مسئلہ۶۳:ازہوؤل ضلع گورگانوہ مرسلہ عبداﷲ شاہ
معظم ومکرم قدوۃ الفضلاء فضلانا مولانا اولانا________جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب
دام فیوضہ بعد سلام مسنون، کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مولوی بنام زید اور چند مسلمان امی اس کے ہمراہ ایک پادری مذہب عیسوی کے مکان پر نشست برخاست ایک وقت معین پر پادری صاحب کے مکان پر ہوا کرتی ہے، بروقت نشست پادری صاحب کے یہاں کے خوردونوش میں شریک ہوتے ہیں یعنی پان و چائے وغیرہ خاص پادری صاحب کے مکان کا بناہوا کھاتے پیتے ہیں اور گفتگو وغیرہ میں یہاں تک نوبت ہوتی ہے کہ جناب سرورکائنات محمد صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی شان میں لفظ بے ادبانہ وہ پادری کہتا ہے،یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی شان میں افک وبہتان تک نوبت پہنچتی ہے اور حضرت زینب و زید کی شان میں لفظ گستاخانہ کرتا ہے، اب دوسرے مسلمان اس مولوی سے کہتے ہیں کہ پادری کے یہاں کا اکل وشرب اچھا نہیں ، تو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ کچھ حرج نہیں اور ہمارے ایمان میں کوئی فرق اور خلل نہیں آتا ہے، اگر فرق آتا ہو ہم کو قرآن وحدیث سے ثبوت دو، جناب مفتی صاحب یہ امر طلب ہے آیا اس مولوی کے ایمان میں خلل وفرق آیا یانہ، اور اس مولوی کے پیچھے اقتدا جائزہے یانہ اور کوئی گناہ ہے یانہ اور گناہ کیسا ہے،صغیرہ یا کبیرہ؟بینواتوجروا؟
الجواب:اس نام کے مولوی کے ایمان میں اگر فرق نہ ہوتا تو وہ ایسے جلسوں میں شریک نہ ہوسکتا جن میں اﷲ ورسول کے ساتھ استہزاوطعن کئے جاتے ہیں وہ ثبوت مانگتا ہے اسے اگر ایمان احکام کی خبر ہوتی تو جانتا کہ قر آن عظیم اس صورت میں اس کے مثل نصارٰی ہونے کافتوٰی دے رہا ہے۔
قال اﷲ تعالٰی بشر المنٰفقین بان لھم عذابا الیماoالذین یتخذون الکٰفرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ ﷲ جمیعاoوقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذا سمعتم اٰیت اﷲ یکفر بھا ویستھزأبھا فلاتقعدوامعھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اﷲ جامع المنٰفقین والکٰفرین فی جھنم جمیعا۱؎o
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۳۸تا۱۴۰)
اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور وہ سخت اشد کبیرہ کا مرتکب ہے بلکہ اس کا ایمان ہی ٹھیک نہیں، جیسا کہ قرآن عظیم صاف ارشادفرماچکا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۴:ازککرالہ پرگنہ اوسیت ضلع بدایوں مرسلہ محمد یسین خاں خطیب ۱۱ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مولوی بنگالی نے کہا کہ جو کوئی نماز سنت پڑھے وہ مشرک ہے، اور التحیات اور درود شریف نمازمیں پڑھنے کی کہیں سند نہیں، اور اگر سند ہوتو قرآن شریف سے ثابت کرو اور نماز جنازہ کی بھی نہیں پڑھنی چاہئے اس کی بھی قرآن شریف سے سند نہیں اور حدیث کا کچھ اعتبار نہیں ازراہ عنایت جواب سے زودتر سرفراز فرمائیے۔
الجواب: جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا منکر ہے اور جو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا منکر ہے وہ قرآن مجید کا منکر ہے اور جو قرآن مجید کا منکر ہے اﷲ واحد قہار کا منکر ہے اور جو اﷲ کا منکر ہے صریح مرتد کافر ہے اور جو مرتدکافر ہے اسے اسلامی مسائل میں دخل دینے کا کیاحق ۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
مااٰتٰکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فانتھوا۲؎۔
رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں بازرہو۔
(۲؎القرآن الکریم ۵۹/ ۷)
اور فرماتا ہے:
فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجربینھم ثم لایجدوافی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلمواتسلیما۳؎۔
اے نبی!تیرے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک تجھے ہر اخلاقی بات میں حاکم نہ بنائیں پھر اپنے دلوں میں تیرے فیصلہ سے کچھ تنگی نہ پائیں اور اچھی طرح دل سے مان لیں۔
(۳؎القرآن الکریم ۴/ ۶۵)
نماز سنت و جنازہ اور التحیات ودرود سب کا حکم کلام اﷲ شریف میں صراحۃً موجود مگر:
من لم یجعل اﷲ لہ نورافمالہ من نور۱؎۔
جسے اﷲنے نورنہ دیا اس کے لئے کہیں نور نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۴۰)
پہلے یہ منکر بتائے کہ پانچ نمازوں کا ثبوت کلام اﷲشریف میں کہاں ہے ، اور صبح کی دورکعتیں ، مغرب کی تین رکعتیں، باقی کی چار چار، ان کا ذکر کلام اﷲ شریف میں کہاں ہے، اور نمازوں کی ترتیب کہ پہلے قیام اور اس میں قرأت پھر رکوع پھر سجود پھر قعود قرآن مجید میں کہاں ہے، وقتوں کی ابتداء وانتہا کہ فجر کا وقت طلوع صبح سے شروع ہوکر طلوع شمس پر ختم ہوتا ہے، اور ظہر کا زوال شمس سے سایہ اصلی کے سوا ایک مثل یا دو مثل سایہ ہونے تک اس کا ذکر قرآن مجید میں کہاں ہے، وضو کی ناقض یہ یہ چیزیں ہیں اور غسل کی یہ یہ، اور نماز ان چیزوں سے فاسد ہوتی ہے ان کی تفصیل قرآن مجید میں کہاں ہے۔ جب وہ ان سوالوں سے عاجز ہوگا اور اپنے کفر وجہل کا اقرار کرکے تائب ہوگا اس وقت ہم اسے بتادیں گے جن چیزوں کا وہ منکر ہے وہ سب قرآن مجید سے ثابت ہے اور ساتھ یہ بتائے کہ اس نے اس قرآن موجود کوبے کم وبیش قرآن منزل من اﷲ کیونکر مانا، کیااﷲخود اسکے ہاتھ میں دے گیا، اور جب یہ نہیں تو دلیل دے اور سمجھ رکھے کہ اس دلیل سے جو کچھ ثابت ہوگاسب ماننا پڑے گا ورنہ قرآن بھی ہاتھ سے کھوئے گا، کھویا تو ہے ہی جھوٹے زبانی اقرار سے بھی ہاتھ دھوئے گا
ان اﷲ لایھدی القوم الفٰسقین۲؎
(بیشک اﷲ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ت)
(۲؎القرآن الکریم ۶۳/ ۶)
یہ مسائل جن کا ثبوت ہم نے قرآن عظیم سے دینا اس کے ذمہ لازم کیا ہے اس طرح لکھے جس طرح ہم مسلمانوں میں ہے، اسکے نزدیک اگر اور طور پر ہوں تو جس طرح اس کے اعتقاد میں ہیں نماز میں کیاکیا فرائض ہیں، ان کی ترتیب اور پڑھنے کی ترکیب کیاہے، وضووغسل کی ناقض کیا کیا ہیں، ہروقت کی نماز میں کَے رکعتیں ہیں، کس کس چیز سے فاسد ہوتی ہے۔ واﷲ تعالٰی ا علم ۔
مسئلہ۶۵: شبہہ پیش کردہ بعض اہل علم ۲۵ربیع الآخر شریف ۱۳۳۵ھ
بلاشبہہ اشرف علی تھانوی اپنی عبارت خفض الایمان میں حق کا معاند ہے ، مگر تکفیر میں یہ شبہہ ہے کہ وہ علوم غیبیہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاانکار نہیں کرتا بلکہ اطلاق لفظ عالم الغیب کا تیسری شق جو مصحح ثبوت علوم کثیرہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے اس نے دھوکا دینے کے لئے قصداً چھپالی اور زید پر براہ فریب و مغالطہ ایک الزامی ایراد قائم کیا اس سے وہ حق کا معاند ضرور ہے مگر کافر نہ ہوا ہم اسے دیکھتے ہیں کہ وہ خشوع وخضوع سے نماز پڑھتا ہے وہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرتا۔
الجواب: اشرف علی تھانوی سے زیادہ اپنی مراد کون بتاسکتا ہے اس نے جو عرق ریزی وحرکت مذبوجی''بسط البنان'' میں کی اس پر شدید قاہر الٰہی رد''وقعات السنان''وغیرہ میں ملاحظہ ہوں، مگر ایک ذی علم کے لئے کشف شبہہ کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ یہ سوال حاضر کیا جاتا ہے جس میں سراسر عبارت خفض الایمان کا پورا چربہ ہے اس کا جواب دیتے بلکہ ان شاء اﷲتعالٰی ملاحظہ کرتے ہی کھل جائے گا اورشبہہ کا وسوسہ دھواں ہوکر اڑجائے گا وباﷲ التوفیق۔
سوال یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے حمدِ الٰہی میں کہا اے سخی داتا الہ العٰلمین اس پر حمید وولیددو شخصوں نے اعتراض کیا۔ حمید،یہ ناجائز ہے اسمائے الٰہی تو قیفی ہیں اﷲ عزوجل کو جواد کہا جائے گا سخی کہنا جائز نہیں، حواشی حاشیہ خیالی علی شرح العقائد النسفی میں اس کی تصریح ہے۔
ولید: اﷲ عزوجل کی ذات مقدسہ پر سخاوت کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب امریہ ہے کہ اس سخاوت سے مراد بعض عطا ہے، یعنی کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی شخص کو کچھ نہ کچھ دے دینا اگرچہ ایک نوالہ یا ایک کوڑی یا کل عطا کہ کسی سائل کا کوئی سوال کبھی نہ پھیرا جائے ہمیشہ جو کچھ مانگے اسے دیا جائے اگر بعض مراد ہے تو اس میں اﷲ تعالٰی کی کیا تخصیص ہے ایسی سخاوت تو زید عمرو ہر ذلیل ورذیل ہر بھنگی چمار کو بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص سے کسی نہ کسی چیز کا دینا واقع ہوتا ہے تو چاہئے کہ سب کو سخی داتا کہا جائے پھر اگر زید اس کا التزام کرے کہ ہاں میں سب کو سخی داتا کہوں گا تو پھر سخاوت کو منجملہ کمالاتِ الٰہیہ شمار کیوں کیا جاتا ہے، جس امر میں مومن بلکہ شریف شخص کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات الوہیت سے کب ہوسکتا ہے اوراگرالتزام نہ کیا جائے تو خداوغیرخدامیں وجہ فرق بیان کرنا ضرور ہے اور اگر تمام عطایا مراد ہیں اس طرح کہ اس کا ایک فرد بھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی وعقلی سے ثابت ہے انتہی۔ ولید کے اس کلام پر حمید اکابر علمائے کرام نے کفر صریح ہونے کا حکم کیا، سعید کو اس میں یہ شبہات ہیں ہم دیکھتے ہیں، ولید خشوع خضوع سے نماز پڑھتا ہے وہ اﷲ تعالٰی کی توہین کرتا ، اس کا مقصود اطلاق لفظ سخی پر انکار ہے نہ کہ عطائے الٰہی کا ابطال تیسری شق جو مصحح ثبوت عطائے الٰہیہ ہے، اس نے دھوکا دینے کے لئے قصداً چھپالی اور زید پر براہ فریب مغالطہ ایک الزامی ایراد قائم کیا اس سے وہ حق کا معاند ضرور ہے مگر کافر نہ ہوا،
اب علمائے کرام سے استفسار ہے کہ:
(۱) آیا کلام ولید میں اس تاویل کی گنجائش ہے؟
(۲) محض لفظ سخی کے اطلاق پر انکار وہ تھا جو حمید نے کیا یا یہ جو ولید نے کہا؟
(۳) منشائے اطلاق یعنی عطا کو دو شقوں میں منحصر کردینا ایک وہ کہ خدا میں بھی نہیں دوسرے وہ کہ بھنگی چمار میں ہے اور اس بناپراسے کمالاتِ الٰہیہ سے نہ جاننا اور خد ااوراس کے غیر ہر بھنگی چمار میں فرق پوچھنا محض اطلاق لفظ سخی کا انکار ہوگا یااﷲ عزوجل کی صفت کمالیہ عطا کاصریح ابطال ہوگا؟
(۴) اس تقریر سے عطا کو کمالاتِ الٰہیہ سے نہ جاننا اور خدا اور بھنگی چمار میں فرق پوچھنا اور اﷲتعالٰی کی خصوصیت نہ جاننا ہر بھنگی چمار کے لئے بھی حاصل ماننا یہ توہین شان عزت ہے یانہیں؟
(۵) اس کلام کے سننے سے کسی طرح کسی کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے کہ یہ ابطال عطائے الٰہی نہیں نہ اس کے کمال پر حملہ نہ اس قسم عطا میں جو اسے حاصل ہے، اس کی خصوصیت کا انکار نہ ہر بھنگی چمار کی اس میں شرکت کا اظہار بلکہ باوصف صحت معنی وحصول مبنی صرف بالخصوص لفظ سخی پر انکار ہے۔
(۶) جو معنی کسی طرح کلام سے مفہوم نہ ہو سکیں کیا ان کی طرف پھیرنا کفر کانافی ہوسکتا ہے، شفائے امام قاضی عیاض وغیرہ کتب معتمدہ ائمہ میں تصریح ہے کہ
التاویل فی لفظ صراح لایقبل ۱؎
(صریح الفاظ میں تاویل مقبول نہیں ہوتی ۔ت) ایسی تاویل مسموع ہوتو کوئی کلام کفر نہ ٹھہرسکے،
"اردت برسول اﷲ العقرب"
(میں نے رسول اﷲ سے مراد بچھو لیا ہے۔ت)کی تاویل اس تاویل سے قریب تر ہے یانہیں کہ بلاشبہہ عقرب بھی خداہی کا بھیجا ہوا ہے۔
(۱؎ الشفابتعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع فی تصرف وجوہ الاحکام مطبع شرکت صحافیہ ۲/ ۲۰۹)
(۷) صحیح بخاری شریف میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ
ذٰلک اخبات النفاق۲؎
(یہ نفاق کا خضوع ہے۔ت)اس خشوع وخضوع کا جواب کافی ہے یا یہ کہ کوئی کیسا ہی کفر کرے جب بعض اعمال صالحہ کرتا ہو کافر نہیں ہوسکتا ۔بینواتوجروا۔
(۲؎ مجمع الزوائد باب الاعمال بالخواتیم دارالکتاب بیروت ۷/ ۲۱۴)
مسئلہ۶۶:ازیازیدپور ضلع پٹنہ مرسلہ عبدالصمد صاحب ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ امکان نسخ نہیں بلکہ وقوع نسخ کا ماننا فرض ہے یا واجب یا مستحب جس کو دوسرے لفظوں میں یوں صاف کرسکتے ہیں کہ وقوع نسخ پر دلیل قطعی یعنی آیت قرآنی یاحدیث متواتر ہے یا دلیل ظنی ہے اس کا منکر کافر ہوگایا فاسق ؟بینواتوجروا
الجواب: وقوع نسخ بلاشبہہ قطعیات سے ثابت بلکہ باعتبار شرائع سابقہ ضروریات دین سے ہے اور اس کا منکر کافر ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۷:ازبجوواڑہ مرسلہ حاجی عبداللطیف ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت اور مرد میں سے کسی سے بے علمی کی وجہ سے ایسا کلمہ منہ سے نکل جائے کہ کفر میں شمار ہوتو طلاق ہوجاتی ہے یانہیں، اور اگر ایسا ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے کیونکہ ظاہر نکاح دوسری بار پڑھانے سے شرم کرتا ہو تو بغیر گواہ کے ایسا نکاح پھر درست ہوسکتا ہے یانہیں کہ صرف مرد عورت دونوں ہی نکاح قائم کرلیں کہ کوئی صورت آسان ہوتو بتلائیں کیونکہ اکثر لوگ بے علمی کی وجہ سے کوئی کلام کہہ دیتے ہیں اور وہ کفر ہوتا ہے اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے۔
الجواب: معاذاﷲ جس سے کلمہ کفر صادر ہواسے بعد توبہ تجدید نکاح کا حکم ضرور ہے نکاح بغیر دوگواہوں کے نہیں ہوسکتا ، دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں عاقل بالغ آزاد اور مسلمان، عورت کے نکاح میں ان کا مسلمان ہو نا بھی شرط ہے وہ ایجاب وقبول کو ایک سلسلے میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتا، ہاں یہ کچھ ضرور نہیں کہ وہ غیر ہی لوگ ہوں، زن وشوہر کے جوان بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی ، نوکر چاکر ان میں سے اگر دو مردوں یا ایک مرد دو عورتوں کے سامنے ایجاب وقبول کرلیں کافی ہے، اور تجدید نکاح کوئی شرم کی بات نہیں، یہ وسوسہ شیطانی ہے، شرم کی بات یہ ہے کہ نکاح میں خلل پڑجائے اور بغیر تجدید کے زن و شوہر کا علاقہ باقی رکھیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸ ۶: ازانجمن اسلامیہ بھرت پور مرسلہ حافظ عبدالوہاب خاں ٹونکی ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
