Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
36 - 150
یہ حدیث چھ صحابہ کرام کی روایت سے ہے بزار نے امیر المومنین مولٰی علی اور ابن عدی نے ابوہریرہ اور ابونعیم دیلمی نے انس بن مالک اور بیہقی نے جبیر بن مطعم اور طبرانی نے عبداﷲ بن حنطب نیز عبداﷲ بن سائب رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے روایت کی نیز مرسل ابوبکرسلیمٰن بن ابی حثمہ و مرسل ابن شہاب زہری سے آئی یہ تو صریح امرونہی ہے اسے تو مسٹر خبر نہیں بنا سکتے اس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کیسا صریح حکم فرمارہے ہیں کہ قریش کو مقدم کرنا قریش سے آگے قدم نہ دھرنا۔ اب تو مسٹر ضرور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر طعن کریں گے کہ''اسلام کا داعی دنیا کو تو قومی و نسلی امتیازات کی غلامی سے نجات دلانا چاہتا مساوات عامہ کی طرف بلاتا ہو لیکن (نعوذ باﷲ) خود اتنا خود غرض ہوکہ (تقدیم وترجیح) صرف اپنے ہی ملک، ملک نہیں اپنے ہی وطن،وطن نہیں خاص اپنے قبیلے، قبیلہ نہیں صرف اپنے ہی خاندان کےلئے مخصوص کردے، ساری دنیا سے کہے تمہارے بتائے ہوئے حق جھوٹے ہیں سچا حق صرف عمل واہلیت کا ہے لیکن خود اپنے لئے یہ کر جائے کہ عمل نہ اہلیت صرف قوم صرف نسل صرف خاندان''۔ اپنی طعن بھری عبارت سے صرف لفظ خلافت کو لفظ تقدیم و ترجیح سے بدل لیجئے اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر اپنے طعن کی یہ شدید بوچھاڑ ملاحظہ کیجئے بلکہ اس تبدیلی کی بھی حاجت نہیں خلافت خود اعلٰی تقدیمات سے ہے۔

(۳۸) تخصیص قریش کو تخصیص ملک پھر اس سے بھی تنگ تر تخصیص وطن ٹھہرانا کیسی جہالت ہے نہ قریش کسی ملک ووطن کا نام نہ ان کے لئے لزومًا کوئی خاص مقام ع
شاخ گل ہر جاکہ روید ہم گل ست
 (پھول کی شاخ جہاں بھی اُگے گی وہ پھول بن کر ہی اگے گی۔ت)

(۳۹) قریش کو قبیلہ سے بھی تنگ ترصرف خاندان ٹھہرانا دوسری جہالت ہے کیا رافضیوں کے مذہب کی طر ف گئے کہ خلافت بنی ہاشم سے خاص ہے۔

