مسئلہ۴۶: مسئولہ حافظ محمد علاء الدین صاحب پیش امام جامع مسجد مقام بلرام پور ڈاکخانہ رانگہ ڈیہہ ضلع مان بھوم یکم صفر ۱۳۳۵ھ
ایک شخص اپنا شجرہ مجھ سے پڑھانے لگا اس میں پہلے مولانا وارث حسن کا نام تھا، اس کے بعد رشید احمد گنگوہی کا نام تھا، رشید احمد گنگوہی کا نام پڑھتے ہی میں نے اس شجرہ کو نہیں پڑھا کیونکہ''حسام الحرمین'' نے ان کے حال سے اچھی طرح خبردار کردیا ہے، مہربانی فرماکر ایک فہرست مطبع اہلسنت وجماعت کی مخصوص اپنے تصنیفات کی مرحمت فرمائی جائے اور ذیل کے استفسار پر کرم فرما کر جواب سے مشرف فرمائیے، مولانا وارث حسن کا کیا مذہب ہے؟
الجواب
جب آپ''حسام الحرمین ''میں علمائے حرمین شریفین کے متفق علیہ فتوے دیکھ چکے تو اس کے بعداس سوال کی ضرورت نہ رہی وارث حسن کے مذہب پر فقیر کو اطلاع نہیں، نہ کبھی ملاقات، مگر اس قدر ضرور ہے کہ وہ جس کا مرید ہے تو اسے ولی جانے گا، کم از کم صحیح العقیدہ صالح نہ سہی مسلمان تو جانے گا، اور حکمِ شرع وہ ہے جو ''حسام الحرمین'' میں مذکور۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۷تا۴۸:مرسلہ عبدالواحدخاں صاحب مسلم بمبئی اسلام پورہ معرفت عبداللطیف ہیڈ ماسٹر میونسپل اردو اسکول۴ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
(۱) قادیانیوں سے کس طرح کس پیرایہ میں بحث کیاجائے، یعنی ان کی تردید کے بھاری ذرائع کیا ہیں؟
(۲) یا حدیثوں کے انکار سے انسان کافر ہوسکتا ہے ؟اگر ہاں توکن حدیثوں کے انکار سے؟
الجواب
(۱) سب سے بھاری ذریعہ اس کے رد کا اول اول کلماتِ کفر پر گرفت ہے جو اس کی تصانیف میں برساتی حشرات کی طرح اہلے گہلے پھر رہے ہیں، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہینیں، عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں، ان کی ماں طیبہ طاہرہ پر لعن طعن ، اور یہ کہنا کہ یہودیوں کے جو اعترا ض عیسٰی اور ان کی ماں پر ہیں ان کا جواب نہیں اور یہ کہ نبوتِ عیسٰی پر کوئی دلیل قائم نہیں بلکہ عدمِ نبوت پر دلیل قائم ہے یہ ماننا کہ قرآن نے ان کو انبیاء میں گنا ہے اور پھر صاف کہہ دینا کہ وہ نبی نہیں ہوسکتے ، معجزات عیسٰی الصلوٰۃ والسلام سے صراحۃً انکار، اور یہ کہنا کہ وہ مسمر یزم سے یہ کچھ کیا کرتے تھے، اور یہ کہ میں ان باتوں کو مکروہ نہ جانتا تو آج عیسٰی سے کم نہ ہوتا،تو وہ روشن معجزے جن کو قرآن مجید آیات بینات فرمارہا ہے یہ ان کو مسمر یزم و مکروہ مانتا ہے، اپنے آپ کو اگلے انبیاء سے افضل بتانا اور یہ کہنا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے، اور یہ کہنا کہ اگلے چار سو انبیاء کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے، اور یہ کہنا کہ عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چاردادیاں نانیاں معاذاﷲ زانیہ تھیں اور یہ کہ اسی خون سے عیسٰی کی پیدائش ہے۔ اپنے آپ کو نبی کہنا، اپنی طرف وحی الٰہی کا ادعا کرنا، اپنی بنائی ہوئی کتاب کو کلامِ الٰہی کہنا، اور یہ کہ آیہ کریمہ
مبشرابرسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۱؎
(ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم۶۱/ ۶)
سے میں مراد ہوں، اور یہ کہ مجھ پر اترا ہے
انا انزلناہ بالقادیان وبالحق نزل
(ہم نے اپنے قادیان میں اور حق کے ساتھ نازل کیا۔ت) اوردوسرا بھاری ذریعہ اس خبیث کی پیشگوئیوں کا جھوٹا پڑنا جن میں بہت چمکتے روشن حرفوں سے لکھنے کے قابل دو واقعے ہیں:
ایک اس کے بیٹے کا جس کی نسبت کہا تھا کہ انبیاء کا چاند پیدا ہوگا اور بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے، مگر شانِ الٰہی کہ
