Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
34 - 150
تنبیہ: امامتِ متغلب صحتِ خلافت بالائے طاق۔ حکم اتباع بھی نہیں لاتی جہاں تک اثارتِ فتنہ یا ضرر تأذی نہ ہو جس کا بیان مقدمہ میں گزرا، حیف ان پر جو مسلمان کہلاکر امر دینی میں مشرک کے پس رو بنتے اور اسے اپنا رہنما بتاتے ہیں۔
وقد امرواان یکفر وابہ ویرید الشیطٰن ان یضلھم ضلٰلاً بعیدا۱؎۔
اور حکم یہ تھا کہ اصلاً نہ مانیں اورابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکادے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم        ۴/ ۶۰)
کیا خوف نہیں کرتے کہ روز قیامت انہیں کے گروہ میں محشور ہوں جن کو قرآن عظیم نے فرمایا:
وقاتلو اائمۃ الکفر
 (کفر کے اماموں سے لڑو)
اور فرمایا:
وجعلنٰھم ائمۃ یدعون الی النار۲؎
 (ہم نے انہیں ایسے امام کیا کہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں)
وقال اﷲ تعالٰی یوم ندعو کل اناس بامامھم۳؎
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جس دن ہم ہرگروہ کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے)
یعنی جس کوانہوں نے امر دین میں رہنما بنایا اور اس کے پس رو ہوئے اگرچہ مشرک ہوکہ آگے تفصیل میں دونوں ہی قسموں کا بیان فرمایا ہے
فمن اوتی کتٰبہ بیمینہ۴؎
 (جن کا نامہ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا گیا) اور
من کان فی ھذہ اعمی۵
 (یہاں راہ حق سے اندھے تھے)
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
 (۲؎القرآن الکریم        ۲۸/ ۴۱)(۳؎القرآن الکریم      ۱۷/ ۷۱    )(۴؎القرآن الکریم   ۱۷/ ۷۱)(۵؎القرآن الکریم    ۱۷/ ۷۲)
 (۲۷) پھر تحریر فرنگی محلی میں ہے: ''اور حنفیہ کی کتب سے تواستحبابی ہونا ارباب عقل پر پوشیدہ نہیں''۔ یہ حنفیہ اور ان کی کتب پر سخت افترائے فظیع ہے، اس قدر عبارات کہ یہاں گزریں انہیں میں عقائد امام مفتی الجن والانس نجم الملۃ والدین عمر نسفی، اتحاف علامہ سید مرتضی زبیدی، مسایرہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین، تعالیق علامہ قاسم بن قطوبغا، شرح مواقف علامہ سید شریف، منح الروض علی قاری، طریقہ محمدیہ امام برکوی، حدیقہ ندیہ سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ قاری، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری امام عینی، شرح مشکوٰۃ سید جرجانی، اشعۃ اللمعات شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی، فتاوٰی سراجیہ، علامہ سراج الدین، اشباہ والنظائر محقق زین بن نجیم، فتح اﷲ المعین سید ازہری، غمزالعیون علامہ سید حموی، درمختار مدقق علائی حصکفی، حاشیہ علامہ سید احمد طحطاوی، ردالمحتار علامہ سید ابن عابدین شامی۔

تمہید امام ابولشکورسالمی، مجمع البحار علامہ طاہر فتنی، شرح فقہ اکبر بحرالعلوم وغیرہم حنفیہ کرام کی تیس عبارتوں سے زائد مذکور ہوئیں اور خود حضرت سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا خاص نص شریف گزرا کیا اب بھی تحریر فرنگی کے کذب واغوائے عوام پر کچھ پر دہ رہا۔
 (۲۸) پھر کہا لفظ "ینبغی" عقائد نسفی کی دونوں احتمال رکتھی ہے، عقائد شریفہ کی عبارت یہ ہے:
ان یکون الامام ظاہر الامختفیا ولامنتظرا ویکون من قریش ولایجوز من غیرھم۱؎۔
امام کاظاہر غیر مخفی اور غیر منتظر ہونا ضروری ہے اورقریش میں سے ہونا بھی ضروری ہے خلیفہ غیر قریشی سے جائز نہیں(ت)
(۱؎ عقائد نسفی مع شرح عقائد نسفی     دارالاشاعت قندھار، افغانستان     ص۱۱۱)
قطع نظر اس سے کہ اگر لفظ "ینبغی" اصلا محتمل وجوب نہ ہوتا معنے استحباب میں مفسر ہوتا جب بھی یہاں حرج نہ تھا سائر ائمہ کی تصریحات قاہرہ اہلسنت کا عقیدہ اجماعیہ ظاہرہ قرینہ قاطعہ ہوتا کہ" یکون یکون" پرمعطوف نہیں بلکہ" ینبغی" پر یہاں تو نفس عبارت میں امام صاف فرمارہے ہیں
"لایجوز من غیرھم"
غیر قریش سے خلیفہ ہونا جائز ہی نہیں، پھر دونوں احتمال بتانا کس درجہ آفتاب کو جھٹلانا ہے، افسوس کہ اتنے فاصلہ سے لفظ "ینبغی" دکھائی دیا اور بلا فصل ملا ہوا "لایجوز من غیرھم" نظر نہ آیا۔

(۲۹) ایسا ہی ظلم ایک اور تحریر فرنگی محلی نے عبارت شرح مواقف پرڈھایا کہ اس میں لکھ دیا ہے:
للامۃ ان ینصبوافاقدھا۲؎
امت کو اختیار ہے کہ جس میں یہ شرطیں نہ ہوں اسے خلیفہ کردے، انا ﷲ واناالیہ راجعون۔انہوں نے ابتداءً تین مختلف فیہ شرطیں بیان کیں، اصول و فروع میں مجتہد ہونا، امورِ جنگ میں ذی رائے ہونا، شجاع ہونا ان کی نسبت فرمایا کہ جن میں یہ شرطیں نہ ہوں امت انہیں بھی خلیفہ کرسکتی ہے، اس کے بعد شرط قرشیت لکھی اور اسے فرمایا یہ شرط یقینی قطعی ہے اور یہ اہلسنت کا مذہب ہے اس میں مخالف خارجی معتزلی ہیں، ان اختلافی شرائط پر جو اوپر کہا تھا اسے یہاں لگالینا کس درجہ صریح تحریف کلام واغوائے عوام ہے، اس کی نظیر یہی ہے کہ عالم فرمائے نماز کی شرطیں نجاست حقیقیہ سے جسم وثوب ومکان کی طہارت ہے، یہ شرطیں بعض اوقات ساقط بھی ہوجاتی ہیں اور اس کی شرط قطعی یقینی نجاست حکمیہ سے طہارت ہے کہ وضو وغسل یا تیمم سے حاصل ہوتی ہے اس پر کوئی فرنگی محلی صاحب فتوٰی دیں کہ بعض اوقات بے وضو اور بحال جنابت بھی نماز صحیح ہوجاتی ہے کہ عالم نے فرمایا ہے کہ یہ شرطیں بعض وقت ساقط بھی ہوجاتی ہیں، عالم نے کن شرطوں کو فرمایا تھا اور انہوں نے کس میں لگایا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
 (۲؎ شرح المواقف المرصد الرابع فی الامامۃ  المقصد الثانی فی شروط الامامۃ     منشورات الشریف رضی     ۸/ ۳۵۰)
مسلمانو!دیکھا دین و سنت ومذہب وملت پر کیا کیاظلم جوتے جاتے ہیں اور پھر پیروانِ شریعت کو آنکھیں دکھاتے ہیں، مگر ہے یہ کہ مجبور ہیں باطل کی تائید باطل ہی سے ہوتی ہے ورنہ
ومایبدئ الباطل وما یعید۱؎o
اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کرآئے۔ت)
 (۱؎ القرآن الکریم۳۴/ ۴۹)
محققین اہلسنت پر افترا، امام سنت علیہ الرحمۃ پر افترا، شافعیہ پر افترا، حنفیہ پر افترا، واضحات سے عناد، تحریف سے استمداد، ائمہ کی تکذیب، اہلسنت کی تخریب، اجماع صحا بہ سے برکنار، اجماع امت سے برسرپیکار، اور پھر یہ سب کس لئے محض بلاوجہ محض بیکار،جس کا بیان اوپر گزرا اور ابھی خود مخالف کے اقرار سے سنئے گا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔

(۳۰) یہ سب کچھ کہہ کر خاتمہ اس پر کیا کہ''باوجود بحث طلب ہونے کے میں نے کبھی اشتراطِ قرشیت سے انکار نہیں کیا'' سبحان اﷲ دروغ گوئی برروئے من، اس پر اجماع ثابت نہیں، حدیث سے دلیل نہیں، محققین اہلسنت کونامقبول، امام سنت کو یکسر اس سے عدول، محققین شافعیہ کے نزدیک اختیاری، کتب حنفیہ سے محض استحبابی۔اور کیا انکارِ شرطیت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔

(۳۱) الحمدﷲ کہ آپ کو شرطِ قرشیت سے انکار نہیں تو ضرور آپ کے نزدیک غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتاور بداہۃً معلوم کہ ہمارے ترک بھائی قرشی نہیں تو آپ کے نزدیک سلطان ترکی ایدہ اﷲ تعالٰی خلیفۃ المسلمین نہیں خلافت کمیٹی تو فنا کی گود میں لیٹی، مگر سوا ل یہ ہے کہ آپ کے نزدیک تو شرط خلافت پر نہ اجماع نہ نص نہ مذہب حنفیہ نہ مقبول اہلسنت، پھر زبردستی اسے مان کر خلافت ترک فنا کرکے آپ ترک کے خیر خواہ ہوئے یا پکے بدخواہ۔ ان قومی لیڈروں کے حواس کدھر گئے ہیں کہ اتنے بڑے منکر خلافت کو حامی خلافت سمجھ رہے ہیں، اے جناب! آپ کے بڑے مسٹر آزاد تو دہلی میں ۱۶جنوری ۱۹۲۰؁ کو خلافت ڈپوٹیشن کے جلسہ میں خیر مقدم میں صاف(عہ۱) کہہ چکے ہیں کہ ''اگرچہ نماز کا پابند ہو، روزے رکھتا ہو، لیکن اگر خلافت سے منکر ہو تو دائرہ اسلام سے خارج ہے، یہ وہ مسئلہ ہے کہ اس سے الگ ہوکر مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا''۔
عہ۱:اخبار مدینہ ۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ ۲۵جنوری ۱۹۲۰؁ نمبر ۷جلد۹۔عبیدالرضاحشمت علی
Flag Counter