یہاں ایک مولوی صاحب نے اثنائے وعظ میں فرمایا کہ حضرت عثمان غنی(رضی اﷲ عنہ) کی لاش مبارک شہادت کے بعد کئی روزتک نہایت ناگفتہ بہ حالت میں رہی اور آپ کی ایک ٹانگ (نعوذباﷲ)کتوں نے چباڈالی،مولوی صاحب اور ان کے مقلدین اس واقعہ کو تاریخی واقعہ بتاتے ہیں، یہاں کوئی ایسا عالم نہیں جو اس واقعہ کے متعلق صحت کرسکے، اسلئے عرض ہے کہ بواپسی اس واقعہ کے اصلی حالت سے اطلاع دیں، اگر صحیح ہے تو کسی معتبر کتاب سے پتہ چل سکتا ہے؟اگرغلط ہے تو کس فرقہ کا عقیدہ ہے؟
الجواب: امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کتاب الاصابہ فی تمییزالصحابہ میں فرماتے ہیں:
قال الزبیربن بکار بویع یوم الاثنین للیلۃ بقیت من ذی الحجۃ سنۃ ثلاث وعشرین وقتل یوم الجمعۃ لثمان عشرۃ خلت من ذی الحجۃ بعد العصر ودفن لیلۃ السبت بین المغرب والعشاء۱؎۔
(حضرت زبیر بن بکار کا بیان ہے۔ت) یعنی امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲتعالٰی عنہ کی بیعت یوم الاثنین ذی الحجہ کی آخری شب ۲۳ہجری کو کی گئی ۱۸ذی الحجہ ۳۵ھ روز جمعہ بعد عصر شہید ہوئے اور اسی شام کو مغرب کے بعد عشاء سے پہلے دفن ہوئے۔
(۱؎ الاصابہ فی تمییز الصحابہ باب عثمان رضی اﷲعنہ دارصادر بیروت ۲/ ۴۶۳)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناعشریہ میں امیرالمومنین ذوالنورین رضی اﷲ تعالٰی عنہم پر رافضیوں کے دسویں طعن میں ان ملاعین سے نقل کیا کہ:
''بعداز قتل اوراسہ روز اوفتادہ گزاشتند وبدفن او نپرداختند۲؎''۔
قتل کے بعدانہیں تین دن تک ایسے ہی پھینک دیا گیا اور دفن نہ ہونے دیا گیا۔(ت)
وہ کتوں کا لفظ اس طعن میں بھی نہیں ، پھر جواب میں بہت روایات ذکر کرکے فرمایا :
ازیں روایات مشہورہ متعدد ہ ثابت شد کہ تاسہ روز اوفتادہ ماندن لاش عثمان (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) محض افتراء ودروغ ست ودرجمیع تواریخ تکذیب آں موجودست زیراکہ باجماع مؤرخین شہادتِ عثمان (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) بعد از عصر روز جمعہ ہیژ دہم ذی الحجہ واقعہ شدہ است ودفن اودربقیع شب شنبہ وقوع یافت بلاشبہ انتہی۳؎۔
ان تمام مشہور روایات سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت عثمان (رضی اﷲ عنہ) کی لاش کا تین دن تک پڑے رہنے کا واقعہ محض افتراء اور جھوٹ ہے اور تمام کتب تاریخ میں اس کی تکذیب موجود ہے کیونکہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت عثمان (رضی اﷲعنہ) کی شہادت ۱۸ ذو الحجہ بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر ہوئی اور بلاشبہہ ہفتہ کی رات بقیع شریف میں تدفین ہوئی انتہی۔(ت)
مجھے یا دپڑتا ہے کہ میں نے بھی اپنے بعض حواشی میں یہی بات لکھی ہے اور یہ بھی تجاوز ہے ہاں مشہور ومقبول روایات کے مقابلے میں مناکیرومنکرات مقبول نہیں ہوتیں۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)