Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
49 - 150
مسئلہ۴۰:از شہر سورت محلہ سید واڑہ مسئولہ سیدصدرالدین زری والے صفر المظفر ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ

عالی خدمت عالی جناب مولانا مولوی حضرت احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم بعد ادائے آداب تسلیمات کے گزارش ہے کہ در شہر سورت خیریت آنجناب کی شب و روز درگاہ رب العزت سے نیک مطلوب ہوں، دیگر گزارش یہ کہ قبل از اس کے ایک گزارش نامہ در طلب ردوہابیہ ارسال خدمت کیا تھا، ہنوز انتظار دست یاب نسخہ مذکور ہوں، اس اثناء میں ایک اور سوال بے ثبات فرقہ مذکورسے ایجاد ہوا وہ یہ کہ رسالتمآب کے والد ماجد حالتِ کفر میں تھے اور اسی حالت میں رحلت بھی فرمایا اس کے رد میں اہل تسنّن نے یہ جواب دیا کہ وہ کسی حالت سے بھی کافر نہیں ہوسکتے تھے تو یہ کفر کا اطلاق نامعقول ہے یہ جواب دیا مگر قیاسی دیامگر قیاسی ویاسندی نہیں ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے جوا س بات کا پورا پورا جواب کریں اس لئے آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس کا رد وثبوت ہوجائے تو عین سرفرازی ہے تمام کیفیت کما حقہ اس خط سے اور آگے کے خط سے گوش زد کیا ہوں، فقط۔
الجواب

مذہب صحیح یہ ہے کہ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے والدین کریمین حضرت سیدناعبداﷲ اورحضرت سید تناآمنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما اہل توحید واسلام ونجات تھے، بلکہ حضور کے آباءو امہات حضرت عبداﷲ وآمنہ سے حضرت آدم وحواتک مذہب ارجح میں سب اہل اسلام وتوحید ہیں۔
قال اﷲ تعالٰی الّذی یرٰک حین تقوم وتقلبک فی الساجدین۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو(ت)
 (۱؎القرآن الکریم ۱۶/ ۱۹۔۲۱۸)
اس آیہ کریمہ کی تفسیر سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نور ایک نمازی سے دوسرے نمازی کی طرف منتقل ہوتا آیا۲؎۔اور حدیث میں ہے کہ رب عزوجل نے نور اقدس کی نسبت فرمایا کہ اسے اصلاب طیبہ وارحام طاہرہ میں رکھوں گا۳؎اور رب عزوجل کبھی کسی کافر کو طیب وطاہر نہ فرمائے گا،
انما المشرکون نجس۴؎
 (بیشک مشرکین نجس ہیں۔ت)اس بارے میں ہمارا ایک خاص رسالہ ہے شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام۔اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ نے خاص اس باب میں چھ رسالے لکھے۔
فشکراﷲ سعیہ واجزل ثوابہ
(اﷲ تعالٰی ان کی کاوش قبول فرمائے اور انہیں اجر عظیم سے نوازے ۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۲؎معالم التنزیل مع الخازن     آیہ تقلبک فی الساجدین کے تحت    مصطفی البابی مصر     ۵/ ۹۹)

(۳ ؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ مصر    ۱/ ۶۳)

(۴؎ القرآن الکریم     ۹/ ۲۸)
مسئلہ۴۱تا۴۳: مسئولہ معرفت مصطفی میاں سلمہ بروز چہارشنبہ ۲۸صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

(۱) ایک سنی کے سامنے ذکر آیا کہ شیعہ و معتزلہ دار جنت میں رؤیت باری عزوجل کے منکر ہیں، ان صاحب نے کہا وہ سچ کہتے ہیں انہیں تو نہیں ہوگی، شاید مومنین کے لئے بھی ذکر میں تھا اگرچہ یہ ایک شبہہ سا یاد پڑتا ہے، یہ کہنا کیسا ہے؟

