Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
48 - 150
مسئلہ ۳۵: ازمانڈے سورتی مسجد ملک برہما مسئولہ مولوی احمد مختار صاحب صدیقی ۶ رجب ۱۳۳۳ھ ایک شخص ہمیشہ علماء کو بُرا کہتا رہتا ہے چنانچہ ایک روز اس کے سامنے ذکر ہُوا کہ فلاں عالم نئے تشریف لانے والے ہیں تو وُہ فوراً کہتا ہے کہ ہاں آتے ہوں گے کوئی بھاڑ کھاؤ ایسے بد گو علماء کےلئے شریعت  غرہ میں کیا حکم ہے؟
الجواب

ایسے شخص کی نسبت حدیث فرماتی ہے منافق ہے، فقہاء فرماتے ہیں کافر ہے۔خطیب حضرت ابو ھریرہ اور ابو الشیخ ابن حبان کتاب التو بیخ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلاثۃ لا یستخف بحقھم الامنا فق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الا سلام والامام المقسط ومعلم الخیر۔ ۱؎
تین افراد کو منافق کے علاوہ کوئی حقیر نہیں سمجھے گا، وُہ بوڑھا جو حالتِ اسلام میں بوڑھا ہوا، عادل امیر اور خیر کی تعلیم دینے والا۔ (ت)
 (۱؎ تاریخ بغداد ۸/ ۲۷ و  ۱۴/ ۶۱    دارالکتاب العربی بیروت

کنزالعمال بحوالہ ابی اشیخ فی التوبیخ عن جابر حدیث ۴۳۸۱۱ موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۶/ ۳۲)
مجمع الا نہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
الا ستخفا ف بالا شراف والعلماء کفر و من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدابہ الا ستخفاف کفر ۔ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
سادات اور علماء کی تحقیر کفر ہے،جو عالم کو عو یلم، علوی کو علیوی حقارت کی نیت سے کہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     باب المرتدالخ داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۶۹۵)
مسئلہ۳۶: مسئولہ اکبر یار خاں صاحب ساکن شہر کہنہ محصل چندہ مدرسہ اہلسنت و جماعت ۹ ذو القعدہ ۱۳۳۳ھ دو شنبہ

کیا فرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نماز ، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیر ہ وغیرہ سب عبادتیں محض اللہ رب العزت تبارک و تعالٰی ہی کے واسطے کرنا چاہئے اگر چہ اس کی ذات پاک بے نیاز ہے۔ کسی کی عبادت ، ریاضت وغیرہ کی اس کو ضرورت نہیں ہے وہ اس سے پاک اور منزہ اور مبرا ہے، مگر بندہ  ناچیز کو اپنے مولا کی تعمیل حکم کرنا چاہئے ، بکر کہتاہے کہ زیدکا دماغ خشک ہو گیا اس لئے کہتاہے، یہ سب غلط ہے بلکہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وُہ سب اپنی ذات کےلئے کرتے ہیں اور کرنا چاہئے ایسی صورت میں زید و بکر کے قول کی بابت کیا حکم ہے؟
الجواب

