Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
42 - 150
بسم اللہ الرمن الرحیم

مسئلہ۳۴ : از سیتا پور مرسلہ جناب حکیم سید محمد مہدی صاحب    ۲۴ ذیقعدہ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بی بی سیّدہ سُنی المذہب نے انتقال کیا اس کے بعض بنی عم رافضی تبرائی ہیں، وہ عصبہ بن کر ورثہ سے ترکہ چاہتے ہیں حالانکہ روافض کے یہاں عصوبت اصلاً نہیں ، اس صورت میں وہ مستحق ارث ہو سکتے ہیں یا نہیں؟بیتنوا تؤجروا۔
الجواب

الحمد ﷲ الذی ھداناوکفانا، واواناعن الرفض والخروج،وکل بلاء نجانا، والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدناومولٰناوملجاناوماوانا محمدواٰلہ وصحبہ الاولین ایماناوالاحسنین احساناوالامکنین ایقاناآمین!
سب حمدیں اس اللہ تعالٰی کےلئے جس نے ہمیں ہدایت دی اور رفض اور خروج سے کفایت اور پناہ دی اور ہر بلاء سے نجات دی، اور صلٰوۃ و سلام ہو ہمارے آقا، مولٰی ، ہمارے ملجا اور ماوٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کی آل و صحابہ پر جو ایمان لانے میں پہلے اور نیکی، میں احسن اور ایمان و یقین میں پختہ ہیں، آمین!

صورتِ مستفسرہ میں یہ رافضی اس مرحومہ سیدہ سنّیہ کے ترکہ سے کچھ نہیں پاسکتے اصلاً کسی قسم کا استحقاق نہیں رکھتے اگرچہ بنی عم نہیں خاص حقیقی بھائی بلکہ اس سے بھی قریب رشتے کے کہلاتے اگرچہ وُہ عصو بت کے منکر نہ بھی ہوتے کہ اُن کی محرومی دینی اختلاف کے باعث ہے ۔
سراجیہ میں ہے:
موانع الارث اربعۃ (الی قولہ) واختلاف الدینین۔۱؎
وراثت کے موانع چار ہیں، دین کا اختلاف ، تک بیان کیا ۔ (ت)
 (۱؎ سراجی فی  المیراث    فصل فی الموانع    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۴)
تحقیق مقام و تفصیل مرام یہ ہے کہ رافضی تبرائی جو حضرات شیخین صدیق اکبر و فاروق  اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما خواہ اُن میں سے ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے اگرچہ صرف اس قدرکہ انھیں امام و خلیفہ بر حق نہ مانے۔ کتب معتمدہ فقہ حنفی کی تصریحات اور عامہ ائمہ ترجیح و فتوٰی کی تصحیحات پر مطلقاً کافر ہے۔
درمختار مطبوعہ مطبع ہاشمی صفحہ۶۴ میں ہے:
ان انکربعض ما علم من الدین ضرورۃ کفربھا کقولہ ان اﷲ تعالٰی جسم کالاجسام وانکارہ صحبۃالصدیق۔۲؎
اگر ضروریاتِ دین سے کسی چیز کا منکر ہو تو کافر ہے مثلاً یہ کہنا کہ اللہ تعالٰی اجسام کے مانند جسم ہے یا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صحا بیت کا منکر ہونا۔
 (۲؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۸۳)
طحطاوی حاشیہ در مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۴۴ میں ہے:
وکذاخلا فتہ ۳؎
 (اور ایسے ہی آپ کی خلافت کا انکار کرنابھی کفر ہے۔
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الامامۃ    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۴۴)
فتاوٰی خلاصہ قلمی کتاب الصلوۃ فصل ۱۵ اور خزانۃ المفتین قلمی کتاب الصلوۃ فصل فی من یصح الا قتداء بہ ومن لا یصح میں ہے:
الرافضی ان فضل علیا علی غیرہ فھومبتدع ولوانکرخلافۃ الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ فھوکافر۔۴؎
رافضی اگر مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کو سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے افضل جانے تو بدعتی گمراہ ہے اور اگر خلافتِ صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر ہو تو کافر ہے۔
 (۴؎خزانۃ المفتین    کتاب الصلوۃ فصل من یصح الاقتداء بہ ومن لا یصح قلمی ۱/ ۲۸)
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص ۲۴۸  اور حاشیہ تبیین العلامہ احمد شلبی مطبوعہ مصر جلد اول ص۱۳۵میں ہے:
فی الرافض من فضل علیاعلی الثلا ثۃ فمبتدع وان انکرخلافۃ الصدیق اوعمررضی اﷲعنھما فھوکافر۔۱؎
رافضیوں میں جو شخص مولٰی علی کو خلفاء ثلاثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق یافاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو کافرہے۔
 (۱؎ حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الصلوۃ باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبری الا میر یہ مصر    ۱/ ۱۳۵)
وجیزامام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے:
من انکرخلا فۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فھو کافرفی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح  ۔ ۲؎
خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافرہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ رتعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے،
 (۲؎ فتاوٰ ی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ            نوع فیما یتصل بہا مما یجب اکفارہ من اہل البدع      نورانی کتب خانہ  پشاور    ۶/ ۳۱۸)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ مصر جلد اول ص ۱۳۴ میں ہے:
قال المرغینانی تجوز الصلوۃ خلف صاحب ھوی و بد عۃ ولا تجوز خلف الرافضی والجھمی و القدری والمشبہ ومن یقول بخلق القراٰن، حاصلہ ان کان ھوی لا یکفر بہ صاحبہ تجوز مع الکراھۃ والا فلا۔ ۳؎
امام مرغینانی نے فرمایا بد مذہب بد عتی کے پیچھے نماز ادا ہو جائیگی اور رافضی ، جہمی، قدری ، تشبہی کے پیچھے ہوگی ہی نہیں، اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر اُ س بد مذہبی کے باعث وُہ کافر نہ ہو تو نماز اُس کے پیچھے کراہت کے ساتھ ہو جائے گی ورنہ نہیں۔
 (۳؎ تبیین الحقائق کتاب الصلوۃ باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبری الامیر یہ مصر        ۱/ ۱۳۴)
فتاوٰی عالمگیر یہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۸۴ میں اس عبارت کے بعد ہے:
ھکدافی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذافی البدائع۔
ایساہی تبیین الحقائق و خلاصہ میں ہے اور یہی صحیح ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔

اُسی کی جلد۳ صفحہ ۲۶۴ اور بزازیہ جلد ۳ صفحہ۳۱۹ اور الاشباہ قلمی فن ثانی کتاب السیر اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر صفحہ ۱۸۷ اور فتاوی انقرویہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۵ اور واقعات المفتین مطبوعہ مصر ص۱۳ سب میں فتاوٰی خلاصہ سے ہے:
االرافضی ان کان یسب الشیخین و یلعنھما والعیاذ باﷲ تعالٰی فھو کافر وان کان یفضل علیا کرم اﷲتعالٰی وجہہ علیھما فھو مبتدع۔ ۱؎
رافضی تبرائی جو حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو معاذ اللہ بُرا کہے کافر ہے، اور اگر مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کو صدیق اکبر اور عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی سے افضل بتائے تو کافر نہ ہوگا مگر گمراہ ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی  ہندیۃ     نوع فیما یتصل بہا    نورانی کتب خانہ پشاور     ۶/ ۳۱۹)
اُسی کے صفحہ  مذکورہ اور بر جندی شرح نقایہ مطبوعہ لکھنؤ جلد ۴ص ۲۱ میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
من انکر امامۃ ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر وعلی قول  بعضھم ھو مبتدع ولیس بکافر والصحیح انہ کافر و کذٰلک من انکر خلافۃ عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ فی اصح الاقوال۔ ۲؎
امامت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا منکر کافر ہے، اور بعض نے کہا بد مذہب ہے کافر نہیں، اور صحیح یہ ہے کہ وُہ کافر ہے، اسی طرح خلافت فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر بھی صحیح قول پر کافر ہے۔
 (۲؎ بر جندی شرح نقایہ کتاب الشہادۃ    فصل یقبل الشہادۃ من اہل الھواء نو لکشور لکھنؤ    ۴/ ۲۰،۲۱)
وہیں فتاوٰ ی بزازیہ سے ہے:
ویجب اکفارھم باکفار عثمان و علی وطلحۃ و زبیر و عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ ۳؎
رافضیوں، ناصبیوں اور خارجیوں کا کافر کہنا واجب ہے اس سبب سے کہ وہ امیرالمومنین عثمان و مولی علی و حضرت طلحہ و حضرت زبیر و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کو کافرکہتے ہیں۔
 (۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیۃ نوع فیمایتصل بہا مما یجب اکفارہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۱۸)
بحرالرائق مطبوعہ مصر جلد ۵ ص ۱۳۱ میں ہے:
یکفر بانکارہ امامۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ علی الا صح کا نکارہ خلافۃ عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ علی الاصح۔۴؎
اصح یہ ہے کہ ابو بکر یا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی  امامت و خلافت کا منکر کافرہے۔
 (۴؎ بحرالرائق         باب احکام المرتدین    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۵/ ۱۲۱)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر مطبوعہ قسطنطنیہ جلد اول ص ۱۰۵ میں ہے:
الرافضی ان فضل علیا فھو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فھو کافر۔ ۵؎
رافضی اگر صرف تفضیلیہ ہو تو بد مذہب ہے اور اگر خلافتِ صدیق کا منکر ہو تو کافر ہے۔
 (۵؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الصلٰوۃ فصل الجماعۃ سنۃ موکدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۱۰۸)
اُسی کے صفحہ ۱۳۶ میں ہے:
یکفر بانکار ہ صاحبۃ ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہ وبانکارہ امامتہ علی الاصح وبانکارہ صحبۃ عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ علی الاصح۔ ۱؎
جو شخص ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صحابیت کا منکر ہو کافر ہے۔ یُونہی جو اُن کے امامِ برحق ہونے کاانکار کرنے مذہب اصح میں کافر ہے، یونہی عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صحابیت کا انکار قول اصح پرکفر ہے۔
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد فصل ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۹۲)
Flag Counter