الولد یتبع خیر الابوین دینا ۵؎۔
بچہ اپنے والدین میں سے ا س کے تابع ہوگا جو دین کے اعتبار سے بہتر ہوگا۔ (ت)
(۵؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۰)
شامی میں بعدذکر حدیث کل مولود یولد علی الفطرۃ فرمایا:
انھم قالوا انہ جعل اتفاقہما ناقلالہ عن الفطرۃ ۶؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فقہاء نے فرمایا ماں باپ کے کفر پر اتفاق نے بچے کو فطرت سے ہٹادیا۔ (ت)
(۶؎ ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۹۴)
مسئلہ ۳۲: ا ز ملک بنگال موضع رام پور ڈاکخانہ کجرہ ضلع پیرہ حال مقام خواجہ قطب بریلی محمدالہ طالبعلم ۱۲ ربیع الاول ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کو انگریزی پڑھنا جائز ہے یانہیں؟ اور بعض انگریزی خواں کہتے ہیں کہ مولوی لوگ کیا جانتے ہیں۔ کیا اس لفظ سے علم کی حقارت نہیں ہوتی؟ اگر ایسا کہے تو کافر ہوگایا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
ایسی انگریزی پڑھنا جس سے عقائد فاسد ہوں اور جس سے علمائے دین کی توہین دل میں آئے انگریزی ہو خواہ کچھ ہو ایسی چیز پڑھنا حرام ہے، اور یہ لفظ کہ ''مولوی لوگ کیاجانتے ہیں'' اس سے ضرور علماء کی تحقیر نکلتی ہے اور علمائے دین کی تحقیر کفرہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولئن سألتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل اباﷲ وایاتہ ورسولہ کتم تستھزء ون لاتعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم۱؎۔
اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما وابن جریر عن زید بن اسلم وعن محمد بن کعب وغیرہما قال رجل فی غزوۃ تبوک فی مجلس یوما مارأینا مثل قرأتنا ھٰؤلاء ولا ارغب بطونا ولااکذب السنۃ ولااجبن عند اللقاء فقال رجل فی المجلس کذبت ولکنک منافق لاخبرن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فبلغ ذلک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ونزل القرآن قال عبداﷲ فانا رأیتہ متعلقا ناقتہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم والحجارۃ تنکیہ وھو یقول یارسول اﷲ انما کنا نخوض ونلعب والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول اباﷲ وایاتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اوراگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے ہم تو دلچسپی او رکھیل کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کیا اللہ تعالٰی اس کی نشانیوں اوراس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہو بہانے نہ بناؤ تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے ، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ اورابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ابن جریر نے حضرت زید بن اسلم اور محمد بن کعب وغیرہما رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حدیث کی تخریج کی کہ ایک شخص نے ایک دن ایک مجلس میں غزوہ تبوک کے موقعہ پر کہا کہ ہم نے اپنے ان قاریوں کی ماننداور نہ دیکھے نہ کھانے کے لالچی اور نہ زبان کے جھوٹے اور نہ دشمن کے مقابل میں بزدل۔ تو اس مجلس میں ایک شخص نے کہا توجھوٹ کہتاہے تو منافق معلوم ہوتاہے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ضرور اس بات کی خبردوں گا تو اس کی یہ بات حضور اکرم کو معلوم ہوئی اور قرآن نازل ہوا حضرت عبداللہ نے فرمایا تو میں نے اس شخص کوحضور اکرم کی اونٹنی کے تنگ کے ساتھ لٹکا ہوادیکھا پتھر اسے زخمی کررہے تھے او روہ کہہ رہا تھا یا رسول اللہ ! ہم تو دلچسپی اورکھیل کررہے تھے ، اور حضو رعلیہ الصلوٰۃ واسلام اس کو فرمارہے تھے کیااللہ تعالٰی ، اس کی آیات اور اس کے رسول سے تم ٹھٹھاکرتے ہو۔ واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹ / ۶۵)
