اجمع العلماء ان شاتم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المنتقص لہ کافر والوعید جارعلیہ بعذاب اﷲ تعالٰی لہ وحکمہ عند الامۃ القتل ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔
یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الٰہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک وہ واجب القتل ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہوگیا۔
(۱؎ کتاب الشفاء القسم الرابع فی وجوہ الاحکام فی من تنقص الباب الاول مکتبہ شرکت صحافیہ ترکی ۲/ ۲۰۸)
نسیم الریاض جلد چہارم ص۳۸۱میں امام ابن حجرمکی سے ہے:
یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ کافر ، یہی مذہب ہمارے ائمہ وغیرہم کا ہے۔
(۲؎ نسیم الریاض شرح شفاقاضی عیاض القسم الرابع فی وجوہ الاحکام فی من تنقص الباب الاول دارالفکر بیروت ۴/ ۳۳۸)
وجیز امام کردری جلد۳ص۳۲۱: لوارتد والعیاذباﷲ تعالٰی تحرم امرأتہ ویجدد النکاح بعد اسلامہ، والمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولدزنا ثم ان اتی بکلمۃ الشہادۃ علی العادۃ لایجدیہ مالم یرجع عما قالہ لان باتیانھما علی العادۃ لایرتفع الکفر الااذاسب الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوواحدامن الانبیاء علیھم الصلٰوۃ و والسلام فلاتوبۃ لہ واذاشتمہ علیہ الصلٰوۃ والسلام سکران لایعفی واجمع العلماء ان شاتمہ کافر ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۱؎اھ ملتقطا کاکثرالاواتی للاختصار۔
یعنی جو شخص معاذا ﷲ مرتد ہوجائے اس کی عورت حرام ہوجاتی ہے، پھر اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے اس سے پہلے اس کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہوگا حرامی ہوگا اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے گا کچھ فائدہ نہ دے گا جب تک اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کاکفر نہیں جاتا جو رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے دنیا میں بعد توبہ بھی اسے قتل کی سزادی جائےگی یہاں تک کہ اگر نشہ کی بیہوشی میں کلمہ گستاخی بکاجب بھی معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور کافر بھی ایسا کہ جو ا س کے کافر ومستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی النوع الاول نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۲۲۔۲۲۱)
فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق جلد چہارم ص۴۰۷:
کل من ابغض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقلبہ کان مرتد افالساب بطریق اولٰی(ملخصاً)وان سب سکران لایعفی عنہ۲؎۔
یعنی جس کے دل میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کینہ ہو وہ مرتد ہے تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولٰی کافر ہے اور اگر نشہ بلااکراہ پیا اور اس حالت میں کلمہ گستاخی بکاجب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔
(۲؎ فتح القدیر باب احکام المرتدین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۳۲)
سب واحد من الانبیاء کذٰلک فلایفید الانکار مع البینۃ لانا نجعل انکار الردۃ توبۃ ان کانت مقبولۃ۳؎۔
یعنی کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے یہی حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں گے اور بعد ثبوت اس کا انکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا ارتداد سے مکرنا تو دفع سزاکے لئے وہاں توبہ قرار پاتا ہے جہاں تو بہ سنی جائے اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں اس سے یہاں اصلاً معافی نہ دینگے۔
اذاسبہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم او واحدامن الانبیاء صلوات اﷲ تعالٰی علیھم اجمعین مسلم فلاتوبۃ لہ اصلاواجمع العلماء ان شاتمہ کافر ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۱؎۔
یعنی اگر کوئی شخص مسلمان کہلا کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اسے ہر گز معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت مرحومہ کا اجماع ہے اس پر کہ وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
(۱؎ الدررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الجزیہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۰۔۲۹۹)
غنیۃ ذوالاحکام ص۳۰۱:
محل قبول توبۃ المرتد مالم تکن ردتہ بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان کان بہ لاتقبل توبتہ سواء جاء تائبا من نفسہ او شھد علیہ بذلک بخلاف غیرہ من المکفرات۲؎۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں ہر طرح کے مرتد کو بعد توبہ معافی دینے کا حکم ہے مگر اس کافر مرتد کے لئے اس کی اجازت نہیں۔
(۲؎ غنیـہ ذوی الاحکام فی دررالاحکام باب المرتد احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۱)
اشباہ والنظائر قلمی، باب الردۃ: لاتصح ردۃ السکران الاالردۃ بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ لایعفی عنہ کذافی البزازیۃ وحکم الردۃ بینونۃ امرأتہ مطلقا۳؎(ای سواء رجع اولم یرجع اھ غمز العیون۴؎) واذا مات علی ردتہ لم یدفن فی مقابرالمسلمین ولااھل ملۃ وانمایلقی فی حفرۃکالکلب ، والمرتد اقبح کفرامن الکافرالاصلی، واذا شھد واعلی مسلم بالردۃ وھو منکر لایتعرض لہ لالتکذیب الشھودالعدول بل لان انکارہ توبۃ ورجوع فتثبت الاحکام التی للمرتد لوتاب من حبط الاعمال وبینونۃ الزوجۃ وقولہ لایتعرض لہ انما ھوفی مرتد تقبل توبتہ فی الدنیالاالردۃ بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎اھ الاولٰی تنکیرالنبی کما عبربہ فیما سبق اھ۲؎ملخصاً غمزالعیون۔
یعنی نشہ کی بیہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے اسے بوجہ بیہوشی کافر نہ کہیں گے نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بیہوشی سے بھی صادرہوا تو اسے معافی نہ دینگے کذافی البزازیہ اور معاذاﷲ ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فوراًاس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اگر یہ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی اور جب وہ اسی ارتداد پر مرجائے والعیاذ باﷲ تعالٰی تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں نہ کسی ملت والے مثلاً یہودی یا نصرانی کے گور ستان میں دفن کیاجائے وہ تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیاجائے مرتد کا کفر اصلی کافر کے کفر سے بدتر ہے اور اگر کسی مسلمان پر گواہان عادل شہادت دیں کہ یہ فلاں قول یا فعل کے سبب مرتد ہوگیا اور وہ اس سے انکار کرتا ہو تواس سے تعرض نہ کریں گے نہ اس لئے کہ گواہانِ عادل کو جھوٹا ٹھہرایا بلکہ اس لئے کہ اس کا مکرنا اس کفر سے توبہ ورجوع سمجھیں گے ولہذا گواہان عادل کی گواہی اور اس کے انکار سے یہ نتیجہ پیدا ہوگا کہ وہ شخص مرتد ہوگیا تھا، اور اب توبہ کرلی تو مرتد تائب کے احکام اس پر جاری کرینگے کہ اس کے تمام اعمال حبط ہوگئے اور جورونکاح سے باہر، اور یہ قول کہ اس سے تعرض نہ کیا جائے اس مرتد سے متعلق ہے جس کی توبہ دنیا میں قبول ہے ، نہ وہ مرتد جو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرے کہ یہ وہ کفر ہے جس کی سزایہ ہے کہ دنیا میں بعد توبہ بھی معافی نہیں، یونہی کسی نبی کی شان میں گستاخی علیہم الصلوٰۃ والسلام، اولٰی یہ تھا کہ لفظ نبی کو نکرہ ذکر کرتے جیساکہ گزشتہ عبارت میں تعبیر کیا ہے اھ ملخصاً غمز العیون۔(ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر باب الردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۸۹تا۲۹۱)
(۴؎ غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۰)
(۱؎ غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۱و۲۹۳)
(۲؎غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۳)