زید و بکر اپنی اپنی مراد پر دونوں سچے ہیں، بیشک نماز ، روزہ، حج ، زکوٰۃ سب اللہ عز وجل ہی کےلئے ہیں یعنی ان سے اسی کی عبادت و نجابت تعظیم مقصود ہے۔
ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی ﷲ رب العٰلمین لا شریک لک ۔ ۱؎
بیشک میر ی نماز اور قربانی اور جینا اور مرنا سب اللہ کےلئے ہے جو مالک ہے سارے جہان کا اس کا کوئی شریک نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم     ۷/ ۱۶۳ )
اور بیشک تمام عبادات و اعمال حسن اپنے ہی لئے ہیں یعنی اپنے فائدے کو ہیں
من عمل صالحا فلنفسہ ۲؎
(جو نیک کام کرے وہ اپنے لئے کرتا ہے ۔
   ( ۲؎ القرآن الکریم     ۱۴ / ۴۶)
دونوں قول قرآن عظیم میں موجود ہیں، ہاں بکر کا یہ کہنا کہ زید کا دماغ خشک ہو گیا ہے، مفت ایذائے مسلم ہے اس سے معافی چاہے اور اس کا کہناکہ یہ سب غلط ہے بہت سخت کلمہ ہے اسے تجدید اسلام چاہئے کہ اس نے ایسے واضح دینی، قرآنی قول کی تغلیط کی واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ایضاً زید اپنے آپ کو گنہگار، خطا وارجانتاہے مگر بروقت گفتگو زید یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان مومن سچا ہُوں ، اور بکر بھی اپنے آپ کو گنہگار خیال کرتا ہے مگر بروقت بکر یہ کہتا ہے کہ میں ہر گز مسلمان نہیں ہوں، چنانچہ زیدکو اپنی بابت سچا مومن کہنا اور بکر کو مسلمان ہونے سے انکار کرنا کیسا ہے، دونوں کی نسبت کیا حکم ہے؟
الجواب

زید کے قول میں حرج نہیں، ہاں اسے حمدِ الٰہی بڑھا لینا چاہئے تھا ، الحمدﷲ میں مسلمان ہوں، بکر کا قول بہت قبیح ہے، ائمہ نے فرمایا ہے جو اپنے مسلمان ہونے سے انکار کر ے وہ مسلمان نہیں اسے توبہ اور تجدید اسلام پھر تجدید نکاح چاہئے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷: از شہر کہنہ    مسئولہ سید نور صاحب محرر دارالافتاء      ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ

(۱) زید بے علم ہے مگر ہر عالم درویش پرازرُوے اہانت اعتراض کرتاہے اور عیب جوئی میں ساعی رہتا ہے ، پس اہانت علماء وغیرہ شرعاً کیسا فعل ہے؟

(۲) کیا فیصلہ اور حکم شرعی سے متجا وزاور منکر ہونا کفر ہے یا گناہ کبیرہ؟ فقط
الجواب

(۱) عیب جوئی ہر مسلمان کی حرام ہے نہ کہ علماء کی ،
قال تعالٰی لا تجسسوا۱؎
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا عیب نہ ڈھونڈو (ت) اور علمائے دین کی اہانت کفر ہے
کما فی مجمع الانھر و غیر ہ
(جیسا کہ مجمع الانہر وغیرہ میں ہے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۴۹ /۱۲)
  (۲)انکار بمعنی تکذیب کفر ہے اور تجاوز فسق و معصیت۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۹: از ضلع پترہ ڈاک خانہ پنجہ رامپور موضع سات بیلہ مسئو لہ رجب علی ۱۱ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ شنبہ

ماقولکم رحمکم اﷲتعالٰی مسئلہ ( کہ چند مولویان معہودبمکان شخصے کہ ازوکارے خلاف شرع سر زد شدہ بود یعنی بازنِ مغلظہ خود تامدت دو سہ ماہ باعیش ازواج اوقات بسر برد ) بوجود علم بلا تعمیل و تنبیہ ختم خوانی کردہ طعام خوری نمود ند، ازیں جہت شخصے معتبر عالم دوست حاجی الحرمین کہ از مرید ان جناب شاہ عبداللطیف شہنودی است وجناب شاہ صاحب نیز برائے تنبیہ امور شرع اورا تاکید بسیار نمودہ و اوبرائے تعمیل ارشاد جناب شاہ صاحب اکثر مقدمات شرع شریف و معاملا ت دنیوی فیصلہ میکندو فی الحال درکار شرع بسیار مستحکم مستقیم ایشاں راگفتہ کہ مولویان ایں زماں درریدہ سر گیں دہان افگنندو میان حرام و حلال تمیز نکندپس دریں صورت شخص موصوف موافق شرع کافر شود یانہ یا بروے فقط حکم تجدید نکاح کردہ شود یانہ اگر شرعاً کافر نہ شود کسے اور اکافر گوید برویش چہ حکم بینوابسندالکتاب تؤجرواعنداﷲیوم الحساب، فقط۔
اس معاملہ میں آپ کا کیا قول ہے اللہ تعالٰی تم پر رحمت نازل فرمائے(کہ چند مقامی علماء نے ایک شخص کے مکان پر جس نے شریعت کی خلاف ورزی کر رکھی ہے یعنی اس نے اپنی مغلظہ عورت دو تین ماہ سے رکھی ہوئی ہے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کئے ہوئے ہے، ان لوگوں کو اس بات کا علم بھی تھا انھوں نے تنبیہ کے بغیر وہاں ختم پڑھا اور اس کا کھانا بھی کھایا اور ایک شخص معتبر عالم دوست ، حرمین کا حاجی اور شاہ عبداللطیف شہنودی کا مرید ہے جناب شاہ صاحب نے بھی اسے امور شرع کے بارے میں خوب تاکید فرمائی اور وہ بحکم شاہ صاحب اکثر مقدمات شرعیہ اور معاملات دنیوی کے فیصلے بھی کر تاہے اس وقت وہ امورِ شرعیہ میں مستحکم اور مستقیم ہے اس نے انکے حق میں یہ کلمات کہے ہیں کہ اس زمانہ کے مولویوں نے گندگی میں منہ ڈالا ہُوا ہے اور حلال و حرام میں وُہ کوئی تمیز نہیں کرتے وُہ شخص شرعی حکم کے مطابق کافر ہو گا یا نہ ؟ یا اس پر فقط تجدید نکاح کا حکم جاری ہو گا یا نہیں، اگر وُہ شرعاًکافر نہیں توجو اسے کافر کہے اس کا کیا حکم ہے؟کتاب وسنت کے حوالے سے بیان کیجئے اور یوم قیامت اﷲ تعالٰی سے اجر پائیے، فقط(ت)
الجواب

کسے کہ بازن سہ طلاقہ خود بے تحلیل طرح معاشرت انداخت ونزد شوئی باخت بجائے خود بزہ کار است وباچنیں گناہگاراں معاملہ پیشوایان دین مختلف بودہ است ہم بہ نرمی کار کردہ اند دہم بہ در شتی چنانکہ در احیاء العلوم رنگ تفصیل دادہ اند مولویان کہ بخانہ او ختم خواند وچیزے خوردند گناہے نکردند کسے کہ آناں رابدانسان والفاظ بدیاد کرد چیزے شنیع آورد باز حکم خاص بر آناں نہ نمود بلکہ عام مولویان ایں زمان گفت شناعتش از حد گزشت تکفیر او نشاید اما تجدید اسلام ونکاح سزد کہ باید و آنکہ تکفیر او کردہ است نیز کار ازحد بردہ است اورانیز توبہ باید۔واﷲتعالٰی اعلم۔
جس شخص نے اپنی عورت کو طلاقیں دے دیں اور اس کے بعد بغیر حلال ہونے کے اس کے ساتھ مباشرت کرنازنا اور بدکرداری ہے، ایسے گنہگار لوگوں کے ساتھ علمائے دین کا معاملہ مختلف ہوتا ہے کبھی ان پر نرمی کرنا پڑتی ہے اور کبھی سختی، اس کی تفصیل احیاء العلوم میں دیکھئے، مولویوں نے جو اس کے گھر ختم پڑھا اور کوئی چیز کھائی تو اس سے وہ گناہگار نہیں ہوئے جو شخص انہیں بدالفاظ سے یاد کرتا ہے وہ برا کرتاہے پھر ان پر حکم خاص نہیں رکھا بلکہ عام مولویوں کی بات کرتا ہے تو اگرچہ یہ بات نہایت بری ہے لیکن اس پر تکفیر کا حکم جاری نہیں ہوسکتا ، رہا تجدید اسلام اور نکاح کا معاملہ تو یہ مناسب ہے اور جس نے اس کی تکفیر کی ہے وہ بھی حد سے بڑھ گیا اس کو بھی توبہ کرنی چاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter