یعنی حق تعالٰی فرماتا ہے ہم خود اُس کے نگہبان ہیں اُس سےکہ کوئی اُسے بدل دے یا اُلٹ پلٹ کر دے یا کچھ بڑھا دے یا گھٹا دے۔
(۲؎ تفسیر جلالین تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ اصح المطابع دہلی ص ۲۱۱)
جمل مطبع مصر جلد ۳ ص ۵۶۱ میں ہے:
بخلاف سائرالکتب المنز لۃ فقد دخل فیھا التحریف والتبدیل بخلاف القران فانہ محفوظ عن ذلک لا یقدر احد من جمیع الخلق الانس و الجن ان یزید فیہ اوینقص منہ حرفا واحد ااو کلمۃ واحدۃ۔۳؎
یعنی بخلاف اور کُتب آسمانی کے کہ اُن میں تحریف و تبدیل نے دخل پایا ۔ اور قرآن اس سے محفوظ ہے ، تمام مخلوق جن وانس کسی کی جان نہیں کہ اُس میں ایک لفظ یا ایک حرف بڑھا دیں یا کم کر دیں۔
(۳؎ الفتوحات الالٰہیہ تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ مصطفی البابی مصر ۲/ ۵۳۹)
اللہ تعالٰی سورۃ حٰم السجدہ میں فرماتاہے:
وانہ لکتب عزیزoلا یأتیہ الباطل من بین ید یہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمیدo۴؎
بیشک یہ قرآن شریف معزز کتاب ہے باطل کو اس کی طرف اصلاً راہ نہیں، نہ سامنے سے نہ پیچھے سے یہ اتارا ہُوا ہے حکمت والے سراہے ہُوئے کا۔
(۴؎ القرآن الکریم ۴۱ / ۴۱و ۴۲)
تفسیر معالم التنزیل شریف مطبوعہ بمبئی جلد ۴ ص ۳۵ میں ہے:
قال قتادۃ والسدی الباطل ھو الشیطان لا یستطیع ان یغیر او یزید فیہ اوینقص منہ قال الزجاج معنا ہ انہ محفوظ من ان ینقص منہ فیأ تیہ الباطل من بین ید یہ اویزادفیہ فیأتیہ الباطل من خلفہ وعلی ھذا المعنی الباطل الزیادۃ والنقصان۔ ۱؎
یعنی قتادہ و سُدی مفسرین نے کہا باطل کہ شیطان ہے قرآن میں کُچھ گھٹا بڑھا بدل نہیں سکتا۔ زجاج نے کہا باطل کہ زیادت و نقصان ہیں قرآن ان سے محفوظ ہے ، کچھ کم ہوجائے تو باطل سامنے سے آئے بڑھ جائے تو پس پشت سے ۔ اور یہ کتاب ہر طرح باطل سے محفوظ ہے۔
(۱؎ معالم التنزیل علی ھامش الخازن تحت آیۃ انہ لکتاب عزیز لا یاٰتیہ الخ(مصطفی البابی مصر ۶/ ۱۱۳)
کشف الاسرار امام اجل شیخ عبدالعزیز بخاری شرح اصول امام ہمام فخر الاسلام بزدوی مطبوع قسطنطنیہ جلد ۳ ص ۸۸ و ۸۹ میں ہے:
کان نسخ التلاوۃ والحکم جمیعا جائزافی حیاۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاما بعد وفاتہ فلا یجوز قال بعض الرافضۃ والملحدۃ ممن یتسترباظھار الاسلام وھو قاصد الی افسادہ ، ھذا جائز بعد وفاتہ ایضاو زعموا ان فی القراٰن کانت اٰیٰت فی امامۃ علی وفی فضائل اھل البیت فکتمھاالصحابۃ فلم تبق باندر اس زما نھم ، والدلیل علی بطلان ھذا القول قولہ تعالٰی انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ، کذافی اصول الفقہ لشمس الائمۃ ملتقطا۔۲؎
قرآن عظیم سے کسی چیز کی تلاوت و حکم دونوں کا منسوخ ہونا زمانہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں جائز تھا، بعد وفات اقدس ممکن نہیں، بعض وہ لوگ کہ رافضی اور نِرے زندیق ہیں بظاہر مسمانی کانام لے کر اپناپردہ ڈھانکتے ہیں اور حقیقۃً انھیں اسلام کو تباہ کرنا مقصود ہے ، وُہ کہتے ہیں کہ یہ بعد وفات والا بھی ممکن ہے ، وُہ بکتے ہیں کہ قرآن میں کچھ آیتیں امامتِ مولا علی اور فضائل اہلبیت میں تھیں کہ صحابہ نے چھپا ڈالیں جب وُہ زمانہ مٹ گیا باقی نہ رہیں اور اس قول کے بطلان پر دلیل خود قرآن عظیم کا ارشاد ہے کہ بیشک ہم نے اتارا یہ قرآن اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ ایسا ہی امام شمس الائمہ کی کتاب اصول الفقہ میں ہے۔
(۲ ؎ کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب تفصیل المنسوخ دارا لکتاب العربی بیروت ۳/ ۸۹ ۔۱۸۸)
امام قاضی عیاض شفا شریف مطبع صدیقی ص ۳۴۶ میں بہت سے یقینی اجماعی کفر بیان کرکے فرماتے ہیں:
وکذلک ومن انکر القراٰن او حرفا منہ اور غیر شیئا منہ اوزادفیہ۔ ۱؎
یعنی اسی طرح وہ بھی قطعاً اجماعاًکافر ہے جو قرآن عظیم یا اس کے کسی حرف کا انکار کرے یا اُس میں سے کچھ بدلے یا قرآن میں اس موجودہ میں کچھ زیادہ بتائے۔
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل فی بیان ماھو من مقالا ت المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۲۷۴)
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مطبع لکھنؤ ص ۶۱۷ میں ہے:
اعلم انی رأیت فی مجمع البیان تفسیر الشیعۃ انہ ذھب بعض اصحابھم الی ان القراٰن العیاذ باﷲ کان زائداعلی ھذا المکتوب المقروء قد ذھب بتقصیر من الصحابۃ الجامعین العیاذ باﷲ لم یختر صاحب ذٰلک التفسیر ھذا القول فمن قال بھذا القول فھو کافر لا نکارہ الضروری۔ ۲؎
یعنی میں نے طبرسی رافضی کی تفسیر مجمع البیان میں دیکھا کہ بعض رافضیوں کے مذہب میں قرآن عظیم معاذ اللہ اس قدر موجود سے زائد تھا جن صحابہ نے قرآن جمع کیا عیاذاً باللہ اُن کے قصور سے جاتا رہا اس مفسر نے یہ قول اختیار نہ کیا، جو اس کا قائل ہو کافر ہے کہ ضروریات دین کا منکر ہے۔
(۲؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفیٰ مسئلہ کل مجتہد فی المسئلۃ الا جتہاد الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۳۸۸)