور دانستہ لڑکی اس کے نکاح میں دی تویہ لڑکی کو زنا کے لئے پیش کرنا اور پر لے سرے کی دیوثی ہے ، ایسا شخص فاسق ہے اور اس کے پاس بیٹھنا تک منع ہے،
قال اﷲ تعالٰی واماینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظٰلمین۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یا دآنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
ورنہ اس کے سخت بے احتیاط اور دین میں بے پروا ہونے میں کوئی شبہہ نہیں ، اور اگر ثابت ہوکہ وہ واقعی مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے اس بنا پر تقریب کی تو خود کافر مرتد ہے، 

علمائے کرام حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق فرمایاکہ :
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۲؎۔
جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر۔
 (۲؎ حسام الحرمین   باب المعتمد والمستند مکتبہ نیویہ، لاہور     ص۱۳)
اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت حیات کے سب علاقے اس سے قطع کردیں، بیمار پڑے پوچھنے کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے مسلمان کے گورستان میں دفن کرنا حرام، اسکی قبر پر جانا حرام،
قال اﷲ تعالٰی ولاتصل علٰی احد منھم مات ابدًا ولاتقم علٰی قبرہ۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا(ت)
 (۳؎ القرآن الکریم ۹ /۸۴)
(۲) وہ سب مرزائی ہیں مگر وہ کہ عقل و تمیز کی عمر کو پہنچا اور اچھے برے کو سمجھا اور مرزائیوں کو کافر جانااور ٹھیک اسلام لایا وہ مسلمان ہے، یہ اس حالت میں ہے کہ ماں مرزائی ہو، اور اگر ماں مسلمان ہواگرچہ اپنی شامت نفس یا اپنے اولیاء کی حماقت یا ضلالت سے مرزائی کے ساتھ نکاح کرکے زنا میں مبتلا ہے، اب جو بچے ہوں گے جب تک ناسمجھ رہیں گے اورسمجھ کی عمر پر آکر خود مرزائیت اختیار نہ کریں گے اس وقت تک وہ اپنی ماں کے اتباع سے مسلمان ہی سمجھے جائیں گے،
بچہ والدین میں سے اس کے تابع ہوتا ہے جس کا دین بہتر ہو تو اس وقت کیا حال ہوگا جب اس کی صرف ماں ہی  ہو کیونکہ ولد زنا کا باپ نہیں ہوتا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter