Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
56 - 150
فتاوٰی خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار جلد اول ص۹۵:
من سب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ مرتد وحکمہ حکم المرتدین ویفعل بہ مایفعل بالمرتدین ولاتوبۃ لہ اصلا واجمع العلماء انہ کافر ومن شک فی کفرہ کفر۳؎اھ ملتقطا۔
جو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان کریم میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے اس کا وہی حکم ہے جو مرتدوں کا ہے اس سے وہی برتاؤ کیا جائے گا جو مرتدوں سے کرنے کا حکم ہے اور اسے دنیا میں کسی طرح معافی نہ دیں گے اور باجماع تمام علمائے امت وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔
 (۳؎ فتاوی خیریہ             باب المرتدین دارالمعرفۃ بیروت     ۱/ ۱۰۳)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد اول ص۶۱۸: اذاسبہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوواحدا من الانبیاء مسلم ولو سکران فلاتوبۃ لہ تنجیہ کالزندیق ومن شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۱؎۔
یعنی جو مسلمان کہلا کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگرچہ نشہ کی حالت میں تو اس کی توبہ پر بھی دنیا میں اسے معافی نہ دیں گے جیسے دہرئیے بے دین کی توبہ نہ سنی جائیگی، اور جو شخص اس گستاخی کرنے والے کے کفر میں شک لائے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا۔
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الجزیہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۷۰)
ذخیرۃ القبٰی علامہ اخی یوسف ص۲۴۰: قد اجمعت الامۃ علی ان الاستخفاف بنبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبای نبی کان علیھم الصلٰوۃ والسلام کفر سواء فعلہ علی ذٰلک مستحلاام فعلہ معتقد الحرمۃ ولیس بین العلماء خلاف فی ذٰلک ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر۲؎۔
یعنی بیشک تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے، خواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو یا حرام جان کر، بہر حال جمیع علماء کے نزدیک کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ۔
 (۲؎ ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی کتاب الجہاد باب الجزیہ     مطبع نولکشور کانپور    ۲/ ۳۱۹)
ایضاًصفحہ۲۴۲:
لایغسل ولایصلی علیہ ولایکفن اما اذا تاب وتبرأعن الارتداد ودخل فی دین الاسلام ثم مات غسل وکفن وصلی علیہ ودفن فی مقابر المسلمین۳؎۔
یعنی وہ گستاخی کرنے والا جب مرجائے تو نہ اسے غسل دیں  نہ کفن دیں نہ اس پر نماز پڑھیں، ہاں اگر توبہ کرے اور اپنے اس کفر سے برأت کرے اور دین اسلام میں داخل ہو اس کے بعد مرجائے تو غسل ، کفن، نماز، مقابر مسلمین میں دفن سب کچھ ہوگا۔
 (۳؎ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی کتاب الجہاد باب الجزیہ     مطبع نولکشور کانپور    ۳/ ۳۲۱)
تنویر الابصار شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ غزی:
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی۴؎الخ۔
یعنی ہرمرتد کی توبہ قبول ہے مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے کہ  دنیا میں سزا سے بچانے کے لئے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔
 (۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار  باب المرتدین  مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
درمختار:
الکافربسب نبی الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۱؎۔
یعنی کسی نبی کی توہین کرنا ایسا کفر ہے جس پر کسی طرح معافی نہ دیں گے اور جو اس کے کافر ومستحق عذاب ہونے میں شک کرے خود کافر ہے۔
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار  باب المرتدین     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۵۶)
کتاب الخراج سیدنا امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ ص۱۹۷:
قال ابویوسف وایمارجل مسلم سب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم او کذبہ او عابہ تنقصہ فقد کفر باﷲ تعالٰی وبانت زوجتہ۲؎۔
یعنی جو شخص کلمہ گو ہو کر حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو برا کہے یا تکذیب کرے یا کوئی عیب لگائے یا شان گھٹائے وہ بلاشبہہ کافر ہوگیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی۔
 (۲؎ کتاب الخراج     فصل فی الحکم فی المرتد عن الاسلام    مطبع بولاق مصر۹۸۔۱۹۷)
بالجملہ اشخاص مذکورین کے کفر وارتداد میں اصلاً شک نہیں، دربارہ اسلام ورفع دیگر احکام ان کی توبہ اگرسچے دل سے ہو ضرور مقبول ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ سلطان اسلام انہیں بعد توبہ و اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کے یہی معنی ہیں اور اس کی بحث یہاں بیکار ہے، کہاں سلطان اسلام اور کہاں سزائے موت کے احکام،صدہا خبیث، اخبث، ملعون، انجس ہیں کہ کلمہ گو بلکہ اعلٰی درجہ کے مسلمان مفتی واعظ مدرس شیخ بن کر اﷲ ورسول کے جناب میں منہ بھر کر ملعونات بکتے ، لکھتے، چھاپتے ہیں اوران سے کوئی تو کہنے والانہیں اور اگر انہیں تو کہئے تونہ صرف ان کے بلکہ بڑے بڑے مہذب بننے والے مسلمانوں کے نزدیک یہ بے تہذیبی وتشدد ہو،
فانظر الٰی آثار مقت اﷲ الغیور کیف انقلبت وانعکست الامور ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العظیم،
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبونo۳؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
تو دیکھو اﷲ غیور کے عذاب کے آثار کی طرف دل کیسے بدل جاتے ہیں اور امور کیسے الٹ ہوجاتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۳؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۷)
مسئلہ۵۳: ازکوہ کسولی مرسلہ منشی نور محمد صاحب عرائض نویس کچہری ۱۹رمضان شریف ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اہل اسلام ایک مکان میں ختم شریف پڑھ رہے تھے ختم مذکور میں یہ بیت بھی پڑھی گئی: ؎
عفو کن خطا یا حیات النبی