(۱؎ تفسیر درمنثور بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم وابی شیخ وابن مردویہ تحت آیہ انما کنا نخوض مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۳/ ۴۵۴)
(جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیہ انما کنا نخوض ونلعب المطبعۃ المیمنۃ مصر ۱۰/ ۱۰۴ و ۱۰۵)
مسئلہ ۳۳: از بریلی محلہ چک شہر کہنہ مسئولہ صفدر علی خاں ومبارک علی خاں ربیع الثانی ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین کہ زید سنی المذہب نے بکر کو سنی باور کرکے اپنی لڑکی نابالغہ کا بکر کے نابالغ لڑکے کے ساتھ اس کو سنی باور کرکے ولایۃً نکاح کردیا مگر بوجہ نابالغ ہونے کے رخصتی نہیں ہوئی، اور آمدورفت بھی دونوں کی نہیں ہوئی نہ یکجائی ہوئی، سات سال کے بعد دونوں کو بلوغ ہوا، زید کو یہ اطلاع ملی کہ بکر بھی پکا سنی نہیں اور اس کا بیٹا قطعی رافضی ہے جس کا ثبوت یہاں تک پہنچ گیاہے کہ اس کے معمولی عمل میں ظاہر ہوتاہے نما زشیعہ کی پڑھتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کا قذف کرتاہے اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحابیت کا منکر ہے اور تبرا کہتاہے اور ایسے مجالس میں شرکت کرتاہے جس میں سنی شریک نہیں ہوتے ہیں۔ زید نے اسی خبر کو سن کر رخصتی سے انکار شروع کیا اس پربکر نے رخصت کرانے کی ضرورت سے لڑکے کو اس بات پر آمادہ کیا کہ لڑکا اپنے کو سنی ظاہر کرے چنانچہ ازراہ تقیہ لڑکے نے اپنے کو سنی ظاہر کیا لیکن کوئی ثبوت لڑکے کے سنی ہونے کا زید کو نہیں ملا بلکہ حال میں ۱۱محرم ۱۳۳۳ھ کو مقام مرزا گنج پر ایک شخص جماعت اہل سنت والجماعت کومدح صحابہ پڑھنے سے بااعلان اسی لڑکے نے روکا اوراپنے ایک ملازم شیعہ مذہب سے پٹوایا اوراس کے باپ یعنی بکرنے حکام سے مدح صحابہ بااعلان کئے جانے کی شکایت کی اس وجہ سے حکام جمع ہوئے تو کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین متین کہ لڑکی جس کانابالغیت میں نکاح کیا گیا وہ لڑکی کہ حالت موجودہ میں منظور نہیں ہے، اور زید کو بھی انکار ہے آیا نکاح باقی رہا یافسخ ہوگیا۔ فقط
الجواب: ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قذف کفر خالص ہے، صدیق اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کی صحابیت کا انکار کفر خالص ہے، اسی طرح تبرائیاں زمانہ میں اور بھی کفر وارتداد کی قطعی وجوہ ہیں جن کی تفصیل ردالرفضۃ میں ہے اور ان کا کافر مرتد ہونا عامہ کتب معتمدہ خلاصہ وفتح القدیروظہیریہ وعالمگیری وردالمحتار و عقود الدریۃ و بحرالرائق و نہر الفائق وتبیین الحقائق وبدائع وبزازیہ وبرجندی وانقرویہ و واقعات المفتین و اشباہ ومجمع الانہر وطحطاوی علی الدر وغنیہ ونظم الفرائد وبرہان شرح مواہب الرحمن وتیسیر المقاصدوشرح وہبانیہ ومغنی المستفتی وتنویر الابصار ومنح الغفار واصول امام شمس الائمہ وکشف البزدوی وشفاء شریف و روضہ امام نووی واعلام ابن حجر وکتاب الانوار وشرح عقائد ومنح الروض وفواتح الرحموت وارشاد الساری وفتاوٰی علامہ مفتی ابوسعود وعلامہ نوح آفندی وشیخ الاسلام عبداللہ آفندی واحمد مصری علی مراقی الفلاح وشلبی علی الزیلعی وغیرہما سے ثابت وروشن ہے،