Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
51 - 150
امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام طبع مصرص۱۵ بعد نقل کلام امام حجۃ الاسلام غزالی:
ھکذا کما تری ظاھر تکفیر القائلین بالجھۃ۴؎۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں جو لوگ جہت کے قائل ہیں ان کا کافر ہونا واضح ہے(ت)
 (۴؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ     مقدمہ کتاب     مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی    ص۳۵۱)
اسی میں ان کلمات میں جو ہمارے ائمہ کے نزدیک بالاتفاق کفرہیں ص۳۲پر ہے:
اوقال اﷲ تعالٰی فی السماء عالم او علی العرش وعنی بہ المکان او لیس لہ نیۃ او قال ینظر الیناویبصرنا من العرش، او قال ھو فی السماء او علی الارض، او قال لایخلومنہ مکان او قال اﷲ تعالٰی فوق وانت تحتہ اھ(ونازعہ ابن حجرفی قولہ لیس لہ نیۃ فقال فی الکفر نظر فضلا عن کونہ متفقا علیہ لان النیۃ القصد، وقد ذکر النووی عفااﷲ تعالٰی عنہ فی شرح المھذب انہ یقال قصداﷲ کذابمعنی اراد فمن قال لیس لہ نیۃ ای قصد فان ارادانہ لیس قصد کقصد نافواضح، وکذا ان اطلق اوارادانہ لاارادۃ لہ اصلا فان ارادالمعنی الذی تقولہ المعتزلۃ فلاکفر ایضا، اوارادسلبھا مطلقا لابالمعنی الذی یقولونہ فھو کفر۱؎اھ اقول رحم اﷲ الشیخ لیس لہ نیۃ لیس من الفاظ الکفر بل ھو عطف علی قولہ عنی بہ المکان ای یکفران اراد المکان، اواطلق ولم ینوشیئا قال فی البحرالرائق ان قال اﷲ فی السماء فان قصد حکایۃ ماجاء فی ظاھر الاخبار لایکفروان اراد المکان کفر وان لم یکن لہ نیۃ کفر عند الاکثر وھوالاصح وعلیہ الفتوی۲؎اھ۔
یا کہتا ہے کہ وہ آسمان میں عالم ہے یا عرش پر، اور اس سے مراد مکان لیتا ہے یا اسکی کوئی نیت نہیں یا کہتا ہے کہ اﷲ تعالٰی ہم کوعرش سے دیکھتا ہے، یا کہتا ہے وہ آسمان میں ہے یا زمین پر، یا کہتا ہے اس سے کوئی مکان خالی نہیں، یا کہتا ہے اﷲ تعالٰی اوپر ہے اورتو نیچے اھ ابن حجر نے ''لیس لہ نیۃ''کی صورت میں اختلاف کیا اور کہا کہ اس صورت میں کفر میں اختلاف ہے چہ جائیکہ کفر بالاتفاق ہو کیونکہ نیت قصد کا نام ہے۔ امام نووی نے شرح المہذب میں کہا کہ جو کہا جاتا ہے قصد اﷲ کذا یعنی اﷲتعالٰی نے ارادہ فرمایا کے معنٰی میں ہوتا ہے اور جس نے کہا''اﷲ کے لئے نیت نہیں'' یعنی قصد نہیں، اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اسی طرح اگریہ کلمہ مطلقا ذکر کیا یا یہ مراد لیا کہ اﷲتعالٰی کے لئے کوئی ارادہ نہیں ، اب اگر وہ معنٰی مراد لیا جو معتزلہ کہتے ہیں تو وہ بھی کفر نہیں یا مراد یہ ہے کہ مطلقاً ارادہ کی نفی ہے نہ کہ وہ معنٰی جو معتزلہ کا قول،تو پھر کفر ہے اھ اقول اﷲ تعالٰی شیخ پر رحم فرمائے ''اس کی نیت نہیں''یہ الفاظ کفر میں سے نہیں بلکہ اس کا عطف''اس نے مکان مراد لیا'' پر ہے یعنی وہ کافر ہوجائے گا جب اس نے مکان مراد لیا یا اس نے کلمہ بولا اور اس سے کوئی ارادہ نہ کیا، بحرالرائق میں ہے کہ اگرکسی نے کہا''اﷲ آسمان میں ہے''اگر تو اس نے وہ مراد لیا جو ظاہراً اخبار میں ہے تو پھر کافر نہیں، اور اگر اس نے مکان مراد لیا تو کفر ہوگا اور اگر اس نے کوئی ارادہ نہ کیا تو اکثر کے نزدیک وہ کافر ہے اور یہی اصح ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)
 (۱؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ     فصل اول    مکتبۃالحقیقیہ استنبول ترکی     ص۳۶۷)

(۲؎ بحرالرائق     باب احکام المرتدین     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۵/ ۱۲۰)
نیز اسی کے فصل کفر متفق علیہ میں ہے ص۳۹:
اوشبھہ تعالٰی بشیئ اووصفہ بالمکان او الجہات۱؎۔
یا اس نے اﷲ تعالٰی کو کسی شیئ کے ساتھ مشابہت دی یا مکان یا جہت کے ساتھ اس کا وصف بیان کیا۔(ت)
 (۱؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ    فصل اول     مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۴)
 (۳) فقہ حنفی کو مطلقاً باطل و ناحق جاننا تو سخت خبیث وملعون ہے کہ وہ احکام قرآن عظیم واحکام صحاح احادیث پر مشتمل سب سے سہل تراحکام قیاس ہیں، اس کی نسبت فتاوی تاتاخانیہ پھر فتاوٰی عالمگیریہ جلد دوم صفحہ۲۷۱میں ہے:
رجل قال قیاس ابی حنیفۃ حق نیست یکفر۲؎۔
جس نے یہ کہا کہ ''قیاس ابوحنیفہ درست نہیں''اس نے کفر کیا(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب التاسع احکام المرتدین     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۲۷۱)
ہم نے خاص اس قول کی شرح بعونہ تعالٰی ایک نفیس رسالہ لکھا اور اس میں اسے مشرح و مفصل ومبرہن ومدلل کیا وﷲ الحمد۔

(۴) یہیں سے تو ہین فقہ مبارک کا حکم ظاہر کہ  صرف باطل کہنے سے وہ ملعون الفاظ بدرجہا بدتر، زید وعمرومختلف ہوں کہ بکر اس وقت قائم ہے یا قاعد، دونوں میں ایک ضرور باطل ہے مگر ان میں کوئی موجب دخول دوزخ نہیں،
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۳؎
 (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)
 (۳؎ القرآن الکریم۲۶/ ۲۲۷)
منح الروض ص۲۱۲
کفر باستخفاف الفقہ۴؎
 (فقہ کی کتاب کی تحقیر سے کافر ہوگا۔ت)
 (۴؎ منح الروض الازھر شرح فقہ اکبر    فصل فی العلم والعلماء     مصطفی البابی مصر    ص۱۷۴)
 (۴) بعد وضوحِ صواب وکشف حجاب بحمد الوہاب امامت وولایت وجلالت شان ورفعت مکان حضرات عالیہ ائمہ اربعہ علیہم الرضوان پر امت اجابت کا اجماع منعقد ہولیا خبثائے مبتدعین مثل وہابیہ ورافضیہ وغیر مقلدین امت اجابت سے نہیں کافروں کی طرح امتِ دعوت سے ہیں، ولہذا اجماع میں ان کا اختلاف معتبر نہیں،
صاحب الہوی المشہور لیس من الامۃ علی الاطلاق۵؎۔
دین میں جو گمراہی والا مشہور ہو وہ علی الاطلاق امت میں سے نہیں ہے۔(ت)
 (۵؎اصول بزدوی         باب الاہلیۃ        قدیمی کتب خانہ کراچی     ص۲۴۳)
Flag Counter