چوں دم برداشتم مادہ برآمد
(جب میں نے دم اٹھا کر دیکھا تو مادہ پایا۔ت)بیٹی پیدا ہوئی، اس کے اوپر کہا کہ وحی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی اب کی جو ہوگا وہ انبیاء کا چاند ہوگا۔ بیٹی، بیٹے ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں اب کے ہوا بیٹا مگر چند روز جی کر مرگیا، بادشاہ کیا کسی محتاج نے بھی اس کے کپڑوں سے برکت نہ لی۔
دوسری بہت بڑی بھاری پیشگوئی آسمانی جورو کی اپنی چچازاد بہن احمدی کو لکھ کر بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی میرے نکاح میں دے دے، اس نے صاف انکار کردیا، اس پر پہلے طمع دلائی پھر دھمکیاں دیں پھر کہا کہ وحی آگئی کہ
"زوجناکھا"
ہم نے تیرانکاح اس سے کردیا، اور یہ کہ اس کا نکاح اگر تو دوسری جگہ کرے گی تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مرجائے گا۔ مگر اس خدا کی بندی نے ایک نہیں سنی، سلطان محمد خاں سے نکاح کردیا، وہ آسمانی نکاح دھراہی رہا، نہ وہ شوہرمرا، کتنے بچے اس سے ہوچکے اور یہ چل دئے۔ غرض اس کے کفر وکذب حدشمار سے باہر ہیں کہاں تک گنے جائیں اور اس کے ہواخواہ ان باتوں کو ٹالتے ہیں، اور بحث کریں گے توکاہے میں کہ عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انتقال فرمایا مع جسم کے اٹھائے گئے یا صرف روح ، مہدی و عیسٰی ایک ہیں یا متعدد۔ یہ ان کی عیاری ہوتی ہے، ان کفروں کے سامنے ان مباحث کا کیا ذکر، فرض کیجئے کہ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ نہیں، فرض کیجئے کہ وہ مع جسم نہیں اٹھائے گئے، فرض کیجئے کہ مہدی وعیسٰی ایک ہیں، پھر اس سے وہ تیرے کفر کیونکر مٹ گئے۔ کلام تو اس میں ہے کہ تو کہتا ہے میں نبی ہوں ہم کہتے ہیں تو کافر، اس کا فیصلہ ہونا چاہئے، انبیاء کی توہینیں، انبیاء کی تکذیبیں ، معجزات سے استہزاء، نبوت کا ادعاء ، اور پھر دوسرے درجہ میں انبیاء کے چاند والا بیٹا، آسمانی جورو، یہ تیری تکفیر تکذیب کو کافی ہیں۔
(۲) حدیث متواتر کے انکار پر تکفیر کی جاتی ہے خواہ متواتر باللفظ ہویا متواتر المعنٰی ، اور حدیث ٹھہراکر جوکوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقاً کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۹:مرسلہ عبدالجبار خاں صاحب دھام پور ضلع بجنور ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا شیعوں کے سب فرقے اور غیر مقلدین سب کے سب کافر ہیں؟
الجواب: ان میں ضروریاتِ دین سے کسی شے کا جو منکر ہے یقینا کافرہے اور جو قطعیات کے منکرہیں ان پر
بحکم فقہاء لزوم کفر ہے اور اگر کوئی غیر مقلد ایسا پایاجائے کہ صرف انہیں فرعی اعمال میں مخالف ہو اور تمام عقائد قطعیہ اہلسنت کا موافق ، یا وہ شیعی تفضیلی ہے تو ایسوں پر حکم تکفیر ناممکن ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۰تا۵۱:ازبنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولانا مولوی عبدالمجید صاحب پانی پتی ۱۱شعبان ۱۳۳۵ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرہم اﷲ تعالٰی وابقاہم الٰی یوم الجزاء اس میں کیا فرماتے ہیں:
(۱) فرقہ غیر مقلدین اﷲ تعالٰی کے لئے مکان کا قائل اور نیز اس کے لئے جہت کا قائل ہے جیسا کہ نواب صدیق حسن خاں کے رسالہ "الاحتواء علٰی مسئلۃ الاستواء"اور نیز ان کے دیگر رسائل سے ظاہر ہے، اور احناف کی فقہ کو باطل اور ناحق جانتا ہے، اور بدیں وجہ اس کی سخت توہین کرتا ہے چنانچہ ایک کلانوری غیر مقلد نے اپنے رسالہ "الجرح علی اصول الفقہ" میں فقہ احناف کے حق میں لکھا ہے(بلکہ بدبودار سنڈ اس ہے کہ جب اس کے پاس جاؤ تو بدبوہی آتی ہے، والعیاذ باﷲ تعالٰی، اور مولوی ابوالقاسم بنارسی کے رسالہ "الجرح علی الامام" کی ایک عبارت سے فقہ احناف کا موجب دخول دوزخ ہونا ثابت ہے، اور نیز امام صاحب رضی اﷲتعالٰی کی توہین بیحد کرتا ہے، چنانچہ مولوی ابوالقاسم بنارسی نے اپنے رسالہ مذکورہ میں منجملہ حضرت امام صاحب کی شان میں بے انتہا بے اد بیاں کیں، آپ کی ولادت شریفہ کے سنہ کامادہ لفظ''سگ''اور آپ کی وفات شریف کے سنہ کا مادہ لفظ''بوکم جہاں پاک''لکھا ہے والعیاذباﷲ تعالٰی، اور اجماع کا منکر ہے کہ نواب صدیق حسن خاں کے رسالہ ''عرف الجادی''اورنیز ان کے دیگر رسائل سے ظاہر ہے اور یہ سب باتیں احناف کی فقہ کی مستند کتابوں مثل فتاوٰی قاضی خاں اور فتاوٰی عالمگیری اور نورالانوار وغیرہا کے بموجب کفر ہیں، پس فرقہ غیر مقلدین بوجوہ مذکورہ بحکم فقہ احناف کافر ہے یا نہیں، اور نیز فرقہ غیرمقلدین مفارق الجماعۃ ہے جیسا کہ ظاہر ہے پس بحکمِ حدیث شریف:
من فارق الجماعۃ شبرافقد خلع رقبۃ الاسلام من عنقہ۱؎۔
جوجماعت سے بالشت بھر دور ہوا اس نے اپنی گردن سے اسلام کا پھندہ اتاردیا(ت) کے خارج از اسلام ہوا یا نہیں؟
(۱؎مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوذررضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۱۸۵)
اور نیز فرقہ غیر مقلدین تقلید کو شرک اور مستلزم انتفاء ایمان اور مقلدین کو جن میں بے شمار علماء اوراولیاء بھی داخل ہیں ،مشرک اور بے ایمان کہتا وجانتا ہے جیسا کہ مولوی سعید بنارسی کے رسالہ"ہدایۃ المرتاب "ص ۱۸ اور ان کے بیٹے ابوالقاسم بنارسی کے رسالہ " العرجون القدیم" ص۲۰اور نیز دیگر غیر مقلدین کے رسائل سے ظاہر ہے،
پس بموجب حدیث:
لایرمی رجل رجلا بالفسوق ولایرمیہ بالکفر الاارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذٰلک۱؎۔
کسی آدمی کا دوسرے کو فاسق وکافر کہنا اسی پر لوٹ آتا ہے اگر دوسرے میں کفر وفسق نہ ہو۔(ت) کے یہ خود مشرک اور بے ایمان ہوئے یا نہیں۔
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوذر غفاری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۱۸۱)
(۲) اور نیز اس میں کہ رافضی تبرائی کافر مرتد ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
جواب سوال اوّل:بلاشبہہ طائفہ نائفہ غیر مقلدین گمراہ بددین اور بحکم فقہ کفار و مرتدین ، جن پر بوجوہ کثیرہ لزوم کفر بین مبین ، ہمارے رسالہ "الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ وسل السیوف الھندیۃ علی کفریات باباالنجدیۃ والنھی الاکیدعن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید" وغیرہا میں اس کا بیان شافی و وافی۔ یہاں انہیں بعض وجوہ سے کلام کریں جن کی طرف سائل فاضل نے اشارہ کیا، وباﷲ التوفیق۔
(۱) اﷲ عزوجل کے لئے مکان ماننا کفر ہے،
قال، اﷲ فی السماء عالم لوارادبہ المکان کفر۲؎۔
کسی نے کہا اﷲ تعالٰی آسمان میں عالم ہے اگر اس سے مراد مکان لیا ہےتو کفر ہے(ت)
(۲؎ جامع الفصولین فصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۹۸)
(۲) مولٰی عزوجل کے لئے جہت ماننا بھی صریح ضلالت وبددینی ہے اور بہت ائمہ نے تکفیر فرمائی__شاہ عبدالعزیز صاحب کی تحفہ اثناء عشریہ طبع کلکتہ ۲۵۵بیان عقائد اہلسنت وجماعت میں ہے:
عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالٰی را مکان نیست واورا جہتے از فوق متصور وہمیں ست مذہب اہل سنت وجماعت۳؎۔
تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ حق تعالٰی کیلئے مکان نہیں اور نہ اس کے لئے کوئی جہت نہ فوق اور نہ تحت، اور یہی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے(ت)