المر ادبالمبتدع من یعتقدشیئا علی خلاف مایعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ وانما یجوز الاقتداء بہ مع الکراھۃ اذالم یکن ما یعتقدہ یؤدی الی الکفر عنداھل السنۃ اما لوکان مؤدیا الی الکفر فلا یجوزاصلا کا لغلاۃ من الروافض الذین ید عون الالوھیۃ لعلی رضی اﷲتعالٰی اوان النبوۃ کانت لہ فغلط جبریل و نحو ذٰلک مما ھو کفر و کذامن یقذف الصدیقۃ اوینکر صحبۃ الصدیق اوخلافتہ اویسب الشیخین۔ ۲؎
بد مذہب سے وُہ مراد ہے جو کسی بات کا اہلسنت و جماعت کے خلاف عقیدہ رکھتا ہو ، اور اس کی اقتداء کراہت کے ساتھ اُس حال میں جائز ہے جب اُس کا عقیدہ اہلسنت کے نزدیک کفر تک نہ پہنچا تاہو، اگر کفر تک پہنچائے تو اصلاً جائز نہیں، جیسے غالی رافضی کہ مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کو خدا کہتے ہیں، یا یہ کہ نبوت ان کے لئے تھی جبریل نے غلطی کی۔اور اسی قسم کی اور باتیں کہ کفر ہیں، اور یونہی جو حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو معاذ اللہ اس تہمت ملعونہ کی طرف نسبت کرے یا صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت یا خلافت کا انکار کرے یا شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بُراکہے۔
(۲؎ غنیہ المستملی فصل الاولی بالا مامۃ سہیل اکیڈیمی لاہور ص ۵۱۵)
کفایہ شرح ہدایہ مطبع بمبئ جلد اول اور مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق مطبع احمدی ص ۳۲ میں ہے:
ان کان ھوا ہ یکفر اھلہ کالجھمی و القدری الذی قال بخلق القراٰن والرافضی لغالی الذی ینکر خلافۃ ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ لا تجوز الصلٰوۃ خلفہ۔ ۳؎
بد مذہبی اگر کافر کر دے جیسے جہمی اور قدری کہ قرآن کو مخلوق کہے ، اور رافضی غالی کہ خلافت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انکار کرے اُس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
(۳؎ مستخلص الحقائق باب فی بیان احکام الامامۃ مطبع کانشی رام برورکس لاہور ۱/ ۲۰۲)
(الکفایۃ مع فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۵)
شرح کنز للملا مسکین مطبع مصر جلد اول ص۲۰۸ علی ہامش فتح المعین میں ہے :
فی الخلاصۃ یصح الاقتداء باھل الاھواء الاالجہمیۃ والجبریۃ والقدریۃ والرافضی الغالی ومن یقول بخلق القراٰن والمشبہ ، وجملتاہ ان من کان من اھل قبلتنا ولم یغل فی ھواہ حتی لم یحکم بکونہ کافراتجوزالصلوۃ خلفہ وتکر ہ واراد بالرافضی الغالی الذی ینکر خلافۃ ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ۔۱؎
خلاصہ میں ہے بد مذہبوں کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے سوائے جہمیہ و جبریہ و قدریہ و رافضی غالی قائل خلق قرآن و مشبہ کے اور حاصل یہ کہ اہل قبلہ سے جو اپنی بدمذہبی میں غالی نہ ہو یہاں تک کہ اُسے کافر نہ کہاجائے اُ س کے پیچھے نماز بکراہت جائزہے۔ اور رافضی غالی سے وہ مراد ہے جو صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کا منکر ہو۔
(۱؎ شرح کنز للملا مسکین علی ہامش فتح المعین باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۰۸)
طحطاوی علی مرقی الفلاح مطبع مصر ۱۹۸ میں ہے: ان انکر خلافۃ الصدیق کفر و الحق فی الفتح عمر بالصدیق فی ھذا الحکم والحق فی البرھان عثمان بھما ایضا ولا تجوز الصلوۃ خلف منکر المسح علی الخفین او صحبۃ الصدیق ومن یسب الشیخین اویقذف الصدیقۃ ولا خلف من انکر بعض ماعلم من الدین ضرورۃ لکفرہ ولا یلتف الٰی تاویلہ و اجتھادہ۲؎
یعنی خلافتِ صدیق رضی اللہ تعالٰی کا منکر کافرہے اور فتح القدیر میں فرمایا کہ خلافتِ فاروق رضی اللہ تعالٰی کا منکر بھی کفر ہے، اور برہان شرح مواہب الرحمن میں فرمایا خلافت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے اور نماز اس کے پیچھے جائز نہیں جو مسحِ موزہ یا صحابیتِ صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر ہو یا شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بُرا کہے یاصدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تہمت رکھے، اور نہ اس کے پیچھے جو ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو کہ وہ کافر ہے اور اُس کی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا نہ اس جانب کہ اس نے رائے کی غلطی سے ایسا کہا۔
(۲؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الا مامۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵)
نظم الفرائد منظومہ علامہ ابن وہبان مطبوعہ مصر ہامش مجیبہ ص ۴۰ اور نسخہ قدیمہ قلمیہ مع الشرح فصل من کتاب السیر میں ہے:؎
ومن لعن الشیخین اوسب کافر ومن قال فی الاید ی الجوارح اکفر
وصحح تکفیرمنکرخلافت ال عتیق فی الفاروق ذٰلک الاظھر ۳؎
جو شخص حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما پر تبرابکے یا بُرا کہے کافر ہے ، اور جو کہے ید اللہ سے ہاتھ مراد ہے وُہ اس سے بڑھ کر کافر ہے اور خلافتِ صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے انکار میں قول مصحح تکفیر ہے اور یہی دربارہ انکار خلافتِ فاروق رضی اللہ تعالٰی اظہرہے۔
(۳نظم الفرائد منظومہ علامہ ابن وہبان)
تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للعلا مہ الشر نبلالی قلمی کتاب السیر میں ہے:
الرافضی اذاسب ابا بکر و عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما ولعنھما یکون کافر اوان فضل علیھما علیالا یکفر و ھو مبتدع۔۱؎
رافضی اگر شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بُرا کہے یا اُن پر تبرابکے کافر ہو جائے، اور اگر مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کو اُن سے افضل کہے کافر نہیں گمراہ بد مذہب ہے۔
(۱؎ تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للشرنبلالی)
اسی میں وہیں ہے۔
من انکر خلافۃ ابی بکرالصدیق فھو کافر فی الصحیح وکذامنکر خلافۃ ابی حفص عمر ابن الخطاب رضی اﷲتعالٰی عنہ فی الاظھر۔ ۲؎
خلافتِ صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر مذہب صحیح پر کافر ہے ، اور ایسا ہی قولِ اظہر میں خلافتِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر بھی۔
(۲؎تیسیر المقاصد شرح وہبانیہ للشرنبلالی)
فتوی علامہ نوح آفندی ، پھر مجموعہ شیخ الاسلام عبید اللہ آفندی، پھر مغنی المستفتی عن سوال المفتی، پھر عقودالدریۃ مطبع مصر جلد اول ص ۹۲ ، ۹۳ میں ہے:
الروافض کفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر منھا انھم یسبون الشیخین سوداﷲ وجوھھم فی الدارین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر ملتقطا ۔ ۳؎
رافضی کافر ہیں طرح طرح کے کفر وں کے مجمع میں ازانجملہ خلافت شیخین کا انکار کرتے ہیں ازانجملہ شیخین کو بُرا کہتے ہیں: اللہ تعالٰی دونوں جہان میں رافضیوں کا منہ کالا کرے ، جو ان میں کسی بات سے متصف ہو کافرہے۔ ملتقطا۔
(۳؎ عقودالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/۴، ۱۰۳)
اُنھیں میں ہے:
اماسب الشیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما فانہ کسب النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وقال اصدر الشہیدمن سب الشیخین اولعنھما یکفر ۔ ۱؎
شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو بُراکہنا ایسا ہے جیسے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنا ، اور امام صدر شہید نے فرمایا:جو شیخین کو بُرا کہے یا تبرابکے کافر ہے۔
(۱؎ عقو دالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۴)
عقووالدریہ میں بعد نقل فتوٰی مذکورہ ہے:
وقد اکثر مشانخ الاسلام من علماء الدولۃ العثمانیۃ لا زالت مؤید ۃ بالنصرۃ العلیۃ الافتاء فی شان الشیعۃ المذکورین وقد اشبع الکلام فی ذٰلک کثیر منھم والّفوافیہ الرسائل وممن افتی بنحوذٰلک فیھم المحقق المفسر ابوا السعود اٰفندی العما دی و نقل عبارتہ العلامۃ الکواکبی الحلبی فی شرحہ علی منظومتہ الفقھیۃ المسماۃ بالفرائد السنیۃ۔ ۲؎
علمائے دولتِ عثمانیہ کہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے موید رہے، اُن سے جو اکابر شیخ الاسلام ہوئے انھوں نے شیعہ کے باب میں کثرت سے فتوے دئے ، بہت نے طویل بیان لکھے اور اس بارے میں رسالے تصنیف کئے، اور انھیں میں سےجنھوں نے روافض کے کفر و ارتداد کا فتوٰی دیا ۔ محقق مفسر ابو سعود آفندی عمادی (سردار مفتیان دولت علیہ عثمانیہ ) ہیں اور اُس کی عبارت علامہ کو اکبی حلبی نے اپنے منظومہ فقہیہ مسمی بہ فرائد سنیہ کی شرح میں نقل کی۔
(۲؎عقو دالدریۃ باب الردۃ والتعزیر ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۵)
اشباہ قلمی فن ثانی باب الرواۃ اور اتحاف ص ۱۸۷ اور انقروی جلد اول ص ۲۵ اور واقعات المفتین ص ۱۳ سب میں مناقب کردری سے ہے:
یکفر اذا انکر خلاتھما او یبغضھمالمحبۃ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لھما۔ ۳؎
جو خلافت شیخین کا انکار کرے یا اُن سے بغض رکھے کافر ہے کہ وُہ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے محبوب ہیں۔