Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
38 - 150
ماقولکم ایھا العلماء الکرام دام فضلکم
 (اے علماء کرام اﷲ تمہیں بزرگی عطافرمائے اس بارے میں تمہارا کیا قو ل ہے۔ت) ایک عورت بالغہ کافرہ دختر ہنود کا بیاہ اس کی قوم کے ایک مردسے ہوا، پر قبل ملاقات ویکجا ہونے و بات چیت ہونے کے اس مرد سے ،باپ عورت مذکورہ کا بعضی خرابیوں کے خیال سے اس مرد ہنود سے دختر کو اپنی چھڑالایا، اور اس مرد ہنود نے عورت مذکورہ کو چھوڑ کر دوسرا بیاہ اپنی قوم میں کرلیا، عورت مذکورہ بعد اس کے کئی سال ماں باپ کے یہاں رہ کر محنت مزدوری سے بسر اوقات کرتی تھی، اسی حالت میں اسے توفیق قبول اسلام کی ملی، ماں باپ سے پوشیدہ اسلام لاکر ایک مسلمان سے اس نے بہ گواہی دومرد مسلمان بالغ عاقل کے نکاح کرلیا، نکاح کے ایک سال کے بعد اس ناکح سے اس عورت کو ایک دختر پیدا ہوئی، جس کی عمر اس وقت پانچ سال سے متجاوز ہے اور وہ دختر اپنی ماں کے ساتھ اس مکان میں رہا کرتی ہے جس مکان کو ناکح کے باپ نے اس دختر اور اس کی ماں کے رہنے کو دیا ہے بسبب اسلام لانے اور مسلمان سے نکاح کرنے کے اس عورت کے ماں باپ بہنیں کافرہ کو رنج وعناد ہوا، بہت کچھ فکر اس کے پھیرنے کی اسلام سے اور مردسے چھڑانے کی کرکے سب طرح عاجز ہوکر اب کہ اس دختر کا کان بطریقہ رواجِ مسلماناں چھدوایا گیا اور اس کی دینی تعلیم دینے کا ارادہ ماں باپ نے اس کے ظاہر کیا، عناد ماں باپ بہنیں کافرہ کا اس عورت نومسلمہ سے بڑھ گیا، کمال عناد سے اس دختر کے ہندو بنانے کی فکر میں ہو کر یہ افتراء شروع کیا ہے کہ دختر مذکورہ کو محض جھوٹ وغلط مرد ہندو کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے مادر دختر کو گاہے اتفاق ملاقات ویکجا ہونے و بات چیت کرنیکا بھی موقع نہیں ہوا اور بناء بر اس افترا کے اس دختر کے اس کے ماں باپ سے چھڑاکر اپنے یہاں لے جاکر ہندو بناکر ہنود سے شادی بیاہ اس کا کرنا چاہتے ہیں، بعضے ہنود جو تعصب مذہبی رکھتے ہیں اور بعضے وہ مسلمانان جن کو ماں باپ بہنیں کافرہ مذکورہ سے غرض دنیاوی ونفسانی کا تعلق ہے اور بعضے وہ مسلمانان جو مرد ناکح اورعورت نومسلمہ مذکورہ سے کچھ رنجش دنیاوی وحسد وعناد رکھتے ہیں، معین و مددگاران کفار کے ہورہے ہیں، اس وجہ سے شور پشتی ان سبھوں کی اس درجہ کو بڑھ گئی ہے کہ مرد ناکح و عورت نومسلمہ مذکورہ کو برسر کوچہ وبازار برملا گالیاں دے کر کہتے پھرتے ہیں کہ اس دختر کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے اور مسلمہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ جس طرح ہوگا اپنے یہاں لاکر اسے ہنود بناکر ہندوکے ساتھ شادی بیاہ کردیں گے اور طرح طرح کے افترا پر دازی ومقدمہ بازی جھوٹ کی بندشیں ہورہی ہیں اور بے عزّتی وذلت مرد ناکح وعورت نومسلمہ مذکورہ کی دھمکی دی جاتی ہے جس میں وہ دونوں ڈر کر بخیال بچنے کے ذلت دنیا سے، اس دختر کو ماں باپ بہنیں کافرہ کے حوالہ کردیں، ایسے حال میں حکمِ خدا ورسول کیاہے؟

(۱) آیا مرد ناکح وعورت مسلمہ مذکورہ اپنے نطفہ و بطن کی دختر کو دھمکی و ڈر سے ان شورپشتوں کے اور دنیاوی ذلت کے خوف سے حوالہ کفاردیں کہ وہ اسے لیجا کر کافرہ بنائیں؟

(۲) یا اپنی ذلت دنیاوی کا خیال چھوڑ کر جان توڑ کر کوشش اس دختر کی حفاظت کی کریں جس میں وہ دختر قبضہ ہنود میں جاکر ہندو نہ بننے پائے؟

(۳) اور مسلمانان کو اس شہر کے ہرطرح کی حمایت و مدد ایسی کرنی جس میں مسلمان کی لڑکی ہنود کے قبضہ میں جاکر کافرہ نہ بننے پائے، شرعاً بحکم خداورسول لازم وضرورہے یانہیں؟

(۴) اور جو مسلمان اس کے خلاف حمایت کفار کی  کرے وہ خدا ورسول کے نزدیک کیسا ہے اور اس کی نسبت شرعاً کیا حکم ہے؟

(۵) اور اگر مسلمانانِ شہر کی غفلت وناتوجہی ومدد نہ کرنے سے اور اس وجہ سے عورت نومسلمہ اور اس کے ناکح مرد کے مجبور و بے بس ہوجانے سے دختر مذکورہ قبضہ ہنود میں جاکر ہندوبنائی جائے تو اس کاالزام و مواخذہ خدا ورسول کے طرف سے مسلمانانِ شہر پر ہوگا یا نہیں؟

ہر شق سوال کا جواب اردو میں عام فہم، مفصل ومدلل بسندِ قرآن وحدیث و کتب دینیہ اور ایسے موقع پر سیرت صحابہ کرام وائمہ عظام کیاہے بہ نقل اس کے درکار ہے، بینواتوجروا
الجواب

(۱) حرام حرام حرام جب تک حالت اکراہ شرعی کی نہ ہو،
قال اﷲ تعالٰی الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: سوااس کے جو مجبور کیاجائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا ہو۔(ت)
 (۱ ؎ القرآن الکریم    ۱۶/۱۰۶   )
 (۲) فرض فرض فرض ہے کہ ہر جائز کوشش کو حدامکان تک پہنچادیں اور کسی طرح اس میں سستی یا کم ہمتی کو کام نہ دیں۔
قال اﷲ تعالٰی ٰیایھاالذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم        ۶۶/ ۶)
 (۳) فرض فرض فرض ہے کہ ہر مسلمان بقدرِ قدرت اس مسلمان لڑکی کو اس سخت تر آفت سے بچائے اور کوئی کوشش جس حد تک جائز اور ممکن ہے اسے اٹھانہ رکھے۔
قال اﷲتعالٰی تعاونواعلی البرّوالتقوٰی ۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم        ۵/ ۲    )
یہ فرض کفایہ ہے جتنے مسلمانوں کی کوشش سے کام چل جائے کافی ہے سب پرفرض اتر جائے گا، ورنہ سب گنہگار اور سخت وبال میں گرفتار ر ہیں گے، والعیاذ باﷲ۔

(۴) اس کے لئے نار ہے نار ہے نار، اس پر غضب ہے غضب ہے غضب جبار،
قال اﷲ تعالٰی لاتعاونوا علی الاثم والعدوان۴؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(ت)
(۴؎القرآن الکریم        ۵/ ۲)
علماء نے دوسرے کے کفر پر راضی ہونے کو کفر لکھا ہے "الرضا بالکفر کفر"نہ کہ دوسرے کو کافر بنانے میں کوشش یہ بلاشبہہ بحکم فقہا کفر ہے بحکم فقہائے کرام ایسے شخص کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور وہ ان تمام امور کاسزاوار ہوگا جو ایک مرتد کے ساتھ کئے جانے کا حکم کہ اس کے پاس بیٹھنا، بات چیت، میل جول، شادی بیاہت، بیمار پرسی، جنازہ پر جانا، اسے غسل دینا، کفن دینا، نماز جنازہ پڑھنا، جنازہ بہ تکریم اٹھانا، مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا سب یک قلم ناجائزوگناہ ہے۔

(۵) اس کا جواب جواب سوم میں آگیا، اگر ایک مالدار ذی وجاہت مسلمان کی کوشش سے کام چل جائے تو ایک ہی کافی ہے اور سب مسلمانوں کی مجموعی قوت سے جائز کوشش اثر پذیر ہوگی تو سب پر فرض ہے کہ مل کر ہرامکانی پسندیدہ جائز کوشش انتہا تک پہنچادیں، اگر پھر بھی کامیاب نہ ہوں تو معذور ہیں جس کے کسل و بے توجہی سے کام میں خلل پڑے گا وہ مستحقِ نار وغضب جبار ہے والعیاذ باﷲ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter