(۱۰) نمبر ۶ میں ان کا منکر قیاس ہونا گزرا اور یہ اظہر من الشمس ہے، ولہذا فقہ کے منکر ہیں، علمائے کرام فرماتے ہیں قیاس و فقہ کی حجیت بھی ضروریات دین سے ہے تو اس کا انکار ضرور کفر ہونا لازم ،
کشف البزدوی جلد ۳ص۲۸۰:
قدثبت بالتواتران الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم عملوا بالقیاس وشاع وذاع ذلک فیما بینھم من غیر ردوانکار۱؎۔
یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم قیاس پر عمل پیرا تھے اور عمل ان کے درمیان بغیر کسی ردو انکار جاری و مشہور تھا۔(ت)
(۱؎کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۰)
جس حکم کے بارے میں نص نہ ہوتی صحابہ کا اس پر اجماع ہوجاتا اورا ن کا اجماع ہی کافی ہے(ت)
(۲؎کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱)
ایضاص۲۸۱امام حجۃ الاسلام غزالی سے:
قد ثبت بالقواطع من جمیع الصحابۃ الاجتہاد والقول بالرائ والسکوت عن القائلین بہ وثبت ذلک بالتواتر فی وقائع مشہورۃ ولم ینکرھا احد من الامۃ فاورث ذٰلک علما ضروریا فکیف یترک المعلوم ضرورۃ۳؎۔
دلائل قطعیہ کے ساتھ ثابت ہے کہ تمام صحابہ اجتہاد اور رائے پر عمل کرتے اور دیگر صحابہ خاموش رہتے اور یہ بات بڑے بڑے مشہور مواقع کے بارے میں تواتر کے ساتھ منقول ہے اور امت میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا تو اس سے علم ضروری کا ثبوت ہوجائیگا جو ضروری طور پر معلوم ہواسے کیسے ترک کیا جاسکتا۔(ت)
(۳؎کشف الاسرار عن اصول بزدوی باب القیاس دارالکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱)
فواتح الرحموت ص۷۲:
الفقۃ عبارۃ عن العلم بوجوب العمل وھو قطعی لاریب فیہ ثابت بالاجماع القاطع بل ضروری فی الدین۴؎۔
فقہ علم بوجوب عمل کا نام ہے اور یہ ایسی قطعی چیز ہے جس میں کوئی شک نہیں یہ اجماع قطعی سے ثابت بلکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے۔(ت)
(۴؎فتواتح الرحموت بذیل المستصفٰی باب المقدمہ فی اصول الفقہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۲)
فواتح الرحموت میں ہے:
عن ابیہ ملک العلماء عن المدقق صاحب المسلم القیاس علی تقدیر کونہ فعلا من الفقہ اما ان کان عبارۃ عن المساواۃ المعتبرۃ شرعا فحجیتہ ضروریۃ دینیۃ کما سیصرح فی السنۃ ان حجیتھا ضروریۃ دینیہ۱؎۔
اپنے والد گرامی ملک العلماء سے انہوں نے مدقق صاحب المسلم سے نقل کیا کہ قیاس اس تقدیر پر کہ وہ فقہی فعل ہے تو یا وہ شرعاًمساوات معتبرہ سے عبارت ہوگا تو اس کا حجت ہونا ضرورت دینی ہے جیسا کہ سنت کے بارے میں عنقریب تصریح آرہی ہے کہ اس کا حجت ہونا ضروریات دین میں سے ہے(ت)
(۱؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی قانون ثالث منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۱۶)
بالجملہ حکم فقہ بلکہ بحکم حدیث بھی طائفہ غیر مقلدین پر بوجوہِ کثیرہ حکمِ کفر ہے،جسے زیادہ تفصیل پر اطلاع منظور ہوہمارے رسائل مذکورہ کی طرف رجوع کرے واﷲ الہادی۔
جواب سوال دوم: بلاشبہہ رافضی تبرائی بحکم فقہائے کرام مطلقاً کافر مرتد ہے، اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل کو ہمارا رسالہ "ردالرفضۃ" بحمد اﷲ کافی ووافی، یہاں دو چار سندوں پر اقتصار،
درمختار مطبع ہاشمی ص۳۱۹:
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی اوالشیخین اواحدھما۲؎۔
ہر وہ مسلمان جو مرتد ہوگیا اس کی توبہ قبول ہے مگر وہ کافر جس نے کسی نبی یا ابوبکر وعمر یا ان میں سے کسی ایک کوگالی دی(ت)
(۲؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷۔۳۵۶)