(۴۰) نہ عمل نہ اہلیت صرف خاندان کا اتہام رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و صحابہ واہلسنت پر افترا ہے کس نے کہا ہے کہ خلافت کےلئے صرف قریشی ہونا درکار ہے اگرچہ نااہل محض ہو، قرشیت کے ساتھ اہلیت کی شرط بھی بالاجماع ہے، یہ گمان بدکہ کسی وقت تمام جہان میں سب سادات عظام، سب قریش کرام نالائق نااہل ہوجائیں وسوسہ ابلیس ہے ایسا کبھی نہ ہوگا کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سارے جگر پارے ناقابل نالائق رہ جائیں صرف ایراغیرا اہلیت کا پھندالٹکائیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو فرماچکے کہ دنیا میں جب تک دو آدمی بھی رہیں گے خلافت کا استحقاق صرف قریشی کو ہوگا تو قطعاً قیامت تک کوئی نہ کوئی قریشی اس کا اہل ضرور رہے گا ولہذا بعض فقہائے شافعیہ وغیرہم نے جب یہ صورت باطلہ فرض کی محققین نے تصریح فرمادی کہ یہ صرف فرض ہے واقع کبھی نہ ہوگی۔ شرح بخاری للحافظ میں ہے:
قالوا انما فرض الفقہاء ذلک علی عادتھم فی ذکرمایمکن ان یقع عقلا وان کان لایقع عادۃًاو شرعا۱؎۔`
یعنی علماء نے فرمایا ان فقہاء نے یہ صورت اپنی اس عادت پر فرض کی کہ ایسی بات بھی ذکر کرتے ہیں جو صرف امکان عقلی رکھتی عادۃً یا شرعًا کبھی واقع نہ ہو۔
 (۱؎ فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر    ۱۶/ ۲۳۷)
خصوصاً حدیث کو پیشگوئی مان کر، تو اس کے خلاف کا ادعا جہل صریح بلکہ ضلال (عہ) قبیح ہے۔
عہ: قال الحافظ قلت والذی حمل قائل ھذاالقول علی انہ فہم منہ(ای من قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایزال ھذا الامر فی قریش) الخبرالمحض وخبر الصادق لایتخلف، واما من حملہ علی الامر فلایحتاج الی ھذاالتاویل ۲؎اھ وکتبت علیہ اقول بلٰی یحتاج الیہ فانہ لو صح شرعاً وعادۃً ان تکون القریش فی شیئ من الازمنۃ ساقطین عن اہلیۃ الخلافۃ کما زعمہ بعض مبطلی زماننا وقد امر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان لاتجعل الخلافۃ ابداالافی قریش فیکون ذلک فی ذلک الزمان امرا باستخلاف غیر الاھل وھو محال ثم لاادری ای تاویل فیہ وای صرف عن الظاھر انما ھواستنباط امریفیدہ منطوق الحدیث فافھم۱۲منہ۔
حافظ ابن حجر نے فرمایا: میں کہتا ہوں اس قول کے قائل کو جس چیز نے اس پر آمادہ کیا وہ یہ  کہ اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد ''یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی'' کو خالص خبر سمجھا اور سچے نبی کی خبر خلاف واقع نہیں ہوتی لیکن جس نے اس حدیث کو امر(حکم) قرار دیا وہ اس تاویل کا محتاج نہیں ہے اھ، میں نے اس پر حاشیہ لکھا، اقول اس کی حاجت کیوں نہیں حاجت ہے کیونکہ اگر شرعاً اور عادۃً کسی وقت قریش کا خلافت کےلئے نااہل ہوناصحیح ہوجیسا کہ ہمارے زمانہ کے بعض باطل لوگ خیال کرتے ہیں حالانکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حکم ہے کہ ''کبھی بھی خلافت غیر قریش کو نہ دی جائے''تو خلافت اس نااہلیت کے زمانہ میں نااہل کو خلیفہ بنانے کا حکم ہوگا جو کہ محال ہے، پھر معلوم نہیں یہ کیا تاویل اور کیا ظاہر سے پھر ناہوا، حالانکہ یہ توصرف منطوقِ حدیث سے ایک مفاد کا استنباط ہے، فافہم۱۲منہ(ت)
 (۲؎فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر    ۱۶/ ۲۳۷)
 (۴۱) مسٹر نے کہا ''خیر یہ بات کتنی ہی عجیب ہوتی لیکن ہم باورکرلیتے اگر قرآن وسنت واقعی ٹھہرائی ہوتی ہمارے نزدیک کسی اسلامی اعتقاد کی صحت کا معیار صرف یہ ہے کہ کتاب وسنت سے بطریق صحیح ثابت ہو نہ کہ عقلوں کاادراک۔ استعجاب کی بنیاد ہمارا قیاسی استبعاد نہیں یہی ہے کہ کسی نص سے ایسا ثابت نہیں''۔

الحمد ﷲ، یہاں تو کچھ اسلامی جامے میں ہیں گویا آزادی سے بالکل جد اہیں، ہم نصوص متواترہ واجماع صحابہ واجماعِ امت سے ثابت کرچکے کہ خلافت قریش ہی سے خاص ہے اب تو وہ اپنا استعباد کہ ـ" بھلا اسلام کہیں خصوصیت نسل مان سکتا ہے'' جس کو خود کہہ رہے ہو یہ تمہارا نراعقلی قیاسی ڈھکوسلا ہے واپس لیجئے اور اجماعِ امت و ارشادات حضرت رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ پر ایمان لائیے۔

مبحث دوم: رَدِّ احادیث نبوی میں مسٹر کی بے سود کو شش

(۴۲) بزور زبان بڑ ازور اس پر دیاہے ص۶۰ کہ ــ''خلافت قریش کی نسبت جس قدر روایات ہیں سب پیشگوئی و خبر ہیں کہ قریشی خلیفہ ہوں گے نہ کہ حکم کہ قریشی ہی خلیفہ ہوں''۔ شرح عقائد نسفی وقواعد العقائد امام حجۃ الاسلام واتحاف سید زبیدی ومسامرہ شرح مسایرہ وتعلیقات علامہ قاسم طوالع الانوار علامہ بیضاوی ومواقف علامہ قاضی عضد وشرح مواقف علامہ سید شریف ومقاصد وشرح مقاصد و شرح صحیح مسلم للامام النووی و ارشاد الساری ومرقاۃ قاری وشرح صحیح مسلم للقرطبی وابن المنیر وعمدۃ القاری امام عینی وفتح الباری امام عسقلانی و شرح مشکوٰۃ علامہ طیبی وشرح مشکوٰۃ علامہ سید شریف و امام اجل ابوبکر باقلانی واشعۃ اللمعات شیخ محقق وغمز العیون سید حموی وحاشیۃ الدر للسید الطحطاوی وللسید ابن عابدین وکواکب کرمانی ومجمع البحاروشرح فقہ اکبر بحر العلوم وغیرہا کی عبارات کثیرہ کہ ابھی گزریں اس مجہلہ کے رد کو بس ہیں مسٹر آزاد اگرچہ اپنے نشے میں تمام ائمہ مجتہدین کرام سے اپنے آپ کو اعلٰی جانتے ہیں انکے ارشادات کو ظنی اور اپنے توہمات کو وحی سے مکتسب قطعی مانتے ہیں اور سلطان کا نام محض دکھاوا ہے تمام امت سے اپنی امامت مطلقہ منوانے کا دعوٰی ہے دیکھو رسالہ خلافت کا اخیر مضمون
"اتبعون اھد کم سبیل الرشاد"
میرے پیرو ہوجاؤمیں تمہیں راہ حق کی ہدایت کروں گا، جس کابیان بعونہ تعالٰی مبحث اخیر آتا ہے مگر الحمدﷲ مسلمانوں میں اب بھی لاکھوں ہوں گے کہ ارشادات ائمہ کے مقابل ایسے نشے کی بالاخوانیوں امنگوں شطحیات کی بہکی ترنگوں کو بادِ شتر سے زیادہ نہیں جانتے۔

(۴۳تا۵۰) اشد ظلم حدیث صحیحین "لایزال ھذاالامرفی قریش" پر ہے اس میں لفظ وہ لئے جو صحیح بخاری میں واقع ہوئے مابقی منھم اثنان۱؎اورکہہ دیا ص۶۳''اس سے ہمارے بیان کی مزید تصدیق ہوگئی حدیث کا منطوق صریح پیشین گوئی کا ہے اگر اس کا یہ مطلب قرار دیاجائے کہ جب تک دوانسان بھی قریش میں ہیں خلافت انہیں کے قبضہ میں رہے گی تو یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے، ہزاروں قرشی موجود رہے اورخلافت قریش سے نکل گئی پس ضرور ہے کہ مابقی منھم اثنان کے منطوق پر مفہوم کو ترجیح دی جائے اور وہ یہی ہے کہ اگر قریش میں دو بھی خلافت کے اہل ہوں گے تو کبھی خلافت سے یہ خاندان محروم نہ ہوگا مگر جب دو بھی اہل نہ رہیں تو مشیت الٰہی قانون انتخاب اصلح کے مطابق دوسروں کو اس کام پر مامور فرمادے گی اور قریش خلافت سے محروم ہوجائیں گے،
 (۱؎ صحیح بخاری     کتاب الاحکام     ۲/ ۱۰۵۷    ، صحیح مسلم     کتاب الامارۃ     ۲/ ۱۱۹)
چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا جب دو قریش بھی دنیا میں حکمرانی کے اہل نہ رہے خلافت نے معاً صفحہ الٹ دیا اور ایک قلم غیر عربی وغیر قرشی خلافت کا دور شروع ہوگیا''۔

اور کمال جسارت وبیباکی یہ کہ نام صحیح مسلم کا بھی لیا اور کہا ص۶۰:''عمدہ طریق وہ ہیں جو بخاری نے اختیار کئے ہیں لیکن کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں جس سے ثابت ہو کہ مقصود پیشینگوئی نہ تھا تشریع وامر تھا''۔

الحق شوخ چشمی ہوتواتنی تو ہو۔

اولا مسلم نے یہ حدیث خود انہیں استاذ بخاری احمد بن عبداﷲ یونس سے جس نے بخاری سے سنی یوں روایت کی:
لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان۔
ہمیشہ خلافت قریش ہی میں رہے گی جب تک دنیا میں دو آدمی بھی باقی رہیں۔
اسی طرح اسمٰعیلی مستخرج میں روایت کی
"مابقی فی الناس اثنان"
جب تک آدمیوں میں دو بھی رہیں۔
یہ روایتیں روایت بخاری کی مفسر ہیں کہ "منھم" سے مراد "من الناس" ہے، لاجرم مرقاۃ علی قاری میں اس کی یہی تفسیر کردی(منھم)ای من الناس (اثنان)۱؎جب تک ان میں سے یعنی آدمیوں میں سے دو بھی رہیں ولہذا امام اجل ابوزکریا نووی نے اولاً مسلم کی روایتیں ذکر کیں پھر فرمایا:
وفی روایۃ البخاری مابقی منھم اثنان ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاہران الخلافۃ مختصہ بقریش لایجوز عقدھا لاحد من غیرھم۲؎۔
بخاری کی روایت میں ہے کہ جب تک ان میں سے دو آدمی باقی رہیں یہ اوران کی مثل حدیثیں صریح دلیل ہیں کہ خلافت خاص قریش کے لئے ہے کوئی غیر قرشی خلیفہ نہیں کیا جاسکتا۔
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ     باب مناقب قریش     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱۰/ ۳۳۴)

(۲؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ     قدیمی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۱۱۹)
حدیث کا یہی مفاد امام قسطلانی نے خود شرح روایت بخاری میں لکھا، امام عینی وامام ابن حجر نے شروح بخاری میں اس حدیث کی شرح میں امام قرطبی کا قول نقل کیا اور مقرر رکھا کہ:
ای لاتنعقد الامامۃ الکبری الاالقرشی مھما وجداحدمنھم۱؎۔
یعنی مراد حدیث یہ ہے کہ جب تک ایک قریشی بھی دنیا میں رہے دوسرے کے لئے امامتِ کبرٰی ہو ہی نہیں سکتی۔

دیکھو اس روایت بخاری سے بھی ائمہ نے وہی مطلب سمجھا جو روایت مسلم میں تھا۔
 (۱؎ فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر     ۱۶/ ۲۳۵)
ثانیًا اگر تفسیر نہ مانو تعارض جانو تو متعدد کی روایت کیوں نہ ارجح ہو اور نہ سہی معارض تو ہوگی تو تمہاری سند کہ "منھم "ہے ثابت نہ رہے گی۔

ثالثاً کسی پر چہ اخبار کی ایڈیٹری اور چیز ہے اور حدیث وفقہ کا سمجھنا اور ، وہ" من" کا ترجمہ''سے'' اور "الٰی" کا ترجمہ''تک'' سے نہیں آتا اگر ضمیر قریش کی طر ف ہوتی تو "اثنان" کی جگہ "احد"فرمایا جاتا یعنی جب تک ایک قریشی بھی رہے جس طرح ابھی امام قرطبی وامام عینی وامام عسقلانی کے لفظ سن چکے اس کی تاویل آپ حسبِ عادت کہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے اضافے کرلیتے ہیں حدیث میں یہ پچربڑھاتے کہ یعنی جب تک کہ ایک قریش خلافت کا اہل رہے دو کی اہلیت پر موقوف فرمانا کیا معنی، کیا خلیفہ ایک وقت میں دو بھی ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، ہاں آدمیوں کی طرف ضمیر ہوتو ضرور دو کی ضرورت تھی کہ خلافت حکومت ہے اور حکومت کو کم سے کم دو درکار، ایک حاکم ایک محکوم، اب تو آپ نے جانا کہ "منھم" کی ضمیر قریش کی طرف پھیرنا کیسی سخت جہالت تھا۔

