Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
57 - 150
مسئلہ۵۴: از موضع گلمان پور ڈاکخانہ رام کولاضلع سارن مرسلہ محمد اسحٰق صاحب۳۰شوال۱۳۳۵ھ

ایک استفتاء جو حضور میں پیش ہے دیوبند گیا تھا فقط قرآن شریف کا حوالہ ہے وہ ہم لوگ دیہاتی نہیں سمجھ سکتے کہ جب آدمی مرتد ہوجائے تو اس کا کفارہ کیا ہے، لہذا التماس حضور میں ہے کہ جواب سے پورے طور سے خلاصہ مطلع فرمائیں کہ کفارہ کیا ہے کس قدر ہونا چاہئے؟
الجواب

کفارہ ان گناہوں میں رکھا گیا ہے جن کا معاوضہ اس سے ہوجائے اور جو گناہ حدسے گزرے ہوئے ہیں ان کے لئے کفارہ نہیں ہوتا مثلاًصحیح مقیم بلاعذر شرعی ماہ مبارک کا اداروزہ جس کی نیت رات سے کی ہو دوا یا غذا یا جماع سے قصداً بلا اکراہ توڑدے تواس کا کفارہ ہے اور سرے سے رکھے ہی نہیں کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیں، مگرتوبہ اور اس روزے کی قضا، یونہی اگر معاذاﷲ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی مسلمان براہ خطا ماراجائے مثلاً شکار پر فائر کرے اور اس کے لگ جائے تو اس کا کفارہ ہے لیکن اگر عیاذا باﷲ قصداً قتل کرے کہ یہ جرم اعظم ہے اس کا کوئی کفارہ نہیں مگر توبہ وقصاص ، معاذاﷲ مرتد ہونا سب سے بدتر جرم ہے اس کا کیا کفارہ ہوسکتا مگرتوبہ و اسلام، اور اگر توبہ نہ کرے اور اسلام نہ لائے تو دنیا میں سلطان اسلام کے یہاں اس کی سزاقتل ہے اور آخرت میں ابدالآباد کے لئے جہنم ، والعیاذ باﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔

آپ نے علمائے کرام حرمین شریفین کا مبارک فتوٰی حسام الحرمین شاید نہ دیکھا اب دیکھئے اور ضرور دیکھئے مطبع اہل سنت وجماعت بریلی سے ملتا ہے اس میں علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ دیوبندی عقیدے والے خود کافر مرتد ہیں پھر ان کو عالم جاننا اور ان سے فتوٰی پو چھنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے احتیاط فرض ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: ازپل قاضی مرسلہ مرسلہ منشی محمد عنایت رسول صاحب ۹شوال المکرم ۱۳۳۵ھ

ایسے گروہ کے باب میں جو بظاہر مسلمان ہوکے اپنے خاندان کو خاندان رسالت پر فضیلت دینے حسب ونسب میں ہر طرح اپنے آپ کو نجیب گردانے اور کہے کہ دیکھو رسول اﷲ کس نسل سے ہیں ، حضرت ہاجرہ کون تھیں ، حضرت سارہ کی کنیز تھیں کہ نہیں، اور تائید میں قول نصرانی مؤرخ کا پیش کرے اور بعض کو اولاد فاطمہ سے لونڈی بچا کہے اور ساداتِ زمانہ کو قابل تعظیم وتکریم نہ جانے، بلکہ ان کی توہین و تہجین وتذلیل اور ان پر سب وشتم اور ایذارسانی کو جائز ومباح سمجھے اور عامل ایسے شنائع اعمال کا ہو، مسلمانوں کے ایسے گروہ کے ساتھ کھانا پینا، مناکحت و موالات ، انکی مجالس ومحافل میں شرکت جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: ایسا شخص گمراہ ،بددین، مسخرہ شیاطین ہے بلکہ اس پر حکم کفر کا لزوم ہے۔ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے میل جول ، مناکحت درکنار انکےپاس بیٹھنا منع ہے۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینّک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظالمین۱؎۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۶/۶۸)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر۲؎۔
یعنی سادات وعلماء کی توہین کفر ہے اور جو بنظر توہین کسی عالم کو مولویا یاسیدکو میر واکہے وہ کافر ہوجائے گا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الفاظ الکفر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۹۵)
مسئلہ۵۶:مرسلہ جناب قاضی ارشاد احمد صاحب از بیسل پور ضلع پیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ 

ایک واعظ نے یہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ جناب رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم وحی کہاں سے اور کس طرح لاتے ہو؟آپ نے جواب عرض کیا کہ ایک پردہ سے آواز سے آتی ہے ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کبھی تم نے پردہ اٹھا کر دیکھا؟انہوں نے جواب دیا کہ میری یہ مجال نہیں کہ پردہ کو اٹھاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ اب کی مرتبہ پردہ اٹھاکردیکھنا۔ حضرت جبرئیل نے ایسا ہی کیا، کیادیکھتے ہیں کہ پردہ کے اندرخود حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں اور عمامہ سر پر باندھے ہیں اور سامنے شیشہ رکھا ہے اور فرمارہے ہیں کہ میرے بندے کو یہ ہدایت کرنا،یہ روایت کہاں تک صحیح ہے، اگر غلط ہے تو اس کا بیان کرنے والا کس حکم کے تحت میں داخل ہے؟
الجواب

یہ روایت محض جھوٹ اور کذب وافتراء ہے اور اس کا بیان کرنے والا ابلیس کا مسخرہ اور اگر اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہے تو صریح کافر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۷تا۶۱:ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسجد نیاپورہ۲۰ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ

(۱) اول عبدالقادر جس نے یہ کلمات کہے ہیں وہ کافر ہے یانہیں؟اگر اس کے کفر میں شک کرے اس کے 

واسطے کیا حکم ہے؟

(۲) قاضی صاحب شہر یاد یگر مسلمان جو عبدالقادر کے معاون اور مددگار ہیں اور اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور دینی اور دنیوی مراسم میں تعلق رکھتے ہیں ان کے واسطے کیا حکم ہے؟

(۳) عبدالقادر کے گروہ میں سے جن لوگوں کا ہمارے گروہ سے زن وشو کا تعلق ہے یعنی زوجہ اس گروہ کی ہے اور زوج اس گروہ کا ہے، اسی طرح زوج اس گروہ کاہے اور زوجہ اس گروہ کی ہے اور وہ لوگ یعنی ہر دو فریق اپنے اپنے عقیدہ پر قائم ہیں تو ایسی صورت میں ان کا نکاح شرعاً قائم رہتا ہے یانہیں؟

(۴) قاضی صاحب شہر سے یہ کہا گیا کہ تم عبدالقادر جس نے توہین کی ہے اس کو کیا سمجھتے ہو، قاضی شہر یہ کہتے ہیں کہ آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین کرنے والے کو کافر سمجھتا ہوں مگر عبدالقادر کے پیچھے نماز ضرور پڑھوں گا، اس سے یہ مطلب کہ عبداالقادر سے اسلامی مراسم منقطع نہ کروں گا ، حالانکہ قاضی صاحب کے روبرو عبدالقادر نے یہ الفاظ وعظ میں کہے اور ان کے سامنے چار مسلمانوں نے گواہی دی کہ ہمارے روبرو عبدالقادرنے یہ الفاظ وعظ میں کہے اور پھر حسب خواہش قاضی صاحب علماء کے فتوے بھی پیش کردئے، ایسی حالت میں قاضی شہر کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان سے نکاح پڑھوانا جائز ہے یانہیں؟

(۵) ایک شخص نے علی الاعلان توبہ کی اس پر کفر کا فتوٰی منگوانا اور اس مسلمان کو کافر کہنا ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے؟
الجواب

(۱ و ۲) صورتِ مستفسرہ میں بلاشبہ اس نے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی توہین کی اور بلاشبہہ جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرے کافر ہے، اور بلاشبہہ جو اس امر پر مطلع ہوکر اسے قابل امامت جانے اس کے پیچھے نماز پڑھے بلکہ وہ بھی جو اسے مسلمان جانے بلکہ وہ بھی جو اس کے کفر میں شک کرے سب کافر و مرتد ہیں۔
شفاء شریف امام قاضی عیاض ووجیز امام شمس الائمہ کردری وذخیرۃ العقبٰی ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔
 (جو اس کے کفروعذاب میں شک کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔ت)
 (۱؎ درمختار    باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۵۶)
 (۳) جو مرد اس عقیدہ پر ہوں یا اس پر مطلع ہوکراس عقیدہ والے کو کافر نہ جانتے ہوں ان سب کے نکاح ٹوٹ گئے، عورتیں ان سے اپنے مہر کافی الحال مطالبہ کرسکتی ہیں اور بعد عدت جس سے چاہیں اپنانکاح کرسکتی ہیں اور عورتوں میں جو کوئی اس حقیقتِ حال سے آگاہ ہو اور جان بوجھ کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافرہ ہوگئی، مگر حسبِ روایت مفتی بہا اپنے شوہرمسلمان کے نکاح سے نہ نکلے گی نہ اسے اختیار ہوگا کہ دوسرے سے نکاح کرے، ہاں ان کے شوہروں کو جائز نہ ہوگا کہ انہیں ہاتھ لگائیں جب تک وہ تائب ہوکر پھر اسلام نہ لائیں۔

(۴) قاضی مذکور کے سامنے شہادتیں پیش ہونے کا کیا ذکر جبکہ سوال میں مذکور کہ سورہ والضحٰی شریف دکھا کر وہ الفاظ قاضی کے سامنے کہے اس صورت میں قاضی خود اس شخص کے ان احکام میں شریک ہے ، اس کے پیچھے نماز محض باطل اور اس سے میل جول حرام اور اس سے نکاح پڑھوانا جائز نہیں۔

(۵) جو شخص توبہ کرچکا ہو اسپر کفر کا فتوٰی منگا نا سخت عذاب کااستحقاق ہے اور مسلمان کو بلاوجہ کافرکہنے پر حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا کہ وہ کہنا اس کہنے والے ہی پر پلٹ آئے گا یعنی جب کہ بروجہ اعتقاد ہو اور بروجہ سب ودشنام تواشد کبیرہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔اور زیادہ تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔
مسئلہ۶۲:ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسجد نیاپورہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ عبدالقادر نے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور اس پر علماء کا فتوٰی کفر کاآچکا ہے اور وہ توبہ سے انکار کرتا ہے اس کا نکاح ٹوٹ گیا یانہیں ، اور اس کے بھائی بھتیجے اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے معاون ہیں ان کا نکاح بھی عندالشرع ٹوٹ گیا یانہیں، اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو ان کی مطلقہ بیویوں کا نکاح دوسرے مسلمانوں سے جائز ہے یانہیں اور وہ مطلقہ بیویاں مہر کی لین دار ہیں یانہیں؟ اس کا جواب بحوالہ کتبِ معتبرہ عطا فرمایا جائے ، عنداﷲ ماجور ہوں گے۔
الجواب: جو شخص حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرے یقینا کافر ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اور جو اس کی توہین پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے وہ بھی کافرہے ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور فی الحال وہ اپنے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہیں، ان عورتوں کو اختیار ہے کہ عدت کے بعد جس مسلمان سے چاہیں نکاح کرلیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter