Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
52 - 150
توضیح طبع قسطنطنیہ جلد دوم ص۵۰۶ میں ہے:
صاحب البدعۃ یدعوالناس الیھا لیس ھو من الامۃ علی الاطلاق۱؎۔
اہلسنت کے مخالف عقید ے والا جو لوگوں کو اپنے عقیدے کی دعوت دے وہ علی الاطلاق امتی نہیں ہے(ت)
 (۱؎توضیح علی التنقیح معہ التلویح     باب الاہلیۃ     المطبعۃ الخیریہ مصر     ۲/ ۲۳۷)
تلویح علامہ تفتازانی ص۵۰۶ ومرقاۃشرح مشکوٰۃ جلد پنجم ۶۵۴میں ہے:
لان المبتدع وان کان من اھل القبلۃ فھو من امۃ الدعوۃ دون المتابعۃ کالکفار۲؎۔
کیونکہ اعتقاد میں بدعتی اگرچہ اہل قبلہ سے ہے لیکن امت اجابت میں نہیں بلکہ وہ مثل کفار  امت دعوت میں سے ہے۔(ت)
(۲؎ توضیح علی التنقیح معہ التلویح     باب الاہلیۃ     المطبعۃ الخیریہ مصر     ۲/ ۲۳۷)
اور اجماع امت بلاشبہ حجت ہے تو حضرات ائمہ اربعہ خصوصاً امام الائمہ سراج الامۃ سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے امامِ امت واجلہ اولیائے حضرت عزت سے ہونے کا اب انکار نہ کریگا مگر گمراہ بددین یا ملحد بے دین مرتد بالیقین اور بحکم فقہ اس پر لزومِ کفر، ظاہر و مبین۔ مجمع الانہر طبع مصر جلد اول ص۶۳۳ومنح الروض۲۱۲ میں ہے:
من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر۳؎۔
جو شخص تحقیر کے ارادے سے عالم کو عویلم اور علوی کو علیوی کہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔(ت)
 (۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب المرتد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۹۵)

(منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر    فصل فی العلم والعلماء     مصطفی البابی مصر    ص۱۷۴)
جب ایک عالم کو بنظر تحقیر مولویا کہنے کو کفر فرماتے ہیں تو عالم العلماء امام الائمہ کی نسبت ایسے ہفوات ملعونہ کس درجہ خبیث تر ہیں، اکابر اولیائے فرماتے ہیں کہ ائمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مقام باقی اولیاء کرام کے مقام سے بالیقین بلند وبالا ہے۔ امام اجل عارف باﷲ سید ی عبدالوہاب شعرانی قدس شرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی جلد اول ص۱۷۲:
سمعت سیدی علیاالمرصفی رحمہ اﷲتعالٰی یقول اعتقادناان اکابر الصحابۃ والتابعین والائمۃ المجتہدین کان مقامھم اکبر من مقام باقی الاولیاء بیقین۴؎۔
میں نے سیدی علی المرصفی رحمہ اﷲ تعالٰی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ بیقین ہمارا اعتقاد ہے کہ اکابر صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کا مقام باقی اولیاء کرام سے بڑا تھا۔(ت)
 (۴؎ میزان الشریعۃ الکبری         باب صفۃ الصلوٰۃ     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۵۷)
تو بالیقین امام الائمہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم اعاظم سردارانِ اولیاء اللہ عزوجل سے ہیں، 

اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
من عادٰی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب۱؎۔رواہ البخاری فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل۔
جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے میں نے اعلان فرمادیا اس سے لڑائی کا ۔(اسے بخاری نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے آپ نے اﷲعزوجل سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الرقاق     باب التواضع        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۶۳)
ڈاکوؤں کی بابت فرمایا:
انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ الایۃ ۲؂
یہ جو اللہ ورسول سے لڑتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی دئے جائیں ،الی آخرالایۃ ۔
 (۲؎ القرآن الکریم    ۵/ ۳۳)
سود کے بارے میں فرمایا :
فان لم تفعلوافاذنوابحرب من اﷲ ورسولہ۳؎۔
اگر سود نہ چھوڑو تو اعلان کرو اﷲ ورسول سے لڑائی کا۔
 (۳؎القرآن الکریم     ۲/ ۲۷۹)
لیکن یہاں فرمایا جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے خود میں نے اس سے لڑائی کا اعلان فرمادیا، خود ابتداء فرمانا دلیل واضح ہے کہ عداوت باعثِ ایذائے رب عزوجل ہے۔ 

اور رب عزوجل فرماتا ہے:
ان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدلھم عذابا مھینا۴؎۔
بیشک وہ جو اﷲ ورسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر اﷲ نے لعنت فرمائی دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔
 (۴؎القرآن الکریم    ۳۳/ ۵۷)
ظاہر ہے کہ مسلمان اگرچہ عاصی اگرچہ معاذاﷲ معذب ہو آخرت میں اپنے رب کا ملعون نہیں ورنہ بالآخررحمت ونعمت وجنت ابدی نہ پاتا اس کی نارنارِ تطہیر ہے، نہ نارِ لعنت وابعاد تذلیل وتحقیر ، تو جسے اﷲ عزوجل دنیا وآخرت میں ملعون کرے وہ نہ ہوگا مگر کافر۔ اور یہ وہاں  ہے کہ بعد وضوح  حق براہ عناد ہو جس طرح اب وہابیہ ماردین اعدائے دین کا حال ہے
قاتلھم اﷲ انی یؤفکون۱؎
 (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)
 (۱؎القرآن الکریم۹/ ۳۰)
ان کے وصف کو ایک حدیث بس ہے کہ دار قطنی و ابوحاتم خزاعی نے ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اھل البدع کلاب اھل النار۲؎۔
گمراہ لوگ دوزخیوں کے کتے ہیں۔
 (۲؎ کنز العمال     حدیث ۱۱۲۵        موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱/ ۲۲۳)
کتا اور وہ بھی بدترین خلائق دوزخیوں کا جن کے متعلق فرمایا،
اولٰئک ھم شرالبریۃ۳؎
وہ تمام مخلوق الٰہی سے بدتر ہیں،
(۳؎ القرآن الکریم ۹۹/ ۶)
کتے سے بدتر، سورسے بد تر ،سور کے لئے اگر کوئی کتا فرض کیا جائے تو ایسے لوگ سور سے بدتروں کے کتے ہیں،
الالعنۃ اﷲ علی الظالمین۴؎۔
 (۴؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۸)
 (۶) بلاشبہہ طائفہ غیر مقلدین اجماع امت کو اصلاحجت نہیں مانتے بلکہ محض مہمل و نامعتبر جانتے ہیں، صدیق حسن بھوپالی کا مصرع ہے:
قیاس فاسد واجماع بے اثر آمد
 (قیاس فاسد ہے اور اجماع کو ئی اثر نہیں رکھتا۔ت)
اور ائمہ کرام وعلمائے اعلام حجیت اجماع کو ضروریاتِ دین سے بتاتے اور مخالف اجماع قطعی کو کفر ٹھہراتے ہیں،
مواقف عضدالدین وشرح مواقف علامہ سید شریف مطبوعہ استنبول جلد اول ص۱۵۹:
کون الاجماع حجۃ قطعیۃ معلوم بالضرورۃ من الدین۵؎۔
اجماع کا قطعی حجت ہونا ضروریات دین سے ہے۔(ت)
 (۵؎ شرح المواقف    باب المقصد السادس     منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۲۵۵)
مسلم الثبوت وفواتح الرحموت جلد دوم ص۴۹۴:
الاجماع حجۃ قطعا ویفید العلم الجازم عند جمیع اھل القبلۃ، ولایعتد بشرذمۃمن الحمقاء الخوارج والروافض لانھم حادثون بعد الاتفاق یتشککون فی ضروریات الدین۱؎۔
اجماع قطعی حجت ہے اور یہ تمام اہل قبلہ کے ہاں یقینی علم کا فائدہ دیتا ہے اور خارجی اور رافضی احمقوں کے گروہ کا اعتبار نہیں کیونکہ یہ نئے فرقے ہیں جو ضروریات دین میں تشکیک پیدا کرتے (ت)
 (۱؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی     باب الاجماع حجۃ قطعاً    منشورات الشریف الرضی قم ایران     ۲/ ۲۱۳)
اصول امام اجل فخر الاسلام بزدوی باب حکم الاجماع:
فصار الاجماع کآیۃ من الکتاب اوحدیث متواتر فی وجوب العمل والعلم بہ فیکفر جاحدہ فی الاصل۲؎۔
تواجماع کتاب اﷲیا حدیث متواتر کی طرح وجوب علم وعمل ثابت کرتا ہے لہذا قاعدہ کی رو سے اس کا منکر کافر قرار دیا جائے گا۔(ت)
(۲؎ اصول البزدوی         باب حکم الاجماع     قدیمی کتب خانہ کراچی    ص۲۴۵)
کشف الاسرار امام عبدالعزیز بخاری مطبوعہ قسطنطنیہ جلد چہارم ص۲۶۱:
یحکم بکفر من انکر اصل الاجماع بان قال لیس الاجماع بحجۃ۳؎۔
جو اجماع کے اصول میں ہونے سے انکار کرے اور کہے کہ اجماع حجت نہیں ہے اس کی تکفیر کی جائے گی(ت)
 (۳؎کشف الاسرار عن اصول البزدوی     باب حکم الاجماع الخ    دارالفکر بیروت    ۳/ ۲۶۱)
مسایرہ امام محقق ابن الہمام مطبوعہ مصر خاتمہ ص۹:
وبالجملۃ فقد ضم الی التصدیق بالقلب فی تحقق الایمان امور الاخلال بالایمان اتفاقا کترک السجود للصنم وقتل نبی والاستخفاف بہ ومخالف مااجمع علیہ وانکارہ بعد العلم بہ۴؎(ملتقطا)
حاصل یہ کہ ایمان کے لئے تصدیق بالقلب کے ساتھ کچھ امور ایسے ہیں جو بالاتفاق ایمان میں خلل انداز ہوتے ہیں جن کا ترک ضروری ہے، مثلاً بت کو سجدہ ، نبی کاقتل اور اس کی توہین اور اجماع کی مخالفت اور اجماع کے علم پر اس کا انکار۔(ملتقطاً)
 (۴؎ المسایرہ معہ المسامرہ الخاتمۃ فی بحث الایمان   المکتبۃ التجاریۃ الکبری مصر    ۳۳۷)
الفصول البدائع فی اصول الشرائع علامہ شمس فتاوٰی مطبوعہ استنبول جلد دوم ص۲۷۴:
یکفر جاحد حجیۃ الاجماع مطلقا وھوالمذھب عندمشائخنا۵؎۔
اجماع کی حجیت کا مطلقاً انکار کرنے والا کافر قرار پائیگا ہمارے مشائخ کا یہی مذہب ہے(ت)
 (۵؎ فصول البدائع فی اصول الشرائع)
تلویح جلد دوم ص۵۱۵:
الاجماع علی مراتب فالاولی بمنزلۃ الآیۃ والخبر المتواتر یکفر جاحدہ۱؎۔
اجماع کے مراتب ہیں ، پہلا مرتبہ بمنزلہ آیت کریمہ اور خبر متواتر ہے جس کا منکر کافر ہوگا(ت)
 (۱؎ تلویح علی التوضیح     الامر الرابع فی حکم الاجماع     المطبعۃ الخیریہ مصر    ۲/ ۳۴۷)
کشف الاسرار شرح المنار للامام النسفی مطبوعہ مصر جلد دوم ص۱۱۱:
یکفر جاحدہ کما یکفر جاحد ماثبت بالکتاب اوالمتواتر۲؎۔
اجماع کا منکر کافر ہے جس طرح کتاب اﷲ یا خبر متواتر سے ثابت شدہ کا منکر کافر ہے(ت)
 (۲؎ کشف الاسرار شرح منار الانوار فی اصول الفقہ )
مرآۃ الاصول علامہ مولٰی خسرومطبوعہ مصر جلد دوم ص۲۷۱ :
یکفر منکر حجیۃ الاجماع مطلقا ھو المختار عند مشائخنا۔۳؎
مطلقاً اجماع کی حجیت کا منکر کافر ہے ہمارے مشائخ، کے ہاں یہی مختار ہے(ت)
 (۳؎ مرآۃ الاصول شرح مرقاہ الوصول فی علم الاصول مولٰی خسرو)
 (۷) جماعت اسلام سے ان کی مفارقت اسی معنٰی پر ہے جو نزد فقہائے کرام ان کو خارج از اسلام کرتی ہے
کمایظھر بمامرویأتی بالتفاصیل المودعۃ فی رسائلنا المذکورۃ
 (جیسا کہ گزشتہ اور آنیوالے بیان اور ان تفاصیل سے ظاہر ہوجائیگا جو ہمارے رسائل میں شامل ہیں۔ت)تو بلاشبہہ بحکم فقہ یہ طائفہ حدیث مذکور کے حکم ظاہر میں داخل اور اسلام سے خارج۔
رجوع العامی الی قول المفتی وجب بالنص والاجماع۴؎(ملخصاً)
عوام کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا نص اور اجماع کی بناء پرلازم ہے(ت)
 (۴؎ کشف الاسرار عن اصول البزدوی     قبیل باب حکم العلۃ    دارالکتاب العربی بیروت    ۳/ ۳۸۸)
فصول البدائع جلد دوم ص۴۳۳:
للعامی تقلید المجتہد فی فروع الشریعۃ خلافا لمعتزلۃ بغداد، لنا ان علماء الامصار لاینکرون علی العوام الاقتصار علی اقاویلھم فحصل الاجماع قبل حدوث المخالف۱؎۔
عوام کے لئے فروع شریعت میں تقلید مجتہد لازم ہے، اس میں معتزلہ بغداد کا اختلاف ہے، ہماری دلیل یہ ہے کہ تمام علاقوں کے علماء نے عوام کو اپنے اقوال پر عمل سے نہیں روکا تو مخالف قول سے پہلے پہلے اس پر اجماع ہوچکا ہے(ت)
 (۱؎ فصول البدائع فی اصول الشرائع)
فواتح الرحموت جلد اول ص۷:
المقلد یعلم وجوب العمل بقول المجتھد ضرورۃ من الدین اوبالتقلید المحض۲؎اھ اقول الاول فیمن کان مخالطاللمسلمین والثانی فیمن لم یخالطھم بعد۔
مقلد مجتہد کے قول پر عمل کا وجوب ضروریاتِ دین یا تقلید محض کے طور پر جانتاہے اھ اقول پہلی صورت وہاں ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ اختلاط ہو دوسری صورت وہاں جہاں ابھی مسلمانوں کے ساتھ اختلاط نہ ہواہو۔(ت)
(۲؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی المقدمہ فی اصول الفقہ  منشورات الشریف الرضی قم ایران   ۱/ ۱۲)
 (۹) بلاشبہہ گیارہ سوبرس سے عامہ امتِ محمدیہ علٰی صاحبہا وعلیہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ مقلدین ہیں مقلدوں کو مشرک کہنا عامہ امت مرحومہ کی تکفیر ہے اور بلاریب بحکم ظواہراحادیث وفتوٰی ائمہ فقہ کفر ہے۔ عالمگیری جلد دوم ص ۳۷۸، برجندی شرح نقایہ جلد چہارم ص۶۸ ، حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ جلد اول ص۱۴۰ وص۱۵۶، جامع الفصولین جلد دوم ص۳۱۱، بزازیہ جلد سوم ص ۳۳۱، ردالمحتار جلد سوم ص ۲۸۳، درمختار ص۳۹۳، جامع الرموز مطبوعہ کلکتہ جلد چہارم ص۶۵۱، مجمع الانہر مطبوعہ قسطنطنیہ جلد اول ص۵۶۶، خزانۃ المفتین قلمی، کتاب السیر آخر فصل الفاظ الکفر، نیزا ن کتب میں ذخیرۃ الفتاوٰی وفصول عمادی واحکام علی الدرروقاضیخاں و نہرالفائق وشر ح وہبانیہ وغیرہا سے:
المختار للفتوی فی جنس ھٰذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان ارادالشتم ولایعتقدہ کافرا لایکفر وان کان یعتقدہ کافرا فخاطبہ بھذابناء علی اعتقادہ انہ کافر یکفر۳؎۔
ایسے مسائل میں فتوٰی کے لئے مختار یہ ہے کہ اگر ایسے کلمات سے مراد سبّ وشتم ہواور کفر کا اعتقاد نہ ہو تو کافر نہیں ہوگا اور اگر مقلد کو کافر سمجھتا ہے اور اسے اپنے اس اعتقاد کے مطابق مخاطب کرتا ہے تو اب کافر ہوجائے گا۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     الباب التاسع فی احکام المرتدین     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۲۷۸)
Flag Counter