| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
مسئلہ۵۲: ازجونپور ملاٹولہ مرسلہ مولوی عبداول صاحب ۶رمضان مبار ۱۳۳۵ھ یہ جواب صحیح ہے یا نہیں؟اگرصحیح ہوتو اور دلائل سے مبرہن و مزین فرماکر مہر ودستخط سے ممتاز فرمایاجائے۔
سوال: کیا فرماتے ہیںعلمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان ممتحن نے زیرنگرانی دو شخص مسلمان کے پرچہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کےلئے مرتب کیا جس میں سب سے بڑے سوال میں نصف نمبر رکھے تھے، حضرت رسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی اور توہین کے فقرات استعمال کئے تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہوکر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی معصوم و مقدس شان میں بدگوئی لکھیں جو برائے فتوٰی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں: ''ابن عبدا ﷲ نے اس قبیلہ میں تربیت پائی تھی جو عرب کی اصلی زبان بولنے کے لحاظ سے شریف ترین تھا اور اس کی فصاحت کی سنجیدگی باموقع سکوت پر عمل کرنے سے تصحیح اور ترقی ہوتی رہی باوجود اس فصاحت کے محمد ایک ناخواندہ وحشی تھا بچپن میں اسے نوشت وخواند کی تعلیم نہیں دی گئی تھی عام جہالت نے اسے شرم اور ملامت سے مبراکردیا تھا مگر اس کی زندگی ایک ہستی کے تنگ دائرہ میں محدود تھی اور وہ اس آئینہ سے(جس کے ذریعہ سے ہمارے دلوں پر عقلمندوں اور نامور بہادروں کے خیالات کا عکس پڑتا ہے) محروم رہاتاہم اس کی نظروں کے سامنے ان کتابوں کے اوراق کھلے ہوئے تھے جس میں قدرت اور انسان کا مشاہدہ کرتا کچھ تمدنی اور فلسفی تو ہمات جو اسے عرب کے مسافر پر محمول کئے جاتے ہیں پیدا ہوگئے تھے''۔ جس شخص نے پرچہ مرتب کیا اور جن لوگوں ن اس کی نظر ثانی کی وہ لوگ بوجہ استعمال الفاظ ناشائستہ جو بلاضرورت شان حضرت جناب رسالتمآب میں کئے گئے وہ بوجہ اس گستاخی کے دائرہ ئاسلام سے خارج ہوگئے یانہیں اور ان کی کیا سزا ہے اور ان کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے فقط راقم مسلمانان جون پور خلاصہ جوابات جون پور الجواب:شخص مذکور فی السوال شرعاً ملعون و کافر ومرتد ہے،
فی الاشبار والنظائر کل کافر تاب فتوبتہ مقبولۃ فی الدنیا والایخرۃ الاجماعۃ الکافر یسب النبی صلی اﷲ علیہ وسلم او یسب الشیخین اواحدھما۱؎۔
اشباہ ونظائر میں ہے کہ ہر کافر توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے، مگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام اور شیخین ابوبکر وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یا ان میں سے ایک کو گالی دی ہو۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۹)
اس روایت س معلوم ہوا کہ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں، شفاء ص۳۹۳میں ہے کہ رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم کا بر اکہنے والا کافر ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے۲؎۔
منجملہ علماء کے امام مالک ارو امام لیث بن سعد مصری اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل و امام ابویوسف و امام محمد وزفر وسفیان ثوری واہل کوفہ وامام اوزاعی اور علمائے اسلام کہ ومدینہ وبغداد و مصر ہیں اور اس میں سے کسی نے بھی شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے میں خلاف نہیں کیا،واﷲ اعلم
کتبہ الفقیر الی اﷲ عزّوجل عبدالاوّل الحنفی الجونپوری ۱۳شعبان ۱۳۳۵ھ
14_5.jpg
ساب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا کافر ہے، بغیر تجدید ایمان کے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، صحیح یہ ہے کہ تجدید ایمان کے بعد سزائے قتل نہ ہوگی جیسا کہ تنقیح حامدیہ میں ہے، ہاں اگر وہ مرتد توبہ نصوح کرے اور پھر اس سے ایمان لائے اور اپنا اسلام اور حال ٹھیک رکھے تو اس کی توبہ قبول ہونے پر بھی صاف نہ چھوڑا جائے گا بلکہ تعزیر وحبس کا مستحق ہوگا۔ جیسا کہ تنقیح میں ہے:
ویکتفی بالتعزیر والحبس تأدیبا۳؎۔
ادب کے پیش نظر صرف تعزیر اور قید کی سزا پر اکتفاء کیا جائیگا۔(ت)
(۳؎ العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ احکام المرتدین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۷)
رقمہ راجی رحمۃ رب العباد محمد حماد نجل الشیخ عبد الاول الجونفوری
دین سے خارج و مرتد ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز مجدد خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ ساب رسول کو سزائے قتل دی جائے مگر جب کہ تجدید ایمان و حسن اسلام لائے۔
حررہ عبدالباطن بن مولانا الشیخ عبدالاول الجونفوری
الجواب رب اعوذبک من ھمزات الشیطین اعوذبک رب ان یحضرون۴؎o
اے مریے رب تیری پناہ شیطان کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
(۴؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۹۷)
والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب الیمo۱؎ان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدّلھم عذابا مھینا۲؎oالالعنۃ اﷲ علی الظٰلمینo۳؎
اور جو رسول اﷲ کو ایذادیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ بیشک جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم۹/ ۶۱) (۲؎ القرآن الکریم ۳۲/ ۵۷) (۳؎ القرآن الکریم ۱۱ /۱۸)
ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پرچہ مرتب کیا وہ کافر مرتد ہے، جس جس نے اس پر نظر ثانی کرکے بر قرار رکھا وہ کافر مرتد، جس جس کی نگرانی میں تیار ہوا وہ کافر مرتد ، طلبہ میں جو کلمہ گو تھے اور انہوں نے بجوشی اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے یا اسے ہلکا جانا یا اسے اپنے نمبر گھٹنے یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا وہ سب بھی کافر مرتد، بالغ ہوں خواہ نابالغ، ان چاروں فریق میں ہر شخص سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، میل جول حرام نشست وبرخاست حرام، بیمارپڑے تو اس کی عیادت کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام، اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام اس کی جنازہ اٹھانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، مسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنانا حرام، اسے مٹی دینا حرام، اس پر فاتحہ حرام، اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام، بلکہ خود کفر قاطع اسلام، جب ان میں کوئی مرجائے اس کے اعزہ اقربا مسلمین اگر حکم شرع نہ مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لئے مردار کتے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اٹھواکر کسی تنگ گڑھے میں ڈلواکر اوپر سے آگ پتھر جو چاہیں پھینک پھینک کر پاٹ دیں کہ اسکی بدبو سے ایذا نہ ہو، یہ احکام ان سب کے لئے عام ہیں اور جوجوان میں نکاح کئے ہوئے ہوں ان سب کی جوروئیں ان کے نکاحوں سے نکل گئیں اب اگر قربت ہوگی حرام حرام حرام وزنائے خالص ہوگی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی ولدالزنا ہوگی ، عورتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عدت گزرجانے پر جس سے چاہیں نکاح کرلیں ان میں سے جسے ہدایت ہو اور توبہ کرے اور اپنے کفر کا اقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے منتہی ہوں گے، اور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی جب بھی باقی رہے گی یہاں تک کہ اس کے حال سے صدق ندامت وخلوص توبہ وصحت اسلام ظاہر وروشن ہو مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس نہیں آسکتیں انہیں اب بھی اختیار ہوگا کہ چاہیں دوسرے سے نکاح کرلیں یا کسی سے نہ کریں ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا ہاں ان کی مرضی ہوتو بعداسلام ان سے بھی نکاح کرسکیں گی۔