سابعًا فصل اول میں ائمہ کی تصریحیں گزریں کہ یہ حدیث خبر بمعنے امر ہے اسے آپ نہیں مانتے کہ پیروی ائمہ آپ کی شان انانیت کو زہر ہے نہ سہی خبر کیا پیشگوئی میں منحصر ہے جو محض خلافِ واقع ہو، اور اپنی طرف سے پچر لگانے کی ضرورت پڑے، کیوں نہ کہئے جس طرح امام قرطبی اور امام عینی وامام عسقلانی سے گزرا کہ یہ خبر تشریعی ہے جو عین منصب شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور اصلاً محتاجِ تاویل نہیں یعنی خلافتِ شرعیہ ہمیشہ قریش میں رہیگی ان کے غیر کی حکومت کبھی خلافت شرعیہ نہ ہوگی، یہ خلافت کے لئے لزوم قرشیت سے خبر ہوئی نہ کہ بلافصل استمرارِ خلافت سے جسے خلافِ واقعات کہئے، مثلاً گلاب کا کھلنا ہمیشہ موسم بہار میں ہے اس کے یہ معنی کہ پھول جب کھلے گا بہار ہی میں کھلے گا نہ یہ کہ گلاب سدا گلاب ہے اور بہار بارہ مہینے۔
ثامناً اقول بلا فصل استمرار ہی لیجئے تو کیوں نہ ہو کہ ھذاالامرسے مراد استحقاقِ خلافت ہو اور وہ بلاشبہہ قریش میں مستمر اور انہیں میں منحصر ہے جس طرح امام عسقلانی سے گزرا کہ استحقاقِ خلافت قریش ہی کو ہے ان کا غیر نہ ہوگا مگر متغلب۔
(۵۱) مسٹر نے یونہیں دوسری حدیث "الائمہ من قریش" سے تشریع اڑانے اور نری خبر بنانے کے لئے کیا کیا ڈوبتے سوار پکڑے ہیں ص۶۳:''صحیح بخاری کے ترجمہ باب سے صاف واضح ہے کہ امام بخاری کا بھی مذہب یہی ہے انہوں نے باب باندھا(الامراء من قریش)قریش میں امارت وامراء۔ اس مضمون کا باب نہ باندھا کہ امارت ہمیشہ قریش ہی میں ہونی چاہئے۔'' سبحان اﷲ! زہے مسٹری و لیڈری وایڈیٹری۔ امام بخاری کی عادت ہے کہ الفاظ حدیث سے ترجمہ باب کرتے ہیں نیز وہ الفاظ جو ان کی شرط پر نہ ہوں ترجمہ سے ان کا پتا دیتے ہیں حدیث انہیں لفظوں سے تھی انہیں سے باب باندھا، نیز یہ لفظ ان کی شرط پرتھے ترجمہ سے ان کا اشعار کیا، اس سے یہ سمجھ لینا کہ امام بخاری کا مذہب یہ ہے اور پھر اس پر یہ تحکم کہ ''صاف واضح ہے'' کس درجہ جہل فاضل ہے،
فتح الباری شرح بخاری میں ہے:
لفظ الترجمۃ لفظ حدیث اخرجہ یعقوب بن سفین وابویعلی والطبرانی۱؎۔
ترجمہ باب کی عبارت اس حدیث کے لفظ ہیں جو یعقوب بن سفین وابویعلی وطبرانی نے ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
(۱؎ فتح الباری شرح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۰)
پھر فرمایا:
لما لم یکن شیئ منھا علٰی شرط المصنف اقتصر علی الترجمۃ واوردالذی صح علی شرط۔۱؎
یہ روایتیں شروط بخاری پر نہ تھیں لہذا ان الفاظ کو ترجمہ میں لانے پر اقتصار کیا اور ان کے مؤید وہ حدیثیں لائے جو ان کی شرط پر تھیں
(۱؎ فتح الباری شرح البخار ی بابالامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۱)
(۵۲) ص ۶۱''ایک اور حدیث ہے کہ ضرور ہے کہ بارہ خلیفہ ہوں سب قریش سے ہوں گے اس طرزبیان نے ظاہر کردیا کہ اس بارے میں جو کچھ کہا ہے اس سے صرف آیندہ کی اطلاع مقصود ہے حکم وتشریع نہیں۔'' بارہ خلافتوں کی پیشگوئی اگر خبر ہے تو دنیا بھر کی حدیثیں سب خبرہیں اس زبردستی ودیدہ دلیری کی کوئی حد ہے یعنی شارع سے جب کسی امر کے بارے میں کچھ پیشگوئی فرمائے تو اس میں جتنی حدیثیں ہیں سب حکم شرعی سے خالی ہوجاتی ہیں اور سب کو بزور زبان اگرچہ اپنی طرف سے پچریں لگا کر خبر پر ڈھال دینا واجب ہوجاتا ہے
ارشاد اقدس:
قدمواقریشا ولاتقدموھا۲؎۔
قریش کو مقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔
یہ بھی امرونہی نہیں خبر ہوگا کیونکہ ان کی ''صرف دانی'' میں "قدموا"صیغہ مضارع ہے اور" لاتقدموا"صیغہ ماضی، بات وہی کہ یتشبث بکل حشیش۔
