روافض علی العموم اپنے مجتہدوں کے پیرو کار ہوتے ہیں، اگر بفرض غلط کوئی جاہل رافضی ان کُھلے کفروں سے خالی الذہن بھی ہو تو فتوائے مجتہدان کے قبول سے اُسے چارہ نہیں اور بفرض باطل یہ بھی مان لیجئےکہ کوئی رافضی ایسا نکلے جو اپنے مجہتدین کے فتوٰی بھی نہ مانے تو الاقل اتنا یقینا ہو گا کہ ان کفروں کی وجہ سے اپنے مجتہدوں کو کافر نہ کہے گا، بلکہ اُنھیں اپنے دین کا عالم و پیشوا و مجتہد ہی جانے گا اور جو کسی کافر منکر ضروریات دین کو کافر نہ مانے خود کافر مرتد ہے۔
فا ء شریف ص ۳۶۲ میں انھیں اجماعی کفر کے بیان میں ہے:
ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم اوشک اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلک الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال کل مذھب سوا ہ فھو کافر باظھا رہ بھا ظھر من خلاف ذلک۔ ۱؎
ہم اسی واسطے کافر کہتے ہیں ہر اس شخص کو جو کافروں کو کافر نہ کہے یا ان کی تکفیر میں توقف کرے یا شک رکھے یا اُن کے مذہب کی تصحیح کرے اگر چہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان جتاتا اورا سلام کی حقانیت اور اس کے سواہر مذہب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ اُس کے خلاف اُس اظہار سے کہ کافرکو کافر نہ کہا خود کافر ہے۔
(۱الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھومن المقالات المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ص ۲۷۱)
اُسی کے صفحہ ۳۲۱اور فتاوٰ ی بزازیہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۲ اور درر وغر رمطبع مصر جلد اول صفحہ ۳۰۰ اور فتاوٰی خیر یہ جلد اول صفحہ ۹۴،۹۵ اور درمختار صفحہ ۳۱۹اور مجمع الانہر جلد اول صفحہ ۶۱۸ میں ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔۱؎
جو اس کے کفر وعذاب میں شک کرےوہ بالیقین خود کافر ہے۔
(۱؎ درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
علمائے کرام نے خود روافض کے بارے میں بالخصوص اس حکم کی تصریح فرمائی، علامہ نوح آفندی وشیخ الاسلام عبداﷲ آفندی وعلامہ حامد عمادی آفندی مفتی دمشق الشام وعلامہ سید ابن عابدین شامی عقود جلد اول ص۹۲ میں اس سوال کے جواب میں کہ رافضیوں کے باب میں کیا حکم فرماتے ہیں:
ھٰؤلاء الکفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرھم فھو کافر مثلھم۲؎اھ مختصرا۔
یہ کافر طرح طرح کے کفروں کے مجمع ہیں جو ان کے کفر میں توقف کرے خود انہیں کی طرح کافر ہے اھ مختصراً۔
(۲؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی حامدیہ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۰۴۔۱۰۳)
علامۃ الوجود مفتی ابوالسعود اپنے فتاوٰی پھر علامہ کو اکبی شرح فرائد سنیہ پھر علامہ محمد امین الدین شامی تنقیح الحامدیۃ ص۹۳میں فرماتے ہیں :
اجمع علماء الاعصار علی ان من شک فی کفرھم کان کافرا۳؎۔
تمام زمانوں کے علماء کااجماع ہے کہ جوان رافضیوں کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے۔
(۳؎العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی حامدیہ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۵)
تنبیہ جلیل: مسلمانو!اصل مدار ضروریات دین ہیں اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقاً ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلاً نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر مثلاً عالم بجمیع اجزائہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی۔ غایت یہ کہ آسمان وزمین کا حدوث ارشاد ہواہے مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعاً کافر ہے جس کی اسانید کثیرہ فقیرکے رسالہ "مقامع الحدید علی خدا لمنطق الجدید۱۳۰۴ھ" میں مذکور تووجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اﷲ ضروریات دین سے ہے کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں۔
اعلام امام ابن حجر ص۱۷میں ہے:
زاد النووی فی الروضۃ ان الصواب تقیدہ بما اذا جحد مجمعاً علیہ یعلم من الاسلام ضرورۃ سواء کان فیہ نص ام لا۱؎۔
علامہ نووی نے روضہ میں یہ زائد کہا کہ درست یہ ہے اسے اس چیز سے مقید کیا جائے جس کا ضروریات اسلام سے ہونا بالاجماع معلوم ہواس میں کوئی نص ہو یا نہ ہو۔(ت)
(۱؎ الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ استنبول ترکی ص۳۵۳)
یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی اور شک نہیں کہ قرآن جو بحمد اﷲ تعالٰی شرقاً غرباً قرناً فقرناً تیرہ سو برس سے آج تک مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود محفوظ ہے باجماع مسلمین بلاکم وکاست وہی "تنزیل رب العالمین " ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسلمانوں کو پہنچائی اور ان کے ہا تھوں میں ان کے ایمان انکے اعتقاد ان کے اعمال کے لئے چھوڑی، اسی کا ہر نقص وزیادت وتغییر وتحریف سے مصؤن ومحفوظ ، اور اس کا وعدہ حقہ صادقہ''انالہ لحافظون''میں مراد وملحوظ ہونا ہی یقینا ضروریات دین سے ہے نہ یہ کہ قرآن جو تمام جہان کے مسلمانوں کے ہاتھ میں تیرہ سو برس سے آج تک ہے یہ تو نقص وتحریف سے محفو ظ نہیں، ہاں ایک وہم تراشیدہ صورت ناکشیدہ دندان غول کی خواہر پوشیدہ غار سامرہ میں اصلی قرآن بغل کتمان میں دبائے بیٹھی ہے''انالہ لحافظون''کا مطلب یہی ہے یعنی مسلمانوں سے عمل تو اسی محرف مبدل ناقص نامکمل پر کرائیں گے اور اس اصلی جعلی کو ع
برائے نہادن چہ سنگ وچہ زر
(رکھنے کے لئے پتھر اور سونا برابر ہیں۔ت)
کی کھوہ میں چھپائیں گے، گویا''حافظون''کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کو مسلما نوں سے محفوظ رکھیں گے ، انھیں اس کی پر چہائے نہ دکھائیں گے ،بعض ناپاکوں نے اس سے بڑھ کر تاویل نکالی ہے کہ قرآن اگرچہ کتنا ہی بدل جائے مگر علم الٰہی ولوح محفوظ میں تو بدستور باقی ہے، حالانکہ علم الٰہی میں کوئی شے نہیں بدل سکتی ، پھر قرآن کی کیا خوبی نکلی۔ تو ریت وانجیل درکنار، مہمل سے مہمل ردی سے ردی کوئی تحریر جس میں مصنف کا ایک لفظ ٹھکانے سے نہ رہا بلکہ دنیاسے سراسر معدوم ہوگئی ہو علم الٰہی ولوح محفوظ میں یقینا بدستور باقی ہے، ایسی ناپاک تاویلات ضروریات دین کے مقابل نہ مسموع ہوں، نہ ان سے کفر وارتداد اصلا مدفوع ہوں ان کی حالت وہی ہے جو نیچر یہ نے آسمان کو بلندی جبرئیل وملائکہ کو قوت خیر، ابلیس وشیاطین کو قوت بدی، حشر ونشر وجنت ونار کو محض روحانی نہ جسدی بنالیا ۔ قادیانی مرتد نے خاتم النبیین کو افضل المرسلین، ایک دوسرے شقی نے نبی بالذات سے بدل دیا، ایسی تاویلیں سن لی جائیں تو اسلام وایمان قطعاً درہم برہم ہوجائیں، بت پرست لاالٰہ الااﷲ
کی تاویل کر لیں گے کہ یہ افضل واعلی میں حصر ہے یعنی خدا کے برابر دوُسرا خدا ہے وہ سب دوسروں سے بڑھ کر خدا ہے نہ یہ کہ دوسرا خدا ہی نہیں جیسے
لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار
(علی کرم اللہ وجہہ کے بغیر کوئی بہادر جوان نہیں اور ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں۔ ت) وغیرہ محاوراتِ عرب سے روشن ہے یہ نکتہ ہمیشہ یادرکھنے کا ہے کہ ایسے مرتد ان لیام مدعیان اسلام کے مکروہ اوہام سے نجات و شفا ہے
و باللہ التوفق والحمد اﷲ رب العٰلیمن۔
بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے
کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں اُنکے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زناہے، معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے۔، اگر مردسُنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گا، اولاد ولد الزنا ہوگی باپ کا ترکہ نہ پائےگی اگرچہ اولاد بھی سُنی ہی ہو کہ شرعاً ولد ا لزنا کا باپ کوئی نہیں، عورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کےلئے مہر نہیں، رافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔ سُنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلا کچھ حصہ نہیں،ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول ، سلام کلام سب سخت کبیرہ اشد حرام، جوان کے ان ملعون عقیدوں پرآگاہ ہوکر پھر بھی انھیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہے، اور اُس کےلئے بھی یہی سب احکام ہیں جو اُن کےلئے مذکور ہُوئے ،مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوی کو بگوش ہوش سنیں ۔ اور اس پر عمل کرکے سچے پکے مسلمان سنی بنیں