(۲) ارتضاحسین پیر میاں صاحب نے اپنا نام ابوالبرکات رکھااور اس پر اب آزاد کااور اضافہ کیا، جس کی ایک واہی تباہی روایت چھپواکر تقسیم کی، اس کی بابت اک صاحب نے کہا کہ یہ نام انہوں نے کہاں سے رکھا، کچھ اﷲ میاں کے یہاں تو آپ کا یہ نام لکھا ہوا ہے نہیں جس پر کہا گیا کہ لوح محفوظ میں تو سب لکھا ہوا ہے یہ بھی لکھا ہوا ہے ، اس پر ان صاحب نے کہا کہ میں نے اس بنا پر کہا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نام ماں باپ رکھتے ہیں وہ نام اﷲ میاں کے یہاں لکھا جاتا ہے، ظاہراً اس قائل کا مطلب یہ تھا کہ نام کرکے وہی نام لکھا جاتا ہے جو ماں باپ کا رکھا ہے اور جو خود گھڑلے وہ بطور ایک امر واقع کے لکھا ہوتا ہے کہ فلاں اپنا یہ نام رکھے گا نام کرکے نہیں کہ فلاں کا یہ نام ہے، الغرض اس کا وہ مقولہ کیسا ہے اور اس کی کیا اصل ہے کہ نام وہی ہوتا ہے جو ماں باپ کارکھا ہے یاخود رکھا ہوا۔

(۳) ایک سنی صاحب کے سامنے میں نے کہا کہ حضور سرور عالم صلی تعالٰی علیہ وسلم کے بہت خصائص ہیں، وہ احکام شرعیہ جو عام نہیں ان سے حضور نے بعض صحابہ کو مستثنٰی کیا تھا ان پر ان صاحب نے کہاکہ جبھی تو بعض جہلاکہنے لگے تھے کہ اﷲ عزوجل رضاجوئے محمدی ہے، اس پر میں نے کہا کہ بعض جہلا کی کیا تخصیص ہے ،اللہ عزوجل تو رضا جوئے محمدی ہے انھوں نے بھی اس کا صاف اقرار کیا اور کہا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شاید بعض ازواج مطہرات رضوان اﷲ علیہن بھی یہ کہنے لگی تھیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ حضور اﷲ عزوجل کے فرمودہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھتے تھے وہی فرماتے تھے جو اﷲ عزوجل کا حکم تھا تو اصل میں حضور متبع حکمِ الٰہی اور رضاجوئے الٰہی بھی ہوئے، ان کی اس وقت کی طرز تقریر وحالت سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا تھا کہ جہلا تو یہ سمجھ کر اﷲ عزوجل کو رضاجوئے محمدی کہنے لگے تھے کہ حضور ایک حکم دیتے ہیں اور پھر اﷲ عزوجل بھی ویسی ہی وحی نازل فرمادیتا ہے یعنی اﷲ عزوجل حضور کا اتباع فرماتا ہے حالانکہ اصل میں حکم الٰہی وہی ہوتا ہے اور اسکے اتباع سے حضور حکم دیتے ہیں، غرض اس کا یہ مقولہ کہ جبھی تو بعض جہلا بھی الخ کا کیا حکم ہے اس کلی مقولہ کا کیا جو اس کے بعد کہا گیا۔
الجواب

(۱) مولاعزوجل فرماتا ہے :
انا عندظن عبدی بی۱؎
 (میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں۔ت) روافض ومعتزلہ کہ رؤیت الٰہی سے مایوس ہیں مایوس ہی رہیں گے، وہابیہ شفاعت سے منکر ہیں محروم ہی رہیں گے تو ان کا انکار ان کے اعتبار سے صحیح ہوا ظاہرا  قائل کی یہی مراد ہے کہ ان کی نفی ان کے حق میں سچی ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں،

