اشباہ والنظائر قلمی فن ثانی کتاب السیر اور فتاوٰی خیریہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۹۴، ۹۵ اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر ص ۱۸۶ میں ہے:
کافر تاب فتو بتہ مقبو لۃ فی الدنیا والاٰخرۃ الاجماعۃ الکافر بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسائر الا نبیاء وبسب الشیخین اوا حد ھما ۲؎
جو کافر توبہ کرے اس کی توبہ دُنیا و آخرت میں قبول ہے مگر کچھ کافر ایسے ہیں جن کی توبہ مقبول نہیں ایک وُہ جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوا ، دوسرا وہ کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں یا ایک کو بُرا کہنے کے باعث کافر ہوا۔
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب السیر باب المرتدین دارالمعرفہ ّ بیروت ۱/ ۱۰۲)
درمختار میں ہے:
فی البحر عن الجو ھرۃ معزیا للشھید من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولا تقبل توبتہ وبہ اخذ الدبوسی وا بو اللیث وھوا لمختار للفتوی انتھی وجزم بہ الاشباہ واقر ہ المصنف۔۳؎
یعنی بحرالرائق میں بحوالہ جوہر ہ نیرہ شرح مختصر قدوری امام صدر شہید سے منقول ہے جو شخص حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بُرا کہے یا اُن پر طعن کرے وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیں،اور اسی پر امام دبوسی اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے فتوٰی دیا، اور یہی قول فتوٰی کے لئے مختار ہے ، اسی پر اشباہ میں جزم کیا، اور علامہ شیخ الاسلام محمد بن عبداللہ غزی تمر تاشی نے اسے برقرار رکھا۔
(۳؎درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۷)
اور پر ظاہر کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ترکہ نہیں پاسکتا ۔
درمختار صفحہ ۲۸۳ میں:
یعنی رافضیوں کو اُن کے عقائد کفریہ کے باعث کافر کہنا واجب ہے ، یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں اُن کےاحکام بعینہ مرتدین کےاحکام ہیں، ایسا ہی فتاوٰی ظہیریہ میں ہے۔
اور مرتد اصلاً صالح وراثت نہیں، مسلمان تو مسلمان کسی کافر حتی کہ خود اپنے ہم مذہب مرتدکا ترکہ بھی ہر گز اسے نہیں پہنچ سکتا۔ عالمگیری جلد ۶ ص ۴۵۵ میں ہے:
المرتد لایرث من مسلم ولا من مرتد مثلہ کذ افی المحیط۔۱؎
مرتد نہ کسی مسلمان اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا وارث ہو گا، ایسے ہی محیط میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ کتاب الفرائض الباب السادس فی میراث اہل الکفر الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۵)
خزانہ المفتین میں ہے:
المرتد لایرث من احد لامن المسلم ولا من الذمی ولا من مرتد مثلہ۔ ۲؎
مرتد کسی کا بھی وارث نہ بنے گا نہ مسلمان نہ ذمی اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔ (ت)
(۲؎ خزانۃ المفتین کتاب الفرائض قلمی ۲/ ۲۵۰)
یہ حکم فقہی مطلق تبرائی رافضیوں کا ہے اگرچہ تبرا و انکار خلافت شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے سوا ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں،
والا حوط فیہ قول المتکلمین انھم ضلال من کلاب النار لاکفار وبہ ناخذ۔
اس میں محتاط متکلمین کا قول ہے کہ وہ گمراہ اور جہنمی کُتے ہیں کافر نہیں، اور یہی ہمارا مسلک ہے (ت)
اور روافضِ زمانہ تو ہر گز صرف تبرا ئی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکر ان ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقیناً قطعاً کفار مرتدین ہیں یہاں تک کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جو انھیں کافر نہ جانے خود کافر ہے، بہت عقائد کفریہ کے علاوہ دو کفر صریح میں اُن کے عالم جاہل مرد عورت چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں:
کفر اول: قرآن عظیم کو ناقص بتاتے ہیں، کوئی کہتا ہے اُس میں سے کچھ سُورتیں امیر المومنین عثمان غنی ذوالنورین یا دیگر صحابہ اہلسنت رض اللہ تعالٰی عنہم نے گھٹا دیں،کوئی کہتا ہے اُس میں سے کچھ لفظ بدل دئے ، کوئی کہتا ہے یہ نقص و تبدیل اگرچہ یقینا ثابت نہیں محتمل ضرور ہے اور جو شخص قرآن مجید مین زیادت یا نقص یا تبدیل کسی طرح کے تصرفِ بشری کا دخل مانے یا اُسے محتمل جانے بالا جماع کافر مرتد ہے کہ صراحۃً قرآن عظیم کی تکذیب کر رہا ہے ۔
اللہ عز وجل سورہ حجر میں فرماتاہے :
انا نحن نزلناالذکر وانا لہ لحافظون۔ ۳؎
بیشک ہم نے اتارا یہ قرآن اور بیشک بالیقین ہم خوداس کے نگہبان ہیں۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۵/ ۹)
بیضاوی شریف مطبع لکھنؤ صفحہ ۴۲۸ میں ہے:
لحفظون ای من التحریف والزیاۃ والنقص۔۱؎
تبدیل و تحریف اور کمی بیشی سے حفاظت کرنے والے ہیں۔(ت)
(۱؎انوارا التنزیل المعروف بالبیضاوی تحت آیۃ انا نحن نزلنا الذ کر الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۰۰)