رابعاً جانے دو آخر اس قدر کے تو منکر نہیں ہوسکتے کہ صحیح مسلم میں لفظ حدیث''مابقی من الناس اثنان۲؎''ہیں اب کہاں گئی وہ آپ کی بالاخوانی کہ کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں، اب دیکھیں اسے کیسے پیشگوئی بناتے ہو، حدیث کا ارشاد تو یہ ہے کہ ''جب تک دنیا میں دو آدمی بھی ہوں خلافت قریش کے لئے ہے'' اسے خبر بمعنی مزعوم مسٹر وہی ٹھہرائے گا جو اﷲ ورسول کو جھٹلائے گا ،اور اگر اپنی پچر لیجے تو معنے یہ ہوں گے کہ جب تک دنیا میں دو آدمی بھی حکمرانی کے اہل رہیں گے خلافت قریش ہی کے قبضے میں رہے گی اب کیوں نہیں اور بھی زیادہ اچھل کر کہتے کہ یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے خلافت صدہا سال سے قریش کے قبضے سے نکل گئی اور ہرگز کوئی وقت ایسا نہ ہوا کہ دنیا میں دو بھی حکمرانی کے اہل نہ ہوں۔ کیا مسٹر اپنی تاریخ دانی تیز زبانی یہاں دکھا کر ثبوت دیں گے کہ اٹھارہ کم سات سو برس یا بلحاظ خلافت مصری گیارہ کم چار سو برس سے دنیا مں وہ شخص بھی قابل حکمرانی نہ رہے۔
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب الامارۃ     باب الناس تبع لقریش     قدیم کتب خانہ پشاور     ۲/ ۱۱۹)
خامساً آپ کے نزدیک چار سوسولہ برس سے خلافت شرعیہ ترکوں میں ہے تو ضرور ہے کہ وہ سب حکمرانی کے اہل ہوں کہ نااہل خلیفہ نہیں ہوسکتا معہذا قریش سے نکالی تو ان کی نااہلی کے باعث ، اور پھر دی جاتی نااہلوں کو، یہ کون ساقانون اصلح ہے، اور جب وہ اہل تھے اور ہیں تو واجب کہ چار سوسولہ برس سے روئے زمین پر کوئی دوسرا انسان قابلِ حکمرانی نہ ہو، ورنہ دنیا میں دوشخص اہلِ حکمرانی نکلتے اور خلافت قریش سے نہ جاتی، اب اس بدیہی البطلان بات کا ثبوت آپ کے ذمے سے کہ سولہ اور چار سوبرس سے تمام جہان میں سلطان ترکی کے سوا کوئی متنفس قابل حکمرانی پیدا نہ ہوا، کابل وبخارا وایران ومغرب وہندوستان وغیرہاتمام ملک خدامیں سب نرے نالائق گزرے پھر خدا جانے صدہا سال ان کی حکومتیں چلیں کیسے، سلطان کا فرکش، دین پر ور اورنگ زیب محی الملۃ والدین محمد عالمگیر بادشاہ غازی ''اناراﷲ تعالٰی برہانہ''اگر آپ کے نزدیک اس جرم پر کہ متشرع تھے اور کفار پر غلظت رکھتے نااہل تھے تو اکبر تو نالائق نہ تھا جوآپ ہی کا ہم مشرب اور اتحادِ مشرکین کا دلدادہ تھا غرض پیشگوئی بتاکر تکذیب حدیث کے سوامسٹر کو کچھ مفر نہیں۔

سادساً (عہ) آپ فرماتے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ دو قریش بھی حکمرانی کے اہل نہ رہے ، کون سی تاریخ شاہد ہے کہ سات سویاچارسو برس سے تمام روئے زمین پر کوئی دو قریشی دو ہاشمی دو سید ابن الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسلم حکمرانی کے لائق پیدا ہی نہ ہوئے، فضل الٰہی قومِ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخاندان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وآل محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے صدہا سال سے اٹھالیا گیااور این وآں کو بٹتا ہے اور بٹاکیا، کیا آپ کے نزدیک مدار لیاقتِ وقوع پر ہے، جس نے حکمرانی نہ پائی نا اہل تھا؟ جس نے پائی اہل تھا؟ تو ضرور آپ پلید مرید خبیث عنید نجس یزید کو لائق بتائیں گے اور حضرت امام عرش مقام علی جدہٖ علیہ الصلوٰۃ والسلام کومعاذ اﷲ نالائق ٹھہرائیں گے،اور جب یہ معیار نہیں بلکہ صفات ذاتیہ پر مدار ہے تو کیا آپ نے سات سو یاچار سوبرس سے آج تک کے تمام قریشیوں کی جانچ کرلی ہے کہ نالائق تھے، چار سو برس چھوڑ ئیے کسی ایک برس کے سب قریشی جانے دیجئے صرف بنی ھاشم، سب بنی ہاشم بھی نہیں صرف سادات کرام کے فقط نام گنا دیجئے کہ جہان میں اس سال یہ یہ سید تھے، نام گنانا بھی نہ سہی فقط کسی سال کے تمام سادات کی مردم شماری بتادیجئے، جب اس قدر پر قادر نہیں تو سات سو یا چار سو برس کے تمام عالم کے تمام قریشیوں کی جانچ آپ نے ضرور کرلی اور معلوم کرلیا کہ سب نالائق تھے اور اب تک سب نالائق ہیں، افسوس آپ کا مبلغ علم یہی تاریخی کہانیاں تھا ان پر بھی ایسا جیتا افترا جوڑا تاریخیں ہزار بے تکی ہوں ایسا پورے نشے کا ہذیان بکتے انہیں بھی مار آئے گی۔
عہ: یہ بھی جانے دو وہی منھم والی روایت اور قریش کی طرف ضمیر، اور وہی پچر لو زبان کے آگے بارہ ہل چلتے ہیں ادعا آسان ہے ثبوت دیتے دام کھلتے ہیں
''ھاتوابرھانکم ان کنتم صٰدقین''
اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۱۲ حشمت علی رضوی غفرلہ۔
Flag Counter