درمختار میں ہے:
من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولاتقبل توبتہ۳؎۔
جس نے حضرت ابوبکر وعمر (رضی اﷲعنہما)کو گالی دی یا ان پر طعن تو وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی(ت)
(۳؎درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۷)
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص۱۳۵:
فی الروافض من فضل علیا علی الثلٰثۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم فمبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق اوعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما فھو کافر۱؎۔
رافضیوں میں سے جس نے حضرت علی کو باقی تین صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم پر فضیلت دی وہ بدعتی ہے اور اگر کسی نے خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا انکار کیا تو وہ کافر ہے(ت)
(۱؎فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴)
فتاوٰی عالمگیری مطبوعہ مصر جلد اول ص۸۴:
تجوزالصلٰوۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولاتجوزخلف الرافضی وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوزالصلٰوۃ خلفہ مع الکراھۃ والافلاھکذافی التبیین والخلاصۃ وھوالصحیح ھکذا فی البدائع۲؎۔
صاحب ہوٰی و بدعت کی اقتداء میں نماز جائز مگر رافضی کے پیچھے جائز نہیں ، حاصل یہ ہے کہ اگروہ ایسی بدعت ہے جس سے صاحب بدعت کافر نہیں ہوتا تو اس کے پیچھے کراہت کے ساتھ نماز جائز ہوگی اور اگر وہ بدعت کفر ہے تو نماز جائز ہی نہ ہوگی، تبیین اورخلاصہ میں اسی طرح ہے اور یہی صحیح ہے، بدائع میں بھی اسی طرح ہے(ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماماًلغیرہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۸۴)
فتاوٰی خلاصہ مطبوعہ لاہور جلد اول ص۱۰۷:
فی الروافض ان فضل علیا علی غیرہ فھو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فھو کافر۳؎۔
رافضیوں میں سے اگر کوئی حضرت علی کو دوسرے پر فضیلت دیتاہے تو وہ بدعتی ہے اور اگر وہ خلافت صدیقی کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہوگا۔(ت)
اعلم اسعدک تعالٰی ان ھٰؤلاء الکفرۃ جمعوابین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرھم والحادھم فھو کافر مثلھم۴؎۔
اے مخاطب (اﷲتعالٰی تجھے نیک بخت بنائے) یہ کافر ہیں کہ انہوں نے اپنے اندر کفر کی مختلف صورتیں جمع کررکھی ہیں جس نے ان کے کفرو الحاد میں توقف کیا وہ بھی انہی کی طرح کافر ہے۔(ت)
(۴؎ العقود الدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیۃ باب حکم الروافض او سب الشیخین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۴۔۱۰۳)
ایضاصفحہ نمبر۹۲:
اماالکفر فمن وجوہ منھا انھم یستخفون بالدین ومنھا انھم یھینون العلم والعلماء۱؎۔
کئی وجوہ سے کفر ہے ایک یہ کہ یہ لوگ دین کی تحقیرکرتے ہیں دوسرایہ کہ یہ علم اور علماء کی توہین وتذلیل کاارتکاب کرتے ہیں(ت)
اماسب الشخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما فانہ کسب النبی صلی اﷲ تعالٰ علیہ وسلم وقال الصدر الشھید من سب الشیخین اولعنھما یکفر ولاتقبل توبتہ واسلامہ۴؎۔
شیخین کو گالیاں دینا ایسے ہی ہے جیسے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو گالیاں دینا ہے۔ صدر الشہید نے فرمایا: جس نے حضرات شیخین کو گالی دی یا ان پر لعنت کی وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی توبہ اور اسلام قبول نہیں کیا جائے گا(ت)