مری کر شفع یا حیات النبی
ایک شخص شریک مجمع مذکور منصب امامت رکھتا تھا، بضرورت ادائیگی نماز مغرب وہاں سے چلاگیا اور بعد نماز مغرب چند اہل اسلام کے سامنے یہ مسئلہ بیان کیاکہ امداد سوائے ذات باری تعالٰی کے کسی سے نہیں مانگنا چاہئے، جیسا کہ لوگ کہا کرتے ہیں: ؎
امداد کن امداد کن از بندغم آزاد کن

دردین ودنیا شاد کن یا شیخ عبدالقادرا
ایسا کہنا شرعاً جائز نہیں ، دوسرے وقت میں شعر مندرجہ بالا پر بحـث چھڑی تو پیش امام موصوف نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اﷲ سے بھی کوئی استعانت نہیں مانگنا چاہئے کیونکہ وفات پاگئے ہیں اور مردہ ہیں۔یہ سن کر ایک شخص نے امام موصوف کے پیچھے نماز پڑھنی ترک کردی اور اپنے علیحدہ مکان میں مسجد قرار دے کر بشمولیت چند مرد مان اہلِ اسلام جمعہ ودیگر نمازیں پڑھنی شروع کردیں، پیش امام مذکور نے اپنی بے ادنی وگستاخی معلوم کرکے معترض و دیگر مرد مان کے سامنے توبہ کرلی اور معافی کا بھی خواستگار ہوا مگر معترض نے اسے معاف نہیں کیا اور بدستور اپنے اصرار پر قائم ہے، پیش امام مذکور نے یہ کہاکہ اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعالم حیات ہمارے سامنے بھی موجود ہوں تو اپنے اختیار سے بھی کوئی کام نہیں کرسکتے حالانکہ بظاہر وفات پاگئے ہیں، میرا اس پر ایما ہے اور لفظ''مردہ''جو میری زبان سے نکلا اس کے لئے توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں، اب دریافت طلب یہ امور ہیں کہ پیش امام مذکور کی امامت جائز ہے یانہیں اورشخص معترض کی نماز مسجد سے علیحدہ اس کے اپنے گھر میں اداہوجاتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا(بیان کرکے اجر پاؤ۔ت)
الجواب

یہ سوال پہلے بھی آیا اور دارالافتاء سے جواب دیا گیا، جواب اب بھی وہی ہے اگرچہ سوال میں بہت الفاظ شیطانی کم ہیں ، آخر یہ تو خود پیش امام نے اقرار کیا کہ اس نے شان اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بے ادنی و گستاخی کی، یہی کفر ہے اور اس کے معافی معترض سے چاہنا عجیب ہے، گستاخی کرے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں یہ معاف کردے، گویا یہ کہے کہ اگرچہ تونے میرے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو برا کہا مگر میں اس کی پروا نہیں کرتا، میں نے کہا بے کہا کردیا، معترض ایسا کہتا تو اسے خود اپنے ایمان کے لالے پڑتے۔ زید کا حق عمرو، عمروکا حق زید معاف نہیں کرسکتا، وہ بے ادب کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں گرفتار ہو اسے زید وعمرو کیونکر معاف کردیں،
درمختار میں ہے:
الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ولوسب اﷲ تعالٰی قبلت لانہ حق اﷲ تعالٰی والاول حق عبدلایزول بالتوبۃ ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۱؎۔
جو کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہو ااس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیں، اور اگر اﷲ تعالٰی کو گالی دی تو توبہ مقبول ہے کیونکہ یہ اﷲ تعالٰی کا حق ہے، اور پہلا بندے کا حق ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جس نے بھی اس کے عذاب و کفر میں شک کیا وہ کافر ہوجائے گا۔
(۱؎ درمختار     باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۵۶)
انکارِ استمداد واستعانت اور وہ بھی خود حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے،اور وہ بھی اس ملعون خیال پر کہ مردہ ہیں، ان پر تو شخص مذکور اب بھی قائم ہے ایک لفظ ''مردہ'' کو اس کے معنی سے تبدیل کرتا ہے، یہ تمام عقائد وخیالات وہابیہ کے ہیں اور وہابیہ کی امامت ہر گز نہیں، اور ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے، 

فتح القدیر میں ہے:
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم ان الصّلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۲؎اھ وقد حققنا بما لامزید علیہ فی النھی الاکید۔
امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نقل کیا کہ اہل بدعت کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی، اس کی بے مثل تفصیل ہم نے اپنے رسالہ ''النہی الاکید''میں کی ہے۔
 (۲؎ فتح القدیر    باب الامامۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۳۰۴)
جس مسلمان نے وہ کلمات سن کر اس کے پیچھے نماز سے احتراز کے لئے اپنے مکان کو مسجد کرکے اس میں جمعہ و جماعت شروع کردی اس کے لئے اﷲ عزوجل کے یہاں اجر عظیم ہے ان شاء اﷲ الکریم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter