دوسرے بدایونی(عہ۲) خطبہ صدارت خلافت کانفرنس منعقدہ ستمبر ۲۰ میں ہے کہ ''اگر(عہ۱)کوئی مسلمان مسئلہ خلافت کی امداد سے گریز اور اس میں دلچسپی لینے سے احتراز کرے تو مجھے اسے کافر کہنے میں کسی قسم کاپس پیش نہ ہوگا''۔ اب دیکھئے یہ آزاد والی تکفیر، یہ بدایونی جنگی تقریر آپ کو بھی اسلام سے آزاد و کفر کا پابند بناتی ہے یا آپ آزاد لاء کے مستثنیات عا مہ میں ہیں، وہ قانون صرف کالے لوگوں کے لئے ہے۔
عہ۲:یعنی متلڈر عبدالماجد کا خطبہ۱۲حشمت علی رضوی۔
عہ۱: دیکھو اخبار ہمدم۱۲ستمبر۱۹۲۰ء
(۳۲) پھر کہا''بلکہ ہم نے تو کسی موقع پر بھی خصوصیت جزئیت رسول کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے'' وجوباً یا اولویۃً اول مذہب روافض سے بھی بڑھ کرے ہے وہ بھی صرف ہا شمیت شرط کرتے ہیں کہ خلفائے ثلٰثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی خلافت سے انکار کریں، آپ نے جزئیت شرط کرکے مولاعلی کی خلافت رد کردی اور برتقدیر دوم اسے مبحث سےکیا علاقہ ہوا کیا قرشیت بھی صرف مرتبہ اولویت میں ہے تو یہ کعبی معتزلی کا مذہب ہو اور اس کا رد ابھی آپ نے کہا تھا کہ میں کبھی اشتراط قرشیت سے انکار نہ کیا، یا قرشیت واجب ہے تو اپنی پارٹی سے اپنا حکم پوچھئے، وہ دیکھئے مسٹر آزاد بدایونی کفر کا فتوٰی لگاچکے، بہر حال اس بلکہ نے کیا فائدہ دیا۔
(۳۳) پھر کہا''یہاں خلافۃ فی القریش میں بحث نہیں یہاں خلیفہ مسلم پر بغاوت کا مسئلہ ہے'' بے قرشیت خلیفہ کہا اور خلافۃ فی القریش کی بحث نہ آئی،۔ کچھ بھی سمجھ کر فرمائی۔
(۳۴) بغاوت خلافت اگرخانگی اصطلاحیں ہیں توان سے کام نہیں، اور اگر معانی شرعیہ مراد ہیں تو کیا آپ اس ارشاد ائمہ کا مطلب بتاسکیں گے جو انہوں نے صدہا سال سے سلاطین کی نسبت لکھا، وہ جو فصول عمادی ودرمنتقی شرح ملتقی وتہذیب قلانسی وجامع الفصولین وطحطاوی علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے:
یعنی یہ امتیاز کہ فلا ں عادل ہے اور دوسرا باغی زمانہ سابق میں تھا ہمارے وقت میں غلبہ کا حکم ہے اس لئے کہ سب دنیا طلب ہیں تو عادل وباغی کا امتیاز نہیں۔
(۱؎ الدرالمنتقی بحوالہ فصول العمادی علٰی ہامش مجمع الانہر باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۹)
(۳۵) آغاز میں کہا''اہل سنت،مسلم متغلب فاقد الشروط کی اطاعت کوفرض اورامامت کو درست مانتے ہیں''۔ امامت سے اگر خلافت مراد ہو جیسا کہ یہی ظاہر ہے تو قطعاً مردود جس کا روشن بیان گزرا اور اگر سلطنت مقصود ہوتو حق ہے مگر گزارش یہ ہے کہ جب مسئلہ یوں تھااور بیشک تھا کہ متغلب کی بھی سلطنت صحیح اور اطاعت واجب، تو کیا ضرورت تھی کہ خواہی نخواہی مسئلہ خلافت چھیڑا جائے اجماعِ صحابہ وامت اکھیڑا جائے، مذہب اہلسنت وجماعت ادھیڑا جائے، سلطان اسلام بلکہ اعظم سلاطین موجودہ اسلام کی اعانت بقدر قدرت کیا واجب نہ تھی، ظاہراً اس شق مسلمین ورداجماع صحابہ وائمہ دین ومخالفتِ مذہب اہلسنت وجماعت وموافقتِ خوارج وغیرہم اہل ضلالت میں تین فائدے سوچے:
اولا درپردہ حمایت ترکوں سے مخالفت جس پر باعث وہابیہ و دیوبندیہ سے یارانہ موافقت، وہابی ودیوبندی ترکوں کو ابوجہل کے برابر مشرک جانتے ہیں جیسا کہ تمام اہلسنت کو یوں ہی مانتے ہیں لہذا دل میں ان کے پکے دشمن ہیں اور دوست کا دشمن اپنا دشمن، اس لئے ان کی حمایت اس آواز سے اٹھائی جس میں مخالفت پیداہو۔
ثانیاً اپنے محسودین اہلسنت سے بخار نکالنا، معلوم تھا کہ کر تو کچھ نہیں سکتے نہ خود نہ وہ، خالی چیخ پکار کا نام حمایت رکھنا ہے، اہل محفل و دین اول تو غوغائے بے ثمر کو خود ہی عبث جان کر صرف توجہ الی اﷲ پر قانع رہیں گے اور اگر شاید شرکت چاہیں تو انہیں مذہب اہلسنت ہر شیئ سے زیادہ عزیز ہے مذہب ہی ان کے نزدیک چیز ہے لہذا ایسے لفظ کی چلاہٹ ڈالو جو خلاف مذہب اہلسنت ہو کہ وہ شریک ہوتے ہوں تو نہ ہوں، اورکہنے کو موقع مل جائے کہ دیکھئے انہیں مسلمانوں سے ہمدردی نہیں یہ تو معاذ اﷲ نصاری سے ملے ہوئے ہیں تاکہ عوام ان سے بھڑکیں اور دیوبندیت ووہابیت کے پنجے جمیں۔
ثالثاً ترکوں کی حمایت تو محض دھوکے کی ٹٹی ہے اصل مقصود بغلامی ہنود وسوراج کی چکھی ہے، بڑے بڑے لیڈروں نے جس کی تصریح کردی ہے بھاری بھر کم خلافت کا نام لو عوام بپھری چندہ خوب ملے اور گنگا و جمنا کی مقدس زمینیں آزاد کرانے کا کام چلے؎
اے پس رومشرکان بزمزم نرسی
کیں رہ کہ تومیروی بہ گنگ وجمن ست
(اے مشرکوں کے پیروکار!تو زمزم تک نہیں پہنچ سکتا جس راہ پر تو چل رہا ہے یہ گنگا و جمنا کو جاتا ہے۔ت)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
ترکی سلاطین اسلام پر رحمتیں ہوں وہ خود اہلسنت تھے اور ہیں مخالفت انہیں کیونکر گواراہوتی، انہوں نے خود خلافت شرعیہ کا دعوٰی نہ فرمایا اپنے آپکو سلطان ہی کہا سلطان ہی کہلوایا اس لحاظ مذہب کی برکت نے انہیں وہ پیارا خطاب دلایا کہ امیرالمومنین وخلیفۃ المسلمین سے دلکشی میں کم نہ آیا یعنی خادم الحرمین الشریفین، کیا ان القاب سے کام نہ چلتا جب تک مذہب واجماع اہلسنت پاؤں کے نیچے نہ کچلتا
فصل سوم
رسالہ خلافت میں مسٹر ابوالکلام آزاد کی تلبیسات وہذیانات کی خدمتگزاری
یہ ۳۵رد قاہر خطبہ صدارت فرنگی محلی کی ۱۵سطری تحریر پر قلم برداشتہ تھے، اب بعونہ تعالٰی چار حرف ان کے بڑے آزاد لیڈر صاحب کی تحریر پر بھی گزارش ہوں وباﷲ التوفیق۔ اور سلسلہ شمار وہی رہے کہ بعضھمم من بعض یہاں کلام چند مبحث پر ہے۔
مبحث اول: مسٹر کا قیاسی ڈھکوسلے سے دین کو ردکرنا
(۳۶) مسٹر آزاد نے بڑازور اس پر دیا ہے کہ''اسلام تو قومی امتیاز کے اٹھانے کو آیا ہے پھر وہ خلافت کو قریش کے لئے کیسے خاص کرسکتا ہے'' یہ اعتراض مسٹر آزاد کا طبع زاد نہیں خارجی خبیثوں سے سیکھا ہے،
کذٰلک قال الذین من قبلھم مثل قولھم تشابھت قلوبھم۱؎۔
یونہی ان کے اگلوں نے انہیں کی سی کہی تھی ان کے دل ایک سے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۱۸)
خارجیوں نے بھی یہی اعتراض کیا تھا جس کا اہلسنت نے رد کیا،
امام کا قریشی ہونا شرط ہے اور خارجیوں نے اس میں خلاف کیا اس دلیل سے کہ مصالح سلطنت ودین میں نسب کا کچھ اعتبار نہیں، اہلسنت نے اس کا رد کیا کہ ضرور شرفِ نسب کو اس میں اثر ہے کہ رعایا کی رائیں اس پر اتفاق کریں اور دل خوشی سے اس کے مطیع ہوں، اور قریش کے برابر کوئی شرف نہیں خصوصاً اس حالت میں کہ افضل الانبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں میں سے ظہورفرمایا۔(ملخصاً)
(۲؎ مقاصد مع شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۷)
شرح مقاصد میں ہے:
ولھذاشاع فی الاعصار ان یکون الملک فی قبیلۃ مخصوصۃ حتی یری الانتقال عنہ من الخطوب العظیمۃ والاتفاقات العجیبۃ ولاالیق بذلک من قریش الذین ھم اشرف الناس سیما وقد اقتصر علیھم ختم الرسالۃ وانتشرت منھم الشریعۃ الباقیۃ الٰی یوم القٰیمۃ۱؎۔
اسی اعتبار نسب کے سبب تمام زمانوں میں شائع رہا کہ سلطنت ایک خاص قبیلے میں ہو یہاں تک کہ اس سے دوسرے قبیلے کی طر ف انتقال سلطنت کو سخت کام اور عجیب اتفاق سمجھا جاتا ہے او ر قریش سے زائد اس کا لائق کو ئی نہیں کہ وہ تمام جہان سے زیادہ شریف ہیں خصوصا اب کہ انھیں پر رسالت ختم ہوئی اور انہیں سے وہ شریعت پھیلی کہ قیامت تک رہے گی۔
(۱؎ شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۷)
کتاب مبارک ارا ئۃ الادب لفاضل النسب مطالعہ ہو، کس قدراحادیث کثیرہ نے کہاں کہاں فضیلت نسب کا اعتبار فرمایا ہے ،اور نکاح میں شرعا اعتبار کفاءت سے تو عالم بننے والے جہال بھی ناواقف نہ ہوں گے جس سے تمام کتب فقہ گونج رہی ہیں، اور اس میں خود احادیث وارد، آیات واحادیث اس سے منع فرماتی ہیں کہ کوئی علم وتقوٰی وفضائل دینیہ کو بھولے اور خالی نسب پر تفاخرًا پھولے۔
(۳۷) مسٹر نے احادیث
"الائمۃ من قریش ولایزال ھذاالامر فی قریش۲؎
(ائمہ قریش میں سے ہیں یہ خلافت قریش میں رہے گی۔ت) سے تو یوں جان بچائی کہ ''یہ کوئی حکم نبوی نہیں کہ احکام میں فضیلتِ نسب کا اعتبار ٹھہرے بلکہ نری پیشگوئی ہے''جس کارد بعونہ تعالٰی ابھی آتا ہے مگر اس حدیث جلیل کا کیا علاج کریں گے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمایا:
قدمواقریشاولاتقدموھا۳؎۔
قریش کومقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الاحکام قدیمی کتب خانہ ۲/ ۱۰۵۷)
(صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ ۲/ ۱۱۹)
(۳؎ کنز العمال حدیث ۳۳۷۸۹و۳۳۷۹۰و۳۳۷۹۱ بحوالہ بزار وابن عدی وطبرانی موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۲۲)