 ہاں جو اس کے قول کی تصدیق بمعنی نفی مطلق کرے وہ ضرور گمراہ وخارج از اہلسنت ہے۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث واثلہ بن الاسقع    دارالفکر بیروت    ۴/ ۱۰۶)
 (۲) بلاشبہہ لوحِ محفوظ میں ہرصغیر وکبیر مستطر ہے جو اسم بحیثیت علم، دنیا میں کسی کے لئے ہے لوح محفوظ میں وہی بحیثیت علم مکتوب ہے خواہ ماں باپ کا رکھا ہے یا اپنا یا اور کا اور جس میں تغیر واقع ہوا مغیر اور مغیر الیہ دونوں اپنے اپنے زمانہ کی قید سے مکتوب ہیں، حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بہت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نام تبدیل فرمائے کہ اگلے نام متروک ہوگئے اور وہ انہیں دوسرے ناموں سے مشہور ہیں تو عنداﷲ بھی اب یہی ان کے نام ہیں اور انہیں ناموں سے روزِ قیامت پکارے جائیں گے، اور جو شخص اپنا نام بدل کرکچھ رکھے اور بحیثیت علم معروف نہ ہوتو اﷲ عزوجل کے یہاں بھی وہ نام علم ہو کر لکھا نہ گیا ، ہاں یہ واقعہ ضرور مکتوب ہے ظاہر ا یہی مراد قائل ہے، قائل نے یہ نہ کہا کہ اﷲ تعالٰی کے یہاں یہ نہیں لکھا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کا نام یہ نہیں لکھا ہے تو کتابت نہیں بلکہ سببِ کتابت علمیت ہے، اور یہ صحیح ہے کہ جب کہ اس وضع کئے ہوئے نام نے حیثیت علمیت پیدا نہ کی، ہاں ایسی جگہ کلام بہت ہوشیاری سے چاہئے جس میں کوئی پہلوئے ناقص نہ نکلے، سوال میں اسم  جلالت کے لفظ''میاں''مکتوب ہے یہ ممنوع و معیوب ہے، زبان اردو میں ''میاں'' کے تین معنٰی ہیں جن میں دو اس پر محال ہیں اور شرع سے ورود نہیں لہذا اس کا اطلاق محمود نہیں۔

(۳) قائل کا کہنا کہ جب ہی توبعض جہلا الخ بہت سخت قبیح وشنیع واقع ہوا اور جو معنی اس نے بعد کو قرار دئیے اس میں بھی وہ حقیقت کو نہ پہنچا بلاشبہہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تابع مرضی الٰہی ہیں اور بلاشبہہ کوئی بات اس کے خلاف حکم نہیں فرماتے اور بلاشبہہ اللہ عزوجل حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی رضاچاہتا ہے۔
ولسوف یعطیک ربک فترضٰی۱؎، قد نرٰی تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قبلۃ ترضٰھا فولّ وجھک شطر المسجد الحرام۲؎۔
اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔ ہم دیکھ رہے ہیں، بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی پس ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۹۳/ ۵) (۲ ؎ القرآن الکریم    ۲/ ۱۴۴)
حکم الٰہی بیت المقدس کی طرف استقبال کا تھا حضور تابع فرمان تھے یہ حضور کی طرف سے رضاجوئی الٰہی تھی مگر قلب اقدس کعبہ کی طرف استقبال چاہتا تھا، مولٰی عزوجل نے مرضی مبارک کے لئے اپنا وہ حکم منسوخ فرمادیا اور حضور جو چاہتے تھے قیامت تک کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فر مادیا، یہ اﷲ عزوجل کی طرف سے رضاجوئی محمدی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہے ان میں سے جس کا انکار ہو قرآن عظیم کا انکار ہے۔ 

ام المومنین صدیقہ رضی اﷲعنھا حضور اقدس صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں:
مااری ربک الّا یسارع فی ھواک۱؎۔رواہ البخاری۔
میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتا ہے، اسے بخاری نے روایت کیا۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب التفسیر الاحزاب     باب قولہ ترجی من تشاء الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۰۶)
یہ ہے وہ کلمہ کہ بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا اور عرض کیا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا تو قائل کا کہنا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شایدبعض ازواج مطہرات یہ کہنے لگی تھیں دراصل بات یہ ہے الخ یہ بتارہا ہے کہ ان بعض ازواج مطہرات نے خلافِ اصل بات کہی اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مقرر رکھی، حدیث روز محشر میں ہے رب عزوجل اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صلی تعالٰی علیہ وسلم سے فرمائے گا:
کلھم یطلبون رضائی وانااطلبک رضاک یامحمد۲؎۔
یہ سب میری رضاچاہتے ہیں اور اے محبوب!میں تمہاری رضا چاہتا ہوں۔
؎ خداکی رضاچاہتے ہیں دو عالم

خداچاہتا ہے رضائے محمد
 (۲؎ التفسیر الکبیر         تحت آیۃ''فلنولینک قبلۃ ترضٰہا''    المطبعۃ المصریۃ مصر     ۴/ ۱۰۶)
بالجملہ کلمہ بہت سخت و شنیع تھااور بعد تاویل بھی شناعت سے بری نہ ہوا، تو بہ لازم ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۴تا۴۵:ازمقام چتوڑگڑھ علاقہ اودریپور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم صاحب بروز شنبہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

(۱) جو شخص انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون محض ان کی موافقت کی وجہ سے پہنے تو وہ کافر ہے یا نہیں، غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب مرتد میں لکھا ہے کہ جوشخص بلا ضرورت سردی وگرمی کے مجوسی کی ٹوپی پہنے وہ کافر ہے، اسی طرح جو شخص زنا رباندھے وہ بھی کافر ہے، مگر بضرورت اب اگر انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون بلاضرورت پہننے والاکافر نہیں ہے تو زنارباندھنے والے کو غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب المرتد میں کافر کیوں کہا؟

(۲) جو شخص حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو خدا کہے اور تعزیہ داری کو جائز کرے اورسجدہ تعظیمی کرائے اور محدثین صحاح ستہ پر الزام نکال ڈالنے صحیحہ کا لگائے اس شخص کی نسبت علماء کرام کیا فرماتے ہیں؟
الجواب

(۱) بلاضرورت زنار باندھنا یا ہیٹ یعنی انگریزی ٹوپی رکھنا بلاشبہہ کفر ہے، حدیقہ ندیہ میں فرمایا:
لبس زی الافرنج علی الصحیح۔۱؎(ملخصاً)
فرنگیوں کا ہیٹ پہننا صحیح قول کے مطابق کفر ہے(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ     النوع الثامن من الانواع الستین مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۳۰)
رہے کوٹ پتلون وہ اگرموافقت نصارٰی اور ان کی وضع کے استحسان کے لئے ہے تو اسے بھی فقہاء کرام نے مطلقاً کفر فرمایا۔
غمزالعیون میں ہے:
اتفق مشائخنا من راٰی امر الکفار حسنا فقد کفر۔۲؎
جس نے کافروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھا باتفاقِ مشائخ کافر ہوگیا۔
 (۲؎غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر     کتاب السیر والردۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۲۹۵)
اور اگر ایسا نہیں تو فسق ضرور ہے جبکہ بلاضرورت شرعیہ ہو، اور اسے اختیار نہیں کرتا مگر وہ جس کے دل میں کجی ہے جب حب فی اﷲ اور بغض ﷲ کہ مناط ایمان ہیں قلب میں مستحکم ہوجاتے ہیں تو اولیاء اﷲ کی ہر ادا اچھی معلوم ہوتی ہے اور اعداء اﷲ کی ہر بات بری ، نسأل اﷲ الھدایۃ(ہم اﷲ تعالٰی سے ہدایت مانگتے ہیں۔ت)

(۲)کسی بات کی طرف نظر کرنے کی حاجت نہیں بعد اس کے کہ مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ کو خد اکہے یقینا کافر مرتد ہے،
من شک فی عذابہ و کفرہ فقد کفر۳؎۔
جس نے اس کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ کافر ہوگیا۔(ت)
 (۳؎درمختار  باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
جو اس کے قول پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے، مسلمانوں کو اس کے پاس بیٹھنا ، اس سے میل جول سلام کلام سب قطعاً حرام۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۴؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
 (۴؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
وقال تعالٰی ولاترکنواالی الذین ظلموافتمسکم النار۱؎۔
اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳ )
وقال تعالٰی ومن یولھم منکم فانہ منھم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(ت)
   (۲؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۱)
ان آیاتِ کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ، ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں دوز خ کی آگ چھوئے گی، جوتم میں ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے ہے، اگر وہ علانیہ تائب ہو اور از سرِ نو مسلمان ہو فبہا ورنہ اگر وہ بیمار پڑے اس کی عیادت حرام، اگرمرجائے اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس کے جنازہ کی نماز سخت حرام، جنازہ کے ساتھ جانا حر ام، مقابرِ مسلمین میں اسے دفن کرنا حرام، اسے ایصالِ ثواب حرام بلکہ کفر، کوئی تنگ گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیں اور بغیر کسی فاصلے کے اوپر سے اینٹ پتھر خاک بلا جو کچھ ہو پاٹ دیں،
وذٰلک جزاء الظالمین۳؎
اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔
(۳؎القرآن الکریم   ۵/ ۲۹)
نسأل اﷲ الثبات علی الایمان والختم بالحسنی ولاحول قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہم اﷲ تعالٰی سے ایمان پر ثابت قدمی اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter