Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
41 - 150
خزانۃ الفقہ پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
لوقذف عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا بالزنی کفرباﷲ تعالٰی ۱؎۔
اگر کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاپر تہمت زنا لگائی تو اس نے اللہ تعالٰی کے ساتھ کفرکیا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    الباب التاسع فی احکام المرتدین    نورانی کتب خانہ پشاور        ۲/ ۲۶۴)
شرح ملتقی الابحر میں ہے:
یکفربقولہ لاادری ان النبی فی القبر مؤمن اوکافر وبقولہ ماکان علینا نعمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لان البعثۃ من اعظم النعم وبقذفہ عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا وانکارہ صحبۃ ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۲؎۔
اگر کسی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی قبر میں حالت ایمان میں ہے یا کفر میں، تو کافر ہوجائے گا، اسی طرح کافرہوجائے گااگر یہ کہتاہے کہ  ہم پر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کوئی نعمت نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ یا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پرتہمت لگاتاہے یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کاانکار کرتاہے۔ (ت)
 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب المرتد            داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۶۲)
توپسر زید اگر مرتد نہ تھا اب مرتدہوگیا،

 خزانۃ المفتین وظہیریہ وعٰلمگیریہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں منکران ضروریات دین رافضیوں کے بارہ میں ہے:
ھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامہا احکام المرتدین ۱؎۔
یہ لوگ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں اور ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب التاسع فی احکام المرتدین        نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۶۴)
اس کے مرتدہوتے ہی نکاح فورا فورا فسخ وباطل ہوگیا،

 تنویر الابصار و شرح علائی میں ہے:
ارتداداحدالزوجین فسخ عاجل بلاقضاء ۲؎۔ (ملخصا)
زوحین میں سے کسی ایک کے مرتد ہوجانے  سے بلاتاخیر نکاح فسخ ہوجاتاہے (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب نکاح الکافر            مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۱۰)
عورت کو حرام قطعی ہے کہ اسے شوہر سمجھے زید پر حرام قطعی ہے کہ دختر کور خصت کرے اگر قربت واقع ہوگئی زنائے خالص ہوگا اگر اولاد ہوگئی ولدالزنا ہوگی،
درمختارمیں ہے:
فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ۳؎۔
شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں  ہے کہ جو چیز بالاتفاق کفر ہو اس سے عمل اورنکاح باطل ہوجاتاہے اور اس کی اولاد ولدالزنا قرار پاتی ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار         باب المرتد               مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۹)
اگر بالفرض پسر بکر اب اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے بلکہ حقیقۃً سچا پکا خالص مخلص وسنی ہوجائے تو نکاح کہ فسخ وباطل ہوگیا عود نہیں کرسکتا نہ عورت پر جبر ہوسکتا ہے کہ اس سے از سرنو نکاح کرے۔
جامع الفصولین میں ہے:
لوارتد ھو لاتجبر المرأۃ علی التزوج ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم
اگرخاوند مرتد ہوجائے تو عورت کو (دوبارہ) نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۴؎ جامع الفصولین    الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۱۷)
Flag Counter