(۲۵) بالفرض ایسا ہوتا تو اس فضول بات کا یہاں ذکر اس سے بدتر فضول، جس سے مطلب ہوتو صرف اتنا کہ جاہل عوام سمجھیں کہ اصل مسئلہ خلافتِ قریش ہی بعض شافعیہ کی فضول ہے کتبِ حنفیہ اس سے پاک ہیں۔
(۲۶) پھر کہا پھر بھی محققین شافعیہ اس کو شرط اختیاری کہنے پر مجبور ہوئے، یہ پھر بھی اسی قصہ تلبیس کی تائید ہے کہ نفس خلافت قریش کو شافعیہ کی فضول کہا کہ اسی کو اختیار ی کہا ہے پھر اس میں شافعیہ کی تخصیص ایک تلبیس اور ان میں بھی محققین کی قید دوسراکید، اور لفظ اختیاری سے جہال کو دھوکا دیناکیدعظیم ہے، اختیاری کے معنے سمجھے جائینگے کہ اپنی خوشی پر ہے چاہے خلیفہ میں قرشیت کا اعتبار کریں یانہیں، یہ شافعیہ خواہ ان کے محققین جس پر کہو افترائے کاذب ہے اور خود عقل وفہم سے بیگانہ و مجانب، شرط وہ جس کے فوت سے مشروط فوت ہو اور اختیاری وہ جس پر کچھ توقف نہ ہو، اصل بات جس کی صورت بگاڑ کر یوں دھوکا دینا چاہا یہ ہے کہ ملک پر تسلط دو طرح ہوتا ہے ایک یہ کہ اہل حل وعقد کسی جامع شرائط کو امام پسند کرکے اس کے ہاتھ پر بیعت کریں جیسے صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ، تسلط بلامنازعت ہوجانا اس کی شرط نہیں، نہ منازع سے قتال و جدال اس کے منافی، جیسے عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
دوم یہ کہ جس کی امامت اس طرح ہوچکی ہو وہ دوسرے کے لئے وصیت کرے جیسے فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے۔ خلافتِ شرعیہ انہیں دو وجہ پر ہوتی ہے اور ہر ایک پسند و اختیار سے ہے پہلی میں اختیار و انتخاب اہل حل وعقد ہے اور دوسری میں اختیار وار تضائے خلیفہ سابق۔ ان دونوں میں قرشیت وغیرہا شرائط یقینا ہیں، نہ اہل حل وعقد کو جائز کہ کسی غیر قرشی کو خلیفہ کریں نہ خلیفہ کو حلال کہ غیر قرشی کو ولی عہد کرے، توخلافت شرعیہ اختیاری ہے کہ اختیار وپسند سے ناشئی ہوتی ہے اور اس میں قرشیت وغیرہا شرائط ضروریہ لازم وضروری ہیں نہ کہ اختیاری اگرترک کی جائیں گی خلافت شرعیہ نہ ہوگی بلکہ دوم تغلب کے حکم میں رہے گی، وہ تسلط کی دوسری صورت ہے کہ کوئی شخص اپنی شوکت و سطوت سے ملک دبابیٹھے بادشاہ بن جائے اگرچہ لوگ اس کے قہر و غلبہ کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت بھی کریں، یہ صورت بے اختیاری و مجبوری ہے اس میں مسلمان شرائط کا لحاظ کیا کرسکتے ہیں کہ نہ ان کے اختیار سے ہے نہ اسے معزول کرنا ان کے قابو میں، یہاں اقامت جمعہ واعیاد وتزویج صغار وولایت مال وتولیت قضاء وغیرذٰلک امور مفوضہ خلیفہ میں اس کے ہاتھ کے سب کام نافذ ہوں گے، امر جائز شرعی میں اس کی اطاعت کرنی ہوگی اگرچہ قرشی نہ ہو بلکہ آزاد بھی نہ ہو حبشی غلام ہو کہ اثارت فتنہ جائزنہیں، یہ نہ صرف شافعیہ بلکہ سب اہل مذاہب مانتے ہیں اور اسے انتفائے شرط قرشیت سے علاقہ نہیں، جبراً وجوبِ اطاعت اور، اوراس کا خلیفہ شرعی ہوجانا او ر، اطاعت ہوگی اور خلافت ہرگز نہ ہوگی، بلکہ متغلب ہوگا، ان کے بعض عوام پارٹی کے خود ساختہ امام نے یہی دھوکہ دیا ہے عبارتیں وہ نقل کرتا ہے جن میں متغلب کی اطاعت کا ذکر ہے اوران میں اپنی طرف سے پچر لگالیتا ہے کہ اسی کو خلیفہ ماننا چاہئے، یہ محض باطل ہے اور اسی میں بحث ہے نہ کہ اطاعت میں، خود انہیں محققین شافعیہ نے تصریح کی ہے کہ وہ متغلب ہوگا نہ کہ خلیفہ۔ فتح الباری سے گزرا کہ قریش کے سواجو کوئی ہوگا متغلب ہوگا۔
اسی میں ہے:
ھذاکلہ انما ھو فیما یکون بطریق الاختیار واما لو تغلب عبد بطریق الشوکۃ فان طاعتہ تجب اخماد اللفتنۃ مالم یأمر بمعصیۃ۱؎
یعنی یہ سب اس حالت میں ہے کہ کسی کو بطور اختیار امامت دی جائے اور کوئی غلام اپنی شوکت سے زبردستی ملک دبابیٹھے تو فتنہ بجھانے کےلئے اطاعت اس کی بھی واجب ہوگی جب تک گناہ کا حکم نہ دے۔
(۱؎ فتح الباری باب السمع والطاعۃ للامام الخ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۴۰)
دیکھو امامت کو اختیار ی کہا کہ اختیار و پسند سے ہو، نہ کہ شرط قرشیت کو اختیار ی کہ چاہے رکھو یا نہ رکھو غیر قرشی کو متغلب ہی کہا۔
شرح مقاصد میں ہے:
وبالجملۃ مبنی ماذکر فی باب الامامۃ علی الاختیار والاقتدارواماعند العجز والاضطرار واستیلاء الظلمۃ والاشرار فقد صارت الریاسۃ الدنیویہ تغلبیۃ وبنیت علیھا الاحکام الدینیۃ المنوطۃ بالامام ضرورۃ ولم یعبأ بعدم العلم والعدالۃوسائر الشرائط والضرورات تبیح المحظورات والی اﷲ المشتکی فی النائبات۲؎۔
یعنی وہ جوباب امامت میں مذکور ہوا اس کی بناء اختیار وقدرت پر ہے اور جب حالت مجبوری وناچاری ہو ظالم شریر لوگ تسلط پائیں تو اس وقت یہ دنیوی ریاست تغلب پر رہ جائے گی اور وہ دینی احکام کہ خلیفہ سے متعلق ہیں بمجبوری اس مبنی ریاست پر بناکئے جائیں گے اور علم وعدالت وغیرہ شرائط نہ ہونے کا لحاظ نہ ہوگا، مجبوریاں ناجائز کو رواکرلیتی ہیں اور ان مصیبتوں میں اﷲ ہی سے فریاد ہے۔
(۲؎ شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۷۸۔۲۷۷)
آنکھ کھول کر دیکھو کہ وہ محققین کیافرمارہے ہیں اور کیونکر اسے تغلب اور دنیوی ریاست بتارہے ہیں مگر دھوکادینے والے فریب سے باز نہیں آتے۔
تنبیہ: یہاں کام جاہلوں سے پڑا ہے جنہیں علم کا ادعا ہے۔ کوئی جاہل اس عبارتِ شامی سے دھوکا نہ دے:
یصیرامامابالمبایعۃ وباستخلاف امام قبلہ وبالتغلب والقھر۳؎۔
بیعت اور پہلے امام کے خلیفہ بنادینے اور غلبہ اور جبر سے امام بن جاتا ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰)
امامت پر تسلط جمانے والے میں اگر علم اور عدالت کا وجود متعذر ہوجائے اور اس کو امامت سے ہٹانا ناقابل برداشت
فتنہ کھڑاکرنا قرار پائے تو ہم اس کی امامت کے انعقاد کا حکم دیں کے تاکہ وہ صورت نہ بنے جو شخص ایک مکان بنائے اور پورے شہر مسمار کرے(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰)
کہ دیکھو جوزبردستی بادشاہ بن جائے اور اس کے جداکرنے میں ناقابل برداشت فتنہ ہو، اسے امام مانا، اس کی امامت کو منعقد جانا، اور یہی خلافت شرعیہ ہے، حاشایہ محض دھوکا ہے صاف تصریح کہ یہ تغلب ہے جوخلافت شرعیہ کی صریح ضد ہے نیز بلافصل اس عبارت کے بعد ہے:
واذا تغلب آخر علی المتغلب وقعد مکانہ العزل الاول وصار الثانی اماما۔۲؎
اس متغلب پر دوسرا تغلب کرکے اس کی جگہ بیٹھ جائے تو پہلا معزول اور اب یہ دوسر ا متغلب امام بن جائے گا۔
(۲؎ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰)
یہیں اس کے ایک سطر بعد ہے:
لکن الثالث فی الامام المتغلب۳؎۔
لیکن تیسرا غلبہ پانے والے امام میں۔(ت)
نیز باآنکہ خود سلطنت ترک میں تھے صاف لکھ دیا کہ:
قد یکون بالتغلب وھو الواقع فی سلاطین الزمان نصرھم الرحمٰن۴؎۔
کبھی تغلب سے امام ہوجاتا ہے جیسے موجودہ دور کے سلاطین حضرات، اﷲ تعالٰی ان کی مدد فرمائے(ت)
(۳؎ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰)
(۴؎ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۱۰)
دیکھوباآنکہ سلاطین ترک کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی تھی، عدم بعض شرائط مثل قرشیت وغیرہا کے باعث تصریح فرمادی کہ باوصف بیعت ہیں متغلبہ، رحمٰن عزوجل انہیں نصرت دے۔ میں کہتاہوں آمین اللہم آمین۔ بلکہ یہاں لفظ امامت کا اطلاق عرف فقہا میں وسیع تر ہے(دیکھو بدائع امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ بیان مواد عت وصلح)لاجرم یہاں امامت محض بمعنی سلطنت ہے خواہ صحیحہ جائزہ عادلہ ہو یا ظالمہ غاصبہ باطلہ نہ کہ بمعنے خلافت شرعیہ، اگرچہ اپنے محل میں وہ بھی مراد ہوتی ہے جیسے حدیث الائمۃ من قریش میں، اس کی نظیر لفظ امیر ہے کہ ہرگز خلیفہ کے ساتھ خاص نہیں، والیِ شہر وسردار حجاج کوبھی کہتے ہیں مگر "الائمۃ من قریش" میں قطعًا خلفاء ہی مراد۔