| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
مسئلہ۳۰:از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مدرسۃ الحدیث مرسلہ مولانا سورتی ۴ذی القعدہ۱۳۳۲ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اس شخص کے حق میں جس نے سید صحیح النسب بالخصوص اور تمام سادات گیلانیہ اولاد حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو علی العلوم سواچار پیروں کے برسر بازار علٰی رؤس الاشہاد یہودی، نصرانی خنزیر، کتا وغیرہ وغیرہ بری گالیاں کہے ہوں اور اوصاف ذمیمہ مذکورہ ان حضرات کے حق میں اعتقاداً استعمال کئے ہوں اور کرتا رہے ازروئے شرع اس شخص اور اس کے مددگاروں کا خواہ مولوی کہلاتے ہوں یا سیٹھ وغیرہ کیا حکم ہے؟بینوابحوالۃ الکتاب تؤجروایوم الحساب،اس سوال کا جواب مجھے کسی کتاب میں نہ ملا اس وجہ سے حضور کو تکلیف دیتا ہوں۔
الجواب ایسے شخص کو ازسرِ نو تجدید اسلام چاہئے اور اگر عورت رکھتا ہوتو اس سے بعد توبہ و تجدید اسلام پھر نکاح کرے کہ علمائے کرام نے ایسے شخص پر حکمِ کفر فرمایا ہے،
مجمع الانہر میں ہے:
والاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر۔۱؎
سادات اور علماء کی بے عزتی کرنا کفر ہے، جو شخص تحقیر کے ارادے سے عالم کو عویلم اور علوی کو علیوی کہے وہ کافر ہوجاتا ہے۔(ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)
رہے اس کے معاونین خواہ مولوی کہلاتے ہوں یا سیٹھ اگر خود ان کلمات ملعو نہ میں اس کے معاون ہیں یا ان کو جائز رکھتے ہیں یا ہلکا جانتے ہیں تو ان سب کا بھی یہی حکم ہے جو اس کا ہے، اور اگر ایسا نہیں جب بھی ایسے شخص کے ساتھ میل جول کے سبب عاصی ومخالف حکم شرع ہیں۔
قال اﷲ عزوجل واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعدالذکری مع القوم الظلمین ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورجو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۶/۶۸)
قال اﷲ عزوجل ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۳؎۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳)
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔ (ت) والعیاذ باللہ تعالٰی: واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: از کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ سیداکبر شاہ طالب علم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص مرزائی کے نابالغ لڑکے کابخیال "
مامن مولود الایولد علی الفطرۃ"
(ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتاہے۔ ت) حنفی اگر امام کے پیچھے جنازہ کی نماز اداکرے تو عندالشرع درست ہے یا نہیں؟ پڑھنے والا ثواب کا مستحق ہو گایانہیں؟ حنفیوں پر دیکھنے ایسی میت سے نماز جنازہ واجب ہوگی گی یانہ؟ بینواتوجروا
الجواب اگر مرزائی کا بچہ سات برس یا زائد کی عمر کا تھا، اچھے کی تمیز رکھتاتھا او راس حالت میں اس نے اپنے باپ کے خلاف پر دین اسلام اختیار کیااور قادیانی کو کافر جانا اسی پر انتقال ہوا تو وہ ضرور مسلمان تھا، مسلمانوں پراسے غسل وکفن دینا اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا مقابر مسلمین میں دفن کرنا فرض ہے۔ اورممکن ہو تو اس کے باپ وغیرہ کفار کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیں جس طرح حضور اقد س علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام نے یہودی کو اس کے بیٹے کے سرہانے سے اٹھادینے کا حکم فرمایا جبکہ وہ نزع میں اسلام لاکر انتقال کرگیا، اور اگر اسی عمرو تمیز میں اپنے باپ کی طرح کفر بکتاتھاتویقیناکافر تھا۔اب وہ سب کام مسلمان پرحرام ہیں،نہ غسل دیں نہ کفن دیں نہ دفن میں شریک ہوں، اور ان سب سے بدتر ا س کے جنازہ پر نماز ہے کہ خود کفر کا پہلو رکھتی ہے اور اگر اس سے کفر یا اسلام کچھ ظاہر نہ ہوا یا نا سمجھ بچہ تھا کہ اس تمیز کے قابل ہی نہ تھا تو اب یہ دیکھا جائے گا اور اس کی ماں بھی اس کے باپ کی طرح قادیانی یا اورکسی کفری عقیدہ والی ہے توہ بچہ بھی کافر سمجھا جائے گا، اوراس کے لئے وہ سب کام مسلمانوں پر حرام ہوں گے اور اگر ماں مسلمان ہے تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتی ہے اور قادیانی کو کافر جانتی ہے تو اس صورت میں وہ بچہ جس سے کفر خود ظاہر نہ ہوا اور نابالغی میں مرگیا اپنی ماں کا تابع قر ار پاکر مسلمان سمجھا جائے گا ا ور وہ سب کام اہل اسلام پر واجب ہوں گے حدیث "مامن مولود" اس حالت میں نابالغ ہے کہ بچہ سمجھ وال ہو کر خود کفر نہ کرے نہ نا سمجھی کی حالت میں ماں باپ دونوں کافر ہوں ورنہ اگر خود کفر کیا تو اچھی فطرت سے بدلا اور اگر خود سمجھ وال ہوکر اسلام نہ لایا اگر چہ کفر بھی نہ کیا اور ماں باپ دونوں کافر ہیں تو
" ثم ابواہ یھودانہ" ۱؎
(پھر اس کے والدین اسے یہودی بنادیں۔ ت) میں داخل ہے اورحکم کفر اسے شامل ہے۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۶)
تنویر میں ہے:
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ والعاقل الممیز ۱؎۔
جب عقلمند بچہ مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد اس کےاسلام کی طرح صحیح ہوگا اور عاقل سے مراد امتیاز کرنے والا ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۱)
درمختارمیں ہے:
وھوا بن سبع فاکثر مجتبی وسراجیۃ ۲؎۔
وہ سات سال یا اس سے زائد عمر کا ہو۔ مجتبٰی سراجیہ۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۱)
اسی میں ہے:
زوجان ارتدا فولدت ولد ایجبر علی الاسلام لتبعیتہ لابویہ ۳؎۔ (ملخصا)
خاوند وبیوی دونوں مرتد ہوگئے، عورت نے بچہ جنا تو اسے اسلام پر مجبور کیاجائے گا کیونکہ دین میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے۔ (ملخصا) (ت)
(۳؎ درمختارشرح تنویر الابصار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۱)