(۲؎ کنز العمال حدیث ۳۳۷۸۹، ۳۳۷۹۰، ۳۳۷۹۱ بحوالہ البزار وابن عدی وطبرانی موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۲۲)
(۵۳تا۵۴) ص۶۲''ائمہ حدیث نے حدیث قحطانی وحدیث قریش میں تطبیق دیتے ہوئے صاف صاف لکھ دیا کہ امارت قریش والی روایت تشریع نہیں محض خبر ہے''
اولا یہ عیاری و چالاکی ملاحظہ ہو امارت قریش والی روایت میں کہا جس سے حدیث الامراء من قریش وحدیث الائمۃ من قریش وحدیث لایزال ھذاالامر فی قریش کی طرف ذہن جائے حالانکہ ائمہ حدیث نے ہر گز نہ کہا کہ ان سے تشریع ثابت نہیں نری خبر ہیں زیرنمبر ۴۲کتب کثیرہ کے نام گنا چکا ہوں ان کی عبارتیں فصل اول میں دیکھئے اور اس کذب صریح سے توبہ کیجئے، ائمہ حدیث کی اگرمانتے ہو تو ان کی ان روشن تصریحوں سے کیوں منکر ہو۔
ثانیاً ائمہ نے حدیث قحطانی سے جس حدیث کی تطبیق دی وہ یہ ہے:
ان ھذا الامرفی قریش لایعادیھم احد الااکبہ اﷲ علی وجہہ مااقاموا الدین ۱؎۔
بیشک یہ امر قریش میں ہے جو ان سے عداوت کرے گا اﷲ اسے اوندھے منہ گرائے گاجب تک قریش دین قائم رکھیں۔
(۱؎صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۷)
اسے اگر خبر بتایا کہ یہ اقامت دین سے مقید ہے تو احادیث مطلقہ کا خبر ہوجانا کیوں لازم آیا وہ تشریع ہیں اور اپنے اطلاق پر یعنی شرعاً خلافت صرف قریش کےلئے ہے اور یہ خبر ہے اور مقید ہے یعنی وہ اپنے حق سے بہرہ مند رہیں گے جب تک دین قائم رکھیں، جب اسے چھوڑیں گے خلافت جاتی رہے گی۔
ثالثاً عجب ہے کہ ایک حدیث خاص میں دو چار شراح نے جو لکھا وہ تو ان کا دامن پکڑ کر سب احادیث کو بزور زبان عام کرلیا جائے اور خود ان باقی احادیث میں جو ان کی عام جماعتوں نے لکھا اورمذہب اہل سنت واجماع صحابہ بتایا وہ انہیں کے کلام سے رد کردیا جائے، اور کیا
یحرفون الکل عن مواضعہ۲؎
کے سر پرسینگ ہوتے ہیں، قرآن عظیم نے اسے خصلتِ یہود بتایا کہ بات کو اس کی جگہ سے پھیر دیتے ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۳)
رابعاً جب جماعت ائمہ حدیث کی روشن و قاہر تصریحات حتی کہ اجماعِ صحابہ وعقیدہ اہل سنت مقبول نہ ہوتو ایک حدیث خاص میں ایک خاص وجہ سے ان کے دوچار کا کہنا کیوں حجت ہو، آپ تو مجتہدین سے بھی اونچے اڑتے ہیں ، ان دوچار ٹھیٹ مقلدوں کا دامن نہ تھامئے، حدیث سے چلئے، حدیث میں "مااقاموا الدین" بعدجملہ" لایعادیھم احد الا اکبہ اﷲ" ہےاسی سے کیوں نہ متعلق ہو اس سے توڑ کر دور کے جملہ "ان ھذا الامر فی قریش" سے کیوں جوڑدیاجائے وہ اپنے اطلاق پر رہے اور یہ قید اسی جملہ میں ہو جس سے یہ متصل ہے تو معنی حدیث یہ ہیں کہ بیشک شرعی خلافت قریش میں منحصر ہے دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا اور قریش جب تک دین قائم رکھیں گے ان کا مخالف ذلیل و رسوا ہوگا اب اپنے اجتہاد کی خبریں کہئے۔
(۵۷ تا۶۰) حدیث جلیل''الائمۃ من قریش'' پر ایک ہاتھ من حیث السند بھی صاف کیا، ص۶۴''یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیں،
فتح الباری میں ہے:
الائمۃ من القریش(عہ) رجالہ رجال الصحیح ولکن فی سندہ انقطاع۳؎۔
حدیث''الائمۃ من قریش'' کے تمام راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے(ت)
عہ: نہ فتح الباری میں "من القریش" ہے نہ حدیث میں، پہلے بھی آپ نے اپنے کلام میں حدیث ان لفظوں سے لکھ کر رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی تھی مگر امام ابن حجر پر تو اس افترا علی المصطفی کی تہمت نہ رکھئے۱۲منہ غفرلہ۔
(۳؎ فتح الباری شرح صحیح البخاری باب الامر من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۱)
اولًا فتح الباری میں یہ حدیث متعدد الفاظ وکثیر طرق سے حضرت ابوبرزہ اسلمی و حضرت امیرالمومنین مولٰی علی وحضرت انس بن مالک وحضرت ابوہریرہ وحضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بروایت یعقوب بن سفین وابویعلی وطبرانی وابوداؤد طیالسی وبزار وتاریخ امام بخاری و نسائی وامام احمد وحاکم ذکر کی، یہ لفظ کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں انقطاع ہے صرف صدیق اکبر سے روایت احمدکی نسبت لکھے ہیں کہ مسند احمد میں صدیق سے اس کے راوی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف احدالعشرۃ المبشرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے صاحبزادہ امام ثقہ تابعی جلیل حضرت حمید بن عبدالرحمٰن ہیں ان کے صدیق اکبر سے سماع نہیں۔ فتح الباری کی عبارت ملخصاً یہ ہے احادیث ابوبرزہ ومولٰی علی وبعض طرق حدیث انس ذکر کرکے کہا:
واخرجہ النسائی والبخاری ایضا فی التاریخ وابویعلی من طریق بکیر الجزری عن انس ولہ طرق متعددۃ عن انس، واخرج احمد ھذااللفظ من حدیث ابی ھریرۃ ومن حدیث ابی بکر الصدیق، ورجالہ رجال الصحیح لکن فی سندہ انقطاع، واخرجہ الطبرانی والحاکم من حدیث علی بھذااللفط الاخیر۱؎۔
یعنی نیز یہ حدیث امام نسائی اور امام بخاری نے تاریخ میں اور ابویعلی نے بروایت بکیر جزری حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی اور امام احمد نے یہی لفظ الائمۃ من قریش حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حدیث سے روایت کئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث سے اور اس کے رجال رجال صحیح ہیں مگر اس کی سند میں انقطاع ہے، اور یہ حدیث طبرانی وحاکم نے مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے روایت کی انہیں لفظوں سے کہ "الائمۃ من قریش"۔
(۱؎ فتح الباری شرح صحیح البخاری باب الامراء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۱)
مسٹر نے اول آخر سب اڑا کر مطلقاً اس حدیث ہی پر حکم لگا دیا کہ فتح الباری میں اس کی سند منقطع بتائی یہ کیسی خیانت ہے۔
ثانیاً فصل اول میں گزرا کہ انہیں صاحب فتح الباری امام ابن حجر نے اسی حدیث" الائمۃ من قریش" کے جمع طرق میں ایک مستقل رسالہ لکھا اور اسے چالیس کے قریب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی روایت سے دکھایا حدیثِ متواتر کو کہنا کہ بطریق اتصال ثابت ہی نہیں کیسا ظلم شدید و اغوائے جہال ہے اور پھر انہیں ابن حجر پر اس کے متن کے منقطع السندبتانے کی تہمت کیسی جرأت پروبال ہے۔
ثالثاً طرفہ یہ کہ خود ہی ص۵۶پر کہہ چکے تھے''احادیث اس بارے میں جس قدر موجود ہیں سب صحیح ہیں''۔ اب یہاں یہ کہ''بطریق اتصال ثابت ہی نہیں'' چار ہی ورق بعد"
نسی ما قدمت یدٰہ"
(اپنے ہاتھوں پیش کیا ہوا بھول گیا۔ت)
رابعاً وہیں اس کے متصل تھا ''یہ بھی حق ہے کہ حضرت ابوبکرنے مجمع صحابہ میں اس کو پیش کیااور کسی نے انکار نہ کیا'' اب حق کی سند میں بھی کلام ہونے لگا، اگر یہ کلام اس کے حق ہونے میں خلل انداز ہے تو حق کرنا ناحق بنانے کی کوشش کرنے والا کون ہوتا ہے اور اگر اس سے اس کے حق ہونے پر کچھ حرف نہیں آتا تو رد واعتراض کےلئے کہنا''اس سے بھی شرعاً اختصاص قریش کے دعوٰی کی کوئی مدد نہیں مل سکتی اولاً یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیں''، کیسا اغرائے جہال ہے۔ یہ ہے کہ مسٹر حدیث دانی اور ارشاد نبوت پر ظلم رانی، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم