غرض یہاں تک بھی دونوں پلے بچائے مگر نفی کا پلہ غالب کردیا کہ یہ حقیقت ہے اور یہاں قرشیت کا لگاؤ رہنا مجاز، اب اندیشہ کیا کہ لوگ خارجی معتزلی سمجھیں گے کہ صحابہ کا اجماع چھوڑ کر ان گمراہوں کی تقلیدکی، اس کے علاج کو یہ مخالفت امام سنت کے سر رکھ دی اور کہا:
ومن القائلین بنفی اشتراط القرشیۃ القاضی ابوبکر الباقلانی لما ادرک عصبیۃ قریش من التلاشی فاسقط شرط القرشیۃ وان کان موافقالرأی الخوارج وبقی الجمہور علی القول باشتراطہا ولو کان عاجزا عن القیام بامور المسلمین ورد علیھم سقوط شرط الکفایۃ لانہ اذاذھبت الشوکۃ بذھاب العصبیۃ فقد ذھبت الکفایۃ واذا وقع الاخلال بشرط الکفایۃ واذاوقع الاخلال بشرط الکفایۃ تطرق ذٰلک ایضا الی العلم والدین وسقط اعتبار شروط ھذاالمنصب وھو خلاف الاجماع۱؎(ملخصاً)
یعنی امام قاضی ابوبکر باقلانی نے قرشیت شرط نہ مانی کہ قریش کی حمیت فنا ہوگئی ولہذا اس کی شرط انہوں نے ساقط کردی اگرچہ یہ خارجیوں کے مذہب کے موافق ہے اور جمہور اب بھی شرطِ قرشیت مانتے رہے اگرچہ خلیفہ مسلمانوں کا کام بنانے سے عاجز ہو اور ان پر یہ اعتراض ہے کہ لیاقت کار کی شرط جاتی رہی کہ جب حمیت جانے سے شوکت گئی کام کیا بناسکے گا اور جب شرط کفایت چھوٹی یہی راہ شر ط علم وشرط دین کی طرف چلے گی اور خلافت کی شرطیں ساقط الاعتبار ہوجائیں گی اور یہ خلافِ اجماع ہے(ملخصاً)
(۱؎ مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذاالمنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴ و ۱۹۵)
اس کلام کے پیچ دیکھئے کیا کیا کروٹیں بدلی ہیں، اول امام سنت پر وہ تہمت رکھی کہ قریش کی بے حمیتی دیکھ کر شرطِ قرشیت ساقط کر بیٹھے، یہ اپنابچاؤ اور جانب نفی کی تائید تھی کہ ایک مجھی کو شرطِ قرشیت میں کلام نہیں، اہلسنت کے اتنے بڑے امام اسے استعفا دے چکے ہیں، پھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ اس میں وہ خارجیوں کے مذہب پر چلے، یہ جانب اثبات کی رعایت سے کہی، پھر اسی پہلو کا لحاظ بڑھایا کہ جمہور اسی پر رہے، پھر پہلوئے نفی کو کروٹ لی کہ ان پر بے اعتباری شرائط کا الزام قائم ہوتا ہے، یہ جھوٹا الزام صراحۃً خود اس پر حق تھا کہ قرشیت شرط تھی اور اس نے ساقط کی تو یوں ہی علم ودین وکفایت بھی ساقط ہوسکیں گی اور راہ ہر شرط کی طرف چلے گی اور جاہل بے دین عاجز چمار کو خلیفہ کردینا جائز ہوجائے گااور یہ خلافِ اجماع ہے،اس کی پیش بندی کی کہ جمہور اہلسنت کے سر پر افترا جڑدیا کہ وہ صرف قرشیت چاہتے ہیں اگرچہ کام سے بالکل عاجز ہو حالانکہ کتبِ عقائد وفقہ وحدیث شاہد ہیں کہ قرشیت و قدرت دونوں شرط ہیں اور ان کے ساتھ اسلام وحریت وذکورت وبلوغ بھی نہ یہ کہ صرف قریشی ہونابس ہے، یہ چھچلیاں کھیل کراخیر میں دل کی صاف کھول دی:
اذابحثناعن حکمۃ اشتراط القرشی ومقصد الشارع منہ لم یقتصر علی التبرک بوصلۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما ھو مشہور والمصلحۃ لم نجدھا الااعتبار العصبیۃ و ذٰلک ان قریشا کان لھم العزۃ بالکثرۃ والعصبیۃ والشرف فاشترط نسبھم لیکون ابلغ فی انتظام الملۃ کما وقع فی ایام الفتوحات واستمر بعدھا فی الدولتین الی ان تلاشت عصبیۃ العرب، فاذاثبت ان اشتراط القرشیۃ انما ھو للعصبیۃ والغلب والشارع لایخص الاحکام بجیل فطردنا العلۃ وھی العصبیۃ فاشترطنا فی القائم بامور المسلمین ان یکون من قوم اولی عصبیۃ قویۃ غالبۃ، ثم ان الوجود شاہد بذلک فانہ لایقوم بامرامۃ اوجیل الامن غلب علیھم وقل ان یکون الامرالشرعی مخالفا للامر الوجودی۱؎(ملخصاً)
یعنی ہم جو نظر کریں کہ شرط قرشیت کی حکمت اور اس سے شارع کا مقصود کیا ہے تو وہ علاقہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تبرک پر موقوف نہیں جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہورہا ہے کہ قربِ نبوی کے سبب قریش کو یہ فضل ملا ہے اس میں آن اور قومی حمیت کے اعتبار کے سواکوئی مصلحت نہیں، یہ اس لئے کہ قریش اپنی کثرت اور آن اور شرافت کے سبب غالب تھے لہذا ان کا نسب شرط کیا گیا کہ دین کا انتظام خوب ہو جیسا کہ زمانہ فتوحات میں ہوا اور اس کے بعد بنی امیہ و بنی عباس کی دولتوں میں رہا یہاں تک کہ عرب نرے بے حمیت ہوگئے اور جبکہ ثابت ہولیا کہ قرشیت کی شرط فقط ان کی حمیت و غلبہ کے سبب تھی اور شریعت احکام کو کسی قبیلہ کے ساتھ خاص نہیں کر تی تو ہم نے علت حمیت کو عام کر دیا کہ خلیفہ میں ضرور ہے کہ کسی قوی و غالب حمیت والی قوم میں کاہو پھر واقعات بھی اسی پر گواہ ہیں کہ قبیلے یا گروہ کا سردار وہی ہوتا ہے جوان پر غالب ہو اور کم ہوگا کہ شریعت نیچر کے خلاف حکم دے(ملخصاً)
(۱؎ مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذا المنصب و شروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۵ و ۱۹۶)
ظاہر کردیا کہ قرشیت شرط نہیں عصبیت شرط ہے قرشیت اس لئے شرط تھی کہ ان میں قومی حمیت جاہلیت تھی جب قریش بلکہ تمام اہل عرب بے حمیت ہوگئے تو اب ان کی خلافت کیسی بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، بالجملہ نہ فقط شرط قرشیت کی نفی کی بلکہ نفی قرشیت بلکہ نفی عربیت شرط کر دی کہ اصل شرط خلافت قومی حمیت ٹھہرائی اور صاف کہہ دیا کہ نہ صرف قریش بلکہ تمام عرب بے حمیت ہوگئے تو خلافت کے لئے شرط ہوا کہ خلیفہ نہ قریشی ہو نہ عربی بلکہ یہ شرط ہے کہ کسی خوانخوار قوم کا ہو، تو یہ توضرار معتزلی سے بھی بہت اونچا اڑا اس نے تو یہی کہا تھاکہ غیر قریشی اولٰی ہے اس نے یہ جمائی کہ قرشی بلکہ کسی عربی کی خلافت جائز ہی نہیں اور خود کہہ چکا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ ہمیشہ خلافت قریش ہی کےلئے ہوگی جب تک دنیا میں دو آدمی بھی رہیں یہ ہے اس کا حدیث پر ایمان، اور یہ ہے اس کا اجماع صحابہ کرام پر ایقان۔ اور سرے سے یہ اشد سا اشد ظلم قابل تماشا کہ وہ عصبیت جس سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بشدت منع فرمایا جسے نہ قریش بلکہ تمام عرب کے دل سے دھویا اسی کو اصل مقصود شارح اور خاص شرطِ خلافت ٹھہراتا ہے حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قاتل تحت رأیۃ عمیّۃ یغضب لعصبۃ او یدعو الی عصبۃ او ینصر عصبیۃ فقتل فقتلۃ جاہلیۃ۱؎۔ وفی اخری فلیس من امتی۲؎۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے کہ عصبیت(یعنی قومی حمیت شیوہ جاہلیت) کے لئے غضب کرے یا عصبیت کی طر ف بلائے یا عصبیت کی مدد کرے اور ماراجائے تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی جاہلیت وزمانہ کفروغفلت میں قتل کیاجائے اور دوسری روایت میں ہے وہ میری امت سے نہیں(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۲۷)
(۲؎صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۲۸)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
لیس منا من دعاالٰی عصبیۃ ولیس منا من قاتل عصبیۃ ولیس منامن مات علی عصبیۃ۳؎۔ رواہ ابوداؤد عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہمارے گروہ سے نہیں جو عصبیت(قومی حمیت) کی طرف بلائے، ہم میں سے نہیں جوعصبیت پر لڑے، ہم سے نہیں جو عصبیت پر مرے، (اسے ابوداؤد نے جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(۳؎ سن ابوداؤد کتاب الادب باب فی العصبیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۴۲)
تو شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مبغوض کو شارع کا مقصود بنانا کہ کیسا شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افترائے بیباک واجترائے ناپاک ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی عجب ایک مدعی سنیت ہے کہ صحابہ وائمہ و خود ارشاد حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سب کو پیٹھ کر ایک گمراہ مخالف حدیث وخارقِ اجماع ومحدث فی الدین کا دامن تھامے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۲۱) تحریر فرنگی محلی نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ صراحۃً اجماع صحابہ لکھ کر پھر امام باقلانی کو اس کا مخالف اورخارجی مذہب کا موافق لکھتا ہے اس نے کہا تو کہا، ایک مدعی سنیت کو تو امام سنت پر ایسے شنیع الزام رکھتے شرم چاہئے تھے۔
(۲۲)(عہ) عبارت نمبر ۳۶ آپ نے سنی معلوم ہے یہ امام ابوبکر ابن الطیب کون ہیں وہی امام اجل امام سنت قاضی ابو ابکر باقلانی ہیں،
شرح الشفاء لعلی قاری میں ہے:
(وھو مذھب القاض ابی بکر) ای ابن الطیب الباقلانی۱؎۔
اور یہی قاضی ابوبکر یعنی ابن الطیب الباقلانی کا مذہب ہے(ت)
عہ: یہاں تک کلام قاطع رگ اوہام تھا اب آگے وہ آتا ہے جسے دیکھ کر کذابوں مفتریوں کی آنکھیں پھٹ کررہ جائیں ۱۲عبیدالرضا حشمت علی قادری غفرلہ۔
(۱؎ شرح الشفاء لعلی لقاری علی ھامش نسیم الریاض فصل وامامایتعلق بالجوارح دارالفکر بیروت ۴/ ۱۳۷)
نسیم الریاض میں ہے:
(وھو مذھب القاضی ابی بکر) الباقلانی۲؎۔
اور قاضی ابوبکر الباقلانی کا یہی مذہب ہے(ت)
(۲؎شرح الشفاء لعلی لقاری علی ھامش نسیم الریاض فصل وامامایتعلق بالجوارح دارالفکر بیروت ۴/ ۱۳۷ )
وفیات الاعیان میں ہے:
(القاضی ابوبکر محمد بن الطیب المعروف بالباقلانی المتکلم المشہور توفی سنۃ ثلث واربعمائۃ ببغداد۳؎۔
القاضی ابوبکر محمد بن الطیب المعروف بہ باقلانی متکلم مشہور ہیں۴۰۳ھ میں بغداد میں فوت ہوئے(ت)
(۳؎ وفیات الاعیان ترجمہ۶۰۸ محمد بن الطیب الباقلانی دارالثقافت بیروت ۴/ ۲۶۹، ۲۷۰)
دیکھا کہ ان امام نے کیا ارشاد فرمایا: پھر سن لو،اور کان کھول کر سنو، امام ابن المنیر مالکی پھر فتح الباری میں امام ابن حجر عسقلانی شافعی کا یہی کلام علامہ سید مرتضٰی زبیدی حنفی نے اتحاف السادۃ جلد دوم ص۲۳۲ میں یوں نقل فرمایا:
قال الحافظ ابن حجر فی فتح الباری قال ابن المنیر قال القاضی ابوبکر الباقلانی لم یعرج المسلمون علی ھذاالقول بعد ثبوت الحدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنا بعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذلک قبل ان یقع الاختلاف۱؎۔
یعنی امام ابن حجر نے شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ امام ابن المنیر نے فرمایا کہ امام قاضی ابوبکر باقلانی نے فرمایاکہ معتزلی کے اس قول کی طرف مسلمانوں نے التفات نہ کیا بعد اس کے کہ حدیث کا ارشاد ثابت ہولیا کہ خلفاء قریش ہی سے ہوں۔ اور اسی پر مسلمانوں کا ہر طبقہ میں عمل رہا اور ان اختلاف کرنے والوں کے وجود سے پہلے اس پر اجماع ہولیا۔
(۱؎ اتحاف السادۃ المتقین الاصل التاسع ان شرائط الامامۃ الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۳۲)
الحمد ﷲیہ ارشاد ہے امام ابوبکر باقلانی کا جس نے اس مورخ کا سفید جھوٹ اور سیاہ افتراء ثابت کیااور صحابہ وائمہ اہلسنت کو چھوڑ کر اس کا دامن تھامنے والوں کا منہ کالا کیا، وﷲ الحمد۔
(۲۳) الحمدﷲ یہاں سے فرنگی محلی تحریر کی امام قاضی عیاض پر وہ طعنہ زنی بھی باطل ہوگئی کہ ذکر اجماع کی ابتدا ان سے ہوئی امام قاضی عیاض چھٹی صدی میں تھے اور امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی چوتھی صدی میں، وہ اجماع نقل فرمارہے ہیں وﷲ الحمد۔
(۲۴) اس کے بعد تحریر فرنگی محلی میں ہے: حنفیہ کی کتب میں ایسی فضول بات نہیں جیسی شافعیہ کی کتب میں ہے کہ الائمۃ سے ہر قسم کا امام مراد ہے کہ امام شافعی کے امام فی المذہب ہونے کی تاکید ہو کیونکہ وہ قریشی تھے یہ شافعیہ نے کہیں نہ کہا کہ ہر قسم کا امام مراد ہے، نہ کوئی ادنٰی طالب علم کہہ سکتاہے کہ نماز کی امامت بھی قرشی سے خاص علماء سے دوسرا امام نہیں ہوسکتا وہ اس سے امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے ایک فضیلت ثابت کرتے ہیں کہ دوسرا عالم غیر قریشی جب دین وعلم میں امام شافعی کے برابر ہوتو اس پر بوجہ قرشیت ان کو ترجیح ہے دیکھو فتح الباری کہ:
الاستدلال علی تقدیم الشافعی علی من ساواہ فی العلم والدین من غیر قریش لان الشافعی قرشی۲؎۔
امام شافعی کے برابر علم اور دین والے غیر قرشی پر امام شافعی کے مقدم ہونے پر یہ استدلال ہے کیونکہ امام شافعی قرشی تھے(ت)
(۲؎ فتح الباری باب الامر اء من قریش مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۲۳۷)